Baaghi TV

Category: قصور

  • قصور پولیس کا نجی ٹارچر سیل دہشت کی علامت

    قصور پولیس کا نجی ٹارچر سیل دہشت کی علامت

    قصور، بے دستور ڈاکوؤں بےلگام پولیس ناکام وارداتیں عروج پر شہری پریشان۔منڈی عثمان والا پولیس ملزمان کو پکڑنے کی بجائے سادہ لوح شہریوں پر چڑھ دوڑی,قصور منڈی عثمان والا پولیس نے پرائیویٹ ٹارچر سیل قائم کیا ہوا ہے جہاں بے گناہ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ذرائع کے مطابق ریاست ٹڈھی نامی اے ایس آئی، ریاض اور دو کس اہلکاروں نے گزشتہ روز نواحی گاؤں پیال خورد سے تقریبا رات نو بجے ایک چائے اور سنوکر والی دوکان سے دو نوجوان گرفتار کیے جن میں ایک ہدایت نامی جبکہ دوسرے کا نام شہباز بتایا جاتا ہے ہدایت کو مزاحمت کرنے پر وہاں چھوڑ دیا گیا جبکہ شہباز کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی

    تھانے میں نا اس کو کسی سے ملنے دیا گیا نہ ہی بتایا گیا کہ کیوں اسے وہاں لایا گیا جبکہ ایس ایچ او رائے سعدی یہی کہتا رہا کہ میرے نوٹس میں نہیں ہے ذرائع کے مطابق شہباز کو کسی پرائیویٹ مکان میں رکھا گیا اور رات بھر سردی میں تشدد کیا گیا دو روز بعد جب گھر والوں سے بات نا ہوئی تو بات فساد بنتی نظر آئی تو موصوف نے مقامی صحافیوں اور سیاستدانوں کے اسرار پر لڑکے کو چھوڑ دیا متاثرہ شہباز کے انکشافات کیے کہ مجھے تشدد کرتے ہوئے ریاست اے ایس آئی ریاض اور دو کس اہلکار کہتے تھے کہ مہالم خورد اور گوہڑ جاگیر والی دونوں ڈکیتی کی وارداتوں کا اعتراف کرلے ورنہ انجام برا ہوگا جبکہ شہباز کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ نا ہے اور شریف شہری ہے ڈی پی او قصور نوٹس لیکر انصاف مہیا کریں

  • بدکردار عورتوں کے ذریعے مکروہ دھندہ جاری

    بدکردار عورتوں کے ذریعے مکروہ دھندہ جاری

    قصور الہ آباد میں بد کردار خواتین کے ساتھ مل کر زنا بالجبر کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والا گروہ متحرک ہو گیا،نوجوان لڑکیوں کے ذریعے موبائل فون پر مختلف لوگوں سے رابطہ کروا کر جھوٹا وقوعہ بنایا جاتا ہے اور مقدمات درج کروانے کے بعد بلیک میل کیا جاتا ہے

    تفصیلات کے مطابق الہ آباد سمیت ضلع قصور کے مختلف تھانوں میں زنا بالجبر کے جھوٹے مقدمات کا اندراج معمول بن چکا ہے ضلع بھر میں ایسے کئی گروہ متحرک ہیں جنہوں نے کئی کئی بد کردار نوجوان لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں اور ان کے ذریعے موبائل فون پر مختلف لوگوں سے رابط کروا کر پھنسایا جاتاہے اور بعد میں جھوٹا وقوعہ بنا کر مقدمات درج کروائے جاتے ہیں اور لوگوں کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی جاتی ہیں کئی خاندان ان گروہوں سے لٹ چکے ہیں

    مقامی شہریوں نے ڈی آئی جی شیچوپورہ رینج اور ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گروہوں کا محاسبہ کیا جائے اور موبائل فون پر لوگوں کو پھنسا کر رضامندی سے زنا کروانے والی بد کردار خواتین اور ان کے ساتھیوں کو بھی ملزمان ساتھ جیل بھیجا جائے

  • تھانیدار کی سرعام رشوت خوری اور سینہ زوری

    تھانیدار کی سرعام رشوت خوری اور سینہ زوری

    قصور ، تھانہ صدر کا ارشاد اے ایس آئی جو کہ اب تھانہ مصطفی آباد میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے دیدہ دلیری سے رشوت خوری کرنے لگا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے شہریوں سے سرعام رشوت لینے کی دھمکیاں رشوت نہ دینے پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں، اہل علاقہ کاآئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور عمران کشور سے سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت آئے روز پولیس اصلاحات کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے پولیس آفسران واہلکاران کا عوام کے رویہ مثبت بنانے اور رشوت خوری ختم کرنے پر کام کررہی ہے تاکہ اس محکمے سے رشوت خوری کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن بنایاجاسکے اور پولیس کا عوام کا ساتھ رویہ بہتربنانے عوام کا اعتماد بحال کیاجاسکے لیکن حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود محکمہ پنجاب پولیس میں موجود کالی بھیڑیں حکومتی اقدامات کے راہ میں رکاوٹیں حائل کررہے ہیں،

    قصور میں واقع تھانہ صدر سے تبدیل ہوکے تھانہ مصطفی آباد للیانی میں تعینات ارشاد نامی اے ایس آئی نے اہل علاقہ کا جینا حرام کررکھا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز مختلف وارداتوں میں ملوث ملزمان سے رشوت لے کر بغیر کسی ایف آئی آر کے ملزمان کو باعزت طریقہ سے اسپورٹ کی جاتی ہے اور اُن سے منہ مانگی رشوت طلب کرتاہے جب تک اے ایس آئی کی جیب گرم نہیں ہوتی اُس وقت تک شہری کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر وہ شہری رشوت کے پیسے دینے سے انکار کردے تو اُس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے جبکہ ہم مزدور طبقہ لوگ ہیں اور بڑی مشکل سے محنت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، اوپر سے ارشاد اے ایس آئی جان بوجھ کر ہماری دن بھر کی کمائی ہڑپ کرلیتاہے،اگر منت سماجت کریں تو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں حوالات میں بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہے،

    اہل علاقہ کا آئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور سے نوٹس لے کر ارشاد اے ایس آئی کے خلاف ناجائزاختیارات استعمال کرنے پر اور رشوت خوری لینے پر محکمہ کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور میں دن دیہاڑے بہت بڑی واردات

    قصور میں دن دیہاڑے بہت بڑی واردات

    قصور میں فن دیہاڑے واردات ،ڈاکو کیمرے لگے ہونے کے بوجود کاروں کو لوٹ کر فرار ہو گئے
    تفصیلات کے مطابق آج صبح 12:50 منٹ پر عمر ولد لیاقت علی سکنہ بھگوان پورہ لاہور اپنی فیملی کے ساتھ گول چکر شہباز خان روڈ قصور کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اس کے پیچھے سے آنے والے 3 ڈاکو سوار سی جی 125 نے انہیں روکا اور ان سے نقدی بیس ہزار روپیہ اور 13 تولہ سونا لوٹا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے ۔
    پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے

  • قصور میں زیادتیوں کا سلسلہ جاری،آج ایک اور جنسی زیادتی

    قصور میں زیادتیوں کا سلسلہ جاری،آج ایک اور جنسی زیادتی

    قصور
    انتظامیہ کی غفلت یا معاشرے کی بے حسی ،ایک اور حوا کی بیٹی سے جنسی زیادتی

    تفصیلات کے مطابق قصور میں جنسی جرائم کا سلسلہ نا رکا لوگ پریشان ہیں کہ یہ انتظامیہ کی غفلت ہے یا معاشرے کی بے حسی قصور میں ایک اور حوا کی بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے واقعہ گاؤں بھگوان پورہ میں کھڈیاں میں پیش آیا جہاں اے ایس آئی نے شادی شدہ خاتون سے جبراً جنسی زیادتی کی
    شاہین بی بی اہل خانہ کے ساتھ رات کو گھر میں سوئی ھوئی تھی کہ اے ایس آئی رشید احمد نے گھر میں گھس کر اسے زیادتی کا نشانہ بنا دیا
    جس پر اہل خانہ کی طرف سے ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے
    معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او قصور عمران کشور کے حکم پر اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے
    واضع رہے کہ ملزم رشید احمد اے ایس آئی تھانہ کھڈیاں میں ہی تعینات تھا اور اب درخواست بھی تھانہ کھڈیاں خاص میں ہی دی گئی ہے

  • اہم سیاسی شحضیت کی وفات پر لوگوں کا اظہار غم

    اہم سیاسی شحضیت کی وفات پر لوگوں کا اظہار غم

    قصور
    اہم سیاسی و سماجی راہنما کی وفات،لوگوں کا اظہار تعزیت
    تفصیلات کے مطابق پی پی 160قصور کے سینئر رہنما رانا اعجاز احمد خاں کے بڑے بھائی اور بھٹی آرگنائزیشن ڈسٹرکٹ قصور کے صدر رانا عدنان بوبی خاں کے ماموں
    رانا پرویز احمد خاں اچانک ہارٹ اٹیک ہونے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    لوگوں نے بتایا کہ رانا پرویز احمد خاں مرحوم لوگوں سے ہمیشہ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے غریبوں کا ہمیشہ احساس کرتے اور اور ان کی مدد کرتے رانا پرویز احمد خاں کی وفات پر راجہ جنگ پریس کلب ،انجمن تاجران راجہ جنگ ،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور ۔ڈسٹرکٹ پریس کلب لاہور ،این اے 122 ،پی پی 160، پی پی 182، پی پی 183 کی تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی

  • ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    قصور
    پانچ ماہ قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے بچہ اغواء کرنے والی خاتون ضمانت کینسل ہونے پر کل کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو ملزمہ شاہدہ بی بی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے عبدالرحمن کا ایک دن کا نومود بچہ اغواء کیا تھا جس پر اس نے گرفتار ہونے سے ابتک پانچویں مرتبہ عبوری ضمانت کروا رکھی تھی جس کی
    کل جج عمران شیخ صاحب کی عدالت میں پیشی تھی جج نے کل اس کی ضمانت کینسل کرکے جیل بیجھنے کے احکامات جاری کئے مگر مکار عورت کمال ہوشیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    کل شام نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والدین نے کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا قصور پولیس جلد سے جلد ملزمہ کو گرفتار کرے نیز ڈی ایس پی انویسٹیگیشن و ایس پی انویسٹیگیشن قصور نے بھی شاہدہ بی بی کو مجرم ٹھہرایا ہے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل میاں محمد اسلم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ کیس پولیس کی طرف سے خراب کیا گیا ہے اس ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھی جو کہ نان بیل ایبل ہے تاہم پولیس نے کیس خراب کرنے کیلئے ملزمہ پر دفعہ 363 لگائی ہے جس کی باعث عدالت اسے عبوری ضمانت دیتی رہی ہے نیز ان کا کہنا ہے کہ یہ عورت ضلعی جھنگ کی رہائشی ہے مگر اس وقت گاؤں دفتوہ قصور میں رہائش پذیر ہے اس پر پہلے بھی 7 نومبر 2019 کو ایسا ہی ایک بچہ اغواء کرنے کا مقدمہ ہے
    بچے کے والدین و اہل علاقہ نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہدہ بی بی کو جلد سے گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

  • قصور جنسی اسکینڈل:انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

    قصور جنسی اسکینڈل:انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

    زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں جنسی استحصال کا واقعہ رونما ہوا ہے جس میں سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جس بچی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے درندے کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی سرفہرست ہے۔

    پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا لڑکیوں کی طرف سے منتیں اور واسطے دینے پر انہیں مغلظات بکتا ہے اور انکی بات نہ ماننے پرانہیں کالج سے نکالنے اور پیپر میں فیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے پپو نلکا نے جعلی نرسنگ سکول بھی قائم کررکھا ہے-

    تاہم اس ساری تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
    1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
    2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
    3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
    مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصور

    اب اس 3 رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے وہ رپورٹ ڈی سی قصور نے ہیلتھ کئیر کمیشن کو بھیجی ہیں ان میں کہا گیا کہ زینب انسٹیٹیوٹ جس قانون کے تحت بنایا گیا اس قانون کے تحت کاروائی کریں-

    اور لوکل گورنمنٹ جس میں ٹی ایم اے اور ضلع کونسلر شامل ہیں کو زینب انسٹیٹیوٹ کو فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ڈی سی قصور نے اس بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔

    اور انہوں نے جو پی این سی (پاکستان نرسنگ کونسل ) کا جو لیٹر لگایا ہوا ہے کہ ہمارے پاس پی این سی کا اجازت نامہ ہے اس کا بھی ہیلتھ کئیر کمیشن کو کہا گیا کہ اس کے بارے میں انکوائری کریں کہ کیا یہ جعلی ہے یا اصلی ہے- تاہم کمیٹی نے خیال کیا کہ یہ جعلی ہے اور کوئی حتمی رائے نہیں دی اس کے لئے مزید انکوائری کرنے کی ہدایت کی-

    اور یہ انسٹیٹیوٹ 3 سال پہلے بنا تھا جہاں نرسنگ کروائی جاتی تھی اور پپو نلکا نرسنگ کی جعلی ڈگریاں بیچتا تھا اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور انتظامیہ نے نرسنگ کونسل والوں کا بھی موقف جاننے کی کوشش کی ہے کہ آپ نے کس قانون کے تحت اس کی رجسٹریشن کی ہے تو پتہ چلا ہے کہ رجسٹریشن کی صرف انہوں نے درخواست دی تھی دی تھی لیکن اس کے بعد ان کا کوئی بھی وفد یہاں پر وزٹ کے لئے نہیں آیا اور کسی نے اس نرسنگ سکول کو پاس نہیں کیا تھا-

    قصور کی ہیلتھ کئیر کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کا گائنی سنٹر اس کا بھی ان کے پاس کوئی اجازت نامی نہیں ہے ان کے پاس کوئی کوالیفائیڈ ڈاکٹر نہیں ہے اور جعلی طریقے سے چل رہا ہے۔

    متاثرہ لڑکیوں نے پہلے تو کہا کہ وہ کاروائی کروانا چاہتی ہیں اوراس کے بعد جتنی بھی طالبات جن کو انتظامیہ ڈھونڈ سکی ان سے یہ لوگ ملے ہیں تو کچھ لوگ کاروائی کرانا چاہتے تھے کچھ لوگ کاروائی نہیں کرانا چاہتے تھے تو یہ ملا جلا رحجان ہے لیکن اس سے پہلے جو لڑکیاں ڈگریاں لے کر جا چکی ہیں اور ان سے انتظامیہ کا کوئی رابطہ نہیں ان کو ڈگریاں مل چکی ہیں ان کا کوئی ریکارڈ ان کو نہیں ملا اور انتظامیہ کل تک اس نرسنگ کالج جو سیل کر دے گی اور ایک بڑی تعداد کو جعلی ڈگریاں جاری کی جا چکی ہیں-

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیسے ہی ضمانت ہوئی تھی پپو نلکا کی وہ دو لڑکیوں کے کیسز کے اندر تب اس نے اپنے ساتھ ملے دو مقامی صحافیوں کے ذریعے ان کو پریشرائز کرنے کی کوشش کی اور حقائق چھپانے کی بھی کوشش کی گئی تھی اسی لئے اس کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک مہینے کے لئے جیل میں بند کیا گیا ہے-

    اس کے علاوہ یہ شخص شہر کے اندر چُپ شاہ کا گدی نشین بھی بنا ہوا ہے اس میں بھتہ خوری کرتا ہے لوگوں سے پیسے لیتا ہے ہیئروئن کے کاروبار میں بھی ملوث ہے اس کا ایک بھائی ہئروئن بیچتا اس کا ایک بھائی سرکاری بس ٹرمینل پر ایک سٹینڈ پر قبضہ کیا ہوا وہاں سے گاڑی نکلنے کے پیسے چارج کرتا ہے-

    اور گزشتہ کئی سالوں سے چُپ شاہ دربار کا غلہ جہاں پر لوگ پیسے ڈالتے ہیں زیارتیں دیتے ہیں اس پر بھی اس کا قبضہ ہے وہاں پر اس نے اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں اور لوکل پولیس اسٹیشن اے ڈویژن سب کو اس کی وارداتوں کا پتہ تھا اور اس کے ساتھ ایک منظم گروہ ہے جو اس کے ساتھ یہاں پر دربار کے پیسے کھاتے ہیں-

    اور لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے والی بات تو کوئی بھی لڑکی اب میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتی لیکن انتظامیہ نے بتایا ہے کہ یہ دو تین سال سے اسی دھندے میں ہے اور پاکستان نرسنگ کونسل قصور کے دائرہ کار میں نہیں آتی ہے تو اگر کوئی اس پر سوال اٹھاتا بھی تھا تو کہتا تھا میں نے پی این سی سے لائسنس لیا ہوا ہے پی این سی اسلام آباد سے کوئی بھی ادھر نہیں آتا تھا تو اسی لئے اسے چھوٹ ملی ہوئی تھی-

    اور گائنی کے سسٹم میں اس کے ساتھ قصور کی مقامی ہیلتھ کئیر کمیشن ملی ہوئی ہے اور بچوں کے ناجائز حمل گرائے جاتے ہیں اور ساراایک باقاعدہ سسٹم بنا ہوا ہے اور اس کی بلڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی ہے اس کو انتظامیہ سیل کرنے جا رہی ہے-علاوہ ازیں یہ بھی چیک کیا جا رہا ہے کہ اس کو کس نے اجازت دی ہر محمکے کو ڈی سی قصور نے ہدایات جاری کر دی ہیں-

    اب اس پر دیکھتے ہیں یہ کیس کیا رُخ اختیار کرتا ہے لیکن اطلاعات یہی مل رہی ہیں کہ یہ بندہ پپو نلکا نرسنگ کی ہزاروں ڈگریاں جعلی سیل کرتا تھا اور ہزاروں نرسنگ کی جعلی ڈگریاں فروخت کر چکا ہے جس کی اماؤنٹ کروڑوں روپے کی بنتی ہے-

    واضح رہے کہ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج ہوئیں جس میں عام سی دفعات لگائی گئیں تاکہ اس کی ضمانت ہو جائے حالانکہ اس اخلاقیات سے گری ہوئی آڈیوز چیٹس ساری سنی گئی تھیں ڈی پی او قصور سمیت پوری کمیٹی نے سنا تھا سارا کچھ سننے کے بعد دو ایف آئی آر کی گئیں اور بالکل عام سے دفعات لگائی گئیں جب اس کی ضمانت ہو گئی تو اس بندے پپو نلکا نے صحافیوں کو ساتھ لے کر ان لڑکیوں کے گھروں میں جا کر ان کو بلیک میل کیا تو وہ لڑکیاں مکر گئیں الڑکیوں نے انتظامیہ جس میں ڈی پی او اور ڈی سی کے سامنے تو بیان دے دیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مُکر گئیں کیونکہ یہاں کا سارا میڈیا اس کو سپورٹ کرتا ہے-

  • لیسکو راجہ جنگ نے صارفین کو پتھر کا دور یاد کروا دیا

    لیسکو راجہ جنگ نے صارفین کو پتھر کا دور یاد کروا دیا

    قصور ، سب ڈویژن راجہ جنگ کے صارفین کی زندگیاں محکمہ واپڈا کی بدولت اجیرن،گزشتہ تین دن سے 9 سے 4 تک روزانہ بجلی غائب،لوگ پریشان
    تفصیلات کے مطابق لیسکو قصور کی سب ڈویژن راجہ جنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہیں گزشتہ تین دنوں میں لوگوں کو بجلی سے دور ہی رکھا گیا ہے تاکہ لوگ پتھر کے دور کی یاد تازہ کر لیں سب ڈویژن کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ تین دنوں میں

    منگل کو صبح 9 سے 4 بدھ کو صبح 9 سے 2 اور جمعرات کو 9 سے شام 4 بجے تک بجلی بند رکھی گئی ہے جبکہ صارفین کے پوچھنے پر تسلیاں دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے مذیداس کے علاوہ اس علاقے میں بجلی سب سے زیادہ بند کی جاتی ہے جس پر صارفین نے وزیر اعلی پنجاب و صوبائی وزیر پانی و بجلی سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • قبرستان پر قبضہ کرنے والا گروپ متحرک

    قبرستان پر قبضہ کرنے والا گروپ متحرک

    قصور
    شہر میں قبرستان پر قبضہ کرنے وال گروپ متحرک،لوگوں نے اعلی حکام سے داد رسی کی اپیل کر دی
    تفصیلات کے مطابق منیر شہید کالونی دربار حضرت بابا سخی سلطان شاہ قبرستان کی 6 کنال 1مرلہ اور 193فٹ جگہ جس کی سابقہ ڈپٹی کمشنر عبدالجبار شاہین نے اہل علاقہ کی فرمائش پر چار دیواری کرکے اس جگہ کو قبرستان کیلئے مختص کر دیا،جس کے اطراف میں راستے بھی ہیں اور یہ چاردیواری سابقہ ڈپٹی کمشنر نے سرکاری اخراجات سے مکمل کروائی،تاکہ کسی اہل محلہ پر اخراجات کا بوجھ نہ پڑے،چاردیواری کروانے کا مقصد عبدالجبار شاہین کی تعیناتی کے دوران قبرستان کی 2 کنال جگہ پر علاقے کا با اثر اس وقت کے رجسٹری محرر فاروق انصاری قبضہ کرنا چاہتا تھا جو اپنی کرپشن کی وجہ سے برطرف ہو چکا ہے جسے روکنے کیلئے ڈپٹی کمشنر قصور عبدالجار شاہین نے سرکاری اخراجات سے قبرستان کی مکمل جگہ 6 کنال1 مرلہ اور 193 فٹ پر چاردیواری کروا دی تھی

    فتح محمد ولد حمید خاں ذات پٹھان نے اپنا رقبہ خسرہ نمبران۔6142،6143ک و دربار و قبرستان کیلئے سال1980میں ہائی کورٹ میں دعویٰ دائر کرے مختص کر دیا تھا،مگر کرپشن کا شہنشاہ فاروق رجسٹری محرر کے منہ سے قبرستان کی دوکنال اراضی کو دیکھ کر رال ٹپک رہی تھی جس نے عبدالجبار شاہین کی ٹرانسفر کے بعد سابقہ رجسٹریوں میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کرکے اور اپنے اختیارات کو غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے قبرستان کی جگہ میں سے دوکنال جگہ کی جعلی رجسٹری اپنی ساس کے نام منتقل کروالی اور دو سال تک خاموشی اختیار کر لی تاکہ اہل علاقہ سابقہ قبضے کو بھول جائیں، سال 2019 میں ایک مرتبہ پھر سے اس نے قبرستان میں من مرضی کرتے ہوئے سیمنٹ کے پلرز لگا کر اس میں سیمنٹ کی ٹائلیں لگوانا شروع کر دیں جسے اہل علاقہ نے مداخلت کرکے رکوا دیا،مگر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے تقریباََ 4 فٹ تک سیمنٹ کی ٹائلیں کھڑی کر لیں،جس پر تحفظ قبرستان کمیٹی کے ممبران شیخ سجاد ایڈووکیٹ،حکیم شبیر مغل اور دیگر نے عدالت سے سٹے آڈر لے کر کام رکوا دیا،مگر با اثر معطل شدہ رجسٹری محرر نے اپنے غنڈوں اور حواریوں کی مدد سے گزشتہ روز رات کی تاریکی اور دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبرستان کی دیوار گرا کر ایک 20 فٹ کا لوہے گا گیٹ لگوا دیا اور صبح جب علاقے کے لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے 15 پر کال کردی جس پر تھانہ اے ڈویژن سے پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی،اورعلاقہ کے معززین اور قبضہ مافیا کو تھانے میں بلا کر تمام کام فوری طور پر روکنے کی ہدایات جاری کی،جب تک تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر اس واقعہ کی انکوائری کرکے فیصلہ نہ کریں تب کسی قسم کا کوئی تعمیراتی کام نہ کیا جائے،اہل علاقہ ارشد گورا ایڈووکیٹ، نجم الثاقب،محمد صابر،ڈاکٹر ندیم اسلم،میاں معصوم،غلام دستگیر،محمد آصف اقبال،محمد محسن اقبال،جہانزیب و دیگر نے ڈپٹی کمشنر قصور،اسسٹنٹ کمشنر قصور،محکمہ ریونیو اور تحصیلدار سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ قبرستان کو قبضہ مافیا سے واگزار کرواکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے