قصور
سینئیرصحافی مہر عتیق انور پر بلدیہ ملازم کا بہیمانہ تشدد قابل افسوس ھے تین دن گزر جانے کے باوجود مقدمہ کا اندراج نہ ھونا قابل مزمت ھے ۔ڈی پی او قصور فوری نوٹس لیں مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کیا۔ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور اپنے صحافی بھائی کے ساتھ کھڑے ھے ان خیالات کا اظہار صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب شریف سوھڈل نے ضلع بھر کے سینئیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ھوئے کاانہوں نے کہا کہ مقامی صحافی کا قصور صرف اتنا ھے کہ اس نے مختلف غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن کے راستے بند کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔اور حقائق اعلی حکام تک پہنچانے کے لئے کردار ادا کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ انہوں نے اپنا فرض ادا کیا کرپشن ننگی کرنے کے دکھ میں ایک صحافی پر بہیمانہ تشدد کی جتنی مزمت کی جائے کم ھے انہوں نے ڈی پی او قصور سے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ھوئے کہا کہ مقامی پولیس تھانہ اے ڈویزن کو پارٹی نہیں بننا چاہئے اور ملزمان کے خلاف حسب ضابطہ کاروائی ھونی چاہئیے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کی زمہ داری ھے انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں پر آئے روز حملے قابل افسوس ھے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ھے کہ بااثر ملزمان کے خلاف کاروائی میں تاخیر ملزمان کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ھے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور یہ صرف تب ھی ممکن ھے جب متاثرہ صحافی کے ساتھ انصاف ھو اور ملزمان کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ۔
Category: قصور

سینیئر صحافی پر قصور میں تشدد،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا اظہار تشویش

ہزاروں لوگوں کی قصور سے لاہور آمد،سخت تنقید کی گئی
قصور
قصور ضلع بھر و گردونواح سے بسنت منانے کیلئے لاہور پہنچنے والے ہزاروں افراد پر تنقید
تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر سے بسنت کے لئے لاہور جانے والے ہزاروں افراد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی روایتی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس تہوار کو کچھ حلقوں نے خونی تہوار قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے
لاہور کے مختلف علاقوں میں بسنت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں
مگر مقامی شہری اور ماحولیاتی کارکنوں نے پتنگوں اور دھاگوں کی وجہ سے خطرات، پرندوں اور انسانی جانوں کو لاحق نقصان کی بابت تشویش کا اظہار کیا ہے سوشل میڈیا صارفین نے خاص طور پر قصور سے آئے ہوئے افراد کی لاپرواہی پر تنقید کی اور بسنت کو غیر محفوظ اور نقصان دہ قرار دیا ہے
لاہور شہر کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم واقعہ کی نوعیت اور مقامی افراد کی رائے نے بسنت کے جشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے
قصور میں بھی کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے جلسےجلوس اور ریلیاں
قصور
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتیتفصیلات کے مطابق آج ملک بھر کی طرح قصور میں بھی یوم یکجہتی کشمیر بڑے جوش و خروش سے منایا گیا شہریوں نے ریلیاں اور جلوس نکال کر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا پیغام دیا سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے گئے
جبکہ ریاستی سطح پر بھی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا
قصور کے شہریوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عوامی جلسوں اور تقریبات میں بھرپور شرکت کی اور مقامی انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا نوجوانوں اور طلبہ نے بینرز، پوسٹرز اور نعرے بازی کے ذریعے عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آواز پہنچانے کی کوشش کی
یہ دن نہ صرف کشمیری عوام کے حق میں پاکستان کے عزم کی یاد دلاتا ہے بلکہ ملک بھر میں اتحاد و یکجہتی کا مظہر بھی ہے#قصوریات

4 سالہ بچی سے زیادتی کرکے لاوارث پھینک دیا گیا،مقدمہ درج
قصور کے تھانہ مصطفیٰ آباد کی حدود میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں چار سالہ نامعلوم معصوم بچی کو زیادتی کے بعد روہی نالہ کے قریب پھینک دیا گیا
پولیس کے مطابق ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ آباد کی مدعیت میں نامعلوم ملزم،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
واقعہ کے فوری بعد بچی کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں کامیاب آپریشن کے بعد اس کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے
ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کا کہنا ہے کہ ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہیں
علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے ہیں
پولیس نے لاوارث بچی کے ورثا کی تلاش کے لیے اشتہارات جاری کر دیے ہیں
ڈی پی او قصور نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ان شاءاللہ جلد ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی#قصوریات

قصور : 4 سالہ بچی سے زیادتی، ہسپتال منتقل،نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج،ورثاء کی تلاش جاری
قصور: (باغی ٹی وی،بیوروچیف طارق نوید سندھو) نواحی علاقے روہی نالہ مصطفیٰ آباد میں چار سالہ بچی سے زیادتی کے واقعے پر پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایم ایس جنرل ہسپتال قصور پروفیسر فریاد حسین کے مطابق متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ علاج لاہور جنرل ہسپتال میں جاری ہے، ڈاکٹروں کے مطابق بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس کے مطابق ایس ایچ او مصطفیٰ آباد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ بچی کے ورثا کی تلاش کے لیے اشتہارات جاری اور مساجد میں اعلانات کروائے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

قصور میں مین ہول میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق
پنجاب میں کھلے گٹروں کے باعث ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آ گیا۔ قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں شادی ہال کے احاطے میں موجود کھلے سیوریج نالے میں گر کر تین سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق کمسن علی اپنے والدین کے ساتھ ایک ولیمے میں شرکت کے لیے آیا تھا کہ اچانک شادی ہال میں موجود کھلے گٹر میں گر گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق وہاں موجود افراد نے بچے کو فوری طور پر نکال کر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی ہال میں سیوریج کا مین ہول کھلا ہوا تھا، جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ کمسن بچے کی موت سے خوشیوں کا ماحول ماتم میں بدل گیا اور اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ موقع پر پہنچ گئیں اور شادی ہال کو فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر قصور آصف رضا نے بتایا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مین ہول کا سلیب پہلے سے غائب تھا یا بعد میں ہٹایا گیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
قصور،شیخوپروہ،فیصل آباد اور ملتان میں پتنگ سازی کی اجازت،پتنگ بازی ممنوع
قصور
پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مذید چار اضلاع میں پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے
لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں اب رجسٹرڈ مینوفیکچررز پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے لیکن صرف لاہور میں رجسٹرڈ ٹریڈرز کے ذریعے فروخت کی اجازت ہوگی
یہ فیصلہ پنجاب کابینہ نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے محفوظ انتظامات کے لئے کیا ہے
اس فیصلے پر عوام میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا
کچھ شہریوں نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں میں مصروفیت بڑھے گی تاہم اکثر لوگوں نے اس اقدام کی مخالفت کی اور کہا کہ پتنگ بازی کے دوران حادثات اور بچوں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے لہٰذا اس فعل کو محدود اور سخت نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے
کابینہ کی جانب سے پابندیاں واضح کی گئی ہیں کہ سامان صرف رجسٹرڈ افراد ہی تیار اور فروخت کر سکیں گے اور بسنت کے مقررہ دنوں تک ہی استعمال کی اجازت ہوگی
واضع رہے کہ لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں بسنت منانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اُن اضلاع میں صرف پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے جو بعد میں لاہور میں بسنت کے لیے استعمال ہو گا لہذہ ان شہروں کی عوام محتاط رہے


قصور: خطرناک ڈاکو کی گرفتاری میں جرات دکھانے والے شہری سے ڈی پی او کی ملاقات
قصور (طارق نوید سندھوسے)قصور کے علاقے کھڈیاں میں خطرناک ڈاکو کی گرفتاری کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے والے شہری محبت علی سے ڈی پی او قصور، محمد عیسیٰ خاں نے ملاقات کی۔ ڈی پی او نے شہری کی جرات کو سراہتے ہوئے اسے نقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا۔
محمد عیسیٰ خاں نے کہا کہ واردات کے دوران جان خطرے میں ڈال کر پولیس سے تعاون کرنے والا محبت علی اصل ہیرو ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ڈاکو کی شناخت عثمان زیب، سکنہ شرقپور جبکہ ہلاک ڈاکو کی شناخت تنویّر، سکنہ مرزا پور ننکانہ کے نام سے ہوئی۔ گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اپنی شناخت چھپائی، تاہم فنگر پرنٹ اور فیس ٹریس ٹیکنالوجی سے اس کی تصدیق ہوئی۔
عثمان زیب مختلف مقدمات میں مطلوب خطرناک اشتہاری نکلا، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور پولیس مقابلہ شامل ہیں۔ ملزم 2020 میں تھانہ شرقپور میں تعینات اے ایس آئی محمد بوٹا کی شہادت میں بھی ملوث تھا۔ تھانہ کھڈیاں پولیس نے ملزم کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

بجلی چوری کا بڑا اسکینڈل ،مزاحمت کے باوجود متعدد گرفتاریاں
قصور
رورل ایریا سب ڈویژن میں بجلی چوری کا بڑا اسکینڈل بے نقاب
قصور کے رورل ایریا سب ڈویژن کی حدود میں واقع گاؤں رسول نگر میں بجلی کی 90 فیصد چوری کا انکشاف ہوا ہے جہاں مزاحمت کے باوجود لیسکو ٹیموں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بجلی چوری کے خلاف بھرپور ایکشن لیا
ترجمان لیسکو کے مطابق کارروائی چیف ایگزیکٹو لیسکو کی ہدایت پر ایس ای قصور سرکل راؤ کامران شوکت اور ایکسین رورل ایریا محمد جاوید کی سربراہی میں کی گئی
کارروائی کے دوران 3 ٹرانسفارمرز ضبط کر لیے گئے جبکہ 5 انتہائی مطلوب بجلی چور موقع سے گرفتار کر لئے گئے
ایس ڈی او نثار احمد خان نے آپریشن کے دوران 15 اسپین تاریں اور درجنوں سروس کیبلز تحویل میں لے لیں
ترجمان کے مطابق ڈائریکٹ سپلائی پر چلنے والے 2 ٹیوب ویل بھی پکڑ لیے گئے جس کے بعد پوری آبادی کی بجلی منقطع کر دی گئی
لیسکو ٹیموں پر تشدد کرنے والے مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے
چیف ایگزیکٹو لیسکو نے ایس ای قصور سرکل، پولیس اور رینجرز کی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجلی چور قوم کے مجرم ہیں اور ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی
9 سال بعد قتل کا راز کھل گیا،مرکزی ملزم جیل میں،مقتول کی نماز جنازہ بغیر میت ادا کر دی گئی
قصور
سچ ہے کہ قتل چھپائے بھی نہیں چھپا بلکہ انصاف ہو کر ہی رہتا ہے، 9 سال 3 ماہ بعد قتل کا راز فاش
تفصیلات کے مطابق قصور کے علاقے چھانگا مانگا میں 9 سال 3 ماہ قبل لاپتہ ہونے والے نوجوان کے قتل کا راز بالآخر کھل گیا
مقتول 5 بچوں کا باپ تھا، جسے اس کے اپنے رشتہ داروں نے عداوت کی بنا پر پہلے نشہ آور چائے پلا کر بے ہوش کیا پھر گلا دبا کر قتل کر دیا
بعد ازاں لاش کے ٹکڑے کر کے ایک تھیلے میں بند کر کے روہی نالے میں پھینک دیے گئے
واقعے کے 2 دن بعد مقتول کے بھائی اور والد نے تلاش شروع کی
موبائل فون کی لوکیشن سے معلوم ہوا کہ فون آخری بار انہی رشتہ داروں کے گھر آن تھا مگر پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث معاملہ دب گیا
ملزمان نے افواہ پھیلائی کہ نوجوان کسی لڑکی کے ساتھ چلا گیا ہے
سالہا سال بعد تعینات ہونے والے ایک نئے پولیس افسر نے کیس دوبارہ سنا تو مشتبہ شخص کو شاملِ تفتیش کیا گیا تو مرکزی ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا اور شریک ملزمان کے نام بھی بتا دیے
فی الحال مرکزی ملزم پولیس حراست میں ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے جاری ہیں
مقتول کی میت نہ ملنے پر لواحقین نے میت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا کی اور انصاف کا مطالبہ کیا










