Baaghi TV

Category: قصور

  • قصور:صحافی کوہراساں کرنے کامعاملہ،پولیس ملازمین طلب ،کارروائی کا آغازہوگیا

    قصور:صحافی کوہراساں کرنے کامعاملہ،پولیس ملازمین طلب ،کارروائی کا آغازہوگیا

    قصور،باغی ٹی وی (بیورورپورٹ)صحافی کوہراساں کرنے کامعاملہ،پولیس ملازمین طلب ،کارروائی کا آغازہوگیا

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں صحافی غنی محمود قصوری کو ایگل اسکواڈ قصور کے اہلکار رضوان و تین نامعلوم اہلکاروں نے قصور بائی پاس پر روک کر تلاشی کی اور دوران تلاشی صحافی کے لائسنسی پرمٹڈ پسٹل سے گولیاں چرا لیں اور شعبہ صحافت کو برے القابات سے نوازا جس پر صحافی نے آئی جی پنجاب کو درخواست گزاری

    آئی جی پنجاب نے درخواست ڈی ایس پی سٹی سرکل کو فارورڈ کی جس پر ڈی ایس پی سٹی سرکل سیف اللہ بھٹی نے صحافی کو اپنے دفتر بلا کر انکوائری کی تو پتہ چلا کہ رضوان نامی اہلکار سٹی سرکل کا ملازم نہیں بلکہ صدر سرکل کا اہلکار ہے

    ڈی ایس پی سٹی سرکل نے درخواست ڈی ایس پی صدر سرکل خالد اسلم جھٹول کو فارورڈ کی جہنوں نے صحافی کا مؤقف سنا اور ایگل اسکواڈ کو طلب کرکے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے

    یہ بھی پڑھیں

    قصورپولیس نے کیا صحافی کو ہراساں،اپنا تعارف نہ کراؤ،صحافیوں کی اوقات جانتے ہیں ،یہ بلیک میل کرتے ہیں

    پولیس اہلکاروں کے خلاف درخواست پا کر میرٹ پر کارروائی کرنے پر سنئیر صحافی قصور،میاں خلیل صدیق آرائیں،فیصل آباد سے سینئیر صحافی و چئیرپرسن آل پاکستان جرنلسٹ اینڈ لائر فورم منور قادری و قصور کی صحافی برداری نے شکریہ ادا کیا اور میرٹ پر انکوائری کی استدعا کی

  • کئی روز سے مین ہول بند،سڑک تالاب،شہریوں گھروں میں مقید

    کئی روز سے مین ہول بند،سڑک تالاب،شہریوں گھروں میں مقید

    قصور
    کھارا چونگی چوک میں سڑک پر پانی تالاب کی شکل اختیار کر گیا،لوگوں کا گزرنا محال،نمازیوں کو مشکلات کا سامنا

    تفصیلات کے مطابق قصور کے مشہور چوک، کھارا چوک چونگی کھارا نزد پیٹرول پمپ کے مین بازار میں سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہے
    سڑک پر مین ہول کئی دنوں سے بند ہے جس کے باعث پانی سڑک پر کھڑا ہے اور شہریوں کا گزرنا دشوار ہے شہری اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں
    مقامی شہریوں نے اس بابت کئی بار متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے
    پانی سڑک پر کھڑا رہنے سے نمازیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور بزرگوں کا گزرنا بہت مشکل ہے
    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایم پی اے،ایم این اے و ٹی ایم اے کو بار بار آگاہ کیا گیا ہے مگر ہر بار بے سود رہا ہے لہذہ ڈپٹی کمشنر قصور ہماری مشکل کا حل نکالیں

  • اربوں  روپیہ کی لاگت سے حالیہ مرمت ہونے والی منی موٹر وے برباد

    اربوں روپیہ کی لاگت سے حالیہ مرمت ہونے والی منی موٹر وے برباد

    قصور
    حالیہ مرمت ہونے والی منی موٹر وے لاہور قصور روڈ المعروف فیروز پور روڈ پر نکاسی آب نا ہونے سے پانی کھڑا رہنا معمول،سڑک پر بنے نالے میں گندگی سے پانی کی روانی میں مشکلات

    تفصیلات کے مطابق لاہور قصور منی موٹر وے المعروف فیروز پور روڈ اربوں روپیہ کی لاگت سے حال ہی میں مرمت کیا گیا ہے جس پر نکاسی آب کے لئے بنے نالے میں ہر وقت گندگی رہتی ہے جس کی وجہ نالے کی صفائی نا ہونا ہے
    نالے میں صفائی نا ہونے سے پانی گزر نہیں پاتا اور برسات کا پانی سڑک پر کھڑا رہتا ہے جس کے باعث سڑک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے اور دوسری جانب پانی سڑک پر کھڑا رہنے سے گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کے ایکسیڈنٹ بھی ہو رہے ہیں
    ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ سڑک پر بنے نالے کی صفائی باقاعدگی سے کروائی جائے تاکہ سڑک ٹوٹنے سے محفوظ رہے اور لوگ باحفاظت رہ کر سڑک پر سفر کر سکیں

  • سپرمز ڈونیشن کی آڑ میں فحاشی کا نیا منصوبہ،نوٹس کی اپیل

    سپرمز ڈونیشن کی آڑ میں فحاشی کا نیا منصوبہ،نوٹس کی اپیل

    قصور
    sperm donation
    کے نام پر پاکستانی قوم کو برباد کرنے کا نیا منصوبہ،حلال حرام کی تمیز ختم کرنے کی تیاری،سوشل میڈیا پر سرعام اشتہارات،گورنمنٹ سے نوٹس کی اپیل،گینگ کو پکڑنے کا مطالبہ،ایم پی اے،ایم این ایز سے اسمبلیوں میں اس کام کے خلاف قرار داد لانے کی استدعا

    تفصیلات کے مطابق پاکستان میں Sperm Donation کے نام پر بے حیائی کا نیا منصوبہ دیکھنے کو مل رہا ہے
    جس میں سوشل میڈیا پر سرعام اشتہارات دیئے جا رہے ہیں اور اپنے موبائل نمبرز تک بڑے دھڑلے سے دیئے جا رہے ہیں یعنی کہ کوئی روک ٹوک کا خطرہ نہیں ہے نوجوانوں نسل کیستاھ پوری قوم کو اس بے حیائی میں دھکیلا جا رہا ہے
    ان اشتہارات میں مختلف عمروں کے مردوں کو اپنے سپرم ڈونیٹ کرنے پر مختلف قسم کی ادائیگی کا لالچ دیا گیا ہے
    یہ بات بہت قابل تشویش ہے
    اس قوم میں بے حیائی پھیلانے کا نیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے
    جس طرح گورنمنٹ نے ہیومن ملک بینک پر پابندی لگائی ہے اسی طرح جلد سے جلد سپرم ڈونیشن گینگ کے لوگوں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے وگرنہ نوجوان نسل پیسے کے لالچ میں اپنے سپرمز بیچے گی جس کا استعمال شاید ہمارے ہی ملک میں کرکے حلال و حرام کی تمیز ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے
    ہو سکتا ہے آئی وی ایف میں یہی سپرمز استعمال کئے جائیں
    پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ نا صرف یہ اشتہارات بند کئے جائیں بلکہ اس گینگ کو پکڑ کر نشان عبرت بنایا جائے
    اگر دنیا میں ایسا کوئی قانون ہے تو پاکستان کے ایم پی ایز،ایم این ایز سے عوام کی اپیل ہے کہ اسمبلیوں میں اس کام کے خلاف قرار داس پاس کروائی جائے اور مملکت پاکستان میں شروع ہونے والی اس بے حیائی کو رکوایا جائے

  • تنخواہ پوری مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا،نوٹس کی اپیل

    تنخواہ پوری مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا،نوٹس کی اپیل

    قصور
    ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور میں تعینات پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے سیکیورٹی گارڈز پر ظلم کی حد،تنخواہ پوری مانگنے پر گارڈز نوکری سے فارغ،

    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال المعروف بابا بلہے شاہ ہسپتال قصور میں سیکیورٹی کا ٹھیکہ سیفٹی سیکیورٹی نامی پرائیویٹ کمپنی کے پاس ہے جس نے ظلم کی حد پار کر دی ہے
    ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ وسیم راجہ نے میڈیا نمائندگان کع بتایا کہ ہماری تنخواہ 33800 روپیہ فی سیکیورٹی گارڈ مقرر ہے جبکہ نجی سیکیورٹی کمپنی کا ایریا سپروائز پرویز اور ہسپتال کا سپروائز جمیل ہمیں 27000 روپیہ فی کس گارڈ ماہانہ تنخواہ دیتا ہے یعنی کہ 7000 روپیہ ماہانہ فی گارڈ کو کم دیا جاتا ہے
    ہماری تنخواہیں جب بینک اکاؤنٹ میں آ جاتی ہیں تو ہمیں ساتھ لیجایا جاتا ہے اور ہمیں فی گارڈ 27000 روپیہ دیا جاتا ہے جبکہ باقی خود ہڑپ کر لئے جاتے ہیں اس بابت جب میں نے پوری تنخواہ کا تقاضہ کیا تو مجھے اور کچھ اور گارڈز کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا
    جبکہ اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ گارڈوں کو کئی کئی مہینے تنخواہیں نہیں دی جاتیں جس کے باعث غریب سیکیورٹی گارڈوں کے گھروں کے چولہے نہیں چلتے اور قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں
    متاثرہ گارڈوں نے ڈپٹی کمشنر قصور،وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ پنجاب سے نوٹس لے کر رحم کی اپیل کی ہے اور سیکیورٹی کمپنی کی بے ضابطگیوں پر ان کا احتساب کرنے کی استدعا کی ہے

  • پولیس گردی جاری،طالب علم کو مارا ،نقدی و موبائل چھین لیا

    پولیس گردی جاری،طالب علم کو مارا ،نقدی و موبائل چھین لیا

    قصور
    پولیس کے نام پر محافظ سرعام لوگوں کو لوٹنے اور مارنے پیٹنے لگے،جعلی مقدمات کی دھمکیاں،ڈی پی او قصور اور آئی جی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس میں چند کالی بھیڑوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرکے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے
    اور آئے روز لوگوں کو ناجائز مارنا پیٹنا اور چیزیں چھیننا معمول بنا لیا ہے
    ایسے دو واقعات پرسوں پیش آئے جس میں تھانہ صدر چونیاں پولیس نے محافظوں کی بجائے دشمنوں کا کردار ادا کیا
    جمشیر کلاں کے رہائشی ایف اے کے طالب علم کو اکیڈمی سے پڑھ کر الہ آباد سے واپس جاتے ہوئے نور پور کے مقام پر روک کر مارا پیٹا اور 9750 روپیہ نقدی اور قیمتی موبائل فون چھین لیا طالب علم کو لوگوں نے اکھٹے ہو کر پولیس کے چار اہلکاروں سے بچایا اور جب طالب علم نے اپنے اوپر تشدد کی وجہ پوچھی تو اسے کہا گیا کہ تمہارے اوپر منشیات کا مقدمہ ڈال کر جیل بھیج دیں گے خاموش رہو ورنہ انجام کے لئے تیار رہنا
    اسی طرح پرسوں رات تھانہ صدر قصور پولیس کے چار اہلکاروں نے غنی محمود قصوری صحافی کو روکا اور بدتمیزی کی اور شعبہ صحافت کو برے القابات سے نوازا اور بدتمیزی کی
    شہریوں نے بڑھتی ہوئی پولیس گردی پر ڈی پی او قصور اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • قصورپولیس نے کیا صحافی کو ہراساں،اپنا تعارف نہ کراؤ،صحافیوں کی اوقات جانتے ہیں ،یہ بلیک میل کرتے ہیں

    قصورپولیس نے کیا صحافی کو ہراساں،اپنا تعارف نہ کراؤ،صحافیوں کی اوقات جانتے ہیں ،یہ بلیک میل کرتے ہیں

    قصور (باغی ٹی وی رپورٹ)پولیس کی جانب سے صحافی کو ہراساں کیا گیا،کہا کہ اپنا تعارف نہ کرواؤ، ہمیں پتہ ہے صحافی کس قابل ہوتے ہیں،لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں،ڈی پی او قصور سے پولیس رویہ پر نوٹس لینے کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے کونسل ممبر غنی محمود قصوری اپنی بائیک سی جی 125پر گذشتہ بتاریخ 2 جولائی 2024 کو ایک ضروری کام سے اوکاڑہ سے قصور آ رہے تھے کہ قصور بائی پاس پر ریلوے پھاٹک پر بوقت رات 8:30 ناکہ لگائے پولیس اہلکاروں نے روکا جس پر صحافی نے بریک لگائی اور موٹر سائیکل سے اتر کر پولیس وین کے قریب جا کر کہا جناب کیا حکم ہے اور ایک پولیس اہلکار کے قریب آ کر تلاشی کرنے پر اپنا لائسنسی و پرمٹڈ پستول پولیس اہلکار کو تھما دیا جس نے پسٹل پکڑتے ہی دوسرے ساتھیوں کو کہا کہ آجاؤ بھئی بندا پکڑا گیا ہے

    جس پر صحافی نے کہا جناب پستول نا صرف لائسنسی ہے بلکہ پرمٹڈ بھی ہے اور میں ایک شریف آدمی اور صحافی و کالم نگار ہوں جس نے ہمیشہ حق سچ پر خبر شائع کی اور اپنے ملک و ملت بارے کالم لکھے ہیں،اس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ کسی بھی سول بندے کو پسٹل پاس رکھنے کی اجازت نہیں
    جس پر صحافی نے اپنا اصل لائسنس معہ ہوم منسٹر سے جاری پرمٹ نکال کر دکھلایا اور کہا کہ جناب میں خود آپ کے پاس آکر آپ کو پسٹل پکڑا رہا ہوں اور تلاشی بھی دے رہا ہوںجبکہ آپ میرا ڈرائیونگ لائسنس،شناختی کارڈ،موٹر سائیکل ڈاکومنٹس اور میڈیا سرونگ کارڈ بھی دیکھ لیں

    پولیس اہلکار نے شناختی کارڈ موبائل پر چیک کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ کی تصویر اتار کر گروپ میں ڈالتے ہیں کہ اس بندے سے پسٹل پکڑا گیا ہے،یہ کہہ کر حوالدار نے پسٹل پکڑا اور صحافی کو قریب کھڑے کرکے ویڈیو بنائی،پولیس ٹیم میں تین سپاہی اور ایک حوالدار شامل تھا جہنوں نے تصویر اتاری اور گروپ میں ڈال دی

    جب صحافی نے کہا جناب جو گولی آپ نے میرے زیگانا ایف نائن پسٹل 30 بور سے نکالی ہے وہ مجھے واپس کر دیں کیونکہ میرے پاس 21 گولیاں ہیں جو کہ امپورٹڈ ہیں اور مہنگی ہیں،تو اس پر ایک اہلکار نے کہا کہ کونسی وہ گولی آپ کو مار دی گئی ہے مل جائے گی وہ گولی بھی

    صحافی اپنے گھر آ گیا اور جب پسٹل چیک کیا تو پسٹل کے اندر سے نکالے جانی والی میگزین میں ایک گولی کم تھی باقی فاصل میگزین میں 10 گولیاں پوری تھیں جبکہ پسٹل کے اندر والی میگزین میں 11 گولیاں تھیں،

    پولیس اہلکار نے صحافی سے کہا کہ تم لوگ کونسا حلال کماتے ہو گولی اور خرید لینا،تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے تم لوگوں کو بلیک میل کرکے پیسے کماتے ہو

    اس پر صحافی نے کہا جناب میں الحمدللہ فی سبیل اللہ صحافت کرتا ہوں اور اپنا ذاتی کاروبار کرتا ہوں اس پر ایک اہلکار نے غصے سے کہا کہ بار بار تعارف نا کرواؤ ،ہمیں پتہ ہے تم لوگ لوگوں کو بلیک میل کرتے ہو اور مال بناتے ہو

    قصور کی صحافی برادری نے معروف صحافی کے ساتھ پولیس کے ہتک آمیز رویہ ،ہراساں کرنے اور امانت میں خیامت کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب،آرپی او لاہور اور ڈی پی او قصور سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے

  • سڑک کنارے پولیس نے صحافی کو حراساں کیا،شعبہ صحافت پر برے جملے بولے گئے

    سڑک کنارے پولیس نے صحافی کو حراساں کیا،شعبہ صحافت پر برے جملے بولے گئے

    قصور پولیس کی جانب سے صحافی کو حراساں کیا گیا،کہا کہ اپنا تعارف نا کرواؤں ہمیں پتہ ہے صحافی کس قابل ہوتے ہیں،لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں،ڈی پی او قصور سے پولیس رویہ پر نوٹس لینے کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے کونسل ممبر غنی محمود قصوری اپنی بائیک سی جی ون ٹو فائیو پر آج بتاریخ 2 جولائی 2024 کو ایک ضروری کام سے اوکاڑہ سے قصور آ رہے تھے کہ قصور بائی پاس پر ریلوے پھاٹک پر بوقت رات 8:30 ناکہ لگائے پولیس اہلکاروں نے روکا جس پر صحافی نے بریک لگائی اور موٹر سائیکل سے اتر کر پولیس وین کے قریب جا کر کہا جناب کیا حکم ہے اور ایک پولیس اہلکار کے قریب آ کر تلاشی کرنے پر اپنا لائسنسی و پرمٹڈ پستول پولیس اہلکار کو تھما دیا جس نے پسٹل پکڑتے ہی دوسرے ساتھیوں کو کہا کہ آجاؤ بھئی بندا پکڑا گیا ہے
    جس پر صحافی نے کہا جناب پستول نا صرف لائسنسی ہے بلکہ پرمٹڈ ہے اور میں ایک شریف آدمی اور صحافی و کالم نگار ہوں جس نے ہمیشہ حق سچ پر خبر شائع کی اور اپنے ملک و ملت بارے کالم لکھے ہیں
    اس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ کسی بھی سول بندے کو پسٹل پاس رکھنے کی اجازت نہیں
    جس پر صحافی نے اپنا اصل لائسنس معہ ہوم منسٹر سے جاری پرمٹ نکال کر دکھلایا اور کہا کہ جناب میں خود آپ کے پاس آکر آپ کو پسٹل پکڑا رہا ہوں اور تلاشی بھی دے رہا ہوں
    جبکہ آپ میرا ڈرائیونگ لائسنس،شناختی کارڈ،موٹر سائیکل ڈاکومنٹس اور میڈیا سرونگ کارڈ بھی دیکھ لیں
    پولیس اہلکار نے شناختی کارڈ موبائل پر چیک کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ کی تصویر اتار کر گروپ میں ڈالتے ہیں کہ اس بندے سے پسٹل پکڑا گیا ہے
    یہ کہہ کر حوالدار نے پسٹل پکڑا اور صحافی کو قریب کھڑے کرکے ویڈیو بنائی
    پولیس ٹیم میں تین سپاہی اور ایک حوالدار شامل تھا جہنوں نے تصویر اتاری اور گروپ میں ڈال دی
    جب صحافی نے کہا جناب جو گولی آپ نے میرے زیگانا ایف نائن پسٹل 30 بور سے نکالی ہے وہ مجھے واپس کر دیں کیونکہ میرے پاس 21 گولیاں ہیں جو کہ امپورٹڈ ہیں اور مہنگی ہیں
    تو اس پر ایک اہلکار نے کہا کہ کونسی وہ گولی آپ کو مار دی گئی ہے مل جائے گی وہ گولی بھی
    صحافی اپنے گھر آ گیا اور جب پسٹل چیک کیا تو پسٹل کے اندر سے نکالے جانی والی میگزین میں ایک گولی کم تھی باقی فاصل میگزین میں 10 گولیاں پوری تھیں جبکہ پسٹل کے اندر والی میگزین میں 11 گولیاں تھیں
    پولیس اہلکار نے صحافی برادری کو کہا کہ تم لوگ کونسا حلال کماتے ہو گولی اور خرید لینا
    تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے تم لوگوں کو بلیک میل کرکے پیسے کماتے ہو
    اس پر صحافی نے کہا جناب میں الحمدللہ فی سبیل اللہ صحافت کرتا ہوں اور اپنا ذاتی کاروبار کرتا ہوں اس پر ایک اہلکار نے غصے سے کہا کہ بار بار تعارف نا کرواؤ ہمیں پتہ ہے تم لوگ لوگوں کو بلیک میل کرتے ہو اور مال بناتے ہو
    صحافی نے پولیس رویے ،حراساں کرنے اور امانت میں خیامت کرنے پر ڈی پی او قصور سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • 10 ہزار نا جائز گولیاں و دیگر اسلحہ برآمد ،ملزمان گرفتار

    10 ہزار نا جائز گولیاں و دیگر اسلحہ برآمد ،ملزمان گرفتار

    قصور/ تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے اسلحہ کی دوسری بڑی کھیپ پکڑ لی
    قصور۔ تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے اسلحہ کی دوسری بڑی کھیپ برآمد کر لی، مرکزی ملزم گرفتار
    قصور۔ ملزم کے قبضہ سے 10 ہزار کے قریب گولیاں و کارتوس اور 17 نئے پسٹل برآمد
    قصور۔ تھانہ سٹی پتوکی نے دن کے وقت سرچ آپریشن کے دوران نواحی گاؤں بھیڈیاں سے اسلحہ کی بڑی کھیپ پکڑی، دو ملزم گرفتار کیے جبکہ مرکزی ملزم عرفان بھٹہ فرار ہو گیا تھا
    قصور۔ مرکزی ملزم عرفان اپنے گودام سے بقایا اسلحہ لیکر فرار ہو رہا تھا کہ تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے اسلحہ سے بھری آلٹو کار سمیت گرفتار کر لیا
    قصور۔ ملزم عرفان بھٹہ غیر قانونی طور پر پشاور سے اسلحہ اور ایمونیشن خرید کر پتوکی اور گردونواح میں جرائم پیشہ ملزمان کو فروخت کرتا تھا
    قصور۔ تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے

  • قصور ہسپتال میں گارڈز کو 33800 کی بجائے 27000 تنخواہ،پوری مانگنے پر نوکری سے فارغ

    قصور ہسپتال میں گارڈز کو 33800 کی بجائے 27000 تنخواہ،پوری مانگنے پر نوکری سے فارغ

    قصور
    پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی نے اندھیر نگری چوپٹ راج والی مثال قائم کر دی،ڈی ایچ کیو ہسپتال المعروف بابا بلہے شاہ ہسپتال قصور میں تعینات سیکیورٹی گارڈوں کو فی کس 7000 ہزار ماہانہ کم تنخواہ دی جاتی ہے ،کئی کئی ماہ تنخواہیں بھی نہیں ملتیں

    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال المعروف بابا بلہے شاہ ہسپتال قصور میں سیفٹی سیکیورٹی نامی نجی پرائیویٹ کمپنی نے غریبوں کو مارنے کا پورا پلان ترتیب دے رکھا ہے
    پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی نے اندھیر نگری اور چوپٹ راج والی مثال قائم کر دی ہے
    ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ وسیم راجہ نے میڈیا نمائندگان کا بتایا کہ ہماری تنخواہ 33800 روپیہ مقرر ہے جبکہ نجی سیکیورٹی کمپنی کا ایریا سپروائز پرویز اور ہسپتال کا سپروائز جمیل ہمیں 27000 روپیہ فی کس گارڈ ماہانہ تنخواہ دیتا ہے
    اس حساب سے 7000 روپیہ ماہانہ فی گارڈ کو کم دیا جاتا ہے اور جو پوری تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے اسے نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے
    سپروائز نے بینک اکاؤنٹ سے رقم موجودگی میں نکلوا کر کم دینا معمول بنا لیا ہے
    جبکہ اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ گارڈوں کو کئی کئی مہینے تنخواہیں نہیں دی جاتیں جس کے باعث غریب سیکیورٹی گارڈوں کے گھروں کے چولہے نہیں چلتے اور قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں
    ہسپتال گارڈوں نے ڈپٹی کمشنر قصور،وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ پنجاب سے نوٹس لے کر رحم کی اپیل کی ہے