Baaghi TV

Category: لاہور

  • ایشیا کپ کا انعقاد: پاکستان کی سری لنکا کی حمایت کا فیصلہ

    ایشیا کپ کا انعقاد: پاکستان کی سری لنکا کی حمایت کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایشیاکپ کے انعقاد کیلئے سری لنکا کی حمایت کرے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین کا کہنا ہےکہ پاکستان چاہتا ہے کہ ایشیا کپ سری لنکا میں ہی ہو، آسٹریلیا کی کامیاب سیریز کے بعد اب ہماری ٹیم بھی سری لنکا میں موجود ہے، تاہم ٹورنامنٹ کے وینیو کا حتمی فیصلہ ایشین کرکٹ کونسل کو کرنا ہےایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) حکام سے بات ہوئی ہے وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے، ان کا ہر فیصلہ قبول کریں گے-


    انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی اہم میٹنگز آئندہ ہفتے ہونے جا رہی ہیں، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہم نے ان اہم اجلاسوں کے لیے دو چیزیں ایجنڈے پر رکھی ہیں چیئرمین رمیز راجا کےہمراہ آئندہ ہفتےآئی سی سی کی سالانہ جنرل کونسل کے اجلاس میں شرکت کروں گا، یہ اجلاس آئندہ 8 سالہ فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) کی تیاری کے لیے بہت اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایجنڈے میں پہلی چیز تو یہ ہے کہ فیوچر ٹور پروگرام پر بات ہو گی اور ہم اپنے حوالے سے دیگر بورڈز سے معاملات کو حتمی شکل دیں گے، 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے باقی 20 فیصد کو فائنل کریں گے کہ کون کب کہاں کھیلے گا اور کون میزبانی کرے گا، دوسرے بورڈز سے باہمی سیریز کو حتمی شکل دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فرنچائز ٹی20 لیگز بڑھنےسے انٹرنیشنل کرکٹ کیلنڈر شدید متاثر ہورہا ہے،آئے روز لیگز سامنے آ رہی ہیں اورکچھ لیگز کی مدت بڑھ رہی ہے،یہ لیگزانٹرنیشنل کرکٹ کا وقت لے رہی ہیں جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ سے بورڈ ریونیو حاصل کرتا ہےلیکن اب لیگز انٹرنیشنل کرکٹ کا وقت لے رہی ہیں، پاکستان کو اس پر تحفظات ہیں اور فکر مندی ہے اس معاملے پر پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ایک مجوزہ پلان بھیج چکا ہے-

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی نےکہا کہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر کرکٹ آسٹریلیا، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور سری لنکا سمیت دیگر بورڈز حتیٰ کہ سعودیہ کرکٹ بورڈ سے باہمی دلچسپی کے امور پر چیزوں کو حتمی شکل دیں گے جس میں فور نیشن اور ٹرائی نیشن ٹورنامنٹس کے ایجنڈے زیر غور ہوں گے۔

    ان کا کہنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آئی سی سی میٹنگز میں اس معاملے پر بات چیت ہو اور اس کا ایک طریقہ کار بنایا جائے اور نئی تجاویز رکھی جائیں اور معاملے کو ہر صورت میں ایگزیکٹوز کی میٹنگ میں زیر بحث لایا جائے، خوشی کی بات یہ ہے کہ دو اور بورڈز نے بھی آئی سی سی کو اس حوالے سے لکھا ہے کہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔

  • ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا، انتخابی مہم ختم ہونے سے قبل مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی مہم کے آخری روز فیصل آباد اور لاہور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور اور ملتان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار 15 جولائی کی رات انتخابی مہم ختم کردیں، مقررہ وقت کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم ختم ہو گئی.

     

    لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا،مریم نواز

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔

    ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔

    دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔

    پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

    زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے

    اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔

    پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔

    اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

  • الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا:علی امین گنڈاپور

    لاہور:جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں تلخیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور مخالفین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کا بازار بھی گرم کررکھا ہے ، اس حوالے سے کچھ زیادہ تلخی اس وقت سامنے آئی جب پنجاب کے وزیرداخلہ عطااللہ تارڈ نے یہ خبر وائرل کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کے پنجاب داخلے پرپابندی لگا دی ہے ،

    عطااللہ تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے پنجاب میں داخلےپرپابندی عائد کیےجانےپر قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا۔

    اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے پہلےجعلی ایف آئی آرز کاٹیں ان لوگوں نے پھر ہمارےکارکنوں کو بےبنیاد گرفتار کیا ان لوگوں کو اپنی شکست نظرآرہی ہے اس لیےایسی حرکتیں کررہےہیں۔

    پنجاب حکومت کے اس اعلان کے ساتھ ہی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کیخلاف عدالت جاؤں گا الیکشن کمیشن کیسےکہہ سکتا ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کرنے لگا تھا پنجاب حکومت کیسےکہہ سکتی ہےکہ میں پنجاب میں کچھ کروں گا۔

    پنجاب میں داخلے پر پابندی کے خلاف اپنا نقطہ اعتراض دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاکستان کاشہری ہوں مجھےپنجاب میں جانےسےکیسے روکا جاسکتا ہے سابق وفاقی وزیر ہوں میرے کو پنجاب جانے سے کیسے روکا جا سکتاہے یہ لوگ سری لنکاجیسےحالات پاکستان میں چاہتےہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے پنجاب میں کشمیری رہنما کے داخلے پرپابندی پر بھی سخت ردعمل دیا ،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مقبول گجر کشمیری ہیں ان پر کیسے پنجاب میں جانےپرپابندی لگائی گئی؟ مقبول گجر جیسے کشمیری پر پابندی لگا کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا ،، وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا

  • 17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پی پی 168دائم مارکی آشیانہ روڈ پر جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ جذبہ اور جنوں دونوں پی پی 168 میں نظرآرہی ہے۔ نواز اعوان اور ان کی ٹیم کو مبارک دیتا ہوں۔ آخری سروے کے مطابق آپ اس حلقے میں لوٹوں سے آگے نکل گئے ہیں ۔ پہلے 130 روپے ڈیزل بڑھایا پھر 35 روپے کم کی۔ بڑی دھاندلی کی کوشش کی جا رہی ہے

    الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ میں کہا 40 لاکھ لوگ مردہ ہو گئے۔ انہی اسی بار پر استعفی دے دینا چاہیے
    نوجوان ایک ایک پولنگ سٹیشن کا پہرہ دیں گے۔شرم کی بات ہے اس ملک میں الیکشن ایمانداری سے نہیں کروا سکتے۔ سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کا بیٹا رشوت دیتا پکڑا گیا مگر کچھ نہیں کیا گیا۔22کروڑ کی قوم ہے با شعور قوم ہے۔ گھر گھر جا کر اس کو 17 تاریخ کو شکت دیں گے اور حمزہ کو گھر بھیجیں گے۔ کرپشن سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے سری لنکا کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔حمزہ نے کہا چوری ہوتی ہے تو ہونے دو۔ چوری اور کرپشن میں پھر کیا فرق ہے۔ مریم نے کہا میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ۔اس نے جب یہ کہا تو اسے نہیں پتا تھا کہ سچ سامنے أ جائے گا۔جب پاناما کا انکشاف ہوا تو پتا چلا کہ مریم کے بھائی نے اسے مان لیا۔ سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز آپ دونوں میری نظر پر ہو ۔آپ نے بہت ظلم کیا آپ کو ہم کٹگہرے میں لائیں گے۔ جذبہ اور جنون دونوں مجھے پی ہی 168 میں نظر آرہا ہے۔ تازہ سروے کے مطابق نواز اعوان کی جیت ہو گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کو مستعفی ہونا چاہیے۔الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ 40 لاکھ ووٹرز کو ماردیا ہے۔ہم 22 کروڑ کی قوم ہیں بھیڑ بکریاں نہیں۔ وزیر اعظم کا بیٹا مفرور۔وزیراعلی انڈر ٹرائیل 4 گواہ مرچکے ہیں.حمزہ شہباز پر 16 ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ہے۔ مریم نواز سزایافتہ ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو کہا کہ جلدی پولنگ اسٹیشن پہنچنا ہے ۔پرسوں کا الیکشن نہیں جہاد ہے۔

    نواز اعوان نے پی پی 168 کا خوف توڑا ہے۔ دھاندلی کے باوجود ن لیگ کو شکست دیں گے۔ لاہور کے سی سی پی او اور آئی جی تم دونوں میری نظر میں ہو۔ 17 جولائی کو فتح کا جشن منائیں گے۔ حمزہ شہباز جائے گا تو ہم 17 جولائی کے بعد قانون کے کٹہرے میں لائیں گے.

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے جلسے سے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ مریم نواز کا پورا خاندان چور ہے۔ لوٹے منہ کے بل گریں گے ۔نوجوان عمران خان کے ساتھ ہیں۔ قوم کو امریکا کی غلامی قبول نیہں۔ عوام لوٹوں کو مسترد کریں گے۔ امریکہ نواز حکمران عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہے۔ن لیگ سب کو ساتھ ملا لے پھر بھی عوام ان کو شکست دیں گے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی ائی کامیاب ہوگی۔

    آشیانہ روڈ پر منعقدہ جلسے سے عندلیب عباس نے خطاب کرتے ھوئے کہاکہ 17 جولائی کو عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے لوٹوں کو پھینٹا لگائیں گے۔ تمام سروے میں پی ٹی آئی سب سے آگے ہے پی ٹی آئی کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پی ٹی آئی جہاد کر رہی ہے ۔ الیکشن ڈے پر پی ٹی آئی کے کارکنان چوکنا رہیں گے۔

  • حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگادی

    حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگادی

    لاہور: صوبائی حکومت پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگا دی،اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا ہے کہ امن وامان کو یقینی بنانےکیلئے علی امین گنڈاپور اور مقبول گجر پر پنجاب میں پابندی لگا دی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ضمنی الیکشن کےدوران سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ پنجاب عطاتارڑ نے کی۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنےکی اجازت نہیں ہوگی اسلحےسےپاک مہم میں پولیس نےبھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا۔

    عطاتارڑ نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کودھمکیاں دینے پر آگئے ہیں تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کرلوگوں کوبدامنی پراکسارہی ہے امن وامان کویقینی بنانےکیلئے مقبول گجر بھی پابندی لگائی گئی ہے اطلاعات تھیں علی گنڈاپور، مقبول گجر پرُتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔4 روزہ پابندی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے نوٹیفکیشن جاری کیا ،دونوں شخصیات کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ لاہور اور دیگر حلقوں میں پولنگ سٹاف اور دیگر لوگوں کو ہراساں کر سکتے ہیں،

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پرامن، صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایاجائےگا اسلحےکےخلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائےگا بدامنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے۔

  • لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا،مریم نواز

    لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوامی جوش و خروش ن لیگ کی فتح کی نوید ہے، 17 جولائی کو تصدیق کی مہر ثبت ہوگی، مخالفین کو میدان سے بھگا کر دم لیں گے، لاہور پر بری نظر رکھنے والوں کو مایوس لوٹنا پڑے گا۔

    پی پی 168 میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سب کو لندن سے نواز شریف کا سلام، ملک اسد کھرکھر شیروں میں آگیا ہے اب شیر بن کر دکھائے گا، شیروں کو شیروں کے ساتھ ہونا چاہیے گیدڑوں کے ساتھ نہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر اپنے آئینی کردار کے لئے کسی کو جواب دہ نہیں، ترجمان

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے پر چین کی نیند سوئی، لاہور والو مبارک ہو مشکل وقت گزر گیا، اب ہر آنے والے دنوں میں اچھی خبریں آئیں گی، 17 جولائی کو لاہورمیں چار سیٹوں پر الیکشن ہے، لاہور نواز شریف کا تھا اور رہے گا، لاہور پر بری نظر رکھنے والوں کو مایوس لوٹنا پڑے گا۔

    مریم نواز نے کہا کہ لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا، جب عوام کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوئیں تو میں چین کی نیند سوئی،مجھے خوشی ہے میں آج ملک اسد کھوکھر کے ساتھ کھڑی ہوں، 17جولائی کو آپ کو یہاں سے مایوس لوٹنا پڑے گا،اب ہر آنے والے دنوں میں خوشخبری آئے گی،پچھلے چار سال لاہور یتیم تھا اور لاوارث بھی،لاہوراب دوبارہ ان لوگوں کے پاس آگیا ہے جو دن رات ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے،شہبا زشریف نے دن رات ایک کر کے پنجاب کو سجایا،پنجاب کو یہ بھی نہیں پتہ وزیراعلیٰ بزدار تھا یافرح خان.

     

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

     

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ آج ملتان میں میرا آخری جلسہ ہوگا، رات 12 بجے الیکشن کمپین ختم ہوجائے گی،کسی نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر کسی کے دانتوں میں خلا ہو تو شہباز شریف وہاں بھی سڑک بنا دے گا، لاہور کی ترقی بند ہوگئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں لاہور کی سڑکیں ایک، ایک ماہ صاف نہیں ہوتی تھیں، حمزہ شہباز نے دوبارہ لاہور کو صاف ستھرا بنا دیا ہے، میں تو فخر سے بھائی حمزہ کی کمپین کر رہی ہوں، یہ آج لاہور آرہا ہے اس سے پوچھنا تمہارا وزیراعلیٰ کہاں ہیں؟ چار سال کٹھ پتلی بزدار بیٹھا رہا کسی ایک جلسے میں اسے دیکھا؟، عثمان بزدار نے کچھ کیا ہوتا تو لاہور منہ دکھانے آتا۔

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان خود سب سے بڑا کٹھ پتلی تھا، عمران خان نے عثمان بزدار کو کٹھ پتلی رکھا ہوا تھا، آج تو عمران بزدار کے لیے ووٹ نہیں مانگ رہا، آج عمران اس کے لیے ووٹ مانگے گا جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا، یاد رکھنا شیر اور بلے کی جنگ نہیں ہے، یاد رکھنا یہ لاہور، پنجاب کی ترقی کی جنگ ہے، ہم یہ جنگ چھین کرلیں گے۔

    ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ شہباز شریف نے میٹرو بس بنائی تو اسے جنگلہ بس کہتا تھا، تھوک کر چاٹ کر وہی جنگلہ بس پشاور میں بنائی، عمران خان چار سال مہنگائی کے پہاڑ توڑتا رہا تمہارا قیمتیں کم کرنے سے کیا تعلق؟ نواز شریف نے مجھے آج کہا اگر اسی طرح تیل کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو دو ہفتے بعد مزید کم کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ لاہور والو وعدہ کرو 17 جولائی کو گھروں سے باہر نکلنا ہے، شیر پر مہر لگانی ہے، شیر پر مہر لگاؤ آپ کی زندگیوں میں بہاریں واپس لائیں گے، پی پی 168 کا جذبہ بتارہا ہے 17 جولائی کو شیر دھاڑے گا، جنگ سمجھ کر 17 جولائی کو باہر نکلنا ہے، ملک اسد کھرکھو کو جتوانا ہے، نواز شریف اور ہم مرتے دم تک لاہور سے وفا نبھائیں گے، ہسدے رہو آباد رہو لاہوریوں، ملتان جلسے میں بڑی ضروری باتیں کروںگی تقریر ضرور سننا۔

  • پی پی167،پی ٹی آئی کا ن لیگ کے دفتر پر دھاوا،توڑ پھوڑ،2 کارکن زخمی

    پی پی167،پی ٹی آئی کا ن لیگ کے دفتر پر دھاوا،توڑ پھوڑ،2 کارکن زخمی

    لاہور حلقہ پی پی 167 میں کئی افراد نے مسلم لیگ ن کےدفترپردھاوابول دیا اور توڑپھوڑکی۔

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان نے واقعے سے متعلق بتایا کہ 8 سے 10 افراد نےہمدرد چوک کے قریب دفترکو نشانہ بنایا، واقعے میں 2 کارکن زخمی بھی ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے خواجہ عمران نزیر نےحملے میں پی ٹی آئی کو ملوث قرار دیا ہے.

    قبل ازیں بھی لاہور میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی167 پر ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن آمنے سامنے آگئے تھے. پی ٹی آئی کے امیدوار شبیرگجر نے لیگی امیدوار پر تحریک انصاف کے دفتر پر حملےکا الزام لگایا تھا.

     

    ضمنی الیکشن میں حکومتی مداخلت،عدالت نے یاسمین راشد کی درخواست نمٹا دی

     

    شبیرگجرکا کہنا تھا کہ ن لیگی امیدوار نذیر چوہان نے مسلح گارڈزاور پولیس کے ہمراہ دھاوا بولا، لیگی امیدوار رات 2 بجے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ دفتر سے پینا فلیکس اتارنے آئے، ان کے ہمراہ ڈولفن فورس اورپولیس اہلکاربھی تھے۔شبیرگجر نے الزام لگایا تھا کہ مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے ان کا بھتیجا زخمی ہوگیا جو اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ انہوں نے پولیس پر واقعےکی ایف آئی آر درج نہ کرنےکا بھی الزام لگایا تھا۔

    دوسری جانب امیدوارمسلم لیگ ن نذیر چوہان نے الزام لگایا ہےکہ انتخابی مہم کے بعد گھر جاتے ہوئے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے میری گاڑی کو نقصان پہنچا، فائرنگ پی ٹی آئی کے شبیرگجر، خالد گجراوران کے ساتھیوں نےکی۔

  • شدید بارش،پی ڈی ایم اے  نےالرٹ جاری کر دیا

    شدید بارش،پی ڈی ایم اے نےالرٹ جاری کر دیا

    مون سون کے حوالے سے پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن کے مختلف علاقوں میں شدت کے ساتھ بارش کا امکان ہے.15 سے 17 جولائی تک راولپنڈی، سرگودھا، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن اور دریاؤں کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسمیاتی بارش کا امکان ہے۔

    حکومت کا سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں 15 سے 17 جولائی 2022 تک درمیانے درجے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ جبکہ بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان ڈویژن کے شہروں اور مضافات کے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

     

    لاہور میں بارش جاری،توجہ نکاس آب پر ہے ،کمشنر

     

    ترجمان کے مطابق کوہ سلیمان،سالٹ رینج سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے،جس سے علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے، پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو ضرورت پڑنے پر عارضی ریلیف کیمپوں اورمحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرے،ریلیف کیمپوں میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پکا ہوا کھانا فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ شہری علاقوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے تمام درکار مشینری/ڈیواٹرنگ سیٹ بروقت دستیاب کرائے جائیں۔محکمہ صحت سیلاب کے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے طبی ٹیموں کو متحرک رکھے۔ شدید بارشوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں جو مقامی نالوں/دریاؤں میں اچانک سیلاب پیدا کر سکتے ہیں۔

    بارش کے پانی سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے مخصوص جگہوں پر ادویاتی سپرے کے چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے پنجاب کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے.

  • الیکشن کمیشن غیر قانونی تبادلوں کو فی الفور کالعدم قرار دے،پرویزالہیٰ

    الیکشن کمیشن غیر قانونی تبادلوں کو فی الفور کالعدم قرار دے،پرویزالہیٰ

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے ملاقات کی،ملاقات میں سیاسی۔ قانونی معاملات اور ضمنی انتخاب کےبارے میں تبادلہ خیال کیا گیا.

    فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور،ن لیگ کا پنجاب اسمبلی میں ایک اور ووٹ کم ہوگیا

    ملاقات کے دوران چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود حمزہ شہباز غیر قانونی تبادلے کرر ہے ہیں،ضمنی الیکشن والے حلقوں میں حکومت پنجاب کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے.سپریم کورٹ کوحمزہ شہباز کے غیر قانونی اقدامات اور توہین عدالت کے مترادف کاموں پر از خود نوٹس لینا چاہئے۔

     

    ضمنی الیکشن میں حکومتی مداخلت،عدالت نے یاسمین راشد کی درخواست نمٹا دی

     

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے معصومیت کے اعلانات نہ کرے۔ الیکشن کمیشن اپنے عمل اور رویے سے اپنی غیر جانبداری ثابت کرے ورنہ کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا، پی ٹی آئی کے امیدواروں کو دھمکیاں اور کارکنوں کو گرفتار کر رہے ہیں، حمزہ شہباز کے یہ غیر قانونی اقدامات توہین عدالت کے مترادف ہیں.

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو اس کا از خود نوٹس لینا چاہئے، الیکشن کمیشن کو اپنی عزت اور غیر جانبداری کا کچھ بھی پاس ہے تو نیب اور انتظامیہ میں ہونے والی حالیہ غیرقانونی تبدیلوں کا فوری نوٹس لے، الیکشن کمیشن غیر قانونی تبادلوں کو فی الفور کالعدم قرار دے۔

  • فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور،ن لیگ کا پنجاب اسمبلی میں ایک اور ووٹ کم ہوگیا

    فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور،ن لیگ کا پنجاب اسمبلی میں ایک اور ووٹ کم ہوگیا

    لاہور:فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور،ن لیگ کا پنجاب اسمبلی میں ایک اور ووٹ کم ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے نون لیگ کے ایم پی اے فیصل نیازی کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ فیصل نیازی اب باضابطہ طور پر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔

    فیصل نیازی خانیوال کے حلقہ پی پی 209 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، انہوں نے رواں مئی میں سپیکر پنجاب اسمبلی کو استعفی پیش کیا تھا جسے اس وقت منظور نہیں کیا گیا تھا۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چودھری کا فیصل نیازی کے استعفے پر ردعمل میں کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں مزید 2 ووٹ کم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل نیازی مستعفی ہو گئے جبکہ ہاولنگر سے ایک لیگی رکن اسمبلی جعلی ڈگری پر نااہل ہو گئے ہیں

    ادھر پنجاب اسمبلی کے 20حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے، رات 12 بجے کے بعد انتخابی مہم پر پابندی ہوگی۔

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار آج رات انتخابی مہم ختم کردیں، رات 12بجے کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پابندی کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    مخصوص نشستوں پر ارکان کا حلف، پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل

    واضح رہے کہ پنجاب میں 20سیٹوں پر ضمنی الیکشن 17جولائی کو ہوگا جس کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے لیے مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا