Baaghi TV

Category: لاہور

  • پی ٹی آئی کے ڈی سیٹ رکن اسمبلی نذیر چوہان کو ن لیگ نے ٹکٹ دے دیا

    پی ٹی آئی کے ڈی سیٹ رکن اسمبلی نذیر چوہان کو ن لیگ نے ٹکٹ دے دیا

    لاہور: پی ٹی آئی کے ڈی سیٹ رکن اسمبلی نذیر چوہان کو ن لیگ نے ٹکٹ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے ڈی سیٹ ہونے والے رکن اسمبلی نذیر چوہان کو مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ جاری کردیا۔

    منحرف ارکان ڈی سیٹ، پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب کا اعلان

    پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں نےکاغذات نامزدگی جمع کرانا شروع کردیے۔لاہور میں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 167 سے ڈی سیٹ ہونے والے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی نذیر چوہان کو مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ جاری کردیا۔نذیر چوہان نے پی پی 167 پر ضمنی انتخاب میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک اور علی پرویز ملک بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ ٹکٹ دینے پر مسلم لیگ ن کا مشکور ہوں، ہم نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عمران خان کو چھوڑا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو تباہی کے دہانے پرلاکر کھڑا کردیا تھا، میرے حلقے میں اب پی ٹی آئی کا نام لینے والا کوئی نہیں، ہم ملک کیلئے سیاست کرتے ہیں، عمران خان نے ملک توڑنے کی سیاست کی۔نذیر چوہان کا کہنا تھاکہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف عمران خان ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کرسکے۔

    پنجاب سے تحریک انصاف کے 25 ارکان ڈی سیٹ،الیکشن کمیشن کا فیصلہ آ گیا

    خیال رہے کہ 20 مئی کو الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کردیا تھا۔ڈی سیٹ کیے جانے والے 20 ارکان کی نشستوں پر 17 جولائی کو ضمنی انتخابات ہوں گے۔

  • وزیراعظم کا اخباری صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان

    وزیراعظم کا اخباری صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان

    وزیراعظم شہبازشریف سے آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کے وفد نے ملاقات کی ملاقات میں وزیراعظم نے اخباری صنعت کو مشکلات اور بحران سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان گیا.

    وزیراعظم شہبازشریف نے30 جون تک سابق حکومت کے تشہیر ی واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پروزیراعظم نے پی ٹی آئی دورکے اخبارات اور تشہیری کمپنیوں کے حکومتی واجبات ادا کرنے کا حکم دیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے کہا کہ وہ سیاسی انتقام میں یقین نہیں رکھتے، اس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مہنگائی کے تناسب سے تشہیری نرخ میں مناسب اضافہ کریں گے.بجٹ میں اخباری صنعت پر کوئی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی نہیں لگائیں گے،اخباری صنعت کو بحران سے نکالنے کے لئے اضافی ریلیف بھی فراہم کریں گیا جائے گا.

    ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اوروزیراعظم کے معاون خصوصی فہد حسین بھی موجود تھے جبکہ اے پی این ایس کے صدر سرمد علی کی قیادت میں وفد میں سیکریٹری جنرل ناز آفرین سہگل لاکھانی شامل تھیں،ملاقات میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، جمیل اطہر، شہاب زبیری کے علاوہ محترمہ رمیزہ نظامی بھی شریک ہوئیں ،عمرمجیب شامی، امتنان شاہد، ممتاز طاہر، محسن بلال، اویس خوشنود، وسیم احمد، منیر گیلانی اور ہمایوں گوہر بھی ملاقات میں موجود تھے.

    قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قومیں محنت ‘صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں جس کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا’ صحت اور تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبے ہیں جن میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، معیشت کا پہیہ چلائیں گے، معیشت مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا’ملک کو آگے چلانے کیلئے ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ،اچھے لوگ کسی بھی حکومت کیساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ہمیں اپنی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر اور ذاتی انا کو مار کر ملکی مفاد اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیےکام کرنا ہو گا، اس وقت دنیا میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین ہسپتال تھا اسے سیاست کی نظر کردیا، ہم نے بڑی کوشش کی لیکن دل پر پتھر رکھ کر قیمتیں بڑھانی پڑیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ غریب شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔

  • ابھی تو ہیرے کی سٹوری ملی ہےبہت کچھ باقی ہے،مسلم لیگ ن

    ابھی تو ہیرے کی سٹوری ملی ہےبہت کچھ باقی ہے،مسلم لیگ ن

    پنجاب حکومت کے ترجمان عطا تارڑ پاکستان کے چوٹی کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان بیٹی کی مبینہ آڈیو سامنے لے آئے۔لاہور میں ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے مبینہ آڈیو پیش کردی۔

    عطا تارڑ کی پیش کردہ مبینہ آڈیو میں ملک ریاض کی بیٹی اپنے والد کو بتا رہی ہیں کہ فرح کا فون آیا تھا، خاتون اول نے ہیرے کی 3 کیرٹ کی انگوٹھی قبول کرنے سے منع کردیا ہے۔مبینہ آڈیو میں عنبر فرح خان کا نام لیے بغیر کہتی ہے کہ ہفتے کو اُس سے ملاقات ہے، انگوٹھی اُس سے پہلے ہی ارینج کرلیں، اس پر ملک ریاض اپنی صاحبزادی سے کہتے ہیں کہ تم انگوٹھی منگوالو۔

    پریس کانفرنس میں عطا تارڑ نے کہا کہ فرح گوگی نے پنجاب میں بیٹھ کر پورے پاکستان پر حکومت کی، اس خاتون نے کرپشن کے نام پر لیے کروڑوں روپے کے ہیرے دبئی میں بیچے۔
    انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں فرح گوگی نے اربوں روپے کے اثاثے بنائے، پیسے لے کر افسران کی تعیناتیاں کیں، جب ان تمام اسکینڈلز کی تحقیقات ہوں گی تو یہ جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا منی لانڈرنگ کا اسکینڈل ہوگا۔

    صوبائی وزیر عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے سامنے وہ حقائق لائیں گے ملک میں کس طرح عمران خان اور اہلخانہ نے کرپشن کا بازار گرم کیا ، ماڈل ٹاون لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑنے کہا کہ فرح شہزادی گوگی نے بشری مانیکا سے دوستی کو استعمال کرتے ہوئے ٹھیکوں، ٹرانسفر پوسٹنگ اور اشیاء خورونوش کی قلت پیدا کرکے اربوں روپے کمائے.

    عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ایمنسٹی انٹر نیشنل سے احسن جمیل گجر اور فرح گوگی کو 32 ارب روپے کی چھوٹ دی،انکے کے پاس منی ٹریل کا کوئی ثبوت نہیں تھا،
    عمران نیازی رسیدیں پوچھتے پوچھتے خود رسیدیں دینا بھول گئے، بورڈ آف ریونیو کا چئیرمین لگاکر ٹیکس ایمنسٹئ سے چھوٹ دی

    عظمی بخاری نی کہا کہ پنکی ،گوگی اور کپتان، یہ تھا نیا پاکستان، یہ ہے پی ٹی آئی کا کچا چٹھا،عمران خان کا گھر چلانے اور غربت مٹانے میں گوگی اور فرح کا ہاتھ ہے،گوگی کے شور کے بعد پنکی کی ڈیمانڈ سامنے آُگئی ہے،ابھی تو ہیرے کی سٹوری ملی ہےبہت کچھ باقی ہے.

    عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہیرے مل رہے ہیں ، بنی گالہ میں تالے کھولنے والے بیٹھے رہے، کسی سیکریٹری کا غیر قانون کام یا غیر قانونی سوسائٹی ہوتو اسے فرح کررہی تھی،تین قیراط واپس بھجوا کر گوگی نے پانچ قیراط بجھوائے.

    عظمی بخاری نے کہا کہ وہی پاکستان جہاں روٹی چینی نہیں تھی زکوتہ کھاکر وزیراعظم بنا اس کی اصل شکل سامنے آ گئی ہے،عظمی بخاری نے کہا کہ پونے چار سال میں فرح گوگی اور احسن گجر کے آٹھ سے دس ارب روپے کے اثاثے بنے،پنکی، گوگی اور کپتان یہ تھا نیا پاکستان، یہ ہے پی ٹی آئی کا کچا چٹھا، انہوں نے کہا کہ فرنٹ مین گوگی ،عمران خان کا گھر چلانے اور غربت مٹانے میں گوگی کا ہاتھ ہے، گوگی کے شور کے بعد پنکی کی ڈیمانڈ سامنے آُگئی ہے،ابھی تو ہیرے کی سٹوری ملی ہےبہت کچھ باقی ہے.

  • تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ الیکشن ریفارمز ہوں باسٹھ ترسیٹھ پر عمل درآمد ہو،سرمایہ کی بنیاد پر الیکشن کو اغوا کیاجاتاہے تو الیکشن عوام کےلئے نہیں ہوتا،ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے ملک میں الیکشن ریفارمز ہوں،ہمارے ملک میں چار بینک غیر سودی نظام کے تحت چلتے ہیں،تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی دیانت دار لوگوں کا ساتھ دیاجائے،

    سراج الحق نے مصورہ لاہور میں پرہس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس نے جھنڈے بدل بدل کر ووٹ لے کر عوام کو لوٹاانکا احتساب اور حساب کتاب ہونا چاہئیے،مسائل کا حل اسلامی نظام ہے جس کی علمبردار جماعت اسلامی ہے، ہم گالی گلوچ سیاست کو مسترد کرتے ہیں چیف جسٹس نے بھی جماعت اسلامی کے بارے کہاکہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کررہے ہیں.

    سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ اگر سیاست میں دلیل نہ ہو تو گالیاں ہی دی جاتی ہیں، گالی اور لاٹھی کو مسترد کرتے ہیں، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے آئی ایم ایف کو راستہ دیا،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیاگیاہے،قوم سے کہنا چاہتا ہوں سیاسی جماعتوں کے مختلف جھنڈوں اور نعروں پر نہ جائیں ،تمام سیاسی جماعتوں کی وجہ سے مشکلات تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ہیں.

    امیر جمارت اسلامی نے کہا کہ ملک میں اسوقت ڈمی حکومت اور ڈمی اپوزیشن ہے،معدنی وسائل ہیں زرخیر مٹی ہے تو اس کے باوجود آئی ایم ایف کے خود کو گروی رکھوا لیا،فیصلے قومی اسمبلی اور کیبنٹ میں نہیں ہو رہے تو ذمہ داری تین پارٹیوں پر آتی ہے،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو قوم کی نمائندہ جماعت ہے،سندھ پشاور بلوچستان پنجاب میں کرپشن ہی کرپشن ہے کون ذمہ دار ہے، ملک میں کرپشن کے ذمہ دار جنات نہیں بلکہ سیاسی لیڈرز اور وی آئی پی اشرافیہ ہے.

    سراج الحق نے کہا کہ پنڈورا پیپر ، پانامہ پیپر، نیب کے کیسز اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے والے یہی بدنام زمانہ لیڈرز ہیں، آپ کے بچے کو کوئی بینک تین ہزار روپے نہیں دیتا،پی ڈی ایم پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے کرپشن کرکے قومی خزانہ ہڑپ کر لیا،قرضے آپ نے لئے آپکی شوگر ملوں اور کارخانوں میں اضافہ ہوا،اس نظام کو مسترد کرتے ہیں فرد کی نہیں نظام کی تبدیلی مسائل کا حل ہے،سود سے پاک کرپشن فری نظام چاہتے ہیں،اس وقت سودی نظام کرپشن ام لمسائل ہیں کرپشن کا نظام تینوں سیاسی جماعتوں نے نافذ کیا،

    انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ سود فری بجٹ ہو آئی ایم ایف قرضوں نجات کا روڈ میپ بھی ہو،ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ میں کرپٹ سرمایہ دار پر بوجھ پڑے،ناجائز حرام دولت کو لے کر قومی خزانے میں جمع کروایا جائے،کرپٹ سیاستدان اربوں روپے لےکر بیرونی بینکوں میں جمع کرواتے رہے، نظام کے خلاف عوام کی طرف رجوع کررہاہوں،گیارہ جون کو لاہور سے سودی نظام کرپشن اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی عوامی مارچ کااعلان کیاہے،شہبازشریف کہتے ہی کہ عوام کےلئے اپنے کپڑے بیچوں گا لیکن تم نے تو عوام کے ہی کپڑے اتار دئیے،کپڑے بیچنے کے بجائے آئی ایم ایف سے معاہدوں کو قومی اسمبلی میں پیش کیاجائے،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائی جائے.

    سراج الحق نے کہا کہ شیر کا دور ظلم کا دور تھا بیٹ کا دور بے روزگاری کا دور تھا پیپلزپارٹی کا کرپشن کا دور تھا۔ جماعت اسلامی دس روزہ ترازو مہم شروع کررہی ہے اگر مساوات چاہتے ہیں تو ترازو کو اپنا لیں، آنے والا دور ترازو کا دور ہے شوری اجلاس کے بعد سود مہنگائی اور غلط فیصلوں پر جو تحریک شروع کررہے عوام ان کا ساتھ دے،ملک کے مسائل کا حل دین و شریعت میں ہے.

  • موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اورعوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،عارف علوی

    موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اورعوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے پائیدار طرز زندگی اپنانے، قدرتی آبی وسائل کی حفاظت کی ضرورت ہے، زمین کو بچانے کیلئے زرخیز مٹی کی حفاظت یقینی بنانے، عالمی سطح پر تبدیلی لانے کیلئے شرکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔

    ایوان صدر کے پریس ونگ سے عالمی یوم ماحولیات کے حوالے سے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اور پاکستانی عوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،پاکستان تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، غیر متوقع بارشوں اور خشک سالی سے متاثر ہوا ہے، نوجوانوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے بارے تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کے لیے ماحول دوست طرز زندگی اپنانا ہوگا،

    مجھے فخر ہے کہ ایوان صدر آئی ایس او سے تصدیق شدہ دنیا کے ماحول دوست صدارتی دفاتر میں پہلی پوزیشن پر ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ ایوانِ صدر ایک میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے سے نہ صرف اپنی بجلی کی ضروریات پورا کرتا ہے بلکہ قومی گرڈ میں بھی بجلی دیتا ہے۔ انہون نے کہا کہ تمام اداروں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ گرین پریذیڈنسی منصوبے سے سیکھیں،

    توانائی کی بچت کریں تاکہ موثر انداز میں عوام کی خدمت کی جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے وسائل کو موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور آبادی میں اضافے کے باعث منفی اثرات کا سامنا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور پروگراموں کے تحت متعدد اقدامات کے ذریعے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگلی وسائل ماحولیاتی استحکام کے لیے اہم ہیں، جنگلات، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کا عالمی یوم ماحولیات ماحول سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور مثبت اقدامات کرنے کے لیے وقف ہے،

    اس سال کے دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو فطرت سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دینا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پائیدار ترقی کے17 اہداف میں سے کئی ایک کو پورا کرنے میں صحت مند ماحول کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں 8 سال باقی ہیں، دنیا کو معاشروں اور معیشتوں کو آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کی تباہی سے بچانے کیلئے تیز رفتاری سے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے.

    چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہاہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنے رویوں اور طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی، اپنے آنے والی نسلوں کی حفاظت کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت آگانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بات ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پراپنے خصوصی پیغام میں کہی ہے۔

    چئیرمین سینیٹ نے کہاکہ عالمی یوم ماحولیات منانے کا مقصد ماحولیات کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے ، بدقسمتی سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے حکومت اور پاکستانی عوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں.

  • اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر ہے اور توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کے وفد کی سربراہ عائشہ عبدالخالق بٹ سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور آبپاشی اور بجلی دونوں مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا سستا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

    اربوں روپے مالیت کا سیلابی پانی جو ضائع ہو جاتا ہے اس کو بھی متعدد مقاصد کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے باعث ہم گرمیوں میں سیلاب اور سردیوں میں بار بار خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سرحدی آبی تعاون وسیع علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت پاکستان اپنی توانائی کی 75 فیصد سے زیادہ ضروریات اندرونی وسائل سے پوری کرتا ہے جس میں سے 50.4 فیصد مقامی گیس، 28.4 فیصد مقامی اور درآمدی تیل جبکہ 12.7 فیصد پن بجلی سے پوری ہو رہی ہیں۔

    قابل تجدید توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چار اہم قابل تجدید ذرائع ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور بائیو ماس دستیاب ہیں۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان میں دیرپا توانائی کے بحران کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو متنوع توانائی کی فراہمی کو بہتر بنانے، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ عائشہ عبدالخالق بٹ نے کہا کہ شمسی توانائی کے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں اتنا ہی قابل اعتماد ہے اور ماحول پر منفی اثر ڈالے بغیر بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر حصے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے اور سال میں 300 سے زیادہ دن سورج کی روشنی دستیاب ہے۔ مزید اظہار خیال کرتے ہوئے طلب اور رسد میں موجود فرق سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں روایتی ذرائع توانائی کی فراہمی سے قابل تجدید وسائل پر انحصار میں مستحکم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہیے۔

    تاہم بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کے ساتھ سالانہ 8 سے 10 فیصد مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی خریداری کے لیے پالیسی کی حوصلہ افزائی اور اسے آسان بنایا جانا چاہیے۔

    اس شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی طلب 11,000 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس لیے پائیدار توانائی کے حصول کے لیے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع نقطہ نظر اور پالیسی کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا،شہباز شریف

    پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 75 برس بعد بھی ہمیں سبق نہیں سیکھنا، سیاست ہی کرتے رہنا ہے؟، ملک کو گرینڈ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے۔لاہور میں اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ قرض پر رہنے والا ملک کب تک زندہ رہے گا، اس وقت دنیا میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا، پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اسپتال کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث مسرت ہے، غریب افراد کے لیے ایسے منصوبے شروع کرنیوالے دین و دنیا کما رہے ہیں، اسپتال چلانے والے قابل فخر پاکستانی ہیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کو ایسے اداروں کے حوالے کریں جن کا دنیا میں نام ہے، قومیں علم اور ٹیکنالوجی سے ترقی کرتی ہیں، صحت اور تعلیم پر کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، قومیں صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آگے جانا ہے تو انا اور ضد کو چھوڑنا ہوگا، پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ہم سب کو زندگی کے تمام طبقوں میں مثال پیش کرنا ہوگی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھے لوگ کسی بھی حکومت کیساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ہمیں اپنی پسند نا پسند سے بالاتر ہونا ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ کوئی آئے کوئی جائے تعلیم، صحت، صنعت اور دیگر اہم شعبوں پر سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق مجھے علم ہے، بجلی کے منصوبے موجود ہیں، تیل اور گیس مہنگا منگوانا پڑ رہا ہے، ساڑھے 3 سال ملک میں جو ہوا اسکا حساب لینا ہے کہ نہیں، یا صرف مجھ سے حساب لینا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا ہے کہ رش کے اوقات میں میٹرو کے ٹکٹ آدھے کردیں۔ انہوں نے کہا کہ سود پر قرآن کریم میں جو کہا گیا اس کی حکم عدولی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، دنیا میں ہمیں اسلامی بلاک میں آگے ہونا چاہیے تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگالی بوجھ نہیں تھے انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، کہا گیا بنگالیوں سے جان چھڑوائیں، آج بنگلادیش کی ایکسپورٹ 40 اور ہماری 27 ارب پر ہے۔

  • شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتار

    شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتار

    شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتارکر لی گئی،مقتول اپنی بیوی کو اس کے آشنا کے ساتھ ملنے سے روکتا تھا۔ملزمہ نے ساتھیوں کی مدد سے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کروادیا

    سی آئی اے صدر ڈویژن نے کارروائی کرتے ہوئے 2سال قبل شہری کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث مقتول کی بیوی سمیت 3ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل 2پسٹل اور گولیاں برآمد کر لی ہیں۔

    تفصیل کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کی ہدایات پر انویسٹی گیشن پولیس کی سپیشل ٹیمیں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دن رات سر گرم عمل ہیں۔ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کی سربراہی میں ڈی ایس پی سی آئی اے صدررضوان منظور نے اپنی ٹیم کے ہمراہ 2سال قبل شہری یاسر صدیقی کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث اس کی بیوی کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

    ملزمہ عالیہ بی بی نے اپنے آشنا طاہر خان اور فیضان کے ذریعے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کروا دیا تھا۔ مقتول اپنی بیوی کو اس کے آشنا طاہر خان کے ساتھ ملنے سے روکتا تھا جس کا اسے رنج تھا۔ملزمہ نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کے قتل کا بھیانک منصوبہ بنایا۔

    قتل کی سنگین واردات کے بعد نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ہربنس پورہ میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے سفاک ملزمان کی گرفتاری پر سی آئی اے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

  • پنجاب کی فلور ملز نے  بھی آٹے کی قیمت بڑھانے کا عندیہ دے دیا

    پنجاب کی فلور ملز نے بھی آٹے کی قیمت بڑھانے کا عندیہ دے دیا

    بجلی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پنجاب بھر میں فلور ملز نے بھی آٹے کی قیمت میں اضافہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی تی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی اور پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔ فلور ملزم ایسوسی ایشن نے لاگت بڑھنے کے سبب پنجاب بھر میں 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں محتاط اندازے پر 60 روپے اضافے کا عندیہ دیا۔

    پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بجلی اور پیٹرول ریٹ بڑھنے سے آٹے کی قیمت میں فی الحال معمولی اضافہ ہوا ہے، حساب کتاب کے بعد نئی قیمت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چینی کی قیمت میں توازن برقرار رکھنے کیلئے وفاقی حکومت کوچینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز پیش کی جائے گی.وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے،ضرورت مند طبقے کو اشیا ضروریہ میں سبسڈی کے لئے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں .

    حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ کھاد کی ذخیرہ اندوزی کاشتکار پر ظلم کے مترادف ہے، حمزہ شہباز نے نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ کھاد اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیزکر دیا جائے.

    اس سے قبل یکم جون کو وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہواتھا، اجلاس میں صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے جبکہ پنجاب کابینہ نے وزیر اعلی عوامی سہولت پیکیج کی منظوری دی تھی.

    اجلاس کے دوران پنجاب بھر میں سستے آٹے کی فراہمی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی کے فیصلے کی توثیق کی گئی، پورے صوبے میں 10 کلو آٹا تھیلا 160روپے سستا کرنے کے فیصلے کی بھی توثیق کی گئی تھی.

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پنجاب کو آگے لے کر جائیں گے، جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈال کر کابینہ کی تشکیل میں بے پناہ تاخیر کی گئی۔اللہ تعالیٰ اگر ہم سے مخلوق کی خدمت کا کام لینا چاہ رہا ہے تو کوئی نہیں روک سکتا۔ معیشت سسکیاں لے رہی ہے اور عوام پریشان ہیں، مایوسی کے دور میں ہمیں امید کی کرن بننا ہے،صورتحال ”اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے“ کے مصداق ہے۔

    کابینہ کے اجلاس میں پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں 10کلو آٹا تھیلا 490 روپے میں فروخت کرنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی ،وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا اظہار گیا جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو گندم دینے کی منظوری بھی دی گئی.اجلاس میں گندم ریلیز پالیسی کے فیصلے کی توثیق بھی کی گئی جبکہ کابینہ نے پاسکو سے گندم خریدنے کی اجازت دے دی.

  • وزیراعظم نے لوڈ شیڈنگ میں کمی کا پلان 24گھنٹے میں طلب کیا ہے،مریم اورنگزیب

    وزیراعظم نے لوڈ شیڈنگ میں کمی کا پلان 24گھنٹے میں طلب کیا ہے،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہنگامی پلان 24گھنٹے میں طلب کر لیا اور توانائی، پٹرولیم اور خزانے کے وزیروں کی کمیٹی کو قابل عمل پلان پیش کرنے کا حکم دیا ہے

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پانچ گھنٹے طویل جاری رہنے والے اجلاس میں لودشیڈنگ ،مہنگائی سمیت تمام صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے،وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ میں بتدریج کمی کے پلان پر موثر عملدرآمد کرائیں گے.

    وفاقی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ملک میں توانائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا جبکہ صنعت اور گھریلو صارفین کو بجلی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بریفنگ دی گئی .

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس کے دوران متعلقہ وزرا کو صنعت اور گھریلو صارفین کو بجلی کی فراہمی میں توازن لانے کی ہدایت کی ہے ،وزیراعظم نے یہ ہدایت بھی کی کہ ایسا پلان بنائیں جس سے عوام کو لوڈشیڈنگ میں کمی خود محسوس ہو.

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر وزراء اور افسروں پر برس پڑے اور تمام وضاحتیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وضاحتیں نہیں عوام کو تکلیف سے نجات چاہیے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں توانائی بحران پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں لوڈشیڈنگ کی وجوہات، محرکات اورسدباب کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے لوڈشیڈنگ میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی وضاحتوں کو مسترد کردیا، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عوام تکلیف میں ہیں، اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ بھی کریں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں، عوام کومشکل سےنکالیں، کوئی وضاحت نہیں چاہیے، عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سےنجات چاہیے۔

    وزیر اعظم کی سرکاری افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے شارٹ اور لانگ ٹرم پلان تیار کیا جائے، شارٹ ٹرم پلان کے تحت لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں فوری واضح کمی لائی جائے، وزیر اعظم نے سستی اور وافر مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرنے کہ بھی ہدایت کی۔