لاہور، پاکستان میں اٹلی کے سفیر اینڈریاس فراررز نے کہا ہے کہ اٹلی اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے جس کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح اور سینئر نائب صدر ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔
لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی اراکین چودھری خادم حسین اور شاہد نذیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر نے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس کی معیشت مضبوط اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں جن سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیرات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کی وسیع گنجائش ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو تین سے پانچ سال کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہونگے اور باہمی تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ اٹلی یورپ میں پاکستان کا اہم تجارتی حصے دار ہے ، دوطرفہ تجارت میں اصافہ خوش آئند ہے مگر تجارت میں اضافے کی وافر گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2019میں پاکستان کی اٹلی کو برآمدات کا حجم 810ملین ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 937ملین ڈالر رہا۔
میاں طارق مصباح نے کہا کہ پاکستان کی اٹلی کو نمایاں برآمدات میں ٹیکسٹائلز، لیدر اور چاول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیرات، زرعی ٹیکنالوجی ، پلاسٹک، فوڈ، ڈیری ، لائیوسٹاک، فارماسیوٹیکل وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کی کافی گنجائش ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان باہمی روابط مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کو جیل میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا
احتساب عدالت لاہورمیں فریقین کے وکلا نے درخواست پر بحث مکمل کرلی ،نیب پراسیکیوٹر عاصم ممتاز احتساب عدالت میں پیش ہوئے ،جج جواد الحسن نے چیمبر میں شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی
یب نے احتساب عدالت لاہور میں اپنی رپورٹ جمع کرا دی،نیب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم عدالت قانون کے مطابق صادر فرمائیں ،شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ ریفرنس میں ملوث ہیں
گزشتہ روزاحتساب عدالت میں سماعت ہوئی تھی تو شہباز شریف کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ میڈیکل بورڈ نے جیل کا وزٹ کیا ہے میڈیکل بورڈ میں میرے 3 کنسلٹنٹ ہونے چاہیے ،جس پر عدالت نے کہا کہ وہ علیحدہ معاملہ ہے، عدالت علیحدہ سنے گی
واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،
حمزہ شہباز نے بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش ہونے پر انکار کیا تھا جس پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ لگتا ہے ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے
تعلیمی ادارے کیوں کھولے؟ عدالت کے حکم پر حکومت نے کیا جواب دیا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی ادارے 18 جنوری سے کھولنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی
سیکریٹری سکول کی جانب سے جواب جمع کروا دیا گیا ،جواب میں کہا گیا کہ 18 جنوری سے سکول کھولنا حکومتی پالیسی ہے ، لاہور ہائیکورٹ کو اس درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں ،
جسٹس علی باقر نجفی کچھ دیر تک کیس پر سماعت کریں گے ،لاہور ہائیکورٹ نے این سی او سی کے فیصلوں کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں
واضح رہے کہ گزشتہ روز تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں , کرونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا دوسرا دور بھی ختم ہو گیا ،پاکستان بھر میں نویں کلاس سے 12 ویں کلاس کے طلبہ کے لئے تعلیمی ادارے کھل گئے
طلبا و طالبات نے ماسک لگا رکھے ہیں اور ہاتھوں کو سینی ٹائرز کیا جا رہا ہے، کلاس رومز میں بچوں کو سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث پاکستان بھر میں تعلیمی اداروں کو دوسری دفعہ بند کردیا گیا تھا تا ہم تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں، طلبا تعلیمی اداروں میں پہنچے ہیں، تعلیمی اداروں میں کرونا ایس او پیز کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر اور بڑھنے کیسز پر گزشتہ سال 26 نومبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ قبل ازیں گزشتہ سال 23 مارچ کی پہلی بندش کے بعد تعلیمی اداروں کو گزشتہ سال 15 دسمبر سے مرحلہ وار کھولا گیا تھا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس فراڈ کیس ساڑھے پانچ سال سے قید ملزم آصف علی فیض کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی
عدالت نے ملزم آصف علی فیض کی ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے کہا کہ ملزم پانچ سال چھ ماہ سے قید میں ہے ، قانون کے مطابق دی گئی سزا سے زیادہ سزاء کاٹ چکا ہے, کسٹم قوانین کے تحت سزاء پانچ سال ہے,
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے اپیل فائل کی ہے, جس پر عدالت نے کہا کہ وہ اپیل مسترد بھی تو ہوسکتی ہے ہم سزاء سے زیادہ قید پر ضمانت کی سماعت کررہے ہیں, عدالت نے استفسار کیا کہ کسٹم کورٹ میں کیا کیس چل رہا چالان جمع ہواہے, جس پر کسٹم وکیل نے کہا کہ کیس میں نامزد دو ملزمان بھی ضمانت لے چکے ہیں،چالان جمع ہوچکاہے,
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قانون سے زیادہ سزا ہوچکی تاحال گرفتاری غیرقانونی ہے, کسٹم وکیل نے کہا کہ 1 کروڑ کی ریکوری ہوئی تاحال 11 کروڑ کی ریکوری رہتی ہے,
جسٹس صداقت علی خان نے آصف علی فیض کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ،عدالتی حکم پر ڈی جی نیب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ آصف علی عرصہ ساڑے پانچ سال سے کسٹم کی حراست میں ہے, کسٹم قوانین کے تحت سیکشن(2) 37 میں گرفتار ملزم کوپانچ سال قید کی سزاء دی جاسکتی ہے,کسٹم قوانین کے تحت دی گئی سزاء مکمل ہوچکی درخواست ضمانت منظور کی جاے,
سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہوں،جان کو خطرہ،بلٹ پروف گاڑی واپس کی جائے، سابق آئی جی پنجاب عدالت پہنچ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سابق آئی جی پنجاب پولیس کی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لینے کا معاملہ پر درخواست کی سماعت ہوئی
عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ،عدالت نے درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔عدالت نے تاحکم ثانی درخواستگزار کی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لینے کے نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد معطل کر دیا ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مجھے سنے اور دفاع کا موقع دیے بغیر پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لے لی گئی ہے ۔آیا کیا جانا بدنیتی پر مبینی اور غیر قانونی ہے۔پولیس چیف کے ساتھ میری کارکردگی احسن رہی ہے
چیف جسٹس قاسم خان نے مشتاق احمد سکھیرا کی درخواست پر سماعت کی ،درخواستگزار کی طرف سے قانون دان ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،درخواست میں آئی جی پنجاب پولیس ۔ایڈشنل سیکرٹری ہوم ۔سیکرٹری سروسز پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وہ سابق آئی جی پنجاب پولیس ہے۔ سابق پولیس چیف ہونے کے ناطے وہ ہر قسم کے الاونسز اور مراعات کا حق دار ہے وہ سانحہ ماڈل ٹاون کا مبینہ ملزم ہے اور کیس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے
وکیل درخواستگزار نے کہا کہ اسکو سابق پولیس چیف ہونے کے ناطے بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی دی گئی ۔سیاسی بنیادوں پر اسکو دی گئی پولیس سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑی واپس لے لی گئی ہے ایسا کیا جانا اسکی جان کے لیے سیکیورٹی رسک ہے
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت 13 نومبر کے بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے اسکو بلٹ پروف گاڑی اور پولیس سیکورٹی دینے کا حکم دے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت لاہورمیں جوہر ٹاوَن پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی
سابق وزیراعظم نواز شریف کی تمام جائیدادیں قرق کر لی گئیں ،عدالت نے آئندہ سماعت پر شریک ملزم ہمایوں فیض رسول کو طلب کر لیا
احتساب عدالت کے جج اسد علی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ نواز شریف کی جائیدادیں قرق کرنے کی رپورٹ طلب کی تھی،جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل میں نواز شریف کی تمام جائیدادیں قرق کر لی گئی ہیں،
جج اسد علی نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیداد قرقی کی رپورٹ جاری کر دی گئی،نیب نے نوازشریف کی ملکیت زرعی زمین ،مختلف کمپنیوں میں شیئرز اور گاڑیوں کو قرق کردیا،رپورٹ کے مطابق نوازشریف کے حدیبیہ پیپر سمیت 3مختلف کمپنیوں میں 8لاکھ 82ہزار سے زائد شئیرز ہیں نوازشریف کی لاہور مختلف موضع جات میں 1547کنال زرعی اراضی ہے،شیخوپورہ کے دو موضع جات میں نوازشریف کے 102کنال سے زائد زرعی اراضی ہے ،نواز شریف کی ملکیت میں 4 بیش قیمت گاڑیاں ہیں لینڈ کروزر،مرسیڈز،سمیت 2 ٹریکٹر بھی نوازشریف کے اثاثوں میں شامل ہیں ،نواشریف کی تمام جائیداد قرق کر کے رپورٹ عدالت جمع کرادی ہے،
انسداد دہشت گردی عدالت کا ایک اور فیصلہ، جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو مزید سزائیں سنا دیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو مزید دو مقدمات میں ساڑھے چودہ، چودہ سال قید کی سزائیں سنا دیں،
اے ٹی سی کورٹ نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ کی عدالت میں سی ٹی ڈی کی طرف سے لاہور اور سرگودھا میں درج 23/19 اور 41/19 کی سماعت ہوئی جس میں گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے، انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 1 کی طرف سے دونوں مقدمات میں جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو ساڑھے چودہ ، چودہ سال جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے،
گواہوں کے بیانات پر حافظ محمد سعید و دیگر رہنماﺅں کے وکیل نصیرالدین نیئر اور محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جرح کی گئی۔ اے ٹی سی کورٹ میں جماعةالدعوة کے رہنماﺅں کو پیش کئے جانے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں سے جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کو اس سے قبل بھی تین درجن سے زائد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں،
ایران میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں قید پاکستانیوں کی قانونی امداد اور رہائی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی
لاہور ہائیکورٹ نے وزارت خارجہ کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی ، جسٹس شاہد وحید نے درخواست پر سماعت کی
وزارت خارجہ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایران و ترکی صائمہ خان عدالت میں پیش ہوئیں ،وزارت خارجہ نے ایران میں قید پاکستانیوں کی فہرست عدالت میں جمع کروا دی ،عدالت نے وزارت خارجہ کو سزایافتہ پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے اقدامات پر مفصل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا
وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں 102 پاکستانی قید تھے
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ایران میں بڑی تعداد میں پاکستانی قید ہیں، جنہیں مختلف جرائم میں سزائیں ہو چکی ہیں، حکومت کی جانب سے اہل و عیال کو کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جا رہی، ایران میں پاکستانی سفارتخانے کو تفصیل کیلئے مراسلہ بھجوایا مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،
عدالت وزارت خارجہ کو قید پاکستانیوں اور ان کی رہائی کیلئے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے ۔ عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہ ایران میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کیا اقدامات کئے ؟وزارت خارجہ سے تفصیلی جواب طلب کرلیا
پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیخلاف درخواست دائر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کیخلاف درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے
درخواست میں اپوزیشن کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج پر اعتراض اٹھایا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج اس پر دباو ڈالنے کیلئے ہے، ادارے قانون اور قاعدہ کے مطابق چلتے ہیں ان پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا،
درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت ہے،قانون اس طرح احتجاج کی اجازت نہیں دیتا، پی ڈی ایم کے کل ہونے احتجاج کو روکا جائے،
اسلام آباد کا قافلہ سرینگر ہائی وی سے ہوتا ہوا ابپارہ سے ریڈ زون میں داخل ہوگا،جےیوآئی راولپنڈی کا مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں 26 نمبر چونگی پہنچے گا، جےیوآئی راولپنڈی اور اسلام آباد کے مشترکہ قافلہ کی قیادت پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے،
پیپلز پارٹی کا مرکزی جلوس مل پور اسلام آباد سے دن ایک بجے الیکشن کمیشن روانہ ہو گا
مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کل دوپہر ایک بجے الیکشن کمیشن اسلام آباد کے سامنے مریم نواز کی قیادت میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے احتجاج کے لیے سب کارکنان پہنچیں .
پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے یہ براڈ شیٹ کس بیماری اور کس وائرس کا نام ہے اس پر ہر شخص بات کر رہا ہے ہر کوئی تبصرہ کر رہا ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ اصل میں یہ ہے کیا؟ انہوں نے اس حوالے سے ایڈم برنارڈ نام کی ایک بہت بڑی لاء فرم ہے اس کے روح رواں بیرسٹر راشد اسلم جوچند دن کے لئے یوکے ،لندن سے لاہور آئے ہیں ان سے براڈ شیٹ کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟
باغی ٹی وی : بیرسٹر راشد اسلم نے اس حوالے سے بتایا کہ براڈ شیٹ ایک پرائیویٹ کمپنی تھی جو کچھ انفرادی لوگوں نے سن 2000 میں یہ کمپنی تشکیل دی اس سے پہلے جب جنرل مشرف برسراقتدار تھے اس وقت اس کمپنی کی ان سے بات چیت ہوئی کہ ہم پاکستان کے تمام سیاسی لیڈرز بشمول میاں نواز شریف خاندان یا زرداری خاندان کے اثاثہ جات آپ کو ڈھونڈ کر دیں گے اور وہ آپ پاکستان میں واپس لے کر جا سکتے ہیں اس میں جو بات چیت ہوئی اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا کہ اس میں جو بھی اثاثہ جات ڈھونڈے جائیں گے اس جا 20 فیصد براڈ شیٹ کو ملے گا براڈ شیٹ صرف پاکستان کے لئے تھی براڈ شیٹ نے کسی اور ملک کے لئے خدمات نہیں دیں-
عالمی شہرت یافتہ بیرسٹر راشد اسلم نے بتایا کہ اب اسی مقصد کے لئے براڈ شیٹ کے نام سے ایک کمپنی تشکیل دی گئی اس وقت اس کو بنانے والے جیری جیمز تھے جن کی بعد میں پراسرار موت واقعی ہو گئی اور کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے خود کشی کی اور کسی نے کہا انہیں قتل کیا گیا ہے-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سن 2000 میں یہ معاہدہ ہوا اور سن 2003 تک یہ معاہدہ قائم رہا اور 2003 میں اس معاہدے کو ختم کر دیا گیا اب براڈ شیٹ کا اس وقت یہ موقف تھا کہ ہم نے بہت سارے ایسے ڈاکیومنٹس بہت سارے ایسے اثاثی جات بینک اکاؤنٹس حکومت پاکستان کو دیئے تھے اور براڈ شیٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارا ایک آفس پاکستان میں نیب کے آفس کی بلڈنگ میں ایک آفس بھی دیا گیا تھا جس کے ذریعے ہم نیب کے ساتھ سارے معاملات ساری دستاویزات دیکھ رہے تھے-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق براڈ شیٹ کمپنی کا کہنا تھا کہ 2003 میں یہ معاہدہ ختم کیا گیا یا غلط ختم کیا گیا اس وقت تک ہم بہت سارے اثاثہ جات بہت سارے بینک اکاؤنٹس ڈھونڈ چکے تھے اور ہماری بہت ساری انویسٹمنٹ ہو چکی تھی تو پھر ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس موڑ پر آ کر آپ ہم سے معاہدہ ختم نہیں کر سکتے-
مبشر صاحب نے سوال کیا کہ ہمارے پاس اس سے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ یہ بڑا پرابلم رہا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی انٹرنیشنل لاء پر زیادہ توجہ نہیں دی-اگر آپ ہمارے ہمسایہ ممالک میں دیکھیں انڈیا میں یا باقی ممالک میں وہاں پوری ٹیم بیٹھی ہوتی ہے وکیل حضرات کی جواس پر کام کر رہی ہوتی ہے کہ اگر کوئی کانٹریکٹ آتا ہے ہمارے پاس تو ہم نے اس میں سے اپنے اپ کو سیکیور کیسے کرنا ہے ایگزٹ کراس کیسے رکھنی ہے؟ اس میں سے نکلنا کیسے ہے –
انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ براڈ شیٹ میں کوئی مضبوط ایگزٹ کراس رکھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا جب 2003 میں یہ ہوا تو اس کے بعد کاروائی شروع کی گئی اس کے بعد 2005 میں یہ کپمنی بند ہو گئی اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں یا کوئی پیمنٹس نہ ہوئی ہوں یا انہوں نے خود بند کر دی ہو پارٹنرز کی نہ بنی ہو-
انہوں نے بتایا کہ جب یہ بند ہو گئی تو مقدمہ چل رہا تھا کاروائی ہو رہی تھی جو خط و کتابت ہو رہی تھی اس وقت پاکستان کی حکومت نے اس کمپنی کے نمائندے جیری جیمز کے ساتھ بات چیت کی انہوں نے 2008 میں ایک شیل کپمنی بنائی بالکل اسی نام سے انہوں نے پاکستان سے معاہدہ کیا کہ اگر آپ ہمیں 5 ملین پاؤنڈ دیتے ہیں کہ ہم یہ تنازعہ ختم کر دیتے ہیں اور سیٹلمنٹ کر لیتے ہیں-
مبشر لقمان نے کہا کہ لیکن یہ شیل کپمنی اصل کمپنی کی طرح کام نہیں کر رہی تھی ا س پر بیرسٹرراشد اسلم نے کہا کہ یہ موقف بھی سامنے آیا جو اس وقت کیس لڑ رہے ہیں اس سے پہلے یہ اکٹھے تھے جیری جیمز جو براڈ شیٹ کے بانی تھے نے پاکستان کو یہ تاثر دیا کہ میں ہی ڈیل کر رہا ہوں تو پاکستان کے وکیل ان کے اُس تاثر میں آگئے اور ہم نے رقم ادا کر کے سیٹلمنٹ کر لی اور جب یہ معاہدہ ہو گیا تو اس کے بعد 2009 میں دوبارہ ایک ایک سی کے سربراہ مسٹر کاوے موسوی نے وہ کمپنی ری اسٹیٹ کرائی اس کی درخواست دی کمپنی ری اسٹیٹ ہو گئی تو انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا-
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان کا یہ موقف تھا کہ ہم نے تو آپ کے نمائندہ سے سیٹلمنٹ کر لی ہے ہمیں نہیں پتہ کہ اس نے دوسری کمپنی شروع کر کے کی ہم نے تو چیک دیا رقم ادا کرلی ہوئی ہے رقم باضابطہ طور پر ہائی کمیشن کے ذریعے ادا کی گئی تو کورٹ نے اس موقف کو نہیں مانا کورٹ نے کہا کہ اب یہ کمپنی ری اسٹیٹ ہوئی ہے اس کا رجسٹریشن نمبر اس جیری جیمز کی کمپنی کے رجسٹریشن نمبر سے مختلف ہے تو کورٹ اس موقف کو نہیں مانتی تو 2016 میں ایک پارشل ایوارڈ براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ کر تے ہوئے پاکستان سے کہتی ہے کہ اتنی رقم آپ ادا کریں تو پارشل ایوارڈ کا مطلب یہ تھا کہ فل ایوارڈ نہیں بلکہ لمیٹیڈ ایوارڈ ہوا-
بیرسٹر راشد اسلم کے مطابق اس کے بعد پھر بات چیت چلتی رہی اس میں بہت سارے لوگ گئے ہمارے جس طرح مسٹر موسوی نے کہا کہ بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں لیکن سیٹلمنٹ نہیں ہوپائی اس کے بعد جب یہ ایوارڈ ہوا تو پاکستان نے پھر اس کے اوپر اپیل کی تو پاکستان کی یہ اپیل بھی منظور نہیں ہوئی اس میں بہت سارے ایشوز تھے جب پارشل ایوارڈ کے بعد فائنل ایوارڈ ہوا اس پر بھی اپیل ہوئی لیکن بات یہ تھی کہ ہم جب آرمٹریشن میں گئے تھے تو ہم نے یہ مانا تھا کہ ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ فائنل ہو گا تو کورٹ کا موقف تھا کہ آپ نے پہلے یہ مانا ہوا ہے کہ فیصلہ فائنل ہو گا اس لئے ہم اس کو فیصلے کو رد نہیں کر سکتے ا س کی وجہ سے ہم پر یہ پیمنٹ پر ہمیں یہ رقم ادا کرنا پڑی –
بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شروع سے آخر تک اگر آپ اس کا پورا بائیو ڈیٹا دیکھیں اس میں جو بھی حالات پیدا ہوئے اس میں بہت حد تک ہمارا لاء ڈیپارٹمنٹ بہت کمزور رہا ہم نے اس کو کبھی بھی پوری طرح معاملات خط و کتابت میں جیسے اٹارنی جنرل ایگریسیو نہیں دیکھا-
مبشر لقمان نے کہا کہ اس میں پی آئی اے کے ہوٹلز کہاں سے آ گئے وہ اس کو بھی لینے کے چکروں میں ہیں -اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ در اصل جو چیز بھی پاکستان کے نام پر ہے اس کے اوپر انہوں نے یہ موقف لیا کہ اس کو ضبط کیا جائے جیسے ہائی کمیشن کا دفتر ، یو بی ایل کے بینکس میں حکومت پاکستان کے اکاؤنٹس تھے وغیرہ-حالانکہ پاکستان نے ڈپلومیٹک کمیونٹی اس پر کلیم تھی وہ بھی رفیوز کر دی گئی اور یہ بہت سخت فیصلہ ہے اور یہ معقول فیصلہ بھی نہیں ہے اس میں بہت ساری گراؤنڈز تھیں جس میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے حق میں تھیں اور یہ جج کا فیصلہ تھا –
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا کاؤنسل کمزور تھے ہمارے ؟ انہوں نے کہا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے جج کے فیصلے سے اختلاف ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جو فیصلہ تھا اس فیصلے کے حوالے سے بہت ساری چیزیں بہت ساری ایسی گراؤںڈز لی جا سکتی تھیں جن پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا ججمنٹ میں-
مبشر لقمان نے پوچھا کہ اب پھر اپیل کی گنجائش ہے ؟ اس پر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا کہ اب تو ہم بہت آگے اس سے چلے گئے ہیں اور رقم ادا کر دی ہے صرف یہی پیمنٹ نہیں ہے اس کے علاوہ لیگل چارجز بھی ہیں ابھی ہم نے اور پیمنٹس کرنی ہیں مسٹر موسوی کو- ایک اور اہم بات کہ جس طرح وہ آفر کر رہے ہیں کہ ابھی بھی ان کے پاس اکاؤنٹس کی تفصیل ابھی آفر کر رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ڈیل کریں کہ ہمارے ساتھ دوباری کانٹریکٹ کریں میں دوبارہ اکاؤنٹس دیکھتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کانٹریکٹ میں جانا چاہیئے-