Baaghi TV

Category: لاہور

  • 26 ارکان کی معطلی کا معاملہ: پنجاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب

    26 ارکان کی معطلی کا معاملہ: پنجاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب

    لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن کے خلاف درخواستوں پر ریفرنس ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    پنجاب اسمبلی میں 26 اپوزیشن ارکان کی معطلی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے :پنجاب اسمبلی کے 26 ارکان کی معطلی کے معاملے پر پنجاب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، اور فریقین نے گالم گلوچ سے گریز، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی تقاریر خاموشی سے سننے اور ایتھکس کمیٹی کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    جس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن کے خلاف درخواستوں پر ریفرنس ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایات پر اسمبلی حکام نے حکومتی درخواستوں کو معطل کرنے کا ڈرافٹ تیار کرلیا، ریفرنس ڈراپ کرنے کا ڈرافٹ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی منظوری کے بعد جاری کر دیا جائے گا۔

    لیبیا کے مسلح افواج کے کمانڈر کا جی ایچ کیو کا دورہ ،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے 26 ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کے لیے حکومتی ارکان نے اسپیکر کو درخواستیں دے رکھی تھی جوکہ احمد اقبال، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان اور افتخار احمد چھاچھر کی طرف سے دائر کی گئی تھی،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے معطل ارکان کو بحال کرنے پر عمل درآمد اسپیکر کے بیرون ملک سے واپسی پر کیا جائے گا، حکومت و اپوزیشن ارکان نے جن نکات پر اتفاق کیا اس میں معطل ارکان کی بحالی شامل ہے۔

    صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ معطل ارکان 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈال سکیں گےارکان کی بحالی کا حتمی فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان وطن واپسی پر کریں گے، اور معاملہ اب ایتھکس کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔

    اسلا م میں جن واقعات پرسزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے،وزیر قانون

    اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں دونوں فریقین کی تجاویز پر اتفاق ہوا کہ ایڈوائزری کمیٹی کو فعال کیا جائے گا اور ایوان کو ایتھکس کمیٹی اور رولز 223 کے تحت چلایا جائے گااحتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن گالم گلوچ ناقابل قبول ہے انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو ان سے معافی مانگی گئی اور نہ ہی انہوں نے معافی مانگی، اگر ارکان بحال نہ ہوئے تو اپوزیشن ایوان کے باہر اپنی اسمبلی لگائے گی،اپوزیشن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور بحالی کے بغیر ایوان میں واپس نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ اسپیکر ملک احمد خان نے پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کرنے پر اپوزیشن کے 26 ارکان کو معطل کیا تھااسپیکر کی جانب سے معطل ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

    کرائے کی عمارت میں چلنے والے سرکاری اسکول بند کرنے پر غور

  • کرائے کی عمارت میں چلنے والے سرکاری اسکول بند کرنے پر غور

    کرائے کی عمارت میں چلنے والے سرکاری اسکول بند کرنے پر غور

    لاہور میں کرائے کی عمارت میں چلنے والے سرکاری اسکول بند کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کی جانب سے انسپکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کرائے کی عمارت میں موجود اسکولوں کا جائزہ لے گی، ڈپٹی ڈی ای او شاہد علی اور وسیم بٹ کمیٹی کے سربراہ مقرر کردئے گئے اسکولز بلڈنگ کا کرایہ نان سیلری بجٹ سے ادا کیا جا رہا ہے، انسپکشن کمیٹی سرکاری اسکول میں اساتذہ و طلبا کی تعداد کا جائزہ لے گی، تعداد کا جائزہ لینے کے ساتھ معیار تعلیم اور بچوں کا رزلٹ چیک کیا جائے گا، ناقص معیار اور غیر تسلی بخش کارکردگی پر متعلقہ اسکولز کو بند کردیا جائے گا، متعلقہ اسکولوں میں موجود اساتذہ و طلبا کو قریبی اسکولوں میں بھیج دیا جائے گا۔

    موت کیسے ہوئیَ؟ حمیرا اصغر کی لاش کے نمونوں کی کیمیکل جانچ رپورٹ آگئی

    ججز سنیارٹی کیس :عمران خان نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی 4 ججز پر مشتمل نئی انتظامی کمیٹی تشکیل

  • جہلم میں سیلابی ریلے میں پولیس اہلکار حیدر علی شہید، امدادی سرگرمیاں جاری

    جہلم میں سیلابی ریلے میں پولیس اہلکار حیدر علی شہید، امدادی سرگرمیاں جاری

    جہلم: بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید سیلاب میں ریسکیو آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق کانسٹیبل حیدر علی ریسکیو کے دوران سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے اور ان کی لاش رسول نگر کے مقام سے برآمد ہو گئی ہے۔

    پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ حیدر علی شہریوں کی مدد اور ریسکیو کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کام کر رہے تھے۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے اہلکار کی قربانی کو انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اس واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید کانسٹیبل حیدر علی کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور یقین دلایا کہ پنجاب پولیس ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

    آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو عارضی رہائش، کھانا اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

    بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کے کاموں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

  • بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔سبیل اکرام

    بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔سبیل اکرام

    لاہور( ) بارش اور پانی اللہ کی نعمت اور رحمت ہیں لیکن جب ان کی قدر نہ کی جائے تو یہ زحمت بھی بن جاتے ہیں ۔ پاکستان میں ہر سال بارش کا لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوتا ہے اور تباہی پھیلاتے ہوئے سمندر میں جا گرتا ہے ۔لیکن بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کےلئے ڈیم تعمیر نہیں کیے جارہے جو حکمرانوں کی بدترین انتظامی نااہلی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔ انھوں نے کہا بارشوں سے جان بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ اس وقت بھی شدید بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں سیلاب آیا ہوا ہے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ نشیبی علاقے زیر آب دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہورہا ہے اور لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔شدید بارشیں ایک قدرتی عمل ہے مگر جب یہ ہر سال انسانی جانوں کی ہلاکت ، املاک اور بنیادی شہری ڈھانچے کی تباہی کا سبب بنے لگے تو یہ محض قدرتی آفت نہیں رہتی بلکہ بدترین انتظامی غفلت اور نااہلی ہے ۔ اس وقت پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب چکے ہیں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہورہا ہے سڑکیں دریا کا منظر پیش کررہی ہیں ، بجلی کا نظام معطل ہورہا ہے لیکن افسوس پاکستان میں یہ سب کچھ نیا نہیں بلکہ ہر سال مون سون کی بارشیں یہ منظر پیش کرتی ہیں حکمران وقتی طور پر بیانات دیتے ہیں اس کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں جو کہ ان کی مجرمانہ غفلت ہے ۔ انھوں نے کہا پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں مون سون صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل بحران بن چکا ہے جو ہر سال بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے ۔ بارش اور پانی اللہ کی نعمت اور رحمت ہے لیکن ہمارے ملک میں ہر سال یہ رحمت زحمت بنتی ہے ۔ لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوجاتا ہے ۔ بہت بڑے پیمانے پر سیلاب آتے ہیں جو لوگوں کی جمع پونجی بہا کر لے جاتے ہیں ۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے سیلاب سے بچنے اور بارشوں کا پانی محفوظ کرنے کےلئے نئے ڈیم بنائے جائیں ۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پاکستان میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات، باہمی تجارت، زراعت، صنعت اور سماجی ترقی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں، ہماری جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور قدروں میں پیوست ہیں۔ پنجاب بنگلہ دیش کی گارمنٹس، مائیکرو فنانس اور خواتین کی ورک فورس میں کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خواتین کی قیادت میں صنعتی کلسٹرز، ڈیجیٹل اپ اسکلنگ پروگرامز اور ”ویمن فرسٹ“ ایجنڈے کے تحت شراکت داری کا خیر مقدم کیا جائے گا۔زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے شعبے میں بھی وسیع مواقع موجود ہیں، اور دونوں خطوں کے درمیان معلومات اور تجربات کا تبادلہ مفید ثابت ہو گا، جنوری 2025ء میں پنجاب نے ایک ایم او یو کے تحت بنگلہ دیش کو 50 ہزار ٹن اعلیٰ معیار کا چاول برآمد کیا ہے۔ فارما اور میڈیکل ڈیوائسز کے میدان میں بھی دونوں خطوں کے درمیان تعاون کی گنجائش موجود ہے، جس میں مشترکہ برانڈنگ، عالمی معیار کی لیبارٹریز اور سستی برآمدات شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ویزا کلیئرنس میں آسانی، انسپیکشن کے مراحل میں نرمی اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر سکیورٹی ڈیسک کے خاتمے کو باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا۔انہوں نے لاہور اور ڈھاکہ میں پاکستان بنگلہ دیش جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں ون ونڈو بزنس سینٹرز کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی،ویژن 2030ء ”ویمن فرسٹ“ سمٹ میں شرکت کو انہوں نے پاکستان کے لیے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسی شراکت داری کی بنیاد ہے جو باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور دیرپا ترقی پر مبنی ہے۔

    بنگلہ دیشی ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی اقدامات اور عوامی فلاحی وژن کو سراہا اور تعاون کے فروغ پر امید ظاہر کی۔

  • پوٹھوہار ریجن میں 1000سے زائد شہریوں کومحفوظ‌مقامات پر منتقل کیا،پی ڈی ایم اے

    پوٹھوہار ریجن میں 1000سے زائد شہریوں کومحفوظ‌مقامات پر منتقل کیا،پی ڈی ایم اے

    لاہور: ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، عرفان علی نے بتایا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران پوٹھوہار ریجن میں تقریباً 1000 سے زائد شہریوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان بارشوں کے باعث چکوال، جہلم اور راولپنڈی میں حالات کشیدہ ہوگئے جس کے بعد رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

    عرفان علی نے بتایا کہ چکوال، جہلم اور راولپنڈی میں ریسکیو آپریشنز میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ فوجی جوانوں نے بھی بھرپور حصہ لیا تاکہ بارش کے باعث سیلابی پانی میں پھنسے متاثرین کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ جہلم میں 398 شہری ریسکیو کیے گئے جن میں 174 افراد کو ضلعی انتظامیہ نے اور 64 شہریوں کو فوجی جوانوں نے نکالا جبکہ 160 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کی شدید بارش کے باعث سیلابی پانی میں پھنسے 209 افراد کو بچایا گیا، جن میں سے 27 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔ راولپنڈی میں بھی ضلعی انتظامیہ نے 450 شہریوں کو بروقت محفوظ مقامات پر پہنچایا۔

    عرفان علی نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 21 جولائی سے شروع ہونے جا رہا ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ موسم برسات میں زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے اور فورسز بارشوں کے دوران عوام کی مدد کے لیے چوکس ہیں۔

  • پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی پر حکومت و اپوزیشن میں اتفاق

    پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی پر حکومت و اپوزیشن میں اتفاق

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی اور نااہلی کے ریفرنس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے معاملہ حل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ پارلیمانی امور پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے بتایا کہ آج کا اجلاس نتیجہ خیز رہا، اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان اہم نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ اجلاس میں گالم گلوچ یا ممبران کی تضحیک نہیں کی جائے گی۔لیڈر آف دی اپوزیشن کی ایوان میں بات کو اہمیت دی جائے گی اور دورانِ خطاب نعرے بازی یا خلل اندازی نہیں ہو گی۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے خطاب کے دوران بھی کوئی احتجاج یا نعرے بازی نہیں کی جائے گی۔

    وزیرِ پارلیمانی امور نے واضح کیا کہ معطل 26 ارکان کو سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ان کی بحالی کا اعلان اسپیکر پنجاب اسمبلی کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بزنس ایڈوائزر کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ایوان کی کارروائی چلائی جائے گی، اور ایتھکس کمیٹی یہ دیکھے گی کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو سزا کا تعین کیسے کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اسمبلی کے ماحول کو سنجیدہ، باوقار اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

    غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 25 فلسطینی شہید

    پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے بنگلادیش اسکواڈ کا اعلان

    عملیات کے بہانے بچوں کو اغوا کرنے والا جوڑا گرفتار، مغوی بچہ بازیاب

  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے بارش کی موجودہ صورتحال کے باعث صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیموں، دریاؤں، تالابوں اور جھیلوں میں ہر قسم کی تیراکی پر پابندی عائد ہو گی،گلیوں، سڑکوں یا عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی پابندی ہو گی جبکہ ڈیموں، دریاؤں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں بلااجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،صوبے میں دفعہ 144 کے تحت تمام پابندیوں کا اطلاق 30 اگست تک ہو گا۔

    دوسری جانب بہاولنگر میں بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے پنجاب کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث متعدد علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے،بہاولنگر میں بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج :100 انڈیکس ریکارڈ بلندی پر بند

    اس کے علاوہ فیصل آباد میں بھی بارش کے باعث چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے جبکہ حافظ آباد میں پانی کے نکاس پر جھگڑے کے دوران مخالفین کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوگئے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری بارشوں کے دوران ہونے والے حادثات میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    مسلسل تیسرے روز ملک میں سونے کی قیمت میں کمی

  • تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف آبی مقامات اور بارش کے پانی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ موسمی حالات اور مون سون کی شدید بارشوں کے تناظر میں انسانی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور 30 اگست 2025 تک مؤثر رہیں گی۔

    ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں ہر قسم کی تیراکی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔انہی مقامات پر بلا اجازت کشتی رانی پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔گلیوں، سڑکوں، کھلی جگہوں اور عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث صوبے کے بیشتر نشیبی علاقوں، گلیوں اور کھلی جگہوں پر پانی جمع ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان مقامات پر نہانے والے بچوں اور نوجوانوں کو بجلی کے کرنٹ، گٹر کے کھلے ڈھکنوں، اور دیگر مہلک خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مزید برآں، دریاؤں اور نہروں میں اس وقت پانی کی سطح معمول سے کہیں زیادہ بلند ہے، جو تیراکی یا کشتی رانی کو انتہائی خطرناک بنا دیتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم ناگزیر تھا۔

    نوٹیفکیشن میں متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت نے ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، اور مقامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ شہری دفعہ 144 کے تحت عائد کردہ پابندیوں سے مکمل طور پر باخبر رہیں اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔حکومت پنجاب نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیوں سے دور رکھیں جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ عوام الناس سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے، چھت گرنے اور جھگڑے کے دوران فائرنگ جیسے افسوسناک واقعات میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    بہاولنگر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے نواحی علاقے میں بارش کے جمع شدہ پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو پانی سے نکالنے کی کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ افسوسناک واقعہ نے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے۔

    ادھر فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 3 شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اہلِ علاقہ کے مطابق مکان خستہ حالی کا شکار تھا اور مسلسل بارشوں کے باعث زمین بوس ہو گیا۔

    دوسری طرف حافظ آباد میں پانی کی نکاسی کے مسئلے پر دو گروپوں میں تصادم ہو گیا۔ معمولی جھگڑا اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک گروپ نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران پنجاب بھر میں بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات و واقعات میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نکاسیِ آب، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلے پانی میں نہ جانے، خستہ حال عمارات سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں۔