Baaghi TV

Category: لاہور

  • کون کون سی  فلور ملز کو کو گندم ملے گی ، علیم خاں کی زیرصدارت اجلاس میں  معاملات طے

    کون کون سی فلور ملز کو کو گندم ملے گی ، علیم خاں کی زیرصدارت اجلاس میں معاملات طے

    کون کون سی فلور ملز کو کو گندم ملے گی ، علیم خاں کی زیرصدارت اجلاس میں معاملات طے

    باغی ٹی وی : سینئر و وزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان سے فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی .ملاقات میں پنجاب میں فلور ملز کو گندم کی ریلیز کے لئے مختلف تجاویز پر غور ہوا.
    عبدالعلیم خان نے کہا کہ صرف فنکشنل فلور ملز کو گندم دیں گے، فہرستوں کی تیاری شروع ہے:فنکشنل فلور ملز کی تصدیق کے لئے خفیہ اداروں سے بھی مدد لے رہے ہیں:وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر آٹے کی قیمت کم سے کم رکھنا چاہتے ہیں.اگلے 3ماہ میں خوراک کے شعبے میں نئی پالیسی لا رہے ہیں:وزیر اعظم کا گندم امپورٹ کا فیصلہ آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے ہے.
    سینئر وزیر :عبدالعلیم خان نے کہا کہ آٹے کی قیمت میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے ہیں آٹے کی قیمت کم کرنے کے لیے گندم کی فلور ملز کو وقت سے پہلے ریلیز کا فیصلہ کیا گیا.ملک میں جتنی گندم کم ہو گی اتنی مقدار درآمد کر لی جائے گی:عبدالعلیم خان
    آٹے کی ٹارگٹڈ سبسڈی پر بھی کام ہو رہا ہے فلور ملز ایسوسی ایشن کی جائز سفارشات کو ضرورتسلیم کریں گے

    فلور ملز ایسوسی ایشن کی صوبے بھر کی تمام ملز کو یکساں گندم ریلیز کرنے کی تجویز دی گئی ہے .فلور ملزایسوسی ایشن نے یقین دلایا کہ حکومت سے تعاون کریں گے، صوبے بھر میں ایک ہی ریٹ ہو سکتا ہے،
    چیئرمین عاصم رضا نے سینئر ووزیر خوراک عبدالعلیم خان کو تحریری سفارشات پیش کر دیں . وفد میں عبدالرؤف مختار،میاں ریاض احمد، شوکت حیات اور فرخ شہزاد بھی شامل تھے

  • شہباز شریف کی طرف سےکراچی سٹاک مارکیٹ‌ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

    شہباز شریف کی طرف سےکراچی سٹاک مارکیٹ‌ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

    شہباز شریف کی طرف سےکراچی سٹاک مارکیٹ‌ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت

    باغی ٹی وی :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کراچی سٹاک مارکیٹ‌ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے.

    قائد حزب اختلاف نے دہشت گرد حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے ،

    انہوں نے فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت چار سکیورٹی گارڈز کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا.دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کرتے ہیں

    انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی شہداءکے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ آمین ،قائد حزب اختلاف کی زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی ہے .

    کراچی حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا، وزیر اعظم

  • سندھ پولیس کے کمانڈوز جنہوں نے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا

    سندھ پولیس کے کمانڈوز جنہوں نے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا

    سندھ پولیس کے کمانڈوز جنہوں نے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا

    باغی ٹی وی روپورٹ کے مطابق، کراچی سٹاک ایکچینج مارکیٹ پر جن دہشت گردوں نے حملہ کیا ان کوسندھ پولیس کے کمانڈوز نے جہنم واصل کیا ہے . ان کمانڈوز کے نام محمد خلیل اور محمد رفیق ہیں ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے انتہائی قلیل وقت میں دہشت گردوں کا صفایا کیا .


    کراچی سٹاک مارکیٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، حملے میں ‌ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد شہید ہو گئے جبکہ چاروں دہشتگردوں‌ کو ہلاک کر دیا گیا۔

    4 دہشتگردوں نے آج صبح سٹاک مارکیٹ پر دستی بموں سے حملہ کر دیا جبکہ آٹو میٹک ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار اور 4 سکیورٹی گارڈ شہید ہو گئے، اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ تبادلے میں چاروں حملہ آور مارے گئے۔

  • بی ایل اے نے کراچی حملے میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دیں

    بی ایل اے نے کراچی حملے میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دیں

    بی ایل اے نے کراچی حملے میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دیں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ آوروں کی تصاویر جاری کردی گئی ہیں.بی ایل اے دہشت گرد تنظیم نے ان کی تصویر جاری کی ہے . ان چاروں‌حملہ آوروں کو ہمارے سیکیورٹی ادروں نے حملہ ناکام بناتے ہوئے جہنمم واصل کردیا تھا.


    واضح رہے کہ کراچی سٹاک مارکیٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، حملے میں ‌ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں‌ بحق ہو گئے جبکہ چاروں دہشتگردوں‌ کو ہلاک کر دیا گیا۔

    4 دہشتگردوں نے آج صبح سٹاک مارکیٹ پر دستی بموں سے حملہ کر دیا جبکہ آٹو میٹک ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار اور 4 سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گئے، اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ تبادلے میں چاروں حملہ آور مارے گئے۔

    کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ، دہشت گردوں کا اصل ہدف کیا تھا ؟

    کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں چار دہشت گرد ہلاک

  • کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ، دہشت گردوں کا اصل ہدف کیا تھا ؟

    کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ، دہشت گردوں کا اصل ہدف کیا تھا ؟

    کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ، دہشت گردوں کا اصل ہدف کیا تھا ؟

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت کی لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت کے نتیجے میں بوکھلاہٹ کی نشانی ہے ، بھارت نے چین کے خلاف ذلت آمیز پسپائی اور خفت کو ختم کرنے کیے ہیں،بھارت اور اس کے اینجنٹوں نے اس طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے اہم شہر کو نشانہ بنایا ہے . پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ میں اہم ترین مقام کو ٹارگڈ کر کے بھارت نے اپنا بدلہ لینے کی کوشش کی ہے ، بھارت کے ایجنٹوں اور بی ایل ایے کے دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھارت کا وہ خطرنا ک اور مذموم منصوبہ ناکام ہو گیا جس کے تحت وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کی پوری عمارت کو تباہ کر کے خاکستر کردینا چاہتا تھا ، لیکن ہمارے سیکیورٹی کے اداروں نے ان کو ناکام بنا دیا ہے . مارے جانے والے دہشت گردوں سے جدید ہتھیاروں سے ااندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو ہتھیار وہ بہت بڑی تباہی پھیلاتا چاہتے تھے جن میں گرنیڈ لانچر تھے جو عمارتوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. یہ گرنیڈ 40 ایم ایم کے ہیں جن کا نام ایم جی ایل ملٹی گرنیڈ‌لانچر ہے جسے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف استعمال کرتی ہے .


    ، دوسری طرف ان دہشت گردو ں سے پیٹرول کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں جس کامقصد پور ی سٹاک ایکسچینج کو جلا کر خاک بنانا تھا، تاکہ ممبئی طرز کا حملہ کرے اور پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ کو تباہ کر کے پاکستان کی معیشت تباہ کیا جاسکے واضح رہے کہ ممبئی حملہ بھی بھارت کی طرف سے ڈرامہ تھا جس کا الزم پاکستان پر بنا ثبوت دیے دھر دیا تھا اور اس کی تردید پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہر فورم پر کی تھی بھارت اس میں پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے میں ناکام رہا تھا ، ، کراچی سٹاک ایکسچینج حملے اللہ کے فضل سے ہمارے سکیورٹی ادارون کی بروقت اور موثر کاروائی سے دشمن کے سب ارادے ناکام ہوئے . بھارت اوراس کے ایجنٹوں کو منہ کی کھانا پڑی . اللہ تعالی نے پاکستان کو ای بہت بڑی تباہی سے بچا لیا ہے .

    واضح رہے کہ کراچی سٹاک مارکیٹ پر دہشت گردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، حملے میں ‌ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں‌ بحق ہو گئے جبکہ چاروں دہشتگردوں‌ کو ہلاک کر دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق 4 دہشتگردوں نے آج صبح سٹاک مارکیٹ پر دستی بموں سے حملہ کر دیا جبکہ آٹو میٹک ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار اور 4 سکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گئے، اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ تبادلے میں چاروں حملہ آور مارے گئے۔

    سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ تحقیقاتی اداروں نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔ کراچی پولیس چیف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ حملہ کرنے والے چاروں دہشتگردوں کو بروقت کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق ایک پولیس اہلکار اور 3 سکیورٹی اہلکار واقعے میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کی گاڑی تحویل میں لے لی ہے، برآمد کئے گئے اسلحے میں دستی بم اور آٹو میٹک رائفلیں شامل ہیں
    تحقیقات کا آغاز ہوگیا ، کراچی سٹاک مارکیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ تک جلد پہنچ جائیں‌گے، وزیر داخلہ

    کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں چار دہشت گرد ہلاک

    بی ایل اے نے کراچی حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

  • خاتون پر تشدد کے الزامات پر ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ حجرہ شاہ مقیم کو معطل کر دیا

    خاتون پر تشدد کے الزامات پر ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ حجرہ شاہ مقیم کو معطل کر دیا

    خاتون پر تشدد کے الزامات پر ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ حجرہ شاہ مقیم کو معطل کر دیا

    باغی ٹی وی : ترجمان پولیس کے مطابق خاتون پر تشدد کے الزامات پر ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ حجرہ شاہ مقیم کو معطل کر دیا . معاملے کی انکوائری کے لیے ایس پی انویسٹیگیشن شمس الحق درانی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی میں ایس پی انویسٹی گیشن شمس الحق درانی ۔ڈی ایس پی صدر سرکل سلیم احمد اور ڈی ایس پی ٹریفک پیر ریاض احمد شامل ہیں
    کمیٹی 2 دن میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔صبا نامی خاتون نے ایس ایچ او انجم ضیا پر تشدد کے الزامات لگائے ہیں۔

    واضح رہے کہ اوکاڑہ پولیس کے ایس ایچ او حجرہ شاہ مقیم انجم ضیاء سے شادی نہ کرنا لڑکی کو مہنگا پڑ گیا رات بھر تھانہ کی رہائش گاہ پر شراب پی کر برہنہ کر کے رسے سے باندھ کر الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور (ص)نامی لڑکی کے منہ پر زبردستی ولایتی شراب بھی چھڑکتا رہا لڑکی کے بازوؤں پر دانتوں سے جگہ جگہ کاٹتا رہا لڑکی کا سر تین جگہ سے زخمی کرنے کے بعد کہنے لگا مجھے انکاری کیا ھے ایک ایس ایچ او کو انکاری کیا ھے ابھی شادی کرو گی یا نہیں تیرے باپ کو بھی اٹھا لاتا ھوں انکاری پر تھانے کے لمبے چھتر سے ساری رات مار پیٹ کرتا ھے(ص) نامی لڑکی کی چیخ وپکار سے نہ تو زمین پھٹی اور نہ آسمان گرا نہ ہی کھانے پکانے والا کک آیا اور نہ ہی پرائیویٹ ڈرائیور حالانکہ یہ دونوں پرائیویٹ ملازم بھی اسی تھانہ کی رہائش پر موجود تھے جو چیخو پکار سن کر رفو چکر ھو گئے

    آسمان گرا نہ زمین پھٹی ، شادی نہ کرنے پر حجرہ شاہ مقیم کا ایس ایچ او لڑکی کو تھانے میں برہنہ کر کے تشدد کانشانہ بناتا رہا

  • نصابی کتاب میں  فاش غلطی پر جاوید بدر پنجاب حکومت پر شدید برہم

    نصابی کتاب میں فاش غلطی پر جاوید بدر پنجاب حکومت پر شدید برہم

    نصابی کتاب میں فاش غلطی پر جاوید بدر پنجاب حکومت پر شدید برہم

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، پاکستانی شہری جاوید بدر پنجاب کی نصابی کتاب میں کی گئی فاش غلطی پر پنجاب حکومت پر پھٹ پڑے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ‌کرتے ہوئے کہا کہ ایک پاکستانی شہری کے ٹویٹ کے جواب میں کیا ہے جس نے اس غلطی کو واضح کیا ہے،جاوید بدر نامی شخص نے لکھا کہہِ یہ میرے بیٹے کی چھٹی کلاس کی اُردو بی کی کتاب ہے جو لاہور میں ‏ایک پرائیویٹ سکول میں زیرتعلیم ہے
    ‏کتاب میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1976 پبلش ہے . ‏اتنی بڑی اور بھیانک غلطی کی ذمہ داری کس کی ہے وزرات تعلیم سکول کتاب کے پبلشر؟

    اس مسئیے پر سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ "افسوس صد افسوس یہ ہے کپتان کے وسیم اکرم پلس کا نیا پنجاب جہاں سکولوں کی نئی نصابی کتب میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تاریخ پیدائش 1976 درج کی گئی ہے کیا اسے صرف ٹائپنگ کی ایک غلطی قرار دیکر نظرانداز کر دیا جائے ؟کتاب شائع کرنے سے پہلے اس کو خاص توجہ سے پڑھنا چاہیے ،

    واضح رہے کہ نصاب میں‌ایسی غلطی ایک سنگین مسئلہ ہے . جسے اگلے ایڈیشن میں دور کیا جانا ضروی ہے . اس سلسلے میں‌پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور صوبائی وزیر تعلیم کو جلد ایکشن لینا ہو گا .

  • پی سی بی کی طرف سے کرکٹ کلبوں کا ماڈل آئین، کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد سے متعلق تفصیلات جاری

    پی سی بی کی طرف سے کرکٹ کلبوں کا ماڈل آئین، کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد سے متعلق تفصیلات جاری

    پی سی بی کی طرف سے کرکٹ کلبوں کا ماڈل آئین، کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد سے متعلق تفصیلات جاری

    باغی ٹی وی : تمام کرکٹ کلبوں کے پاس پلیئنگ حقوق ہوں گے؛ فُل ممبر کلب کے لیے اہلیت کا معیارمقرر، پی سی بی گراؤنڈ زپالیسی کے تحت وقف شدہ کرکٹ گراؤنڈ، جمنازیم، انڈر13 اور انڈر 16 ایج گروپس کی سرگرم جونیئر ٹیموں سمیت چند دیگر ضروریات شامل
    • کرکٹ کلبوں کا ماڈل دستور یہاں دستیاب ہے

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز نے جمعہ کو منعقدہ 58ویں اجلاس میں کرکٹ کلبوں کے لیے ماڈل آئین اور کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد کی منظوری دی۔ یہ ماڈل آئین پی سی بی کے آئین برائے 2019 اور ماڈل دستور برائے کرکٹ اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز سے مکمل موافقت رکھتا ہے۔یہ ازسر نو تشکیل کردہ ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں نچلی اور اوپر کی سطح تک کے لیے باقاعدہ فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

    کرکٹ کلبوں کے لیے ماڈل آئین کے چند نمایاں نکات مندرجہ ذیل ہیں۔ مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی ان کرکٹ کلبوں کا سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ الحاق تسلیم کیا جائے گا۔

    ا): آرٹیکل 4 کلب کے مقاصد اور افعال سے متعلق ہے؛

    • اپنے دائرہ اختیار میں کرکٹ کا فروغ اور اس کی ترقی
    • کلبوں کے ٹورنامنٹس اورکرکٹ میچوں کے لیے کلب کی نمائندگی کے لیے مردوں اور/یا خواتین ٹیموں کی منظم انداز میں تربیت اور دیکھ بھال کرنا
    • کرکٹ کی سرگرمیوں میں ربط لانے،بشمول کوچنگ، ٹریننگ اور کرکٹ کے ایونٹس اور ٹورنامنٹ کے اہتمام اور اسکولوں کے لیے ٹورنامنٹس کے انعقاد میں بھی معاونت کی کوشش کرنے اور جہاں ضرورت ہو اس طرح کے معاملات میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی مدد کرنا
    • فنڈز، عطیات اور اسبسکرپشنزپیدا کرنے اور ان کا استعمال اس انداز میں کرنا کہ مقاصد کے حصول میں فائدہ مند ثابت ہوسکے
    • اسٹیڈیم ، کھیل کے میدانوں اور دیگراثاثوں کوحاصل کرنا، لیز پر دینا اور تعمیر کرنا
    • وقتاََ فوقتاََ بورڈ اور/یا آئی سی سی کی جانب سےبنائے گئے اراکین/عہدیداران/آفیشلز،میچ آفیشلز اور کھلاڑیوں سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ،اینٹی کرپشن کوڈ، دیگر کوڈز، پالیسیوں اورقواعد و ضوابط کی تعلیم دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا
    • اپنے کلب سے رجسٹراراکین، میچ آفیشلز اور کھلاڑیوں کے مابین کرکٹ امور میں بھی کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے خاتمے کو یقین بنانا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا مشتبہ بدعنوانی کی فوری اطلاع سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو دینا
    • سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز، کرکٹ ایسوسی ایشنز، پی سی بی یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے انعامی رقم،گرانٹ یا چندہ وغیرہ کسی بھی صورت میں موصول ہونے والے فنڈز کووصولی کے 10 روز کے اندر اندر متعلقہ کھلاڑیوں، ٹیم آفیشلز اورکیس کے مطابق کسی دوسرے شخص کو دینا
    • اپنی کارکردگی اور افعال پر مشتمل رپورٹ ہر سال یکم اگست تک سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو جمع کرانا، اس میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے وقتاََ فوقتا ََ فراہم کردہ دستاویزات اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نشاندہی کیے جانے پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا کوتاہی کو دور کرناشامل ہے

    ب): آرٹیکل 5.1 اراکین کے ساتھ معاملات طے کرنے سے متعلق ہے، جسے مندرجہ ذیل تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے؛

    • حق رائے دہی رکھنے والی رکنیت: وہ شخص جواس مقامی علاقے،شہر یا قصبے کا رہائشی ہوں جہاں یہ کلب واقع ہے،جو یا تو کلب کے بانی اراکین میں شامل ہو یا پھرحق رائے دہی رکھنے والے دیگر اراکین کی جانب سے ممبرشپ فیس سے مشروط اس کی منظوری دی گئی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ووٹنگ ممبر، کلب کا پلیئنگ رکن نہ ہو۔
    • پلیئنگ رکنیت جس کے پاس حق رائے دہی نہ ہو: ایسا رکن جو کلب کی کسی بھی ٹیم میں سلیکشن کے لیے دستیاب ہو مگر اسے ووٹ کرنے کا حق نہ ہو۔ نان ووٹنگ پلئنگ ممبرشپ عارضی ہوگی اور یہ کسی بھی ٹیم میں انتخاب اور دستیابی کی شرط کو پورا کرنےسے مشروط ہوگی
    • اعزازی رکنیت: ایک ایسا شخص جسے جنرل باڈی کے ذریعے منتخب کیا گیا ہو مگر اسے رائے دہی کا حق نہیں ہوگا

    پ): آرٹیکل 5.2جنرل باڈی کی تشکیل سے متعلق ہے ؛ ہر ووٹنگ رکن کاجنرل باڈی میں ایک ہی ووٹ ہوگااور وہ کلب کا عہدیدار بننے کا اہل ہوگا۔ایک نان ووٹنگ پلیئنگ ممبر کے پاس جنرل باڈی میں بیٹھنے کا ہر ممکن اختیار ہوگا مگر اسے ووٹ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔آرٹیکل 6 کے مطابق جنرل باڈی کلب کی گورننگ باڈی کی حیثیت سے کام کرے گی۔

    ث): آرٹیکل 8 ان عہدیداروں سے متعلق ہےجن کے انتخاب جنرل باڈی سے ہوں گے۔ کلب کے عہدیداروں میں صدر، خزانچی یا سالانہ جنرل اجلاس میں منظور شدہ کسی بھی عہدے کے بھی مطابق ہوں گے۔

    ج): عہدیدار بننے کا اہل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص جنرل باڈی کا ووٹنگ رکن ، ایک پاکستانی شہری اور جس شہر میں یہ کلب واقع ہے وہ وہاں کا مستقل شہری ہو۔ کسی بھی مجرمانہ جرم کے الزام میں سزایافتہ نہ ہو۔ ماضی میں، پاکستان میں کسی کرکٹ آرگنائزیشن کے دفتر سے ہٹایانہ گیا ہو۔کسی بھی سیاسی جماعت کا عہدیدار، منتخب نمائندہ، وزیر،سینیٹر،ایم این اے، ایم پی اے، ایم ایل اے، ناظم، نائب ناظم یا کونسلر، یا کسی سیاسی، مذہبی ، نسلی یا فرقہ وارانہ جماعت سے کسی بھی قسم کی مالی یا مادی حمایت نہ رکھتا ہو۔وہ حکومتی ملازم، عوامی خدمت گار، سِول ملازم یا کسی بھی وفاقی یا صوبائی کارپویشن کا ملازم یا سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز، کرکٹ ایسوسی ایشنز ، پی سی بی یا کسی بھی خودمختارادارے یا محکمےیا اس سے وابستہ کمپنی کاملازم نہ ہو۔

    چ): کسی بھی عہدیدار کی مدت ملازمت 2سال ہوگی۔ کلب کے عہدیداراور نہ ہی کلب کی جنرل باڈی کے کسی ووٹنگ ممبر کوکوئی معاوضہ دیا جائے گا۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص مسلسل 2 مرتبہ منتخب کیا جاسکتا ہے اور تیسری مرتبہ کے لیے اسے ایک مکمل مدت یعنی 2 سال کے عرصے تک انتظار کرنا ہوگا۔

    ح): آرٹیکل 11 صدر اور خزانچی کے اختیارات اور افعال کو بیان کرتا ہےجبکہ آرٹیکل 15 اس اقرار کے حوالے سے ہے جو کسی بھی عہدیدارکو اپنے انتخاب سے قبل سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن یاجنرل باڈی کے ساتھ کرنا ہوگا۔ آرٹیکل 21 سیکرٹریٹ کے حوالے سےتفصیلات بیان کرتا ہے، جس کے اخراجات کلب کو خود برداشت کرنے ہیں،جو روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے اس کے ہیڈکوارٹر میں قائم کیا جائے گا۔

    پی سی بی کو امید ہے کہ کرکٹ کلبوں کے لیے ماڈل آئین میں طے شدہ گائیڈلائنز کی روشنی میں پاکستان کرکٹ بورڈایک ایسی بنیاد قائم کررہا ہے جو نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کی مکمل تائید کرے گی۔

    کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد:

    بی او جی نے کلب کے الحاق اور آپریشنل قواعد برائے 2020 کی منظوری بھی دے دی ۔

    ان قوانین کی تعمیل سب سے پہلے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے تحت تسلیم شدہ کرکٹ کلبوں کے ذریعے ہوگی اور جب ایک مرتبہ سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز قائم ہوں گی تو یہ ان کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔قواعد کی چند نمایاں خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

    ا): قاعدہ 3 کے مطابق، منسلک رکن،ایسوسی ایٹ رکن اور فُل رکن ، یہ وہ تین اقسام ہیں جن کے تحت کسی بھی کرکٹ کلب کو ایک سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ تسلیم یا منسلک کیا جائے گا۔

    ب): قواعد 5،6اور7 میں الحاق، ایسوسی ایٹ اور فُل رکن کے کلبوں کے معیار کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے؛ اس حوالے سے چند اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

    • منسلک شدہ رکن کلب: 3 ووٹنگ اراکین اور کم از کم 18 پلیئنگ اراکین ( اس سے قطع نظر کےیہ ووٹنگ اراکین ہیں یا نان ووٹنگ )
    • ایسوسی ایٹ کلب رکن: کلب کے دستور کو مکمل اپنائے اور اس پر عملدرآمد کروائے گا۔کم از کم 10 ووٹنگ اراکین اور کم از کم 18 پلیئنگ اراکین(اس سے قطع نظر کے یہ ووٹنگ اراکین ہیں یا نان ووٹنگ)، جن میں سے کم از کم 2، 18 سال سے کم عمر کے ہوں ۔ایسوسی ایشنز کے زیراہتمام تمام لازمی ایونٹس میں شرکت کی ہو۔یہاں کھلاڑیوں کے نیٹ پریکٹس کا علاقہ،کھیلنے کے قابل پچز، ٹرف یا سیمنٹڈ جو بھی دستیاب ہےاورایک قابل کوچ موجود ہو جس نے پی سی بی کا لیول ون کوچنگ کورس کیا ہو
    • فُل ممبر کلب: کم ازکم 15 ووٹنگ اراکین،بورڈ کی گراؤنڈ ز پالیسی کے تحت ایک وقف شدہ کرکٹ گراؤنڈجو کسی دوسرے کلب کے زیراستعمال نہ ہو، مقررہ معیار کے مطابق وقف شدہ متعدد نیٹس، 3 سے زیادہ ٹرف پچز،کھلاڑیوں کے لیے ایک وقف شدہ مدت کے لیے جمنازیم اور انڈر13 اور انڈر16 کی سطح پر سرگرم جونیئر ٹیموں کی موجودگی

    پ): قواعد 10 اور 11بالترتیب غیرفعال اسٹیٹس کے نوٹیفیکشن اور فعال پلیئنگ اسٹیٹس سے متعلق تفصیلات بتاتے ہیں۔ قواعد 12 اور 13بالترتیب کھلاڑیوں کی رجسٹریشن اور منتقلی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں جبکہ رول 16 اس سالانہ اسبسکریپشن فیس کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتا ہے جو کلب کو سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ الحاق کے لیے جمع کروانی ہے۔

  • اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہیں،  عثمان بزدار

    اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہیں، عثمان بزدار

    اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہیں، عثمان بزدار

    باغی ٹی وی : وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہیں۔ ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے عناصر کو حساب دینا پڑے گا۔

    عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی کے ادوار میں بے حساب کرپشن کو قوم ابھی تک نہیں بھولی۔ کرپٹ عناصر ملک وقو م کے مجرم ہیں۔ عثمان بزدار نے کہا کہ سابق دور میں قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والے احتساب سے خوف زدہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی شفاف ترین حکومت ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے کورونا پر بھی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ انتہائی نازک مرحلے پر اپوزیشن جماعتوں کا منفی رویہ قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی، وزیراعظم عمران خان نے کورونا سے نمٹنے کے لئے بروقت اجتماعی فیصلے کئے۔

  • ایل ڈی اےاورایم سی ایل کے درمیان محاذ آرائی :پنجاب حکومت نے ایل ڈی اے کا دائرہ کارمحدود کردیا

    ایل ڈی اےاورایم سی ایل کے درمیان محاذ آرائی :پنجاب حکومت نے ایل ڈی اے کا دائرہ کارمحدود کردیا

    لاہور: پنجاب حکومت نے ایل ڈی اے کا دائرہ کار محدود کردیا ، ایم سی ایل کے تحت آنے سے انکارکردیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت کا ایل ڈی اے کا دائرہ کار محدود کرنے کا فیصلہ، لارڈ میئر کے ماتحت ہونے کی صورت میں ایل ڈی اے صرف شہر کی ماسٹر پلاننگ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کا مجاز ہوگا، ایل ڈی اے نے ایم سی ایل کے ماتحت آنے کی مخالفت کردی۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور سمیت صوبے بھر میں نیا بلدیاتی ایکٹ نافذ کیا جا چکا ہے، نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت ایل ڈی اے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور لارڈ میئر کے ماتحت ہو گا، اس مقصد کیلئے ایل ڈی اے کے اختیارات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلئے ایل ڈی اے ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی، ایل ڈی اے کا اختیار ڈویژن سے ختم کرکے صرف لاہور تک محدود کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے اختیارات کے حوالے سے دو تجاویز تیار کی گئی ہیں، لارڈ میئر کے ماتحت ہونے کی صورت میں صرف دو اختیارات دیئے جائیں گے، ایل ڈی اے صرف شہر کی ماسٹر پلاننگ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کا مجاز ہوگا،کمرشلائزیشن، نقشہ فیس صولی سمیت دیگر تمام اختیارات واپس لے لئے جائیں گے، لیکن ایل ڈی اے نے ایم سی ایل کی ماتحتی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابقایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں ایل ڈی اے نے ایم سی ایل کے ماتحت دیئے جانے کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ اس سے ایل ڈی اے کی کارکردگی متاثر ہو گی، اس مسئلے پر ڈیڈ لاک ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب یہ معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھیجا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب جو حتمی فیصلہ کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایل ڈی اے نے وزیراعظم کے ترجیحی منصوبوں ہائی رائز فلیٹوں کی تعمیر اور راوی ریور فرنٹ منصوبے کو بھی غیر سنجیدہ لے لیا ، جس پر وائس چئیرمین نے ایک گھنٹہ طویل اجلاس میں برہمی کا اظہار کرتےہوئے افسران کو دونوں پراجیکٹ کو آن گراؤنڈ لانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دے دی ۔