Baaghi TV

Category: لاہور

  • اوکاڑہ نول پلاٹ پولیس کی ناک کے نیچے ڈکیتی ہوتی رہی لیکن پولیس بے خبر

    اوکاڑہ نول پلاٹ پولیس کی ناک کے نیچے ڈکیتی ہوتی رہی لیکن پولیس بے خبر

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) اوکاڑہ کے نواحی علاقے نول پلاٹ میں تھانہ ستگھرہ کی حدود میں مسلح ڈاکووں نے متعدد راہگیروں کو لوٹ لیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکو تھانے کے قریب کافی دیر تک بے دھڑک ہوکر ٹہلتے رہے۔ محمد امین ولد بشیر احمد سے موٹر سائیکل، جندراکہ کے رہائشی وسیم ولد اصغر علی سے 59000 روپے اور ظفر ولد امتیاز سے 2300 روپے گن پوائنٹ پر چھین کر ڈاکو فرار ہوگئے۔ شہریوں اور راہگیروں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔عدم تحفظ کی فضا چھا چکی ہے۔ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں۔

  • گورنر پنجاب نے کیا آئی جی آفس میں کس منصوبے کا افتتاح؟

    گورنر پنجاب نے کیا آئی جی آفس میں کس منصوبے کا افتتاح؟

    گورنر پنجاب نے کیا آئی جی آفس میں کس منصوبے کا افتتاح؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور نے آئی جی آفس لاہور میں فلٹر یشن پلانٹ کا افتتاح کر دیا

    اس موقع پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیراور وائس چیئر پر سن سرور فاؤنڈیشن بیگم پروین سرور بھی موجود تھیں.، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جیلوں اورپولیس لائنز میں بھی فلٹر یشن پلانٹس لگا ئے جا رہے ہیں‘بلوچستان میں بھی الخیر فاؤنڈیشن کے تعاون سے 4فلٹر یشن پلانٹس لگا رہے ہیں‘الخیر فاؤنڈیشن نے 20فلٹر یشن کا عطیہ کیا ہے انکا شکر یہ اداکرتے ہیں‘

    گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ پینے کے صاف پانی سے عوام کو ہیپاٹائٹس سمیت مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے،

    آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر گور نر پنجاب کا شکر یہ ادا کرتے ہیں،خوشی ہے کہ الخیر اور سر ور فاؤنڈیشن پولیس لائنز میں بھی فلٹر یشن پلانٹ لگا رہی ہے

    غریب کو ابھی تک ایک روپیہ نہ ملا، ٹائیگر فورس کی شرٹس پر حکمران جماعت نے 45 کروڑ لگا دیئے

    آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جائے گی، وزیراعظم کا اعلان

    بزدار سرکار نے دی مستحق فنکاروں کیلئے مالی امداد کے پیکیج کی منظوری

    لاہور کے تاجروں نے غریب افراد کے لئے گورنر پنجاب کو کیا عطیہ کیا؟ جان کر ہوں حیران

    بدقسمتی سے ملک میں یہ کام نہیں ہو رہا، گورنر پنجاب

    بیگم پروین سرور نے کہا کہ پنجاب میں مزید22 فلٹر یشن پلانٹس پر تیزی سے کام جاری ہے‘پینے کا صاف پانی فراہم کر نا ہماری زندگی کا مشن ہے.

    گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بیوروکریسی پر برس پڑے

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے زرتاج گل کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان میں کیا اہم منصوبوں کا افتتاح

    وزیراعلیٰ پنجاب نے زرتاج گل کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان میں کیا اہم منصوبوں کا افتتاح

    وزیراعلیٰ پنجاب نے زرتاج گل کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان میں کیا اہم منصوبوں کا افتتاح

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کیلئے جدید ترین بس ٹرمینل کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں ماڈرن انٹرسٹی بس ٹرمینل32کروڑ60لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیاجائے گا-ماڈرن انٹرسٹی بس ٹرمینل ڈیرہ غازی خان ہی نہیں بلکہ دیگر شہروں کے مسافر بھی مستفید ہوں گے۔ ماڈرن انٹرسٹی ٹرمینل بننے سے ٹریفک میں رکاوٹ کا 15سالہ مسئلہ حل ہوگا۔ڈیرہ غازی خان کے بس ٹرمینل میں مسافروں کے لئے جدید ترین عمارت بنائی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان بس ٹرمینل میں دکانیں،ورکشاپس،چھوٹی ورکشاپس،پولیس پوسٹ اوربسوں کیلئے شیڈ بھی بنائے جائیں گے۔ جدید ترین فائر الارم سسٹم بھی نصب کیا جائے گا۔ بس ٹرمینل کی سیکورٹی اورمسافروں کی نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔ بس ٹرمینل میں مسافروں کی سہولت کیلئے سائن بورڈاورساؤنڈ سسٹم بھی لگائے جائیں گے۔

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو منصوبے کے اہم خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے قدیمی پل ڈاٹ /سنگم چوک کی تعمیر وتوسیع اور بیوٹیفکیشن کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پل ڈاٹ /سنگم چوک کا پراجیکٹ تقریباً40 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل پل ڈاٹ /سنگم چوک کی کشادگی سے مقامی اوردوسرے شہروں سے آنیوالے لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔پل ڈاٹ /سنگم چوک کی بیوٹیفکیشن اورتعمیر و توسیع سے ڈیرہ غازی میں ٹریفک کے اژدہام کا 10سالہ دیرینہ مسئلہ حل ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ پل ڈاٹ /سنگم چوک کی تعمیرو توسیع کے منصوبے سے سندھ اوربلوچستان کی ٹریفک کی آمدو رفت میں آسانی ہوگی۔ مسافروں کو ٹریفک کے بہاؤ میں روانی آنے سے دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پل ڈاٹ /سنگم چوک کی تعمیرو توسیع کے منصوبے کو ایک سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو منصوبے کے بارے میں بریف کیا،وزیر مملکت زرتاج گل، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، مشیر حنیف پتافی،اراکین اسمبلی،سابق رکن اسمبلی مینا لغاری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اربن نائزیشن طاہر خورشید، کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن،آر پی او اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان میں سردار فتح محمد خان بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد رکھ دیا،وزیراعلیٰ نے ایس ایف ایم کے بی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی اور اینٹ لگا کر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    200 بستروں پر مشتمل کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ پر مجموعی طو ر پر 4 ارب 28 کروڑ روپے لاگت آئے گی- پہلا فیز 3 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔

    امداد پروگرام کے تحت کتنے خاندانوں میں رقم تقسیم کر چکے؟ وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا دعویٰ

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل

  • اوکاڑہ تھانہ کینٹ کے قریب حادثہ، دو سائیکل سوار جاں بحق

    اوکاڑہ تھانہ کینٹ کے قریب حادثہ، دو سائیکل سوار جاں بحق

    اوکاڑہ(نامہ نگار) تھانہ کینٹ کے قریب ٹرالر نے دو سائیکل سواروں کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں دونوں سائیکل سوار موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ جاں بحق ہونیوالے افراد کی شناخت محمد بوٹا اور یونس کے ناموں سے ہوئی ہے جو کہ کنٹونمنٹ بورڈ اوکاڑہ میں سینٹری ورکر کی ڈیوٹی کرتے تھے۔ پولیس نے ٹرالر ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے۔

  • کرونا وائرس، لاہور میں پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گیا

    کرونا وائرس، لاہور میں پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا ملک بھر میں پھیلاؤ جاری ہے، کرونا سے پنجاب میں پولیس میں پہلی شہادت ہوئی ہے

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کرونا وائرس کا شکار 27 سالہ ہیڈ کانسٹیبل شمس شفیق جان کی بازی ہار گیا،پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ ہربنس پورہ میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل شمس شفیق میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد اسے میو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا تھا تا ہم وہ جان کی بازی ہار گیا

    پولیس ترجمان کے مطابق شمس شفیق سکندریہ کالونی کا رہائشی اور تین بچوں کا باپ تھا۔ سی سی پی او ذوالفقار حمید نے کرونا سے جاں بحق شمس شفیق کو لاہور پولیس کی طرف سے سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید پیکج کی منظوری کے لیے آئی جی پنجاب کو سفارش کی جائے گی اور شہید کے اہل خانہ کا خیال رکھا جائے گا

    واضح رہے کہ لاہور میں کرونا ڈیوٹی پر مامور متعدد پولیس اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے،پنجاب کے 263 اور سندھ کے 151 اھلکار کورونا سے متاثر ھوئے ھیں۔

    پاکستان میں‌ کرونا کا پھیلاؤ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مزید تیز ہو گیا، 24 گھنٹوں میں 1452 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 33 اموت ہوئیں

    پاکستان میں کل مریضوں کی مجموعی تعداد 35 ہزار 788 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 770 ہو گئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1452 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 13 ہزار 561، سندھ میں 13 ہزار 341، خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 252، بلوچستان میں 2 ہزار 239، گلگت بلتستان میں 482، اسلام آباد میں 822 جبکہ آزاد کشمیر میں 91 مریض ہیں

    پاکستان میں اب تک 3 لاکھ 30 ہزار 750 افراد کے کرونا ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 ہزار 51 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 9 ہزار 695 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں ۔

    وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

    ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان میں کرونا سے 770 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سے سندھ میں 234، پنجاب میں 223، خیبر پختونخوا میں 275، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 27 اور اسلام آباد میں 6 مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے،

  • ایکسپوقرنطینہ مرکز،کھانا گھٹیا، سہولیات گھٹیا، واش روم موجود نہیں،حسن نثار پھٹ پڑے

    ایکسپوقرنطینہ مرکز،کھانا گھٹیا، سہولیات گھٹیا، واش روم موجود نہیں،حسن نثار پھٹ پڑے

    حسن نثار نے کہا کہ لاہور میں جو سڑک شوکت خانم کو جاتی ہے اس پر ایکسپو سنٹر ہے جس کو قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے، وزیراعظم نے اس کا افتتاح کیا اوربڑی تقریریں ہوئیں، بڑے دعوے کئے گئے اس کی بڑی مبارکبادی دی گئیں، اس کی صورتحال کسی نے مجھے فیکس کی ہے، اس پر ٹوٹل لاگت آئی ہے 90 کروڑ،یہ کرونا کچھ لوگوں کے لئے کروڑا بن گیا ہے، وہاں پر لوگ قیدی ہیں، 3 بار جا کر وہاں سے باہر آ چکے ہیں، وہاں کوئی پرسان ہال نہیں، لوگوں نے احتجاج کیا

    حسن نثار کا کہنا ہے کہ آدھے کلو میٹر کے فاصلے پر واش روم ہے، کھانا گھٹیا ہے اور اسکا کوئی وقت مقرر نہیں، ڈاکٹر، ندارد، اس کو پریکٹکلی سویپر چلا رہے ہیں، چادر بستر تبدیل کرنے والا کوئی نہیں، پرائم منسٹر کو ضرور لانا تھا اب اسکی اونر شپ ہی کوئی نہیں لے رہا،وزیر صحت اور چند بیورو کریٹ نے یہ ملک کیا، اس کی لاگت 90 کروڑ ہے، کوئی بھی اس کی تصدیق کر لے، کیسے 90 کروڑ کی لاگت آئی، پرچون کی قیمتوں سے بھی معاملہ آگے جاتا ہے،حالانکہ یہ خریداری پرچون میں نہیں کی گئی ہو گی

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    حسن ںثار کا مزید کہنا تھا کہ 500 نمبر آف یونٹس ہیں، 500 یونٹ ، ایک یونٹ کا سائز ہے، 16 فٹ ضرب آٹھ فٹ، نمبر آف بیڈ ہر یونٹ میں 2 ہے، بیڈز کس چیز کے ہیں،پائپ کے، وہاں آرتھوپڈک گدے نہیں بلکہ چول قسم کے گدے ہیں جہاں‌ ویسے ہی ہفتہ لیٹ جائیں تو کمر خراب ہو جاتی ہے، ٹوٹل ایک ہزار بیڈز ہیں، بڑی تقریریں کی گئیں، 3 بار لوگ باہر ہو چکے ہیں، احتجاج ہوا، اسکی قیمت پارٹیشننگ ،لمینٹیشن شیٹس کے ساتھ 45 ملین لکھی گئی ہے، پائپ کے لوہے کے بیڈ، اوپر گھٹیا گدے

    حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ کاسٹ آف بیڈز کی گدوں اورتکیے، چادر، کمبل سمیت ایک ہزار لکھی گئی ہے، 25 ملین کل ہے، دس لاکھ کا ایک ملین ہوتا ہے، اسکو جمع کر لیں،پہلے فرنیچر کی مد میں دکھایا گیا ہے، ہسپتال میں ہوتا ہی فرنیچر ہے، 190 ملین فرنیچر کی مد میں مزید لکھے گئے، 190 ملین میں کیا ہوا؟ قرنطینیہ مرکز میں کیا کیا اسکی تفصیل لوگوں کے ساتھ شیئر کریں، فرانزک آڈٹ کروائین کہ ہو کیا رہا ہے.

    حسن نثار کا کہنا تھا کہ قرنطینہ مرکز میں ادویات کی قیمت ماہانہ 330 ملین رکھی گئی ہے، عملے کی تنخواہیں 130 ملین رکھی گئی ہیں، تین بار مریض باہر آ چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ سویپر کے علاوہ یہاں کچھ اور ہے ہی نہیں، 4 فزیو، 882 نرسز ،190 وارڈ بوائے، اور 190 سویپر کی تعیناتی کی گئی ہے جن میں سےا یک بھی موجود نہیں،آپریشنل اخراجات ماہانہ 180 ملین رکھے گئے، ٹوٹل کاسٹ 900 ملین بنائی گئی

    حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مشکل ہو تو مریضوں کی سننے والا کوئی بھی نہیں، کوئی اسکی اونر شپ نہی لے رہا، ایکسپو سارے کا سارا انگیج کیا ہوا ہے،یہ صورتحال ہے ، کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، اگر یہ لڑائی ہے تو کوئی جا کر تصدیق کر لے، کہ وہاں انکو کھانا کیا ملتا ہے، سٹاف کیا ہے، پریکٹکلی آن گراؤنڈ کیا ہو رہا ہے، کوئی جا کر دیکھ لے، اگر اس عالم میں بھی رمضان کے مہینے میں جب کرونا کا دوسرا فیز شروع ہو رہا ہے، ایک کہرام مچا ہوا ہے، اللہ ہی خیر کرے

    ایکسپو سنٹر،شہریوں کی جانب سے بزدار سرکار کا پول کھولنے کے بعد وزیراعلیٰ کا نوٹس

  • مساجد میں اجتماعی اعتکاف پر پابندی، کتنے شہریوں‌ کو دی گئی ہے اجازت؟

    مساجد میں اجتماعی اعتکاف پر پابندی، کتنے شہریوں‌ کو دی گئی ہے اجازت؟

    مساجد میں اجتماعی اعتکاف پر پابندی، کتنے شہریوں‌ کو دی گئی ہے اجازت؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری ہے، آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فرزندان اسلام اعتکاف بیٹھیں گے تا ہم کرونا وائرس کی وجہ سے مساجد میں کم لوگوں کو اعتکاف کرنے کی اجازت دی گئی ہے،کسی بھی مسجد میں اجتماعی اعتکاف نہیں ہو گا

    حکومت کی جانب سے کرونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر مساجد میں 5 سے 6 افراد کے اعتکاف کی اجازت دی گئی ہے۔ صرف کشادہ مساجد میں اعتکاف کی اجازت ہوگی، جن مساجد میں ایس او پیز کے تحت سماجی فاصلہ رکھنے کی گنجائش نہیں وہاں اعتکاف کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح چھوٹی مساجد میں دو سے چار افراد اعتکاف بیٹھ سکیں گے۔

    محکمہ اوقاف کی پنجاب بھر کی 5 سو سے زائد مساجد میں اعتکاف کا فیصلہ نہ ہو سکا جبکہ دیگر مساجد کی انتظامیہ نے محدود تعداد میں اعتکاف کی تیاریاں کر لی ہیں۔ داتا دربار مسجد میں دو، جامعہ نعیمیہ میں 4 ،جامعہ اشرافیہ میں چند افراد کو اعتکاف کی اجازت ہو گی۔ بادشاہی مسجد میں بھی 4 سے 5 افراد اعتکاف بیٹھیں گے۔ محکمہ اوقاف پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محکمہ حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کرے گا۔

    قبل ازیں رمضان المبارک میں‌ ہر سال بادشاہی مسجد، جامع مسجد القادسیہ سمیت دیگر بڑی مساجد میں ہزاروں افراد اجتماعی اعتکاف بیٹھتے تھے جو اس برس نہیں ہو گا

    اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے فیصل مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ ضلع کی ساڑھے 9 سو میں سے چھوٹی مساجد میں اعتکاف کی اجازت نہیں دی گئی۔

    آزادکشمیر میں بھی مساجد میں اعتکاف بیٹھنے پر پابندی عائد کر دی گئی آخری عشرے میں ختم القران کی تقاریب کے بجائے صرف دعا ہو گی اعتکاف میں بھی کم لوگ بیٹھیں گے ،نمازعید مرکزی مساجد کے ساتھ ساتھ تمام جامع مساجد اور جہاں ضروری ہو دیگر مساجد میں بھی ادا کی جاسکے گی

    وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مساجد میں اعتکاف کی اجازت نہیں ہوگی، شہری گھروں میں اعتکاف کا اہتمام کریں اور جلوس اور مجالس کے انعقاد پر بھی پابندی برقرار ہے

  • اوکاڑہ اکبر روڈ پر ہارویسٹر اور موٹر سائیکل کا تصادم، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوکاڑہ اکبر روڈ پر ہارویسٹر اور موٹر سائیکل کا تصادم، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) اوکاڑہ اکبر روڈ پر ہارویسٹر نے موٹر سائیکل سوار مدثراسلم ولد محمد اسلم سکنہ 23جیڈی کو کچل دیا۔ مدثر اسلم موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ نعش کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ پولیس تھانہ صدر اوکاڑہ بھی موقع پر پہنچ گئی۔

  • لیڈر کی  زندگی  میں قول و فعل کا تضاد نہیں ہونا چاہیے ،رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمیشن

    لیڈر کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد نہیں ہونا چاہیے ،رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمیشن

    رہنمااور لیڈر کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد نہیں ہونا چاہیے ،رحمت ہی رحمت افطار ٹرانسمیشن

    باغی تی وی رحمت ہی رحمت افطارا ٹرانسمیشن میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے آج کے مہمان جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما امیر العظیم سے سوال کیا ہے کہ کسی کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تعلیمات سے اختلاف ہو سکتا ہے . لیکن ان کی اس تربیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا جو انہوں نے اپنے کارکنان اور رکن جماعت کے طور پر اپنے ماننے والوں کی تربیت کی. کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمارے ملک پاکستان میں ایسے رہنما ہوں تاکہ جن کے قول فعل میں تضاد نہ ہو.
    اس کے جواب میں امیر العظیم نے کہا کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی تحریر تقریر ، قول اور کردارو عمل ایک جیسا ہو.انہوں نے کہا کہ مولانا مودوی کا لٹریچر پڑھ کر ہم نسلی اسلام سے اصلی اسلام کی طرف آئے. انہوں نے ہمارے دلوں میں یہ ٹڑپ پیدا کی کہ اسلام کی اصل روح کیا ہے . اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہے . انہوں نے کہا کہ یہ جماعت ایسی ہے کہ جہاں کسی گدی نشین اور مفتی و علامہ کے صاحبزادے کے نسل درنسل کا تسلسل نہ ہو بلکہ عمل اور کردار سے جو بھی آگے آئے وہ اس کا رکن بن سکتا ہے اور جو رکن ہو وہ امیر جماعت بننے کا بھی اہل ہوتا ہے . جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس نے خدمت میں مسلم اور غیر مسلم کی فرق کے بغیر ہر آفت میں خدمت کی اور ہندؤں ، عیسائیوں اور سکھوں کی خدمت کی اور ان کی عبادت گاہوں کو بھی سینٹی ٹائیز کیا اور وہاں سہولتیں فراہم کیں.
    جماعت اسلامی کے امیر بھی اپنی زندگی درویشوںجیسی گزارتا ہے . انہوں نے مثالیں دے کر بتایا کہ کیسے سید مودودی، میاں طفیل ، قاضی حسین احمد اور اب سراج الحق صاحب نے بہت سادہ زندگی گزاری اور اپنے معاشی معاملات میں مشکل اختیار کر کے بھی دین اور جماعت کی خدمت کی ہے. اس پر مبشر .لقمان نے کہا کہ کاش آج ہماری لیڈر شب بھی اس طرح کے معیار کو اپنائیں. اور لوگوں کے لیے رول ماڈل بنیں.

    اس سے پہلے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم عموما تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں، جبکہ دوسرا رخ نہیں دیکھتے اور نہ بیان کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم بھی اس معاملے میں چیٹنگ کرتے ہیں. آجر ایمپلائیر کی بات تو کر لیتے ہیں ان کے فرائض کو بتاتے ہیں. لیکن اجیر یا ایمپلائی کے فرائض نہیں بتاتے صرف اس کے حقوق کی بات کرتے رہتے ہیں. ، ہم کبھی نہیں‌بتاتے کہ مزدور بھی اپنے کام سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے .

    انہوں نےکہا کہ اپنی ذمہ داری کو اجرت لینے کے باوجود صحیح طور پر نہیں ادا کرتا ، اگر کہا جائے توا ٹھ کھڑا ہوتا ہے . اسی طرح ہم یہ بہت کہتے ہیں کہ حکومت نے یہ کردیا حکومت نے وہ کردیا ، حکومت کا یہ قصور ہے . حکومت کا یہ مسئلہ ہے کبھی ہم نے یہ نہیں‌بتایا کہ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور ان کا بھی کوئی قصور ہے .
    انہوں نے کہا کہ ہم ذمہ داریاں کی بات نہیں کرتے حقوق کا بہت رونا رتے ہیں. ابھی حکومت نے تھوڑی نرمی کی ہے تو لوگ اس طرح مل رہے ہیں. جیسے کووڈ چھوٹی پر گیا ہوا ہے . اور یک دم مریضوں کا گراف بڑھ گیا ہے . یہی حال یو کے میں ہے .

    اس سلسلے میں یو کے سے صحافی اظہر جاوید نے بتا کہ کوڈ 19 کی شرح نیچے جارہی ہے . اب لاک ڈاؤن میں بھی نرمی ہے ، انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی برتی گئی لیکن حکومت پریشنا ن نظر آتی ہے بپلک ٹرانسپورٹ میں بہت رش تھا لوگ ایس او پیز کا خیال رنہیں‌ رکھتے تھے. پرائم منسٹر ، میئر اور یونین بھی پریشان نظر آئے. اس وجہ سے کہ لوگ احطیاط نہیں کرہے.انہوں نے کہا کہ حکومت اس وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ‌ کی سہولت ختم کرنے کا بھی سوچ سکتی ہے.کیونکہ اس سے بے احتیاطی کی جارہی ہے.