Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    لاہور کوٹ لکھپت پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بڑی کاروائی

    باغی ٹی وی : انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت کا بھتہ خوروں کے خلاف ایکشن۔بھتہ مانگنے اور نہ دینے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے 3بھتہ خور گرفتار کرلیے

    گرفتار ملزمان میں طارق اسماعیل، طیب بھٹی اور حق نواز بھٹی شامل ہیں ملزمان سے کلاشنکوف اور درجنوں گولیاں و میگزینز برآمد کر کے اپنی تحویل میں لے لی ہیںِ .ملزمان نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک شہری سے 2کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملزمان شہری عبدالرزاق سے 2لاکھ روپے بھتہ وصول بھی کر چکے ہیں۔

    صرف یہاں تک ہی معاملہ موقوف نہیں‌ہے بلکہ ملزمان باقی رقم ادا نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔انویسٹی گیشن پولیس کوٹ لکھپت نے ملزمان کو مختلف معلومات سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا۔
    ایس پی ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن اسد مظفر کی طرف سے بھتہ خور ملزمان کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے .

  • حکومت پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی بجائے ان پر اضافی ٹیکس لگا کر کورونا سے ہونے والے اخراجات پورے کرے

    دنیا میں خام تیل کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بیس سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔لیکن ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ یوں بھی یہ ایک عارضی مندی ہے جو چند ماہ بعد ختم ہوجائے گی۔ گزشتہ ہفتہ تاریخ کا انوکھا واقعہ ہوا کہ امریکہ میں خام تیل کی قیمت چند روز تک منفی میں چلی گئی۔ یعنی تیل بیچنے والے کہہ رہے تھے کہ ہم سے رقم لے لو اور تیل لے جاؤ۔ وجہ یہ تھی کہ امریکہ میں جن بڑے بڑے تاجروں نے تیل کے سودے کیے ہوئے تھے ان کے پاس خریدا ہوا(بُک کیا ہوا) تیل لیکر رکھنے کی جگہ نہیں تھی کیونکہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل فروخت نہیں ہوا تھا۔ کورونا وبا کی وجہ سے ہر طرح کی نقل و حمل‘ ٹرانسپورٹ بہت کم ہوگئی ہے۔ امریکہ میں تیل کااستعمال ساٹھ فیصد سے زیادہ کم ہوچکاہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میںسیاحت رُکی ہوئی ہے۔ ہوائی جہازکا سفر بہت کم ہوگیا ہے۔ ہوائی جہازوں کی صنعت میں تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے۔جب امریکی تیل کی قیمت منفی میں گئی اس روز پاکستان میں بعض لوگوں میںخاصا جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ خوش فہمی کا اظہار ہونے لگا کہ اب پاکستان میںبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںبہت نیچے چلی جائیںگی۔حالانکہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں امریکی منڈی سے جڑی ہوئی نہیں ہیں۔

    ہمارے ہاں تیل کی قیمتوں کا تعین لندن سے نکلنے والی تیل کی قیمت یعنی برینٹ سے ہوتا ہے۔ جس دن امریکی منڈی میں قیمت منفی میں تھی برینٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا ًستائیس ڈالر فی بیرل تھی ۔چند روز بعدہی ا مریکی تیل کا نرخ بھی واپس اُوپر آکر ساڑھے سولہ ڈالر فی بیرل پرپہنچ گیا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ بات درست ہے کہ اس سال کے شروع کی نسبت عالمی منڈی میںخام تیل کی قیمتیں بہت گر گئی ہیں۔جنوری میںبرینٹ خام تیل کا نرخ ساٹھ ڈالر فی بیرل تھا۔اب یہ قیمت ایک تہائی رہ گئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے برینٹ کی قیمت اکیس سے اٹھایئس ڈالر کے درمیان اُوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ پہلے تو تیل پیدا کرنے والے دو بڑے ممالک روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کم کرنے پر اختلافات ہوئے جس سے تیل کی قیمت گرنا شروع ہوگئی۔ رہی سہی کسر کورونا وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن نے پوری کردی۔ اس شدید بحران سے ڈر کر روس اور سعودی عرب نے اتفاق رائے بھی کرلیا ۔ اوپیک اور روس نے مجموعی طور پر خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کردیا لیکن دنیا میں معاشی سرگرمی اتنی کم ہوگئی ‘تیل کا استعمال اتنا کم رہ گیا کہ قیمت فی الحال واپس اُوپر نہیں جاسکی۔ بظاہر اچھا لگ رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت کم ہوگئی ہیں لیکن پاکستان جیسے ممالک اس کساد بازاری سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ تیل کی قیمت میں گراوٹ عارضی اور چند ماہ کے لیے ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتیں صرف پانچ چھ ماہ نیچے رہیں گی۔ یورپ اور امریکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی طرف جارہے ہیں۔ جوں جوں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی‘ تیل کا استعمال زیادہ ہوگا‘ اسکی طلب بڑھے گی تو اسکی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ تخمینہ ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ دوبارہ چالیس ڈالر فی بیرل تک بڑھ جائیں گی اور اگلے سال ساٹھ ڈالر تک ہو جائیں گی۔تیل پیدا کرنے والے تما م ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ تیل کی قیمت کم سے کم پچاس سے ساٹھ ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں۔موجودہ حالات میںپاکستان کو ایک فائدہ یہ ہوسکتا تھا کہ تیل کا درآمدی بل کم ہونے سے زرمبادلہ کی بچت ہوجاتی لیکن کورونا وبا کے باعث یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں ہمارا مال جانا بند ہوگیا۔

    برآمدات میں شدید کمی ہوگئی۔اس پر مستزاد بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کم ہوگئیں۔اتنافائدہ نہیںہوا جتنا نقصان ہوگیا۔ اسی بحران پر قابو پانے کی غرض سے عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو فوری طور پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا مزید قرض دیا ہے۔اگر ہماری تیل ذخیرہ کرنے کی استعداد زیادہ ہوتی تو ہم تیل کی موجودہ کساد بازاری سے فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا ملک اپنی ضرورت کے صرف بیس دنوں کا تیل ذخیرہ کرسکتا ہے۔ اپریل کے ماہ میں پاکستان کے تمام ذخیرے تیل سے بھرے ہوئے تھے ۔لاک ڈاون کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت بھی کم ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں ہم نے تیل کا ایک جہاز بھی درآمد نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس اسے رکھنے کی جگہ ہی نہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان حکومت پیٹرولیم کی عالمی منڈی میں گراوٹ کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید کم کردے۔ یہ فیصلہ ملک کی معیشت کی کمزور صورتحال دیکھتے ہوئے مناسب اقدام نہیں ہوگا۔وفاقی حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں لاک ڈاؤن کے باعث تین سو ارب روپے سے زیادہ کاخسارہ ہوا ہے۔ کورونا بحران سے نپٹنے کے لیے بارہ سو ارب روپے اضافی خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔ ابھی تو اس امدادی رقم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ مئی کا سارا مہینہ بھی نیم کرفیو میں گزرے گا۔ حکومت کو اضافی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ یہ تو ایک جنگی صورتحال ہے۔ اگر اس وقت حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ کم کر بھی دے گی تو ٹرانسپورٹراوردیگر کاروباری ادارے اس فائدے کو نہ تو صارفین کو منتقل کریں گے نہ حکومت کو زیادہ ٹیکس دیں گے بلکہ یہ تو لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے حکومت سے ٹیکسوں میں چھوٹ اور آسان شرائط پر قرضے مانگ رہے ہیں ۔ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ حکومت پیٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے انہیں موجودہ سطح پر رکھے اور عالمی منڈی میں گراوٹ سے پہنچنے والا فائدہ پیٹرول‘ڈیزل پر ایمرجنسی کورونا ٹیکس لگا کر قومی خزانہ میں ڈالے تاکہ جو اضافی اخراجات ہورہے ہیں ان کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

    عدنان عادل

  • اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ (علی حسین مرزا) ضلع اوکاڑہ کے مین بازار، مضافاتی علاقوں کی مارکیٹس کے کپڑے اور جنرل سٹورز کے دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں روزانہ دو تین گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی آمدنی کا جزوی ذریعہ بحال کرسکیں۔ باغی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کئی دکانداروں نے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنیکا وعدہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی حکومت سے ایسی دکانیں کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔

  • حقیقت پسندانہ لاک ڈاؤن از عدنان عادل

    تقریباًایک ماہ سے پورے ملک میں ایک نیم کرفیو کی صورتحال ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور ہے۔طویل لاک ڈاؤن ان کے اعصاب پر بھاری پڑ رہا ہے۔بہت سے لوگ کام کاج پر لوٹنا چاہتے ہیں۔ محنت مشقت کرکے اپنی روزی کمانا چاہتے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حکومت اب معاشی سرگرمیاںمکمل بحال کرنے کی اجازت دے۔ کورونا وبا نے اب تک پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کورونا سے بیمار ہونے والے لوگوں میں مرنے والوں کی شرح صرف ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زیادہ عمر کے تھے یا انہیں پہلے سے کوئی بڑی بیماری لاحق تھی جواس وائرس کی وجہ سے پیچیدہ ہوگئی۔زیادہ تر لوگ جس طرح عام نزلہ زکام سے صحت یاب ہوجاتے ہیں اس طرح کورونا سے بھی شفایاب ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک کورونا وائرس پراچھی طرح قابو پانے کا تعلق ہے تو یہ اسوقت تک ممکن نہیں جب تک اس سے بچاؤ کی ویکسین بن کر عام استعمال میں نہیں آجاتی ۔

    مستند ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا یہی کہنا ہے کہ ویکسین بازار میں آنے میں ایک سے ڈیڑھ سال لگے گا۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے صحت یاب ہوجاتے ہیں یا انہیں دوبارہ بھی یہ انفیکشن لاحق ہوسکتا ہے۔ جنوبی کوریا سے خبریں آئی ہیں کہ وہاں بہت سے مریض ٹھیک ہوگئے ‘ انکا ٹیسٹ منفی آگیا لیکن کچھ دنوں کے بعد ان میں دوبارہ وائرس نکل آیا۔ جیسے اور بہت سے وائرس ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں کورونا بھی ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماری زُکام کی ایک قسم ہے جواگرمریض کی قوتِ مدافعت کمزور ہو اورمرض بگڑ جائے تو زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے جسم میں کورونا وائرس موجود ہے لیکن ان کی مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے ان میں علامات ظاہر نہیں ہورہیں۔ہمارے معاشی حالات میںتوممکن نہیں کہ کروڑوں لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جائیں۔ یہ کام تو امریکہ جیسا ملک نہیں کرسکا۔ اس وقت دیہات میں معمول کے مطابق کام کاج ‘ کاروبارِ حیات چل رہا ہے‘ وہاں کوئی وبا نہیں پھیلی۔ لیکن شہروں‘ قصبوں میں لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں میں بند ہے۔ بیروزگاری پھیل گئی ہے۔ حکومت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک تیزی سے امدادی رقوم پہنچا رہی ہے۔بعض نجی ادارے بھی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کررہے ہیں۔ لیکن سفید پوش طبقہ جو نہ امداد مانگتا ہے نہ لینا چاہتا ہے وہ کام کاج اور کاروبار پر پابندیوں کی سختی محسوس کررہا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے کچھ محدود تعداد میں کارخانوں‘ ملوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔سندھ میں ماہی گیروں کو سمندرسے مچھلیاں پکڑنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔تاہم ملک کا بیشتر کاروبار بند ہے۔بہت سے ہنرمند افراد پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اسکا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ملک میں تقریباًتیس لاکھ پرچون دکاندارہیں جن کی اکثریت روزی کمانے سے محروم ہوچکی ہے۔ ایک طبقہ سخت لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا حامی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مزید ایک ماہ تک یہ پابندیاں قائم رہنی چاہئیں۔ دکانیں‘ صنعتیں‘ عبادت گاہیں مکمل بند رہیں۔ نقل و حمل بہت ہی کم ہو۔لوگ گھروں میں بیٹھیں۔ ان لوگوںکا موقف ہے کہ پاکستان میں کورونا وبا مئی کے آخر تک اپنے عروج پر پہنچے گی اور اگر اسے سماجی فاصلہ کے ذریعے نہ روکا گیاتو ملک میں لاکھوں لوگ بیمار ہوجائیں گے جنہیں ہمارے ملک کا صحت کا نظام سنبھال نہیں سکے گا۔

    اس لیے بہتر یہی ہے کہ لوگ گھر بیٹھ کر اس وبا سے بچنے کی کوشش کریں جیسا کہ اب تک کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی اکثر آبادی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ گھر بیٹھ کر اپنے بنیادی اخراجات پورے کرسکے؟ کیا پاکستان کی ریاست کے اتنے وسائل ہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو گھر بٹھا کر چند ماہ تک روٹی کھلا سکے؟ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔پاکستان میںایک ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤ ن کرنا حقیقت پسندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ شہروں کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت کی گاڑیاں نہ چلائی جائیں‘ صرف سامان کی نقل و حمل ہوتی رہے جو اب بھی جاری ہے۔ مسافر بسوں میں درجنوں لوگ قریب قریب بیٹھتے ہیں جس سے وائرس کا پھیلاؤ بڑھ سکتا ہے۔عدالتیں بھی کچھ اور عرصہ بند رکھی جاسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی چند ماہ مزید بند رہنے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ یوں بھی سخت گرمی کا موسم سر پر ہے۔ کروڑوں بچے‘ نوجوان گھروں سے اسکولوں‘ کالجوں کے لیے نکلتے ہیں تو سڑکوں‘ گلیوں میںہجوم بڑھ جاتا ہے۔ ویسے بھی سرکاری اسکولوں ‘ کالجوںمیں ایک ایک کلاس میں پچاس پچاس ‘سو سو بچے ساتھ ساتھ دیر تک بیٹھتے ہیں۔ یہ بڑا خطرہ ہے۔ تاہم‘ صنعتی پیداوار کے کارخانے اور ملیں مزید بند رکھنا معاشی تباہی کے مترادف ہوگا۔ ملک میں کام کاج کرنے والی آبادی کا ایک چوتھائی صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اگر یہ مزید بند رہیں تو محنت کش عوام کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ حکومت نے بارہ ہزار کی امداد دی ہے اس میں ایک خاندان کا بمشکل ایک ماہ گزارہ ہوگا۔حکومت دوسری بار ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو اتنی امداد دینے کی استعداد نہیں رکھتی۔ لوگوں کو کام کاج کرکے ہی اپنا گھر چلانا ہوگا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ چند احتیاطی شرائط کے ساتھ تمام صنعتوں اور دکانداروں کو اب کام شروع کرنے کی اجازت دے دی جائے ۔کوئی بھی ملک چاہے وہ کتنا امیر‘ ترقی یافتہ ہوطویل عرصہ تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے کہیں زیادہ متاثر ہونے والے یورپ کے ممالک بھی کاروباری سرگرمیاں کھولتے جارہے ہیں۔

    عدنان عادل

  • یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم،سیکرٹری بلدیات نے دیں اہم ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری بلدیات پنجاب نے ڈپٹی کمشنرز کو ڈی فنکٹ یونین کونسلز سے متعلق اہم ہدایات دی ہیں

    سیکریٹری بلدیات پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 تحت قائم کردہ بلدیاتی نظام میں یونین کونسلز بطور مقامی حکومت ختم کر دی گئی ہیں۔ متروک یونین کونسلز کی زمہ داریاں اور فرائض پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت قائم کردہ نئی مقامی حکومتوں کو تفویض کر دیئے گئے ہیں۔

    ڈی فنکٹ یونین کونسلز میں متعین ملازمین کو معزز عدالت کے حکم اور ڈپلائیمنٹ پلان کے مطابق متعلقہ بلدیاتی اداروں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت بلدیاتی اداروں کا عملہ پیدائش، انتقال، نکاح اور طلاق کے اندراج کا کام جاری رکھے گا۔

    سیکرٹری بلدیات پنجاب کا کہنا تھا کہ بہت جلد عوام کو پیدائش اور انتقال سے متعلق آن لائن رپورٹ کرنے کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔
    متروک یونین کونسلز کے سرکاری دفاتر متعلقہ مقامی حکومتوں کے فیلڈ دفاتر میں تبدیل کر دیئے جائیں گے۔

  • تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم

    تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم

    تعلیمی اداروں میں فیس کی کمی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے کیا خیر مقدم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدرآل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کاشف مرزا نے سندھ ہائی کورٹ کی طرف سےفیسوں کے حوالے سے حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن کو آئین سے متصادم اور غیر قانونی قرار دیتے ہوے مسترد کیے جانے کوپرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے اصولی موقف کی فتح قراردیا ہے

    کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ فیسوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 18،3،4،5اور25(1)سےمتصادم،امتیازی اور غیر قانونی ہے ، جلد ہی حکومت پنجاب کا فیس میں 20 فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن اور آرڈیننس عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،کاشف مرزا نےواضح کیا کہ فیس بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں،کنفیوژن پیدا کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔

    کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ انسانیت کے جذبہ اور کورنٹائیں سے نبٹنے کے لیے ملک بھرکےمستحق طلبا کی فیس ادائیگی کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کر دیاہے،وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز بنانیں اور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کر دی گئی۔ :کاشف مرزا

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ ٹیچرز کی تنخواہیں فکس ہیں اورملک بھر میں 90 فیصد اسکول عمارتیں کرائے پر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان سے پرائیویٹ سکولزکے لیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج ‘‘ کی استدعا کردی ہے۔

  • پنجاب میں کرونا سے 100 اموات،  مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، پنجاب سے کورونا وائرس کے 97 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 5827 ہو گئی

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے100مریض جاں بحق ہو چکے ہیں،پنجاب میں کورونا کے 1510  افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 22 کی حالت تشویشناک ہے،

    سب سے زیادہ لاہور میں کورونا کے 1469 مریض ہیں،ننکانہ صاحب13، قصور 58، شیخوپورہ 19اورراولپنڈی میں 320 ،جہلم 59، اٹک 19،چکوال 4اورگوجرانوالہ میں کورونا کے163،سیالکوٹ 118، نارووال 15اورگجرات میں کورونا کے216 ،حافظ آباد 28، منڈی بہاوَالدین 30، ملتان 70اورخانیوال میں6،وہاڑی 49، فیصل آباد 58، چنیوٹ 11اورٹوبہ ٹیک سنگھ میں 7،جھنگ 38، رحیم یار خان 65اورسرگودھا میں کورونا کے54 مریض سامنے آئے ہیں

    میانوالی 20، خوشاب 14، بھکر 10، بہاولنگر 12اوربہاولپور میں19،لودھراں 4، ڈی جی خان 27، مظفر گڑھ 23اورلیہ میں کورونا کے 2، ساہیوال 2، اوکاڑہ 18 اورپاکپتن میں کورونا کے7 مریض ہیں.

    پنجاب میں کرونا مریضوں میں اضافہ،سب سے زیادہ مریض کس ضلع میں؟

    ترجمان محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں اب تک 77619 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں

    کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟

  • امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کی دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں،وائیٹ ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مودی کو انفالو کر دیا

    وائٹ ہائوس کی جانب سے بھارتی صدر اور وزیر اعظم مودی کو ٹوئٹر پر ان فالو کرنے کے بعد وائٹ ہائوس کے رابطے میں رہنے والے بھارتی ٹوئٹر ہینڈلز کی تعداد 13 رہ گئی ہے ۔

    وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم مودی اور دیگر بھارتی ہینڈلز سے رابطے کلوروکوئن کی برآمد پر پابندی اٹھانے کے حوالے سے شروع کئے ، اس دوا کو صدر ٹرمپ کو رونا وائرس کا حل قرار دے رہے تھے ۔ صدر ٹرمپ کی درخواست پر مودی نے کلوروکوئن کی برآمد پر پابندی اٹھا لی ، جسے صدر ٹرمپ نے دوستوں کے درمیان تعاون کی مثال قرار دیا۔

    یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے بھارتی وزیراعظم سے ٹوئٹر دوستی کیوں ختم کی، نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا اس سے بھارت اور امریکا کے مابین تلخی کی عکاسی ہوتی ہے کہ نہیں

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وائٹ ہائوس کی طرف سے صدر اور وزیر اعظم کو ٹوئٹر پر ان فالو کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہئے ۔

  • سعودی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ بارے سینیٹر ساجد میر نے کی آواز بلند

    سعودی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ بارے سینیٹر ساجد میر نے کی آواز بلند

    سعودی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ بارے سینیٹر ساجد میر نے کی آواز بلند

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام سینیٹر ساجد میر نے خط لکھا ہے

    سینیٹر ساجد میر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سعودی جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کےانتظامات کیے جائیں،سعودی عرب میں سالانہ تعطیلات کے باعث ہر سال طلبہ وطن واپس لوٹ جاتے ہیں،سعودی عرب میں دیگر ممالک کے طلبہ اپنے وطن روانہ ہو چکے ہیں،پاکستانی طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی واپسی کے انتظامات کیے جائیں،

    ساجد میر کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ وزارت خارجہ ان طلبہ کی وطن واپسی کے انتظام میں دلچسپی نہیں لے رہا،طلبہ کی واپسی کی ٹکٹ سمیت سارے اخراجات سعودی حکومت اٹھانے کیلئےتیار ہے

    واضح رہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی ممالک میں پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، فضائی سروس بھی کئی ملکوں نے معطل کر رکھی ہے تا ہم پی آئی اے کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کے لئے خصوصی پروازیں چلائی جا رہی ہیں

    پی آئی اے کی مالی مشکلات، سی ای او ارشد ملک اور افسران کا بڑا فیصلہ

    پالپا کا پروازوں کو آپریٹ کرنے سے انکار،اصل کہانی کیا ؟ جان کر لگے بڑا جھٹکا

    کرونا کیخلاف جنگ،پروازیں آپریٹ نہ کرنیوالوں کے خلاف کیا ایکشن لیا جائے؟ بڑا مطالبہ آ گیا

    بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں جاری

    سعودی عرب کے شہر ریاض میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) خصوصی پرواز آپریٹ کرے گی۔ پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے702 30 اپریل کی رات مانچسٹر سے ریاض پہنچے گی۔ پرواز پی کے702 میں 250 سےزائد مسافراسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے جو یکم مئی کواسلام آباد پہنچیں گے

    پی آئی اے عملے کے مزید اراکین میں کرونا وائرس کی تشخیص

  • کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟

    کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟

    کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت سیل گھروں کی تعداد ایک ہزار 222ہوگئی

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کے مطابق ایک ہزار 222گھروں کو سیل کرکے قرنطینہ میں تبدیل کر دیاگیاسیل گھروں میں 5 ہزار 60افراد کو مکمل لاک ڈاؤن کردیاگیا،قرنطینہ کیے گئے 5ہزار 60شہریوں کے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے،پنجاب سمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی میں 45گھروں کو سیل کرکے220افرادمکمل لاک ڈاؤن ہیں،سکندریہ کالونی کے 80گھروں میں 371 افراد قرنطینہ کیے گئے،

    چاہ میراں کے 35گھروں میں 175افراد کو لاک ڈاؤن کیاگیا،بیگم کوٹ میں 29گھروں کے 99اورشاہدرہ کے 36گھروں میں 182افراد کو لاک ڈاؤن کیاگیا،انجن شیڈ ریلوے میں 60گھروں میں 241افرادکولاک ڈاؤن کیاگیا،گڑھی شاہو میں 171گھروں میں 419افراد کو لاک ڈاؤن کیا ،ایم ای ٹی کالونی ٹو میں 178گھروں میں 381افرادکو قرنطینہ کیاگیا،

    رحمان پورہ کے 20گھروں میں 100افرادکو قرنطینہ کیاگیا،بھٹہ چوک کے 35گھروں میں 210افراد کو قرنطینہ کیاگیا،رستم پارک کے 25 گھروں میں 140افرادکو لاک ڈاؤن کیاگیا،چائنہ اسکیم کے 55گھروں میں 270افراد کو قرنطینہ کیاگیا،گلشن راوی کے 81گھروں میں 471 اورٹاؤن شپ 61گھروں میں 311افراد کو لاک ڈاؤن کیاگیا،ماڈل ٹاؤن کے 35گھروں میں 171افرادکو قرنطینہ کیاگیا،

    راج گڑھ کے 21گھروں کو سیل اور241افرادکو قرنطینہ کیاگیا،فرخ آباد شاہدرہ 37گھروں کو لاک ڈاؤن اور179افراد کو قرنطینہ کیاگیا،حنیف پارک میں 41گھروں میں مقیم 196افراد کو لاک ڈاؤن کیاگیا،

    پنجاب میں کرونا مریضوں میں اضافہ،سب سے زیادہ مریض کس ضلع میں؟