Baaghi TV

Category: لاہور

  • کرونا وائرس، بیرون ملک سے آیا تبلیغی جماعت کا 73 سالہ باشندہ جان کی بازی ہار گیا

    کرونا وائرس، بیرون ملک سے آیا تبلیغی جماعت کا 73 سالہ باشندہ جان کی بازی ہار گیا

    کرونا وائرس، بیرون ملک سے آیا تبلیغی جماعت کا 73 سالہ باشندہ جان کی بازی ہار گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے میو اسپتال میں بیرون ملک سے آیا 73 سالہ باشندہ کورونا سے جاں بحق ہو گیا ہے

    سی ای او میو ہسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق 73 سالہ غیر ملکی باشندے کا تعلق کرگیز رپبلک سے تھا، کورونا وائرس کی رپورٹ مثبت آنے پر یکم اپریل کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، غیر ملکی باشندہ رائیونڈ اجتماع کے لیے لاہور آیا تھا، 73 سالہ شخص ذیابیطس اور سانس کی تکلیف میں مبتلا تھا،

    دوسری جانب پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 102 نئے کیسز سامنے آگئے، ملتان قرنطینہ میں 90 مزید زائرین میں کورونا کی تصدیق ہوئی، پنجاب میں کورونا سے متاثرہ زائرین کی تعداد 667 تک پہنچ گئی، تبلیغی جماعت کے 9 مزید مبلغین میں کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد صوبے میں تبلیغی جماعت کے متاثرہ مبلغین کی تعداد 536 ہوگئی

    لاہور میں کورونا کے 2 نئے کیسز سامنے آگئے، تعداد 293 ہوگئی،سرگودھا می‍ں کورونا کا مزید ایک کیس، تعداد 6 ہوگئی، 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 538 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں،

    قبل ازیں محکمہ اوقاف پنجاب نے شب برات کے موقع پر گھروں میں عبادات کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری کردیا ، مطابق محکمہ اوقاف کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شہری کورونا وائرس کے باعث نماز تراویح اور شب برات کی عبادات گھروں میں ادا کریں۔ نماز پنجگانہ کی طرح نماز تراویح بھی 3 تا 5 افراد پر مشتمل عملہ مساجد میں ادا کرسکتا ہے تاہم شہری نماز تراویح کی ادائیگی بھی گھروں میں کریں ۔

    پنجاب کے صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ سید الحسن کی سربراہی میں علما اوقاف کے اجلاس میں یہ تجویز دی گئی کہ شہری گھروں میں ہی شب برات کی عبادات کریں اور وبا سے نجات کے لئے خصوصی دعائیں کریں۔

    کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

    چین میں‌ کرونا وائرس کا پہلا مریض اب کس حال میں ہے ؟

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

    قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 کے حوالے سے نئے احکامات جاری کئے ہیں، جن کے مطابق لانڈری اور ڈرائی کلینرز کی دکانوں کو دفعہ 144 سے استثنیٰ دیا گیا اور وہ صرف ایک ملازم کے ساتھ اپنے کاروبار کھول سکیں گے

  • وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہو گئیں

    وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہو گئیں

    وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہو گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں

    حکومت پنجاب نے بڑے پیمانے پر افسران کی ترقیوں، تقرر وتبادلوں کے احکامات جاری کر دیئے،متعدد افسران کو گریڈ 18 میں ترقیاں دی گئیں،ترقی پانے والوں میں فیاض احمد ندیم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لیہ و دیگر شامل ہیں

    عارف رؤف ڈپٹی سیکرٹری انرجی،سید خالد محمود گیلانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل وہاڑی ،شیخ محمد طاہر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل رحیم یار خان ،شاہد عباس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل جھنگ ،عبداللہ خرم نیازی ڈپٹی سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ،عبد الطیف ایڈیشنل ڈی سی فنانس ،امیرحسن ڈائریکٹر سٹیٹ لاہور رنگ روڈ اتھارٹی،ڈپٹی سیکرٹری فنانس قیصر عباس رند،صفدرحسین ایڈیشنل ڈی سی فنانس گوجرانوالہ ،عمران بشیر ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن ایس اینڈ جی اے ڈی ،توقیرالیاس چیمہ کو گریڈ 18 میں ترقی دے کر وہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی

    ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن ملتان ،فریحہ تجمل ڈپٹی سیکرٹری خوراک ،عدنان ارشاد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو حافظ آباد کی بھی گریڈ 18 میں‌ترقی کر دی گئی. تمام افسران کو گریڈ 18 میں ترقی کے بعد وہیں خدمات جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے،

    فریحہ تجمل کو ڈپٹی سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا ہے،فائزہ ا حسن ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈینیشن برائے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی گریڈ 18 میں ترقی دے کرڈپٹی سیکرٹری ہیومن رائٹس تعینات کر دیا گیا،توقیر اسلم ڈپٹی سیکرٹری بورڈ آف ریونیو ترقی کے بعد ڈپٹی سیکرٹری خوراک تعینات کر دیئے گئے

    ظہیر لیاقت بیگ منیجنگ ڈائریکٹرایل ڈبلیوایم سی کی گریڈ 18 میں ترقی دے کر ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ گجرات تعینات کر دیا گیا، محمد رضوان بابر کو بھی گریڈ 18 میں ترقی دے کرڈائریکٹر پراونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی تعینات کر دیا گیا ،امجد سلیم سرگانہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ملتان کو گریڈ 18 میں ترقی دی گئی ہے.محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے ترقیوں اور تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

  • وباء کے بعد اصل کھیل شروع ہوگا، سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان

    وباء کے بعد اصل کھیل شروع ہوگا، سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان

    وباء کے بعد اصل کھیل شروع ہوگا، سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان

    باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف صحافی اور سینئر اینکر مبشر لقمان کو طرہ امتیاز حاصل ہے کہ کرونا وائرس جیسی اس وبائی مرض کا شروع دن سے پیچھا کر رہے ہیں اور اس وباء کے بارے پائے جانے والے خدشات ، اثرات اور ممکنہ نتائج پر اپنی ماہرانہ رائے دیتے آئے ہیں. ان کے تجزیوں نے ہمیشہ ثابت کیا کہ جس چیز کی پیش گوئی کی وہ سچ ثابت ہوئی.

    مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر جاری کردہ حالیہ ویڈیو میں کورونا وائرس وبائی مرض پر قابو پانے کے بعد عالمی معیشت کی ایک ممکنہ طور حقیقی تصویر پیش کی ہے۔جس سے نبرد آزما ہونا اصل چیلنچ ہے .
    مبشر لقمان نے وائرس کے پیدا ہونے والے آفٹر شاکس پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں پوری دنیا کے سامنے تباہ شدہ معیشت سب سے اہم مسئلہ ہوگا۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا معاملہ دیکھیں جہاں مارچ کے مہینے میں تقریبا7 لاکھ افراد کو ملازمت سے محروم کردیا گیا تھا اور پچھلے ہفتوں میں بے روزگاری کی وجہ سے تقریبا 10 ملین امریکیوں نے انشورنس کی درخواست کی تھی۔ اگر یہ امریکہ میں ہوا ہے تو پھر دوسرے ممالک کی کیا بات کریں جو معاشی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہیں

    انہوں نے کہا کہ ذرائع کے مطابق ، وائرس کی وجہ سے چین میں تقریبا 5 ملین کمپنیاں بند ہوچکی ہیں ، عالمی سطح پر بہت سے کاروبار دیوالیہ ہوچکے ہیں ، اسٹاک مارکیٹس کریش ہوچکی ہیں ، اس کے بعد اشیاء کی قیمتوں میں افراط زر اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب ، روس اور تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے مابین عالمی منڈی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    مبشر لقمان نے ہمیں حقیقی چیلنج کے بارے میں تیار کرتےہوئے کہا کہ اصل مسئلہ اس بیماری کے خلاف جنگ لڑنا نہیں ہے بلکہ جو بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کے بعد معاشی ابتری ہے اس پر پابو پانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومتیں امدادی پیکجوں کی مدد سے اپنے شہریوں کی مدد کے لئے کوشاں ہیں ، تاہم ، بہت سارے کاروبار تباہ ہورہے ہیں اور دوبارہ کھڑے ہونے میں وقت لگے گا۔معیشت کے اس چینلچ سے نمٹنا اصل مسئلہ ہے.

  • پنجاب میں کورونا کے مزید 132 نئے کیسز

    پنجاب میں کورونا کے مزید 132 نئے کیسز

    پنجاب میں کورونا کے مزید 132 نئے کیسز

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 1816 کنفرم مریض ہیں۔ کنفرم مریضوں کے اعدادوشمار زائرین، تبلیغی ارکان، قیدی اور عام شہریوں کی درجہ بندی میں رکھے جا رہے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق 577 زائرین سنٹرز، 527 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 49 قیدیوں، 663 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق ڈی جی خان میں 213 زائرین، ملتان میں 359 زائرین، فیصل آباد میں 5 کنفرم زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ رائے ونڈ مرکز میں 398، منڈی بہاوالدین میں 3، سرگودھا 13، وہاڑی 14، راولپنڈی میں 6 اور جہلم میں 10 تبلیغی ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق ننکانہ میں 2، گجرات 8، رحیم یار خان 15، بھکر 1، خوشاب 4، راجن پور 1، حافظ آباد میں 31، سیالکوٹ 4 اور لیہ میں 13 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔
    ترجمان کے مطابق رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔

  • محکمہ بلدیات نے سپرے کیلئے ”مسٹ کوئین“ تیار کر لی

    محکمہ بلدیات نے سپرے کیلئے ”مسٹ کوئین“ تیار کر لی

    باغی ٹی وی :کورونا سے بچاؤ کیلئے محکمہ بلدیات سپرے کیلئے ”مسٹ کوئین“ تیار کر لی گئی ہے .سپرے کرنے والی گاڑی پر صرف پونے 2 لاکھ روپے لاگت آئی.وزیر اعلی عثمان بزدار نے وزیر اعلی آفس کے لان میں ”مسٹ کوئین“ کا مظاہرہ دیکھایا گیا .”مسٹ کوئین“ کے ذریعے بڑی شاہراہوں اور مارکیٹوں میں سوڈیم ہائپو کورائیڈ ملے پانی کا سپرے کیا جائے گا
    ”لاہور:”مسٹ کوئین“  کے سپرے سے کورونا کے علاوہ سموگ اور ڈسٹ پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی
    لاہور کے پرہجوم علاقوں میں سپرے کے لئے 8 ”مسٹ کوئین“ گاڑیاں تیار کی گئی ہیں.”لاہور:”مسٹ کوئین“ گاڑیاں مرحلہ وار صوبہ بھر کی 455 لوکل گورنمنٹس کو فراہم کی جائیں گی.عوام کو کورونا جیسے عفریت سے بچانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے – صوبائی سیکرٹری بلدیات، چیف کارپوریشن آفیسر لاہور اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے-

  • شہباز شریف کی ڈاکٹر پر تشدد کی مذمت،کہا ہتھیار نہیں دینگے تو جنگ کیسے جیتیں گے؟

    شہباز شریف کی ڈاکٹر پر تشدد کی مذمت،کہا ہتھیار نہیں دینگے تو جنگ کیسے جیتیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر لاٹھی چارج کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ لڑنے والی فوج پر تشدد افسوسناک ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کورونا سے لڑنے کے لئے حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے بجائے ڈاکٹرز پر ڈنڈے برسائے جارہے ہیں ،حکومت کورونا کے خلاف جنگ کیسے جیتے گی اگر اپنی فوج کو ہتھیار نہیں دے گی؟ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والے ڈالنے والوں پر تشدد کی منطق سمجھ سے باہر ہے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ تشدد، ڈنڈے، گالی اور تقریروں سے کورونا کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ،کب سے توجہ دلارہا ہوں کہ خدارا ڈاکٹرز ، نرسز اور طبی عملے کو حفاظتی لباس پہنچائیں ،قوم پر رحم کریں، سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے، حالات کی سنگینی کا ادارک کیاجائے ، متاثرہ ڈاکٹرز سے دلی ہمدردی ک اظہارکرتا ہوں، دلی دکھ ہے کہ ان کے ساتھ یہ ہوا،ہم ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کی قربانی، دن رات محنت اور قومی جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاج کرنے والے طبی عملے پر پولیس نے تشدد کیا جس کے بعد ڈاکٹر ز نے کام کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    ‏کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر پولیس نے تشدد کیا اور گرفتاریاں بھی کین اس موقع پر دونوں جانب سے تشدد دیکھنے میں آیا ۔

    ینگ ڈاکٹرز اور طبی عملہ جب کرونا وائرس سے بچاو کے لیے حفاظتی سامان کی عدم فراہمی پر احتجاج کر رہے تھے ،ینگ ڈاکٹرز نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کی جانب مارچ شروع کیاتو پولیس نے ینگ ڈاکٹر ز پر لاٹھی چارج شروع کردیاجس پر متعدد ڈاکٹرز زخمی ہو گئے،پولیس نے 50 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کو گرفتار کرلیا۔

    ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہم کرونا کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں حکومت نے حفاظتی کٹا فراہم نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے وعدے کیے جا رہے ہیں لیکن تعاون نہیں کیا جا رہا ۔کئی ڈاکٹرز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں حکومت ہماری زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلے۔

    پولیس تشدد کے بعد ڈاکٹرز نے او پی ڈی کئ بائیکاٹ کا اعلان کر دیا او ر کہا کہ اگر یہی ہماری سروسز کاصلہ ہے تو آج سے تمام سروسز کا بائیکاٹ کرتے ہیں،ان حالات میں سروسز دینا ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہم اب سروسز نہیں دیں گے ۔تمام سروسز کا بائیکاٹ کریں گے

    محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ مریضوں میں 6 ڈاکٹرز اور 7 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں، کورونا سے متاثرہ ڈاکٹرز اور سیکورٹی اہلکاروں کی سفری تاریخ نہیں ہے، 100 افراد کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں، بلوچستان میں کورونا کے 17 افراد صحتیاب ہوئے ہیں

  • وزیر کا استعفیٰ منظور، بزدار سرکار کا ایکشن، افسران کو بھی او ایس ڈی بنا دیا

    وزیر کا استعفیٰ منظور، بزدار سرکار کا ایکشن، افسران کو بھی او ایس ڈی بنا دیا

    وزیر کا استعفیٰ منظورمبعد بزدار سرکار کا ایکشن، افسران کو بھی او ایس ڈی بنا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایکشن میں آ گئے، آٹا بحران کی رپورٹ آنے کے بعد وزیر خوراک پنجاب نے استعفیٰ دیا تو وزیراعلیٰ نے منظور کر لیا. ساتھ ہی ایکشن لیتے ہوئے دو افسران کو او ایس ڈی بنا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب نے محکمہ خوراک کے دو افسران کو او ایس ڈی بنایا ہے، حکومت پنجاب نے کمشنر ڈی جی خان نسیم صادق کو او ایس ڈی بنادیا ہے.نسیم صادق 2019 میں بطور سیکرٹری خوراک کام کر رہے تھے، انہوں نے رضاکارانہ طور پر پیشکش کی گئی تھی کہ وہ عہدہ چھوڑ سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے ایکشن لیتے ہوئے ان کو او ایس ڈی بنا دیا ہے.

    وزیراعلیٰ پنجاب نے ظفر اقبال سابق ڈائریکٹر خوراک کو بھی او ایس ڈی بنا دیا ہے،

    قبل ازیں آٹا بحران کے ذمہ دار پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے استعفیٰ دے دیا ہے جسے وزیراعلیٰ پجاب نے منظور کر لیا

    سمیع اللہ چوھدری نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد استعفیٰ دیا اور انکا کہنا تھا کہ جب تک میرے اوپر لگائے گئے الزامات کلیئر نہیں ہوتے تو میں کوئی بھی عہدہ لینے کو تیار نہیں ہوں، مجھ پر محکمہ خوراک کی وجہ سے بے بنیاد الزام لگائے گئے جب تک خود کو بے قصور ثابت نہ کر لوں میں عہدہ نہیں لوں گا، میں ہر فورم پر پیش کرنے کو تیار ہوں، عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہر وقت حاضر ہوں، میں رضا کارانہ طور پر استعفیٰ ہو رہا ہوں

    ملک میں گندم بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ ئی ہے۔ رپورٹ میں سابق وفاقی وزیر خوراک صاحبزادہ محبوب سلطان کو گندم بحران میں ملوث قرار دیا ہے۔

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

    ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    آٹا ،چینی بحران کے ذمہ داروں کو سزا کب ملے گی؟ حمزہ شہباز

    آٹا و چینی بحران ہماری کوتاہی، وزیراعظم نے کیا اعتراف، اور کیا بڑا اعلان

    چینی بحران رپورٹ میں کی گئی باتیں غلط، وزیراعظم کو موقف پیش کریں گے، جہانگیر ترین

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری بھی گندم بحران کے ذمہ دار ہیں، فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو گندم خریداری کی صورتحال سے باخبر رکھا گیا، ملک میں گندم اور آٹے کے بحران میں فلورملز ایسوسی ایشن کی ملی بھگت ہے۔

     

  • پنجاب میں کرونا مریضوں کا اضافہ، تعداد 1684 ہو گئی

    پنجاب میں کرونا مریضوں کا اضافہ، تعداد 1684 ہو گئی

    پنجاب میں کرونا مریضوں کا اضافہ، تعداد 1684 ہو گئی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 191 نئے مریض سامنے آگئے، جبکہ پنجاب میں مزید تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، پنجاب میں مریضوں کی مجموعی تعداد 1684 ہو گئی ہے.

    آج جہلم، گجرات اور راولپنڈی میں ایک ایک مریض کورونا سے جاں بحق ہوا ہے، ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں 172 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، پنجاب میں کورونا سے متاثرہ زائرین کی تعداد 481 ہوگئی

    تبلیغی جماعت کے 19 مزید مبلغین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد تبلیغی جماعت سے منسلک مبلغین میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 503 ہوگئی

    پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں 25 مریض کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں،پنجاب میں کرونا وائرس سے 15 ہلاکتیں ہو چکی ہیں،جن میں لاہور 6، پنڈی 3 رحیم یار خان ،جہلم، فیصل آباد، گجرات میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے.

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق رائے ونڈ مرکز میں 398، منڈی بہاوالدین میں 3، سرگودھا 13، وہاڑی 13 اور راولپنڈی میں 6 تبلیغی ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ننکانہ میں 2، گجرات 8، رحیم یار خان 15، بھکر 1، خوشاب 4، راجن پور 1 اور حافظ آباد میں 31 تبلیغی ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ سیالکوٹ اور لیہ میں 4، 4 تبلیغی ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کرونا کے سب سے زیادہ مریض لاہور میں 290 کنفرم مریض ہیں۔ننکانہ میں 13، قصور 8، شیخوپورہ 1، راولپنڈی 58، جہلم 30، اٹک 1، گوجرانوالہ 32، سیالکوٹ 17، ناروال 5 اور گجرات میں 93 شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حافظ آباد 6، منڈی بہاوالدین 14، ملتان 4، وہاڑی 9، فیصل آباد 15، چینیوٹ 6، رحیم یار خان 3 اور سرگودھا میں 5 ، میانوالی 3، خوشاب 1، بہاولنگر 9، بہاولپور 3، لودھراں 3، ڈی جی خان 18، لیہ اور اوکاڑہ میں ایک ایک کنفرم مریض ہیں۔

    قبل ازیں محکمہ اوقاف پنجاب نے شب برات کے موقع پر گھروں میں عبادات کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری کردیا ، مطابق محکمہ اوقاف کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شہری کورونا وائرس کے باعث نماز تراویح اور شب برات کی عبادات گھروں میں ادا کریں۔ نماز پنجگانہ کی طرح نماز تراویح بھی 3 تا 5 افراد پر مشتمل عملہ مساجد میں ادا کرسکتا ہے تاہم شہری نماز تراویح کی ادائیگی بھی گھروں میں کریں ۔

    پنجاب کے صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ سید الحسن کی سربراہی میں علما اوقاف کے اجلاس میں یہ تجویز دی گئی کہ شہری گھروں میں ہی شب برات کی عبادات کریں اور وبا سے نجات کے لئے خصوصی دعائیں کریں۔

    کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

    چین میں‌ کرونا وائرس کا پہلا مریض اب کس حال میں ہے ؟

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

    قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے میں دفعہ 144 کے حوالے سے نئے احکامات جاری کئے ہیں، جن کے مطابق لانڈری اور ڈرائی کلینرز کی دکانوں کو دفعہ 144 سے استثنیٰ دیا گیا اور وہ صرف ایک ملازم کے ساتھ اپنے کاروبار کھول سکیں گے ۔

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری

  • پی آئی اے پائلٹ کے بعد ایئر ہوسٹس میں بھی کرونا کی تشخیص

    پی آئی اے پائلٹ کے بعد ایئر ہوسٹس میں بھی کرونا کی تشخیص

    پی آئی اے پائلٹ کے بعد ایئر ہوسٹس میں بھی کرونا کی تشخیص

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے پائلٹس کے بعد ایک ایئرہوسٹس میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

    پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابو ایئر ہوسٹس میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد متاثرہ ایئر ہوسٹس کو ایکسپو سینٹر لاہور قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔ 34 سالہ ایئر ہوسٹس میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی.پی آئی اے کی ایئرہوسٹس ٹورنٹو کی پرواز سے لاہور پہنچی تھی۔

    قبل ازیں ٹورنٹو سے آنے والے پی آئی اے کے 2 پائلٹس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی،محکمہ صحت پنجاب کے مطابق دو پائلٹ گذشتہ روز ٹورنٹو سے لاہور آئے تھے، پائلٹ سمیت پانچ افراد گزشتہ کئی روز سے ٹورنٹو میں پھنسے ہوئے تھے،دونوں پائلٹس کو نجی ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا،

    قبل ازیں حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ائیرپورٹس پر مزید سخت اقدامات کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ بیرون ممالک سے آنیوالے جہاز کے عملے اور تمام مسافروں کو 24 گھنٹے کیلئے قرنطینہ میں رکھا جائیگا۔

    ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق آئندہ بین الاقوامی ائیرلائن سے ائیر پورٹ اترنے والے تمام افراد کی پہلے کی طرح سکریننگ کی جائے گی، جس کے بعد جہاز کے عملے سمیت تمام مسافروں کو 24 گھنٹوں کیلئے قرنطینہ میں رکھا جائیگا۔ سب مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کیلئے نمونے لئے جائیں گے۔ ٹیسٹ مثبت آنے پر متعلقہ شخص کو قرنطینہ بھیج دیا جائیگا لیکن جن لوگوں کے ٹیسٹ منفی آئیں گے ان کو گھر جانے دیا جائیگا اور انہیں احتیاط کرنے کی ہدایت کی جائیگی۔

    قبل ازیں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے پی آئی اے کے فضائی عملے کو زبردستی قرنطینہ کرنے کے معاملے میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکریٹری صحت نے چاروں پائلٹس اور عملے کو کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر جانے کی اجازت دے دی ہے۔