نو مسلم سکھ لڑکی کو بھائی کی خواہش کے برعکس عدالت نے کہاں بھجوا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نومسلم سکھ لڑکی عائشہ کی عمر کا تعین کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نومسلم سکھ لڑکی کو دس دن کے لئے دارالامان بھجوا دیا
عدالتی حکم پر لڑکی کے بھائی منموہن اور لڑکی نے کمرہ عدالت میں باہمی ملاقات کی ،ملاقات کے بعد لڑکی کے بھائی نے عدالت میں موقف دیا کہ میری بہن دباو میں ہے تھوڑی وقت دیا جائے۔عدالت نے نومسلم لڑکی سے استفسار کیا کہ بھائی کی ملاقات می کیا معاملہ طے پایا۔ جس پر لڑکی نے عدالت میں کہا کہ بھائی واپس جانے کےلئے اصرار کرتے رہے مگر میں واپس نہیں جانا چاہتی۔
عدالتی حکم پر نومسلم لڑکی عائشہ کو سخت سکیورٹی میں عدالت پیش کردیا گیا ،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نےلڑکی کےبھائی منموہن سنگھ کی درخواست پر سماعت کی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جگجیت کور کو ملزم حسان نے اغوا کیا۔ ملزم کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغوا کا مقدمہ درج ہے ،ملزم نے کم عمر سکھ لڑکی جگجیت کور کو زیادتی کی نیت سے اغوا کیا۔ بہن جگجیت کور کی عمر ساڑھے 15 سال ہے۔
وکیل نے مزید موقف اپنایا کہ علاقہ مجسٹریٹ ننکانہ صاحب کو جگجیت کور کی عمر کا تعین کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔علاقہ مجسٹریٹ عمر کا تعین کرنے کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کررہے۔ جگجیت کور کی عمر کا تعین کرنے کے لئے میڈیکل کروانے کا حکم دیا جائے۔
لاہوریوں ہر مہنگائی کا ایک اور ڈرون،میٹرو بس کے کرایہ میں ایک بار پھر اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے طوفان میں پستی ہوئی عوام کو پنجاب حکومت نے ایک اور جھٹکا دے دیا، پنجاب حکومت نے میٹروبس کا کرایہ 10روپے بڑھا دیا ،پنجاب کابینہ نے میٹروبس کے کرایے میں 10 روپے اضافے کی منظوری دے دی جس کے بعد میٹرو کا کرایہ 30 سے 40 روپے ہو گیا ہے،
پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد کیبنٹ ونگ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔ کیبنٹ ونگ کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔
چند ماہ قبل بھی پنجاب حکومت میٹرو بس کے کرایہ میں دس روپے اضافہ کر چکی تھی تا ہم اب پھر دوبارہ دس روپے کا اضافہ کر دیا گیا ،میٹرو جب شروع ہوئی تھی تو اسکا کرایہ 20 روپے تھا، اب تک دو بار میٹرو کا کرایہ بڑھایا جا چکا ہے
واضح رہے کہ میٹرو بس سروس کا آغاز سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں کیا گیا تھا .میٹرو بس سروس 27 کلومیٹر طویل سڑک پر مشتمل ہے، جو گجومتہ سے شاہدرہ تک ہے۔ اس سے 27 کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹے میں سمٹ آیا ہے۔۔ اس پر 27 بس اسٹیشن ہیں .لاہور میٹرو بس منصوبہ پر 29 ارب 42 کروڑ 42 لاکھ روپے خرچ ہوئے .
ریلوے پولیس کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری،کتنے لاکھ قومی خزانے میں جمع کروائے؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریلوے پولیس لاہور نے کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن نے سال 2019 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کیا ہے۔ ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق سال 2019 کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 14807 افراد کے چالان کئے گئے اور چالانوں کی مد میں 1030600 روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے گئے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی 814 چھوٹی و بڑی گاڑیوں کو بند کیاگیا اور 30 ڈرائیوروں و کنڈکٹروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی۔
اس کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے بازاروں میں غیر قانونی طور پر ریڑھیاں لگانے والوں اور ناجائز تجاوازات قائم کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز پاکستان ریلوے پولیس اظہر رشید خان نے ریلوے ٹریفک پولیس لاہور ڈویژن کی کارکردگی کو سراہا ہے اورکہا ہے کہ ریلوے ٹریفک پولیس ملک بھر میں ریلوے اسٹیشنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کوکنٹرول کرتی ہے جس کا بنیادی مقصد ریلوے مسافروں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ریلوے مسافر بروقت ریلوے اسٹیشن تک پہنچ سکیں اور ان کے وقت کا ضیاع نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے ٹریفک پولیس کا کام نا صرف قانون کا نفاذ ہے بلکہ عوام کو ٹریفک اصولوں سے آگاہی دینا اور ان میں روڈ سیفٹی کا شعور پیدا کرنابھی ہے۔
فواد چودھری کی بدتمیزی، مبشر لقمان نے کیا اہم اعلان،ثاقب کھرل نے معافی کیوں مانگی؟ انکشاف کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فواد چودھری کی جانب سے بد تمیزی پر خاموشی توڑ دی، اپنے ویڈیو پیغام میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سے گلے مل کر پیچھے ہو رہا تھا تو فواد چوہدری نے پیچھے سے آ کر اوئے کر کے آواز دی ،اس کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ گھما یا ۔فواد چوہدری کے ساتھ دو تین لوگ تھے سفید کپڑوں میں جنہوں نے آکر مجھے پکڑ لیااور دھکے دینے شروع ہو گئے تاکہ میں کوئی جواب نہ دے سکوں ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں پر عثمان بزدا ر بھی موجود تھے ،میں نے جا کر انہیں شکایت کی جس پرانہوں نے جواب دیاکہ ہم اس معاملے کو مکمل طور پر دیکھ کر تحقیق کرتے ہیں ،میں نے عثمان بزدار سے کہا تحقیق کیا کرنی ہے ،آپ بھی اس ہال میں موجود ہیں ،گورنر پنجاب اور محسن لغاری بھی ہیں ۔اس معاملے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے ،انہیں ساری بات بتائی ہے جس پر وزیراعظم کا ایک جواب بھی آیا ہے جو کہ ان کی امانت ہے ،میں نجی پیغام کو لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرسکتا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے فوری طور پر پولیس کو رپورٹ کی ہے لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی،ہم قانونی طریقے سے دیکھیں گے کہ تھوڑے دنوں تک ایف آئی آر ہوتی ہے یا نہیں ا ور اگر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو عدالت سے رجوع کریں گے ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جب فواد چوہدری نے شادی میں میرے ساتھ بد تمیزی کی تو اِس کے بعد میری ٹیم نے میرے گھر بیٹھ کر جواب دینے کی پلاننگ شروع کی جہاں ثاقب کھرل بھی تھے ،اتنی دیر میں ثاقب کھرل میرے گھر سے اٹھ کر فواد چوہدری کے گھر گئے جو میرے گھر سے تین منٹ کی دوری پر ہے۔اس دوران میرے ایک پرڈیوسر نے ثاقب کھرل کو فون کر کے ملنے کا کہا تو ثاقب کھرل فواد چوہدری کے گھر سے اٹھ کر میرے پروڈیوسر سے ملے ،ثاقب کھرل نے میرے پروڈیوسر سے کہا کہ مجھ پر بہت دباؤ ہے ،میری بیوی نے فون کر کے کہا ہے کہ اگر فواد چوہدری سے معاملات ٹھیک نہیں کیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گی کیونکہ فواد چوہدری اور ثاقب کھرل کی بیویاں سہیلیاں ہیں ۔اس کے بعد ثاقب کھرل نے ٹوئٹ کر کے فواد چوہدری سے معافی مانگی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لڑائی کوئی آج شروع نہیں ہوئی اس کو سات مہینے ہوئے ہیں اور آج تک مجھے پتہ چلا کہ ایک لوگوں نے کہا کہ آپ نے فواد چودھری یا اس کے پی اے کو کال کر کے غلط زبان استعمال کی جس پر میں نے کہا کہ ایک دو دن یا ایک ہفتے کو چھوڑ کر پچھلے سات مہینے میں کوئی کال دکھائیں جو میں نے انکو کی ہو، آپ کے پاس کال کا ریکارڈ نہیں ہو گا تو کال آنے کا ریکارڈ تو ہو گا، وہ تو ٹیلی فون کمپنی دے دی گی کہ اس نمبر سے کال آئی اور اسکا وقت کیا تھا ،یہ کوئی مشکل نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہانہ بنایا جا رہا ہے ایک انٹرویو کا جو میں نے ایک صحافی کا کیا نیو ٹی وی کے اینکر کا،اور یوٹیوب پر کیا، جس میں انہوں نے بڑے بڑے کلیم کئے ،وہ ان کے اپنے کلیم ہیں ، خود ساختہ کلیم ہیں کیونکہ میں نہیں کہہ رہا،وہ ان دو لڑکیوں کے جن کا آج کل بڑا چرچا ہے حریم اور صندل ،ان دونوں کے بہت قریب ہیں،وہ ان کی بات سنتی ہیں، باتیں ایکسچینج کرتی ہیں ،یہ انہوں نے مجھے کہا ،میں نہیں کہہ رہا،دیکھیں اس میں ایک مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں .خواتین سے مسئلہ چار مہینے پہلے شروع ہوا اور فواد چودھری سے سات مہینے پہلے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چودھری سے جتنی میری دوستی رہی وہ بھی اوپن ہے میں نے کبھی چھپایا نہیں، ایک ٹائم آ یا کہ وزیر بننے کے بعد میرے اور فواد چودھری کے راستے جدا ہو گئے اسکی کئی وجوہات ہیں،بڑی وجہ یہ تھی کہ جب فواد چودھری نے مخالفت شروع کر دی جب انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کی، ارشد خان کو عمران خان نے خود ایم ڈی پی ٹی وی لگایا تھا ،فواد چودھری نے یونین کو اکسایا اورکہا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لو،ارشد خان کو نہ آنے دو جس پر میں نے چینل پر کئی پروگرام کئے اور ان پر تنقید کی ، آڑے ہاتھوں لیا، موصوف کی اطلاعات و نشریات کی پالیسیز پر کڑی تنقید کی،فواد چودھری نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ نیوز چینل تو غلط ہیں، ہمیں انکی ضرورت ہی نہیں، ہمیں فلمی چینل شروع کرنے ہیں، پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتدار میں آئی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ پورے کا پورا میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے خلاف کیوں ہو گیا.
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
صدر لاہور بار، مبشر لقمان اور فواد چودھری کے ذاتی مسئلے پر پارٹی بن گئے، وزیر کی چاپلوسی جاری
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مبشر لقمان اور فواد چودھری کے ذاتی مسئلے پر صدر لاہور بار کی ایسی پریس ریلیز کیا ثابت کرتی ہے؟ جبکہ اس کی کوئی وقعت بھی نہیں بس ٹویٹر پر ٹویٹ کرنے کے کام ہی آیا یہ کاغذ۔ لاہور بار کو کسی کی ذاتی لڑائی میں پارٹی بننے کی کیا ضرورت ہے؟ ابھی کچھ دن پہلے وکلا نے سرکار کے ظلم سہے ۔۔۔ مگر یہ نام نہاد لیڈران اپنے ذاتی مفاد کیلئے حکومتی چاپلوسی میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کی قیمت ہم سب کو اتارنی پڑتی ہے۔۔
معزز صدر لاہور بار صاحب 2 دن رہ گئے ہیں آپ کے عہدے کو آپ اس کے بعد آپ کو کسی نے پوچھنا نہیں ہم کسے کسے جواب دیں گے؟ کہ یہ کون لوگ ہیں جو انسان کو ، ملک کے شہری کو انصاف کے دروازے تک پہنچنے پر پابندی لگا دیتے ہیں۔
ابھی ڈاکٹرز سے لڑائی آپ کروا کے ہٹے ہی ہیں اب صحافیوں سے لڑوانا چاہتے ہیں؟ ۔۔ جسٹس سسٹم کس طرف جا رہا ہے۔اپنے مفادات کیلئے پورا معاشرتی سسٹم تباہ نہ کریں۔۔ اگر فواد صاحب سے آپ کا تعلق ہے تو وکالت کریں ان کی طرف سے مگر ایسے کسی اور کی لڑائی کا مہرہ بن کر محض اپنے کسی مفاد کی خاطر اس مقدس پیشے کا تقدس پامال نہ کریں۔۔۔
اور یاد رہے ہم ایسی کسی پریس ریلیز کو نہیں مانتے۔۔۔۔ اور ساتھ ایک سوال جو لاہور بار کے ممبر وفاقی وزیر نہیں ہیں ان کے مسائل کو آپ ذاتی مسائل کب سمجھیں گے؟
چاکراعظم خان۔۔
شیعہ علما کونسل نے ایران امریکا کشیدگی پر بڑا مطالبہ مطالبہ کردیا
باغی ٹی وی : شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی مسلمانوں کا ہیرو ہے اسلامی ملک ایران نے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے، لہذا تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو ایران امریکہ تنازعہ پر محتاط پالیسی اختیار کرنی ہو گی
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پر یس کانفرنس کر تے ہو ئے کہا ہے کہ بغداد میں امریکہ کی طرف سے معروف مسلمان کمانڈر پر حملہ کھلی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے قاسم سلیمانی مسلمانوں کا ہیرو ہے پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہونی چاہئے، کارکنان و ایران سے محبت رکھنے والے پاکستانی اداروں کا احترام برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں تفرقہ پھیلانے والی تنقید سے گریز کرتے ہوئے عالمی دہشتگرد امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواریوں کے خلاف بھرپور آواز میں کلمہ حق بلند کریں، علامہ رمضان توقیر کامزید کہنا تھا کہ شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ و قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر پورے پاکستان میں جمعہ دس جنوری کو یوم احتجاج منایا جائے گا، ڈیرہ اسماعیل خان میں بعد از نماز جمعہ کوٹلی امام حسین سے احتجاجی جلوس بنوں روڈ تک نکالا جائے گا ہم ہر مظلوم کے ساتھی و حمایتی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں، جنرل قاسم سلیمانی اور مہدی منہدس شہید عام شخصیات نہیں تھے۔۔۔
ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کے ساتھ ہو گئی "زیادتی”
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ شیخ رشید کی ویڈیو کال لیک کرنے کے بعد خبروں میں آئیں اور مسلسل خبروں میں رہیں یہاں تک کہ حریم شاہ کے سینیٹ اجلاس میں بھی تذکرے ہونے لگے، حریم شاہ کس کی ویڈیو لیک کرتی ہیں سب کو حریم شاہ کی ویڈیو کا انتظار ہوتا ہے تا ہم کچھ لوگوں نے اب ووٹ کی بجائے حریم شاہ کی عزت شروع کر دی ہے انکو خطرہ ہے کہ کہیں ہماری ویڈیو نہ آ جائے،
حریم شاہ کے فیاض الحسن چوہان کے ساتھ تعلقات کی ایک سیریز سامنے آ چکی ہے، دبئی سے بھی حریم شاہ اور موصوف صوبائی وزیر رابطے میں ہیں، شیخ رشید بھی حریم شاہ کے ساتھ بات چیت کا اعتراف کر چکے ہیں تا ہم نکاح متعہ کی انہوں نے تردید کی، فواد چودھری نے دن دہاڑے حریم شاہ کو نہ ملنے کا جھوٹ بولا جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین حریم شاہ اور فواد چودھری کی ملاقات کی تصاویر سامنے لے آئے اور فواد چوھدری کو جھوٹا ثابت کر دیا.
حریم شاہ کے پاس کس کس کی ویڈیو ہیں ابھی تک اس کا نہیں معلوم تا ہم اب معلوم ہوا ہے کہ حریم شاہ اپنے جس ٹویٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو یا پیغام دیتی تھیں اس کو بلاک کر دیا گیا ہے، اب حریم شاہ نیا اکاؤنٹ بناتی ہیں یا کیا کرتی ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تا ہم ان لوگوں میں ایک بار خوشی کی لہر دوڑ گئی جن کو خدشہ تھا کہ اگلی ویڈیو ان کی ہو سکتی ہے.
حریم شاہ کا اکاؤنٹ بند ہوا، یا بند کروایا گیا؟ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا تا ہم سب کو اس بات کا انتظار ہے کہ حریم شاہ اب کیا دھماکہ کرتی ہیں اور کس کی ویڈیو جاری کرتی ہیں. حریم شاہ جس ٹویٹر ہینڈل _hareem_shah سے ٹویٹ کرتی تھیں وہ اب ٹویٹر پر موجود نہیں ہے.
حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی
غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا
حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے.
فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دو دن پہلے ہونے والا واقعہ کیا تھا ،فواد چوھدری اور میری لڑائی کیوں ہوئی اس حوالہ سے بتاؤں گا، محسن لغاری ہمارے کامن فرینڈ ہیں وہاں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،اور کسی کا گھر یا کسی کی محفل میں بدمزگی نہیں ہونی چاہئے بحرحال اللہ تعالیٰ محسن لغاری کے بچوں کو صحت اور خوشی کے ساتھ زندگی دے، آمین
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس پورے واقعہ میں تین حصے ہیں سب سے پہلے یہ کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ گڑ بڑ ایک رات پہلے ہوئی ہے، گڑ بڑ نو مہینے پہلے ہوئی ہوتی ہے، یہ آج یا کل کی بات نہیں، جو چل رہا ہے، یہ ایک تاریخ ہے اور آج میں اس بارے بتاؤں گا،اور شواہد بھی دوں گا،دوسرا حصہ یہ ہے کہ اس میں ہوا کیا اور تیسرا یہ کہہ اب کیا کرنا ہے، میں نےکیا جواب دینا ہے؟
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ کھرا سچ کے ٹیم ابھی تک 4800 گھنٹے ٹی وی پر انویسٹی گیٹو شو کر چکی ہے، اللہ کا بڑا کرم ہے ہم جب سے آئے ،تہمتیں لگیں، الزامات لگے اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،تقریبا 53 مقدمات جن میں سے کئی ابھی بھی بھگت رہا ہوں اور اللہ عدالتوں میں سرخرو کر رہا ہے، ایسے بھی واقعات ہوئے جن میں مجھ پر فائرنگ بھی ہوئی،جب کوئی آدمی ملک میں کھل کر الطاف حسین کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں تھا میں نے دوستی خراب کی اور کھل کر بولا،اسوقت کم لوگ اسکے خلاف بولنے والے تھے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں اکیلا تھا لیکن کم لوگ تھے، ہم نے بڑے بڑے مافیاز کو بے نقاب کیا یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پہلی باری کوئی دھمکی ہوئی یا کسی نے ختم کرنے کی کوشش کی یا فائر مارنے کی کوشش کی، یا نوکری سے فارغ کرنے کی کوشش کی ،ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا، اس کے باوجود دو چیزیں بڑی واضح ہیں کہ ہم نے ملک نہیں چھوڑا یہاں سے نہیں گئے، کہ یہاں سے جائیدادیں بیچیں اور جائیں میں اپنے فیملی اور ملک کو بدنام نہیں کر سکتا ،ایک دوست نے کہا کہ وفاقی وزیر نے حملہ کر دیا تو آپ کسی ملک کی نیشنلٹی کے لئے اپلائی کر سکتے ہو ،میں نے کہا نہیں،میں ایسا نہیں کر سکتا، میں یہیں رہوںگا، پہلے بھی کئی دفعہ موقع آیا اور آفرز بھی آئیں میں نے ایسا نہیں کیا.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اس واقعہ کے تین دن تک میں جو خاموش تھا اس کے پیچھے وجہ تھی،میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ لوگ کہتے کیا ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں، بہت سے سوشل میڈیا گروپس ،واٹس ایپ گروپس کا ممبر ہوں، جس کا ممبر نہیں ہوں وہاں کے سکرین شاٹ بھی آ رہے ہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے ، دوسرا یہ کہ لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں وہ بھی پتہ چلے تا کہ میں جب جواب دوں تو ایک ہی بار جواب دوں، اور سب کو سمجھ آ جائے،کہ میرا موقف ہے، بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے میرا موقف لینے کی کوشش کی ان میں سے کچھ میرے دوست ہیں اور کچھ میرے دوست نہیں بھی، میں ان سب کا مشکور ہوں.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میں ان تمام صحافی تنظیموں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے پہلے دن ہی واقعہ کے چند گھنٹے بعد میرا ہاتھ مضبوط کیا، مذمتی بیان جاری کئے اور میرا ساتھ دیا،میں سب کا ذکر کروں تو میرے خیال میں مناسب نہیں ہو گا، میرے فون میں 28 سے زیادہ پریس کلب اور 1500 سے زائد لوگوں کے میسجز اور کالز کا ریکارڈ ہے جنہوں نے نہ صرف مذمت کی بلکہ یہ بھی پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے، میں صرف چند ایک کے نام لوں اور باقی کے نہ لوں یہ زیادتی ہے، لیکن یوکے، جرمنی، ہالینڈ،بیلجیئم، آسٹریلیا، یو ایس، نیوزی لینڈ سے بھی لوگوں نے رابطہ کیا اور اس کی نہ صرف مذمت کی بلکہ کہا کہ ہمیں بتائیں کرنا کیا ہے؟ ایئر پورٹ پر جا کر کیا کرنا ہے اور پریس کانفرنس میں کیا کرنا ہے ،میں نے کہا کہ کچھ نہیں کرنا میں خود بتاؤں گا، میں مشکور ہوں ان سیاسی جماعتوں کا جنہوں نے نظریاتی اختلافات کے باوجود مجھے سپورٹ کیا، انہوں نے مجھے کالز اور میسج کئے اور کہا کہ بتائیں کیا کرنا چاہئے، میں مشکور ہیں ٹریڈ یونین، ڈاکٹرز، وکلاء کا جنہوں نے کہا کہ بتائیں ہم احتجاج کرنے کے لئے کہاں آئیں،.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میں الحمد للہ اس ملک میں لا بریکر نہیں بن سکتا،میں غیر قانونی حرکت کو قانونی طور پر ہی حل کرنے کا اعلان کرتا ہوں، مجھے آج صبح ایک بہت ہی اچھے دوست جو فواد چودھری اور میرے بھی دوست ہیں انہوں نے کہا کہ فواد چودھری آپ سے ہاتھ ملانا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ معاملہ ختم ہو جائے،تو میں نے انکار کر دیا کہا بالکل نہیں ہاتھ ملاؤں گا، میں قانونی راستے کو اختیار کروں گا، اس کا کیا لایحہ عمل ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لڑائی کوئی آج شروع نہیں ہوئی اس کو سات مہینے ہوئے ہیں اور آج تک مجھے پتہ چلا کہ ایک لوگوں نے کہا کہ آپ نے فواد چودھری یا اس کے پی اے کو کال کر کے غلط زبان استعمال کی جس پر میں نے کہا کہ ایک دو دن یا ایک ہفتے کو چھوڑ کر پچھلے سات مہینے میں کوئی کال دکھائیں جو میں نے انکو کی ہو، آپ کے پاس کال کا ریکارڈ نہیں ہو گا تو کال آنے کا ریکارڈ تو ہو گا، وہ تو ٹیلی فون کمپنی دے دی گی کہ اس نمبر سے کال آئی اور اسکا وقت کیا تھا ،یہ کوئی مشکل نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہانہ بنایا جا رہا ہے ایک انٹرویو کا جو میں نے ایک صحافی کا کیا نیو ٹی وی کے اینکر کا،اور یوٹیوب پر کیا، جس میں انہوں نے بڑے بڑے کلیم کئے ،وہ ان کے اپنے کلیم ہیں ، خود ساختہ کلیم ہیں کیونکہ میں نہیں کہہ رہا،وہ ان دو لڑکیوں کے جن کا آج کل بڑا چرچا ہے حریم اور صندل ،ان دونوں کے بہت قریب ہیں،وہ ان کی بات سنتی ہیں، باتیں ایکسچینج کرتی ہیں ،یہ انہوں نے مجھے کہا ،میں نہیں کہہ رہا،دیکھیں اس میں ایک مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں .خواتین سے مسئلہ چار مہینے پہلے شروع ہوا اور فواد چودھری سے سات مہینے پہلے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چودھری سے جتنی میری دوستی رہی وہ بھی اوپن ہے میں نے کبھی چھپایا نہیں، ایک ٹائم آ یا کہ وزیر بننے کے بعد میرے اور فواد چودھری کے راستے جدا ہو گئے اسکی کئی وجوہات ہیں،بڑی وجہ یہ تھی کہ جب فواد چودھری نے مخالفت شروع کر دی جب انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کی، ارشد خان کو عمران خان نے خود ایم ڈی پی ٹی وی لگایا تھا ،فواد چودھری نے یونین کو اکسایا اورکہا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لو،ارشد خان کو نہ آنے دو جس پر میں نے چینل پر کئی پروگرام کئے اور ان پر تنقید کی ، آڑے ہاتھوں لیا، موصوف کی اطلاعات و نشریات کی پالیسیز پر کڑی تنقید کی،فواد چودھری نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ نیوز چینل تو غلط ہیں، ہمیں انکی ضرورت ہی نہیں، ہمیں فلمی چینل شروع کرنے ہیں، پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتدار میں آئی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ پورے کا پورا میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے خلاف کیوں ہو گیا.
مبشر لقمان کے مزید انکشافات کے لئے ویڈیو ضرور دیکھیں،
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
فواد چودھری گلو بٹ کابینہ میں کیوں؟ ری ایکشن کا مطلب ویڈیو ہے، ایسا کس نے کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کی اینکر ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا ہے کہ فواد چودھری نے اینکر پر حملہ کیا، اینکر نے دعویٰ کیا کہ اب ویڈیو کی باری فواد چودھری کی ہے، اگر اینکر کی ویڈیو نہیں ہے تو انہوں نے ری ایکشن کیوں دیا، اگر کسی کے دعوے کے بعد ری ایکشن آیا تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ کہیں کچھ نہ کچھ ہے، اینکر کے دعوے کو فواد چودھری کے تھپڑ نے حقیقت کا رنگ دے دیا،
ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا فواد چودھری بالکل حواس باختہ ہیں اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ کابینہ کے لائق نہیں، عمران خان نے کابینہ میں تبدیلی کی لیکن فواد چوھدری ڈھٹائی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، کیا عمران خان کو کابینہ میں ایسے لوگ چاہئے جو تھپڑ مار لیتے ہیں اور شادیوں میں تماشا لگاتے ہیں، کیا کابینہ کا میرٹ یہ ہے کہ وزرا تھپڑ ماریں، کس نے حق دیا
ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا یہ کونسی ریاست مدینہ ہے جس میں تھپڑ مارے جا رہے ہیں ،خان صاحب جواب دیں. یہ کونسی ریاست مدینہ ہے جو ٹک ٹاک شکار ہو جاتی ہے اور پھر سرکاری گلو بٹ کو کہیں بھی غصہ آ جاتا ہے.
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
کل جب فواد چودھری کو تھپڑ لگے گا تو……بدزبان وزراء پرخان نوٹس لیں،مطالبہ آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیاست میں مختلف پارٹیاں بدل کر ہمیشہ "لوٹا” کا کردار ادا کرنے والے فواد چودھری جو اس وقت وفاقی وزیر ہیں کے خلاف سوشل میڈیا پر ان کے استعفیٰ کی مہم جاری ہے، سوشل میڈیا صارفین فواد چوھدری کو ایک طرف کھری کھری سنا رہے ہیں تو دوسری جانب فواد چودھری کےا ستعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں،
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ہم نے عمران خان کو تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا کیا یہ تبدیلی ہے کہ انکے وزیر قانون کو ہاتھ میں لیں اور سینئر صحافیوں کو دھمکیاں دیں، ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا فواد چودھری بار بار ایسا کر رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے اور ان سے استعفیٰ لینا چاہئے وہ کسی وزارت کے اہل نہیں اور اگر عمران خان انہیں وزیر رکھنا ہی چاہتے ہیں تو فواد چوھدری کے لئے وزارت تھپڑ بنا دیں تا کہ ان کی حکومت کا نام دنیا میں روشن ہو، کہ ایسے وزیر بھی ہیں جو بات بات پر تھپڑ مارتے ہیں
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فواد چودھری صاحب آپ کی بذتمیزیاں بڑھتی جارہی ہیں، یہ نہ بھولیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے
فواد چودھری صاحب آپ کی بذتمیزیاں بڑھتی جارہی ہیں، یہ نہ بھولیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے https://t.co/jiunnzJ0fs
ایک صارف نے لکھا کہ فواد چودھری جیسے لوگوں کی وجہ سے عمران خان کے خلاف بھی نفرت پیدا ہو گی اور اگلے الیکشن میں تحریک انصاف پٹ جائے گی.
ایک صارف نے لکھا کہ سزا اور جزا صرف ریاست کا اختیار ہے۔ آج فواد چپیڑیں مار رہا ہے کل کو جب اسے کوئی مارے گا تو ریاستی مشینری ایکشن میں آئے گی اور تب ایک نہیں دو پاکستان نظر آئیں گے۔
فواد چودھری، اعظم سواتی، رانا ثناء و دیگر سیاستدان، وکلاء، پولیس والے اور متشدد لوگوں نے پاکستان کا مورل فیبرک تباہ
ایک اور صارف نے لکھا کہ زرتاج گل اور فواد چودھری آج جس طرح سے رو رہے تھے شائد انہیں یاد نہیں کہ وہ خود بھی ایسی ہی زبان استعمال کرتے رہے ہیں.
اگر آج اپنا ہی بویا سامنے آ رہا ہے تو تکلیف کیسی؟
مکافات عمل کا شکار تحریک انصاف کے بدزبان وزراء نے اپنی زبان پر قابو پایا ہوتا تو آج ایسی مایوس شکل نہ بنائی ہوتی
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا