Baaghi TV

Category: لاہور

  • ملک کے سب سے بڑے صوبے کو عملی طور پر کون چلائے گا. اہم خبریں سامنے آگئیں.

    ملک کے سب سے بڑے صوبے کو عملی طور پر کون چلائے گا. اہم خبریں سامنے آگئیں.

    ملک کے سب سے بڑے صوبے کو عملی طور پر کون چلائے گا. اہم خبریں سامنے آگئیں.

    باغی ٹی وی :ہر گزرتا دن پی ٹی آئی حکومت کے لیے نیا چیلنچ لے کر آ رہا ہے . پنجاب میں مسلم لیگ (ق) نے عملی طور پر وزارت اعلیٰ سنبھال لی ہے تاہم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

    مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی اور چیف سیکریٹری پنجاب اعظم سلیمان کے درمیان ہونے والی انتہائی اہم میٹنگ میں اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا روڈ میپ تیار کرلیا گیا جس کا اشارہ مونس الہٰی نے کیپیٹل ٹاک میں حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے بھی دیا۔

    اختیارات کی تقسیم کے فیصلے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پریشان نے‘جہانگیر ترین کو شکایت کردی ۔ اطلاعات کے مطابق ق لیگ کے حلقوں کو بیس ارب روپے کا ترقیاتی فنڈز فوری جاری کیا جائے گا اور پنجاب کی بیورو کریسی کو ق لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی ۔

    حال ہی میں ہونے والی ایک اہم ترین میٹنگ جس میں مونس الہیٰ کی قیادت میں ق لیگ نے جہانگیر ترین‘ پرویز خٹک‘ عثمان بزدار اور اعظم سلیمان سے ملاقات کی تھی جس میں جہانگیر ترین نے ق لیگ کی اختیارات کے حصول کے معاملے میں شرائط کو من و عن تسلیم کرلیا اور فوری اقدام کی یقین دھانی کراتے ہوئے چیف سیکریٹری اعظم سلیمان کو ہدایات دیں کہ مونس الہیٰ کے ساتھ مل کر روڈ میپ تیار کرلیں

    اختیار کی اس منتقلی پر عثمان بزدار پریشان ہیں کیونکہ اس طرح عملی طور پر اُن کا اختیار صفر ہوجاتا ہے کیونکہ چیف سیکریٹری کو ق لیگ براہ راست ہدایات دے سکے گی اور انھوں نے اپنے سادہ انداز میں جہانگیر ترین کو شکایت کی کہ میں تو پریشانی کی وجہ سے ساری رات سو بھی نہیں سکا۔۔پی ٹی آئی حکومت اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ایک طرف وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کی کوشش میں ہے اور دوسری طرف اس کی پارٹی کے اندر بھی ناراض اراکین کی بازگشت سنی جارہی ہے جو فارورڈ بلاک بنا رہے ہیں.
    اس سے پہلے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کے انکشاف سے کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کی اجازت سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی پیششکش کی ہے۔

    شہباز شریف نے پرویز الہی کو کون سی بڑی پیشکش کی ، سینئرصحافی کا انکشاف

    اس بات کا نکشاف انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کیا ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں عثمان بزدار وزارت اعلیٰ کا منصب نہیں چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے پرویزالہی کو پیشکش کی ہے کہ اسمبلی کا اسپیکر اور چند وزارتیں مسلم لیگ ن کے پاس ہوں گی جب کہ وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ق کے پاس رہے تاہم انہوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، وزیراعظم کے ساتھ ہو گیا "ہاتھ” نواز شریف کا قریبی بنا چیف الیکشن کمشنر

  • دیسی آٹے کی قمیت میں کتنی ہوئی کمی

    دیسی آٹے کی قمیت میں کتنی ہوئی کمی

    دیسی آٹے کی قمیت میں کتنی ہوئی کمی

    باغی ٹی وی: ملک بھر میں آٹے کی قلت اور قیمت میں زیادتی کے بعد اب آٹے کی قیمت میں کمی کر دی گئ ہے . آٹا چکی ایسوسی ایشن نے صوبے بھر میں دیسی آٹے کی قیمت دو روپے فی کلو کم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    جنرل سیکرٹری آٹا چکی ایسوسی ایشن عبدالرحمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جذبہ خیر سگالی کے تحت دو روپے فی کلو آٹا سستا کر رہے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد کے سامنے ہم نے اپنے تحفظات رکھے ہیں۔ ہمارے تحفظات دور کرنے کے لیے حکومتی وفد نے ایک ہفتہ کا وقت مانگا ہے۔

    عبدالرحمان نے کہا کہ ایک چکی کو روزانہ پانچ بوریاں حکومتی ریٹ پر گندم دی جاتی ہے۔ ایک چکی کی ضرورت حکومتی ریٹ پر دی جانے والی پانچ سو کلو گندم سے پوری نہیں ہوتی ہے.انہوں نے کہا سرکاری ریٹ پر تیرہ سو پجھتر روپے فی من گندم ملتی ہے۔ اس ریٹ پر گندم “جہاں ہے جیسی ہے” کے فارمولا پر ملتی ہے۔

    جنرل سیکرٹری آٹا چکی ایسوسی ایشن کے مطابق ایک من کی صفائی، پسائی، اور ٹرانسپورٹ پر ساڑھے چار سو خرچہ آتا ہے۔ حکومتی وفد سے مذاکرات کے بعد اڑسٹھ روپے فی کلو گندم فروخت ہوگی.

    واضح‌رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نے آٹا مہنگا ہونے کا نوٹس لے لیا اور جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو آٹے کی قیمتوں کو کم کرنے کا ٹاسک دیدیا ۔ معلوم ہوا کہ پنجاب میں گندم بحران شدت اختیار کرگیا ،صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں آٹے کی قلت شدت اختیار کرگئی۔ بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیا نے پنجاب کی غلہ منڈیوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے گندم کی قیمت2200روپے فی من کردی ۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا کر آٹا چکی مالکان ایسوسی ایشن نے دیسی آٹے کی قیمت میں رواں ماہ دوسری بار اضافہ کردیا۔

  • آٹے بحران پر عظمیٰ بخاری نے کون سا بڑا مطالبہ کر دیا

    آٹے بحران پر عظمیٰ بخاری نے کون سا بڑا مطالبہ کر دیا

    آٹے بحران پر عظمیٰ بخاری نے کیا بڑا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکومتی وزراءپہلے تعین کریں پنجاب میں آٹے کا بحران ہے یا نہیں. وفاقی حکومت نے کتنے پیسوں میں باہر گندم بیچی اور کتنے میں خریدنے جا رہے ہیں؟حکومت کو چار ماہ قبل گندم کے بحران کی وارننگ دی گئی لیکن حکومت سوئی رہی:آٹے کے بعد پنجاب میں چینی کا بحران بھی سر اٹھانے جا رہا ہے: بزدار صاحب ڈینگی،پولیو اور لاہور میں کچرے کا بتائیں تو ہی خواب خرگوش سے جاگتے ہیں:

    آٹے کے بحران کی تحقیقات کےلئے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے’جن وفاقی اور صوبائی وزراءکا آٹے کے بحران میں نام آرہا ہے ان کوشامل تفتیش کیا جائے:آٹا گینگ کا سر غنہ فلورز ملزم مالکان کو دھمکیاں دے رہا ہے:اگر پنجاب حکومت کے پاس 2.3ملین میٹرک ٹن گندم کا سٹاک موجود ہے تو گندم برآمد کیوں کی جارہی ہے؟: حکومتی وزراءکے خیالی پلاﺅں والے بیانات سے عوام کو پیٹ نہیں بھر سکتا،

  • فواد حسن فواد کی ضمانت پر شہباز شریف میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    فواد حسن فواد کی ضمانت پر شہباز شریف میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    فواد حسن فواد کی ضمانت پر شہباز شریف میدان میں آ گئے، کیا کہا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہبازشریف نے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی ضمانت کو خوش آئند قرار دیا،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ایک اور بے گناہ کو انصاف ملا

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ فواد حسن فواد ایماندار، قابل اور ذہین افسر ہیں،فواد حسن فواد نے خلوص دل سے پاکستان اور عوام کی خدمت کی

    واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ نے فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کرلی،فوادحسن فواد نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری تھے

    فوادحسن فواد کو10،10لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، فواد حسن فواد کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا، مچلکے احتساب عدالت میں جمع کروائے جائیں گے

    فواد حسن فواد نے اشترعلی اوصاف اور امجد پرویز ایڈوکیٹس کی وساطت سے درخواست دائر کی ،درخواست میں وزرات قانون و انصاف ,چیرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    فواد حسن فواد نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 15ماہ سےگرفتار کر رکھاہے،15ماہ کا عرصہ گزرنے کے باجود ریفرنس میں فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی، راولپنڈی میں واقع کیثراالمنزلہ پلازے سے کوئی تعلق نہیں،

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ دوران ملازمت کوئی بھی ناجائز فائدے حاصل نہیں کیے،شدید بیماری میں مبتلا ہوں جس کا علاج جیل میں ممکن نہیں،

  • سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرنیوالے صحافی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے کیا جواب طلب

    سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرنیوالے صحافی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے کیا جواب طلب

    سوشل میڈیا پر تنقید کرنیوالے صحافی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے کیا جواب طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت نے ایف آئی اے سے 22 جنوری کو تحریری جواب طلب کر لیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے صحافی اظہار الحق کی درخواست پر سماعت کی ،صحافی اظہار الحق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے.

    میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایف آئی اے بے بنیاد الزام لگا کر صحافی اظہار الحق کو گرفتار کیا ہے،آئین کا آرٹیکل 16 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، ایف آئی اے نے جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، وہ الزامات مقدمے کا حصہ ہی نہیں ہے،

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت اور مشرف پر تنقید جرم ہے تو پهر آدها پاکستان گرفتار کیا جانا چاہیے، صحافی اظہار الحق کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا تاکہ میڈیا میں خوف پیدا کیا جا سکے،آئین پاکستان میڈیا کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے، صحافی اظہار الحق کی ضمانت منظور کی جائے،

    واضح رہے کہ اظہارالحق کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 11 اور 20 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    لاہور پریس کلب کے عہدیداران نے پریس کلب کے رکن اور صحافی اظہارالحق کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔مذمتی بیان میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے صحافی کی گرفتاری آزادی اظہار رائے کو سلب کرنے کے مترادف اور غیر آئینی اقدام ہے۔

  • نوازشریف کے رشتے دار تو برطانیہ میں موجود ہیں، مریم نواز کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    نوازشریف کے رشتے دار تو برطانیہ میں موجود ہیں، مریم نواز کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    نوازشریف کے رشتے دار تو برطانیہ میں موجود ہیں، مریم نواز کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی اور ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواستوں پرسماعت ہوئی،وفاقی حکومت نے لاہورہائیکورٹ میں جمع کروادیا،سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،

    جسٹس طارق عباسی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ مریم نواز کیوں ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں؟ جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز کے والد بیمار ہیں تیمارداری کے لیے جانا چاہتی ہیں، عدالت نے کہا کہ نواز شریف کو اٹینڈ کرنے والا کوئی نہیں؟ انکے رشتے دار برطانیہ میں موجود تو ہیں،

    تیسری درخواست میں مریم نواز نے کہا کہ والد کی طبعیت دن بدن ناساز ہوتی جا رہی ہے . نواز شریف کی تازہ رپورٹس میں میں ان کے امراض میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا میرا ان کے پاس موجود ہونا اشد ضروری ہے۔

    مریم نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ عدالت میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد والد کی تیمارداری کےلیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے۔

    س سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایل سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔

    مریم نواز نے اپنے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے ذریعے لایور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز کا نام بغیر نوٹس دئیے ای سی ایل میں شامل کیا گیا جو ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے میمورنڈم کے منافی ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز نے درخواست میں کہا عدالتی مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے اُن کا نام ام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مریم نواز نے استدعا کی کہ اُن کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں والد نواز شریف سے ملاقات کیلئے 6 ہفتوں کیلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

    مریم نواز نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی اپنا پاسپورٹ واپس لینے کی استدعا کی تھی، بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وفاقی حکومت کی ریویو کمیٹی کو بھجوا دی تھی اور سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی فیصلے کی توثیق کردی تھی، جس کے بعد مریم نواز نے دوبارہ نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔جس پر عدالت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا حکومت نام شامل کرنے پر جواز پیش کرے

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں،  لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں اسی لئے انہوں نے عدالت میں تیسری درخواست دائر کی ہے.

  • فواد حسن فواد کی رہائی کا لاہورہائیکورٹ نے دیا حکم

    فواد حسن فواد کی رہائی کا لاہورہائیکورٹ نے دیا حکم

    فواد حسن فواد کی رہائی کا لاہورہائیکورٹ نے دیا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کرلی،فوادحسن فواد نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری تھے

    فوادحسن فواد کو10،10لاکھ روپےکےمچلکےجمع کرانے کی ہدایت کی گئی، فواد حسن فواد کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا، مچلکے احتساب عدالت میں جمع کروائے جائیں گے

    فواد حسن فواد نے اشترعلی اوصاف اور امجد پرویز ایڈوکیٹس کی وساطت سے درخواست دائر کی ،درخواست میں وزرات قانون وانصاف,چیرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    فواد حسن فواد نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 15ماہ سےگرفتار کر رکھاہے،15ماہ کا عرصہ گزرنے کے باجود ریفرنس میں فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی، راولپنڈی میں واقع کیثراالمنزلہ پلازے سے کوئی تعلق نہیں،

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ دوران ملازمت کوئی بھی ناجائز فائدے حاصل نہیں کیے،شدید بیماری میں مبتلا ہوں جس کا علاج جیل میں ممکن نہیں،

    فواد حسن فواد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع، بریت کی درخواست بھی دائر

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کی جانب سے فواد حسن فواد کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب حکام کے مطابق فواد حسن فواد نے 4 ارب 56 کروڑ 51 لاکھ 26 ہزار 904 روپے کے اخراجات کئے، راولپنڈی 15 منزلہ لگثری شاپنگ مال، حیدر روڈ پلاٹ کے اثاثے بنائے جبکہ جہانگیر صدیقی گروپ کے بنک سے 3 ارب 45 کروڑ کا قرض ظاہر کیا، ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق فیملی سیونگ 2 کروڑ 54 لاکھ 80 ہزار 822 روپے ہے.

  • پرائیویٹ سکولوں میں اضافی فیس، عدالت نے کیا جواب طلب

    پرائیویٹ سکولوں میں اضافی فیس، عدالت نے کیا جواب طلب

    پرائیویٹ سکولوں میں اضافی فیس، عدالت نے کیا جواب طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پرائیویٹ سکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالت نے پنجاب حکومت سے والدین کے اعتراضات پر جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی

    سٹس ساجد محمود سیٹھی نے والدین کی درخواستوں پر سماعت کی،عدالت کے روبرو والدین کیجانب سے فیسیوں میں اضافے سے متعلق اعتراضات جمع کروا دئیے گیے.

    درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود اضافی فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، اضافی فیسیں ادا نہ کرنے والے بچوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بھی عدالتی احکامات پر عمل کرنے کے معاملے خاموش تماشائی بنی ہوئی،

    درخواست گزار نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے، اضافی فیسیں وصول کرنے والے سکولوں کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا جائے،

  • پتنگ بازی پر پابندی کیوں؟ عدالت نے کس کو طلب کر لیا؟

    پتنگ بازی پر پابندی کیوں؟ عدالت نے کس کو طلب کر لیا؟

    پتنگ بازی پر پابندی کیوں؟ عدالت نے کس کو طلب کر لیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر فریقین سے 29 جنوری کیلئے جواب طلب کرلیا

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی عائد کر رکھی ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کا پتنگیں تیار کرنے کے شعبہ سے روزگار وابستہ ہے،

    درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ہمسایہ ملک بھارت میں اس تہوار کی وجہ سے سیاحت فروغ پارہی ہے، عدالت پتنگ بازی پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم دے،

    عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ضلعی انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا.

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے پتنگ بازی پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس حوالہ سے دفعہ 144 نافذ ہے، پتنگیں اڑانے والے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے،لاہوری پھر بھی باز نہیں آتے اور قانون شکنی کرتے نظر آتے ہیں.

    پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود ڈور گلے پر پھرنے سے ہونے والے افسوس ناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ماہ لاہور کے علاقے وحدت کالونی میں ایک بچے کی گردن پر پتنگ کی ڈور پھر گئی تھی جس سے بچہ جاں بحق ہو گیا تھا، 17 نومبر کو لاہور میں ایک اور قیمتی جان پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ گئی تھی، مغل پورہ میں پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا تھا، ریسکیو کا کہنا تھا کہ 40 سالہ عامر موٹر سائیکل پر صدر بازار جا رہا تھا کہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا تھا کہ جس علاقے میں پتنگ بازی ہوئی وہاں کے متعلقہ پولیس افسران ذمے دارہوں گے۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ایس ایچ او مغل پورہ کو معطل کر کے لائن حاضر بھی کیا گیا، 20 اکتوبر کو بھی لاہور کے علاقے ساندہ میں گلے پر ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہو گیا تھا،

  • مریم نواز کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالا؟ آج ہو گی درخواست پر سماعت

    مریم نواز کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالا؟ آج ہو گی درخواست پر سماعت

    مریم نواز کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالا؟ آج ہو گی درخواست پر سماعت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر آج سماعت ہو گی، لاہور ہائیکورٹ نے وفاق سے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر جواب طلب کر رکھا ہے،مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں تیسری درخواست گزشتہ روز دائر کی .

    تیسری درخواست میں مریم نواز نے کہا کہ والد کی طبعیت دن بدن ناساز ہوتی جا رہی ہے . نواز شریف کی تازہ رپورٹس میں میں ان کے امراض میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہذا میرا ان کے پاس موجود ہونا اشد ضروری ہے۔

    مریم نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ عدالت میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد والد کی تیمارداری کےلیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے۔

    س سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایل سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔

    مریم نواز نے اپنے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے ذریعے لایور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز کا نام بغیر نوٹس دئیے ای سی ایل میں شامل کیا گیا جو ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے میمورنڈم کے منافی ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز نے درخواست میں کہا عدالتی مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے اُن کا نام ام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مریم نواز نے استدعا کی کہ اُن کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں والد نواز شریف سے ملاقات کیلئے 6 ہفتوں کیلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

    مریم نواز نے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی اپنا پاسپورٹ واپس لینے کی استدعا کی تھی، بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست وفاقی حکومت کی ریویو کمیٹی کو بھجوا دی تھی اور سات دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی فیصلے کی توثیق کردی تھی، جس کے بعد مریم نواز نے دوبارہ نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔جس پر عدالت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا حکومت نام شامل کرنے پر جواز پیش کرے

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں،  لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں اسی لئے انہوں نے عدالت میں تیسری درخواست دائر کی ہے.