شیعہ علما کونسل نے ایران امریکا کشیدگی پر بڑا مطالبہ مطالبہ کردیا
باغی ٹی وی : شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی مسلمانوں کا ہیرو ہے اسلامی ملک ایران نے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے، لہذا تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو ایران امریکہ تنازعہ پر محتاط پالیسی اختیار کرنی ہو گی
شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پر یس کانفرنس کر تے ہو ئے کہا ہے کہ بغداد میں امریکہ کی طرف سے معروف مسلمان کمانڈر پر حملہ کھلی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے قاسم سلیمانی مسلمانوں کا ہیرو ہے پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہونی چاہئے، کارکنان و ایران سے محبت رکھنے والے پاکستانی اداروں کا احترام برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں تفرقہ پھیلانے والی تنقید سے گریز کرتے ہوئے عالمی دہشتگرد امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواریوں کے خلاف بھرپور آواز میں کلمہ حق بلند کریں، علامہ رمضان توقیر کامزید کہنا تھا کہ شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ و قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر پورے پاکستان میں جمعہ دس جنوری کو یوم احتجاج منایا جائے گا، ڈیرہ اسماعیل خان میں بعد از نماز جمعہ کوٹلی امام حسین سے احتجاجی جلوس بنوں روڈ تک نکالا جائے گا ہم ہر مظلوم کے ساتھی و حمایتی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں، جنرل قاسم سلیمانی اور مہدی منہدس شہید عام شخصیات نہیں تھے۔۔۔
ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کے ساتھ ہو گئی "زیادتی”
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ شیخ رشید کی ویڈیو کال لیک کرنے کے بعد خبروں میں آئیں اور مسلسل خبروں میں رہیں یہاں تک کہ حریم شاہ کے سینیٹ اجلاس میں بھی تذکرے ہونے لگے، حریم شاہ کس کی ویڈیو لیک کرتی ہیں سب کو حریم شاہ کی ویڈیو کا انتظار ہوتا ہے تا ہم کچھ لوگوں نے اب ووٹ کی بجائے حریم شاہ کی عزت شروع کر دی ہے انکو خطرہ ہے کہ کہیں ہماری ویڈیو نہ آ جائے،
حریم شاہ کے فیاض الحسن چوہان کے ساتھ تعلقات کی ایک سیریز سامنے آ چکی ہے، دبئی سے بھی حریم شاہ اور موصوف صوبائی وزیر رابطے میں ہیں، شیخ رشید بھی حریم شاہ کے ساتھ بات چیت کا اعتراف کر چکے ہیں تا ہم نکاح متعہ کی انہوں نے تردید کی، فواد چودھری نے دن دہاڑے حریم شاہ کو نہ ملنے کا جھوٹ بولا جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین حریم شاہ اور فواد چودھری کی ملاقات کی تصاویر سامنے لے آئے اور فواد چوھدری کو جھوٹا ثابت کر دیا.
حریم شاہ کے پاس کس کس کی ویڈیو ہیں ابھی تک اس کا نہیں معلوم تا ہم اب معلوم ہوا ہے کہ حریم شاہ اپنے جس ٹویٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو یا پیغام دیتی تھیں اس کو بلاک کر دیا گیا ہے، اب حریم شاہ نیا اکاؤنٹ بناتی ہیں یا کیا کرتی ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تا ہم ان لوگوں میں ایک بار خوشی کی لہر دوڑ گئی جن کو خدشہ تھا کہ اگلی ویڈیو ان کی ہو سکتی ہے.
حریم شاہ کا اکاؤنٹ بند ہوا، یا بند کروایا گیا؟ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا تا ہم سب کو اس بات کا انتظار ہے کہ حریم شاہ اب کیا دھماکہ کرتی ہیں اور کس کی ویڈیو جاری کرتی ہیں. حریم شاہ جس ٹویٹر ہینڈل _hareem_shah سے ٹویٹ کرتی تھیں وہ اب ٹویٹر پر موجود نہیں ہے.
حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی
غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا
حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے.
فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دو دن پہلے ہونے والا واقعہ کیا تھا ،فواد چوھدری اور میری لڑائی کیوں ہوئی اس حوالہ سے بتاؤں گا، محسن لغاری ہمارے کامن فرینڈ ہیں وہاں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،اور کسی کا گھر یا کسی کی محفل میں بدمزگی نہیں ہونی چاہئے بحرحال اللہ تعالیٰ محسن لغاری کے بچوں کو صحت اور خوشی کے ساتھ زندگی دے، آمین
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس پورے واقعہ میں تین حصے ہیں سب سے پہلے یہ کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ گڑ بڑ ایک رات پہلے ہوئی ہے، گڑ بڑ نو مہینے پہلے ہوئی ہوتی ہے، یہ آج یا کل کی بات نہیں، جو چل رہا ہے، یہ ایک تاریخ ہے اور آج میں اس بارے بتاؤں گا،اور شواہد بھی دوں گا،دوسرا حصہ یہ ہے کہ اس میں ہوا کیا اور تیسرا یہ کہہ اب کیا کرنا ہے، میں نےکیا جواب دینا ہے؟
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ کھرا سچ کے ٹیم ابھی تک 4800 گھنٹے ٹی وی پر انویسٹی گیٹو شو کر چکی ہے، اللہ کا بڑا کرم ہے ہم جب سے آئے ،تہمتیں لگیں، الزامات لگے اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،تقریبا 53 مقدمات جن میں سے کئی ابھی بھی بھگت رہا ہوں اور اللہ عدالتوں میں سرخرو کر رہا ہے، ایسے بھی واقعات ہوئے جن میں مجھ پر فائرنگ بھی ہوئی،جب کوئی آدمی ملک میں کھل کر الطاف حسین کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں تھا میں نے دوستی خراب کی اور کھل کر بولا،اسوقت کم لوگ اسکے خلاف بولنے والے تھے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں اکیلا تھا لیکن کم لوگ تھے، ہم نے بڑے بڑے مافیاز کو بے نقاب کیا یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پہلی باری کوئی دھمکی ہوئی یا کسی نے ختم کرنے کی کوشش کی یا فائر مارنے کی کوشش کی، یا نوکری سے فارغ کرنے کی کوشش کی ،ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا، اس کے باوجود دو چیزیں بڑی واضح ہیں کہ ہم نے ملک نہیں چھوڑا یہاں سے نہیں گئے، کہ یہاں سے جائیدادیں بیچیں اور جائیں میں اپنے فیملی اور ملک کو بدنام نہیں کر سکتا ،ایک دوست نے کہا کہ وفاقی وزیر نے حملہ کر دیا تو آپ کسی ملک کی نیشنلٹی کے لئے اپلائی کر سکتے ہو ،میں نے کہا نہیں،میں ایسا نہیں کر سکتا، میں یہیں رہوںگا، پہلے بھی کئی دفعہ موقع آیا اور آفرز بھی آئیں میں نے ایسا نہیں کیا.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اس واقعہ کے تین دن تک میں جو خاموش تھا اس کے پیچھے وجہ تھی،میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ لوگ کہتے کیا ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں، بہت سے سوشل میڈیا گروپس ،واٹس ایپ گروپس کا ممبر ہوں، جس کا ممبر نہیں ہوں وہاں کے سکرین شاٹ بھی آ رہے ہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے ، دوسرا یہ کہ لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں وہ بھی پتہ چلے تا کہ میں جب جواب دوں تو ایک ہی بار جواب دوں، اور سب کو سمجھ آ جائے،کہ میرا موقف ہے، بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے میرا موقف لینے کی کوشش کی ان میں سے کچھ میرے دوست ہیں اور کچھ میرے دوست نہیں بھی، میں ان سب کا مشکور ہوں.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میں ان تمام صحافی تنظیموں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے پہلے دن ہی واقعہ کے چند گھنٹے بعد میرا ہاتھ مضبوط کیا، مذمتی بیان جاری کئے اور میرا ساتھ دیا،میں سب کا ذکر کروں تو میرے خیال میں مناسب نہیں ہو گا، میرے فون میں 28 سے زیادہ پریس کلب اور 1500 سے زائد لوگوں کے میسجز اور کالز کا ریکارڈ ہے جنہوں نے نہ صرف مذمت کی بلکہ یہ بھی پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے، میں صرف چند ایک کے نام لوں اور باقی کے نہ لوں یہ زیادتی ہے، لیکن یوکے، جرمنی، ہالینڈ،بیلجیئم، آسٹریلیا، یو ایس، نیوزی لینڈ سے بھی لوگوں نے رابطہ کیا اور اس کی نہ صرف مذمت کی بلکہ کہا کہ ہمیں بتائیں کرنا کیا ہے؟ ایئر پورٹ پر جا کر کیا کرنا ہے اور پریس کانفرنس میں کیا کرنا ہے ،میں نے کہا کہ کچھ نہیں کرنا میں خود بتاؤں گا، میں مشکور ہوں ان سیاسی جماعتوں کا جنہوں نے نظریاتی اختلافات کے باوجود مجھے سپورٹ کیا، انہوں نے مجھے کالز اور میسج کئے اور کہا کہ بتائیں کیا کرنا چاہئے، میں مشکور ہیں ٹریڈ یونین، ڈاکٹرز، وکلاء کا جنہوں نے کہا کہ بتائیں ہم احتجاج کرنے کے لئے کہاں آئیں،.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ میں الحمد للہ اس ملک میں لا بریکر نہیں بن سکتا،میں غیر قانونی حرکت کو قانونی طور پر ہی حل کرنے کا اعلان کرتا ہوں، مجھے آج صبح ایک بہت ہی اچھے دوست جو فواد چودھری اور میرے بھی دوست ہیں انہوں نے کہا کہ فواد چودھری آپ سے ہاتھ ملانا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ معاملہ ختم ہو جائے،تو میں نے انکار کر دیا کہا بالکل نہیں ہاتھ ملاؤں گا، میں قانونی راستے کو اختیار کروں گا، اس کا کیا لایحہ عمل ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لڑائی کوئی آج شروع نہیں ہوئی اس کو سات مہینے ہوئے ہیں اور آج تک مجھے پتہ چلا کہ ایک لوگوں نے کہا کہ آپ نے فواد چودھری یا اس کے پی اے کو کال کر کے غلط زبان استعمال کی جس پر میں نے کہا کہ ایک دو دن یا ایک ہفتے کو چھوڑ کر پچھلے سات مہینے میں کوئی کال دکھائیں جو میں نے انکو کی ہو، آپ کے پاس کال کا ریکارڈ نہیں ہو گا تو کال آنے کا ریکارڈ تو ہو گا، وہ تو ٹیلی فون کمپنی دے دی گی کہ اس نمبر سے کال آئی اور اسکا وقت کیا تھا ،یہ کوئی مشکل نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہانہ بنایا جا رہا ہے ایک انٹرویو کا جو میں نے ایک صحافی کا کیا نیو ٹی وی کے اینکر کا،اور یوٹیوب پر کیا، جس میں انہوں نے بڑے بڑے کلیم کئے ،وہ ان کے اپنے کلیم ہیں ، خود ساختہ کلیم ہیں کیونکہ میں نہیں کہہ رہا،وہ ان دو لڑکیوں کے جن کا آج کل بڑا چرچا ہے حریم اور صندل ،ان دونوں کے بہت قریب ہیں،وہ ان کی بات سنتی ہیں، باتیں ایکسچینج کرتی ہیں ،یہ انہوں نے مجھے کہا ،میں نہیں کہہ رہا،دیکھیں اس میں ایک مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں .خواتین سے مسئلہ چار مہینے پہلے شروع ہوا اور فواد چودھری سے سات مہینے پہلے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فواد چودھری سے جتنی میری دوستی رہی وہ بھی اوپن ہے میں نے کبھی چھپایا نہیں، ایک ٹائم آ یا کہ وزیر بننے کے بعد میرے اور فواد چودھری کے راستے جدا ہو گئے اسکی کئی وجوہات ہیں،بڑی وجہ یہ تھی کہ جب فواد چودھری نے مخالفت شروع کر دی جب انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کی، ارشد خان کو عمران خان نے خود ایم ڈی پی ٹی وی لگایا تھا ،فواد چودھری نے یونین کو اکسایا اورکہا کہ پی ٹی وی پر قبضہ کر لو،ارشد خان کو نہ آنے دو جس پر میں نے چینل پر کئی پروگرام کئے اور ان پر تنقید کی ، آڑے ہاتھوں لیا، موصوف کی اطلاعات و نشریات کی پالیسیز پر کڑی تنقید کی،فواد چودھری نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ نیوز چینل تو غلط ہیں، ہمیں انکی ضرورت ہی نہیں، ہمیں فلمی چینل شروع کرنے ہیں، پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اقتدار میں آئی انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ پورے کا پورا میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے خلاف کیوں ہو گیا.
مبشر لقمان کے مزید انکشافات کے لئے ویڈیو ضرور دیکھیں،
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
فواد چودھری گلو بٹ کابینہ میں کیوں؟ ری ایکشن کا مطلب ویڈیو ہے، ایسا کس نے کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کی اینکر ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا ہے کہ فواد چودھری نے اینکر پر حملہ کیا، اینکر نے دعویٰ کیا کہ اب ویڈیو کی باری فواد چودھری کی ہے، اگر اینکر کی ویڈیو نہیں ہے تو انہوں نے ری ایکشن کیوں دیا، اگر کسی کے دعوے کے بعد ری ایکشن آیا تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ کہیں کچھ نہ کچھ ہے، اینکر کے دعوے کو فواد چودھری کے تھپڑ نے حقیقت کا رنگ دے دیا،
ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا فواد چودھری بالکل حواس باختہ ہیں اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ کابینہ کے لائق نہیں، عمران خان نے کابینہ میں تبدیلی کی لیکن فواد چوھدری ڈھٹائی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، کیا عمران خان کو کابینہ میں ایسے لوگ چاہئے جو تھپڑ مار لیتے ہیں اور شادیوں میں تماشا لگاتے ہیں، کیا کابینہ کا میرٹ یہ ہے کہ وزرا تھپڑ ماریں، کس نے حق دیا
ڈاکٹر فضا اکبر خان نے کہا یہ کونسی ریاست مدینہ ہے جس میں تھپڑ مارے جا رہے ہیں ،خان صاحب جواب دیں. یہ کونسی ریاست مدینہ ہے جو ٹک ٹاک شکار ہو جاتی ہے اور پھر سرکاری گلو بٹ کو کہیں بھی غصہ آ جاتا ہے.
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
کل جب فواد چودھری کو تھپڑ لگے گا تو……بدزبان وزراء پرخان نوٹس لیں،مطالبہ آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیاست میں مختلف پارٹیاں بدل کر ہمیشہ "لوٹا” کا کردار ادا کرنے والے فواد چودھری جو اس وقت وفاقی وزیر ہیں کے خلاف سوشل میڈیا پر ان کے استعفیٰ کی مہم جاری ہے، سوشل میڈیا صارفین فواد چوھدری کو ایک طرف کھری کھری سنا رہے ہیں تو دوسری جانب فواد چودھری کےا ستعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں،
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ہم نے عمران خان کو تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا کیا یہ تبدیلی ہے کہ انکے وزیر قانون کو ہاتھ میں لیں اور سینئر صحافیوں کو دھمکیاں دیں، ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا فواد چودھری بار بار ایسا کر رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے اور ان سے استعفیٰ لینا چاہئے وہ کسی وزارت کے اہل نہیں اور اگر عمران خان انہیں وزیر رکھنا ہی چاہتے ہیں تو فواد چوھدری کے لئے وزارت تھپڑ بنا دیں تا کہ ان کی حکومت کا نام دنیا میں روشن ہو، کہ ایسے وزیر بھی ہیں جو بات بات پر تھپڑ مارتے ہیں
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فواد چودھری صاحب آپ کی بذتمیزیاں بڑھتی جارہی ہیں، یہ نہ بھولیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے
فواد چودھری صاحب آپ کی بذتمیزیاں بڑھتی جارہی ہیں، یہ نہ بھولیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے https://t.co/jiunnzJ0fs
ایک صارف نے لکھا کہ فواد چودھری جیسے لوگوں کی وجہ سے عمران خان کے خلاف بھی نفرت پیدا ہو گی اور اگلے الیکشن میں تحریک انصاف پٹ جائے گی.
ایک صارف نے لکھا کہ سزا اور جزا صرف ریاست کا اختیار ہے۔ آج فواد چپیڑیں مار رہا ہے کل کو جب اسے کوئی مارے گا تو ریاستی مشینری ایکشن میں آئے گی اور تب ایک نہیں دو پاکستان نظر آئیں گے۔
فواد چودھری، اعظم سواتی، رانا ثناء و دیگر سیاستدان، وکلاء، پولیس والے اور متشدد لوگوں نے پاکستان کا مورل فیبرک تباہ
ایک اور صارف نے لکھا کہ زرتاج گل اور فواد چودھری آج جس طرح سے رو رہے تھے شائد انہیں یاد نہیں کہ وہ خود بھی ایسی ہی زبان استعمال کرتے رہے ہیں.
اگر آج اپنا ہی بویا سامنے آ رہا ہے تو تکلیف کیسی؟
مکافات عمل کا شکار تحریک انصاف کے بدزبان وزراء نے اپنی زبان پر قابو پایا ہوتا تو آج ایسی مایوس شکل نہ بنائی ہوتی
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ فواد چوھدری کی ویڈیو آنے کے ممکنہ انکشاف کے بعد فواد چوھدری نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر ایک نجی تقریب میں اپنے غنڈوں کے ساتھ تشدد کیا جس پر مقامی تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے تا ہم فواد چودھری اس دوران جھوٹ بولتے نظر آئے.
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فواد چودھری کو وزارت سے ہٹایا جائے، صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور فواد چوھدری کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے،
ایک صارف نے لکھا کہ مبشر لقمان نے ایٹ لیسٹ یہ سچ قوم کے سامنے لاکر بہت بڑا جھاد کیا ھے اسپر پوری قوم کو مبشر کا شکرگزار بھی ھونا چاھئیے اور فواد چودھری کی غنڈہ گردی کے خلاف اوز بھی اٹھانی چاہئیے
ایک اور صارف نے لکھا کہ فواد چودھری کو اینکرز پرغصہ دیکھانے کی بجائے اپنے اعمال پرنظرثانی کرنی چاہئیے، اگر کردار مضبوط ہوگا توکوئی انگلی نہیں اُٹھائیگا،PTIکو بدکردارلڑکی نے نشانہ بنایا ہے جو مریم نواز کی بھی دوست ہے،مریم نواز تو بھارتی کالی دیوی ہےاس سے رقم لےکر بدنام کیاگیا ہے،ویڈیوزکا ذکرمریم نےبھی کیاتھا.
مختلف پارٹیاں بدلنے والے فواد چودھری جب سے حکومت میں آئے ہیں صحافیوں اور اپوزیشن کے خلاف بیانات ان کا وطیرہ بن چکا ہے یہاں تک کہ ایک نجی تقریب میں انہوں نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مار دیا تھا,سمیع ابراہیم نے کہا تھا کہ ججز یکجہتی کے حوالہ سے تحریک شروع ہو رہی ہے جو حقیقت میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ہے، اس تحریک کو انڈیا و امریکہ کی مدد حاصل ہو گی، اپوزیشن جماعتیں وکلاء کے ساتھ تحریک میں حصہہ لیں گی. ،سمیع ابراہیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ دیں گے انہوں نے فواد چوہدری کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور وہ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی قیادت کریں گے.
سینئر صحافی و واینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فواد چودھری کی جانب سے تھپڑ مارے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سمیع ابراہیم سے رابطہ کیا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی واقعے پر ڈاکٹرز اور وکلا کے درمیان صلح سی سی پی او لاہور کے اجلاس میں ہوئی۔ اجلاس میں وکلا کی نمائندگی سابق وی سی پنجاب بار شاہنواز گجر، لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ اور لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن نے کی۔
اجلاس میں پی آئی سی واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے جبکہ آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پی آئی سی میں مرنیوالوں کے یادگاری چبوترے پر لگی تختی سے وکلا کے خلاف لکھی تحریر ختم کرکے قرآنی آیت ‘’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو’’ لکھا جائے گا۔
پی آئی سی میں توڑپھوڑکامعاملہ،پولیس کے ذمہ داروں کے تعین کیلیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی،آئی جی پنجاب نے پولیس کے ذمہ داروں کاتعین کرنے کیلیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی پولیس کی غفلت،کوتاہی اورمس ہنڈلنگ میں ملوث افسران کی نشاندہی کرے گی،کمیٹی میں واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اوردیگر پہلووَں کو دیکھ کرسفارشات دے گی،کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی اظہرمحمود،ڈی آئی جی عمران محموداور اےآئی جی اطہراسماعیل شامل ہیں.
سانحہ پی آئی سی کے حوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت ہے،عدالت نے وکلا اورڈاکٹرز تنازعہ کے حل کیلئے 8رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی،8رکنی کمیٹی میں 4وکلا اور 4ڈاکٹرز کے نمائندے شامل تھے، وکلا میں لاہور بار کے حفیظ الرحمان،شاہ نوازاسماعیل،اصغرگل اور مسعود چشتی شامل ہیں،،عدالت 8 رکنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرے گی
لاہور:میاں نوازشریف کا حافظ سلمان بٹ کے لیے پھولوں کاگلدستہ ، جلد صحت یابی کی دعا بھی کی ،اطلاعات کےمطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے سابق ایم این اے حافظ سلمان بٹ کو پھولوں کا گلدستہ اور نیک خواہشات کا پیغام بھیجا گیا،
باغی ٹی وی کےمطابق سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے حافظ سلمان بٹ کی صحت یابی کےلیےدعاکرتے ہوئےکہاکہ اللہ تعالی آپکو جلد صیحتیابی عطا کرے آپ نےملک و قوم کی خدمت کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے میں آپکی جلد صیحتیابی کیلئے دعا ء گو ہوں
یاد رہےکہ جماعت اسلامی کے رہنما حافظ سلمان بٹ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے بیمارہیں اورپنجاب کارڈیالوجی میں زیرعلاج ہیں ، دوسری طرف جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہرہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق سمیت پارٹی کےدیگر رہنماؤں نے حافظ سلمان بٹ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے 2019 کے نصاب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پی سی ٹی بی نے نصاب کے حوالے سے 294 مسودوں میں سے من پسند 10 مسودوں کا انٹرنل اور ایکسٹرنل ریویو کروایا۔
درخواست گزار ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران کے مطابق پی سی ٹی بی نے باقی ماندہ مسودوں کو کسی جواز کے بغیر مسترد کر دیے اور نیا نصاب لاگو کردیا جو کہ خلاف قانون ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے 2018 میں پہلی بار اپنا نصاب مرتب کیا۔ پی سی ٹی بی نے نئے نصاب کے تحت پہلی سے بارھویں جماعت تک کتابوں کی اشاعت کا اشتہار دیا، اشتہار کی روشنی میں نئے نصاب کے کے لیے 294 مصنفین نے مسودے جمع کروائے۔ مصنفین نے مسودے جون 2018 تک جمع کروائے۔ پی سی ٹی بی نے 284 مسودوں پر کوئی کارروائی نہ کی۔
درخواست گزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ بورڈ نے 5 جنوری کو اشتہار کے ذریعے پہلی سے بارھویں جماعت کے مخلتف مضامین کے ایک بار پھر نئے مسودے مانگ لیے۔۔ پی سی ٹی بی نے نئے مسودے 2019 کے نصاب کے تحت مانگے۔ پی سی ٹی بی پہلے سے موجود مسودات کی روشنی میں نئے مسودات کا اشتہار نہیں دے سکتا۔ پی سی ٹی بی 2018 کے نصاب کی موجودگی میں ایک سال بعد ہی نیا نصاب لاگو نہیں کر سکتا۔
درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ 294 افراد نے مسودات پر کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔ قانون جواز کے بغیر 2018 کا نصاب منسوخ نہیں ہو سکتا ہے۔ قانونی جواز کے بغیر 294 مسودات مسترد نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالت پی سی ٹی بی کو نئے نصاب کے تحت مسودے وصول کرنے سے روکے۔ عدالت نئے مسودات کے لیے شائع ہونے والے اشتہار کو منسوخ قرار دے۔ درخواست نے عدالت سے ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کا حکم جاری کرنے کی استداعا کی ہے۔ عدالت ایم ڈی پی سی ٹی بی کو ہرجانے کا حکم جاری کرے
شہباز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی استدعا پر عدالت نے کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17 جنوری تک توسیع کر دی جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز کی سماعت ہوئی، جیل حکام نے حمزہ شہباز کو جج امجد نذیر کے روبرو پیش کیا۔ دوران سماعت وکیل امجد پرویز نے شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواستوں پر دلائل دئیے اور کہا شہباز شریف اپنے بھائی کے علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں، ان کا اپنا علاج بھی جاری ہے، ڈاکٹرز نے چیک اپ کے لئے انہیں 9 اور 15 جنوری کا وقت دیا ہے، عدالت شہباز شریف کو مستقل طور پر حاضری سے استثنیٰ کا حکم دے۔
نیب نے شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کے وکیل کو خود علم نہیں ہے کہ ان کے موکل کب واپس آئیں گے، شہباز شریف عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک گئے ہیں، عدالت مستقل حاضری معافی کی درخواست مسترد کرے اور ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے۔
عدالت نے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی جبکہ شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ 17جنوری کو سنایا جائے گا۔
آشیانہ ریفرنس میں شہبازشریف سمیت 10 ملزمان پرفردجرم عائد ہے، شہباز شریف نواز شریف کے ہمراہ لندن میں ہیں،
واضح رہے کہ 11 دسمبر کو احتساب عدالت نے شہباز شریف فیملی کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا، تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ شریف فیملی بیرون ملک سے منتقل ہونے والی رقوم پر مطمئن نہیں کر سکی ہے، عدالت قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیتی ہے
نیب کی جانب سے عدالت میں شہباز شریف فیملی کے 15 اثاثوں کا ریکارڈ پیش کیا گیا تھا، جن میں ماڈل ٹاؤن میں 96 اور87 ایچ کی 10 کنال کی رہایش گاہیں، چنیوٹ میں 180 اور 209 کنال زمین، ایبٹ آباد، ڈونگا گلی میں 9 کنال 1 مرلے کے نشاط لاجز، ڈی ایچ اے کے فیز 5 میں 10،10 مرلے کے 2 گھروں کی جائیداد، پیر سوہاوہ میں 3 جائیدادیں، جوہر ٹاؤن اور جوڈیشل کالونی میں پلاٹس جب کہ نو کمپنیوں میں شئیرز شامل ہیں۔
نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف فیملی 15 اثاثے منجمد کرنے کی درخواستیں دائر کررکھی تھیں، درخواست میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف، ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے تمام اثاثے منجمد کیے جائیں کیوں کہ وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بنائی گئی ہیں اور اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
حریم شاہ کی کال لیک، فیاض الحسن چوہان نے وزیراعظم کی ہدایت پر بڑا قدم اٹھا لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی کا نوٹیفیکشن جار ی کردیا۔ کمیٹی کی تشکیل وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات اور وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی منظوری سے کی گئی۔ 31 ممبران پر مشتمل کمیٹی کے کنوینر فیاض الحسن چوہان ہوں گے۔
میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، ڈاکٹر یاسمین راشد، سمیع اللہ چوہدری کمیٹی میں شامل ہیں،کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر، ڈاکٹر مراد راس، راجہ یاسر ہمایوں، انصر مجید نیاز ی بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔ اعجاز چوہدری، فیصل حیات جبوانہ، ندیم قریشی، سعدیہ سہیل رانا، مسرت جمشید چیمہ کو بھی کمیٹی میں شامل کرلیا گیا
ڈاکٹر شاہد صدیق، شیخ شہزاد یونس، عثمان سعید بسرا، یاور بخاری بھی شامل ہیں،عرفان احمد بطور کوآرڈینیٹر میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی تعینات کئے گئے ہیں،کمیٹی ممبران حکومتی پالیسیوں کی ترویج اور ان سے متعلق آگاہی پر کام کریں گے۔
حریم شاہ خود کو پاکستانی اور پی ٹی آئی کی کہتی ہیں تا ہم انہوں نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے خلاف ایک محاذ بنایا ہوا ہے ، حریم شاہ روزانہ ٹویٹ کر کے پھر ڈیلیٹ کر دیتی ہے، کہتی ہے عمران خان کو دھمکی نہیں دی لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شاید مریم نواز اتنے ٹویٹ نہیں کرتی تھی جتنے حریم شاہ کے اکاؤنٹ سے ہوتے ہیں اس کے باوجود پنجاب حکومت کے فیاض الحسن چوہان حریم شاہ سے رابطے میں ہیں.
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے طیارے سے چوری کرنے اور بعد میں معافی مانگنے والی ٹک ٹاک گرل حریم شاہ دفتر خارجہ کے کمیٹی روم میں پہنچ گئی تھی جس کا سوشل میڈیا پر چرچاہوا، ٹویٹر پر ویڈیو جاری ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کا حکم دیا تھا تا ہم تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آ سکی
غیر سنجیدہ خاتون حریم شاہ وزارت خارجہ کے اہم کمیٹی روم میں کیسے پہنچیں ؟ کس کے ساتھ گئیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے سوالات اٹھ گئے، وزیراعظم ہاؤس کے نوٹس لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا تا ہم کیا تحقیقات ہوئیں اور کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کچھ معلوم نہ ہو سکا
حریم شاہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق پر انگلیاں اٹھی تھیں،صارفین کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کمیٹی روم میں حریم شاہ کو لے جانے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد سب سامنے آئے گا.
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک نے ٹویٹر پر کہا کہ جو بھی حریم شاہ کو ایسی حساس جگہوں پر لے کر گیا اس کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ اگر حریم شاہ جا سکتی ہے تو معلوم نہیں کہ کون کون پہلے بھی ایسے جا چکا ہے؟ حریم شاہ کی تو ٹک ٹاک سے پتہ چلا۔ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔ اس کی مکمل چیکنگ کی ضرورت ہے.