Baaghi TV

Category: لاہور

  • بجلی کی قیمتوں میں  ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسی ہے۔ خالد مسعود سندھو

    بجلی کی قیمتوں میں ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسی ہے۔ خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں غریب طبقے کو دیا گیا معمولی ریلیف ختم کرنے کی بات عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ حکومت اشرافیہ کو دی گئی بے شمار مراعات اور غیرضروری شاہانہ اخراجات کم کر کے غریب عوام کا سوچے۔

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں عوام کو دیا گیا ریلیف ختم کرنے کے حوالہ سے بیان پر ردعمل میں کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ 70 فیصد رعایت کسی بڑے طبقے کے لیے نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے، ایسے میں بجلی کے نرخوں میں دیا گیا تھوڑا سا ریلیف بھی واپس لینا سراسر ناانصافی ہے، ریاست اگر آئی پی پیز کو کھربوں روپے کی ادائیگیاں، اشرافیہ کو بے شمار مراعات اور غیر ضروری شاہانہ اخراجات برداشت کر سکتی ہے تو غریب عوام کو سستی بجلی دینا کیوں ناممکن قرار دیا جا رہا ہے؟ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ غلط ترجیحات ہیں۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے بلوں میں عوام کو حقیقی اور پائیدار ریلیف فراہم کرے اور معاشی بوجھ غریب عوام کے بجائے طاقتور طبقات اور مافیا پر ڈالے، تاکہ عام آدمی کو سکھ کا سانس میسر آ سکے،مرکزی مسلم لیگ عوام کے حقوق کی پاسداری کرے گی.

  • 
بسنت پر شہریوں کی ذمہ داری قابلِ تحسین، ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا: مریم اورنگزیب

    
بسنت پر شہریوں کی ذمہ داری قابلِ تحسین، ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا: مریم اورنگزیب

    ‎سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کے موقع پر لاہوریوں اور صوبے بھر کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، جنہوں نے ڈور، پتنگ بازی اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کر کے ثابت کیا کہ تہوار محفوظ اور منظم انداز میں منائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافت کو تالے نہیں لگائے جاتے بلکہ بہتر حکمتِ عملی سے مینیج کیا جاتا ہے۔
    ‎مریم اورنگزیب کے مطابق لاہوری نوجوان برسوں سے اپنی ثقافت سے دور ہو گئے تھے اور زیادہ وقت اسکرینز تک محدود تھا، تاہم بسنت کی بحالی نے انہیں اپنی روایات سے دوبارہ جوڑ دیا ہے۔ آج نوجوان کھل کر اپنے کلچر کو سیلیبریٹ کر رہے ہیں، نفرت اور تشدد کے بیانیے کو مسترد کیا گیا اور شہریوں نے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جو معاشرے کو آگے لے جانے کا مثبت راستہ ہے۔

  • سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    سانحہ بھاٹی گیٹ، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم

    بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار پانچوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ فریقین کے مابین صلح ہو چکی ہے، اس لیے ملزمان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے مدعی کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔سماعت کے دوران مدعی نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے بعد فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے صلح ہو چکی ہے اور وہ ملزمان کے خلاف مزید کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مدعی نے واضح طور پر کہا کہ ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    عدالت نے مدعی کے بیان اور فریقین کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صلح کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، بشرطیکہ مدعی کو کوئی اعتراض نہ ہو۔

    واضح رہے کہ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر رکھا تھا، جس میں لاپرواہی اور غفلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ماں بیٹی کی المناک موت پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا رہا، جبکہ شہریوں کی جانب سے کھلے مین ہولز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔

  • صحافی  زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    صحافی زین ملک کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں تدفین

    لاہور کے معروف صحافی زین ملک کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس کے بعد مرحوم کو مقامی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔ زین ملک کے انتقال سے صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    مرحوم کی نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، قریبی عزیز و اقارب، دوست احباب اور صحافتی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، جبکہ شرکاء مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو رہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ساندہ کےرہائشی صحافی زین ملک چھت سے گرکر جاں بحق ہو گئے تھے،صحافی زین ملک کو زخمی حالت میں میاں منشی ہسپتال منتقل کیاگیاتھا تا ہم وہ دم توڑ گئے،زین ملک لاہور کے مختلف چینلز پر بطور رپورٹر کام کرتا رہا ہے ،زین ملک نے آپ نیوز میں بطور سپورٹس رپورٹربھی کام کیا۔وہ جی این این میں بطور سپورٹس رپورٹر کا کام کر رہے تھے۔صحافی زین ملک سابق صدر لاہور پریس کلب میاں شہباز کے کزن تھے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے نجی ٹی وی کے میڈیا ورکر زین ملک کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ میری تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں اور ہم اس صدمے میں ان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے میڈیا ورکر زین ملک کے اہلخانہ سے اپنی تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور ان کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے وفد کا پرجوش استقبال کیا اور صحت، تعلیم، اپنی چھت، اپنا گھر، ستھرا پنجاب اور موسمیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ورلڈ بینک اور پنجاب کے درمیان شراکت داری پر گفتگو کی۔ عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے فلاحی منصوبوں کو سراہا اور پنجاب میں جاری ٹورازم، ایجوکیشن، ہیلتھ اور سکل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو قابل تحسین قرار دیا،پنجاب میں مختلف شعبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل گورننس اور جامع ترقی کے لیے سپورٹ اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی،

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صحت و تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، جن میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب، ورلڈ بینک کے ساتھ مالی استحکام اور قابل عمل کاروباری ماڈلز کے ذریعے مسلسل تعاون کا خواہاں ہے،وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے اشتراک سے ”کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” تیار کیا جا رہا ہے اور کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ورلڈ بینک نہ صرف صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ اقتصادی ترقی کو بھی متحرک کرے گا،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، گورننس اور زراعت میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد صوبے میں کارکردگی، شفافیت اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مزید کہا کہ آئی ٹی سٹی، عالمی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز اور ای-پروکیورمنٹ جیسے اقدامات گورننس سسٹم میں بہتری لا رہے ہیں، ورلڈ بینک کے تعاون سے آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ”اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے ذریعے سستی رہائش فراہم کی جا رہی ہے اور مستحق افراد کے لیے ”نگہبان پیکج” اور ”ہمت کارڈ” جیسی سماجی بہبود کی اسکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں۔

  • لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور میں انسدادِ پولیو ٹیموں پر تشدد کے واقعات، 8 ملزمان کے خلاف مقدمات درج

    لاہور: شہر کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں مجموعی طور پر 8 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعات ہربنس پورہ اور شاہدرہ کے علاقوں میں پیش آئے، جہاں پولیو ٹیموں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شدید مزاحمت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہربنس پورہ میں انسدادِ پولیو ٹیم جب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف تھی تو ملزمان نے نہ صرف ٹیم کے ارکان کو دھمکایا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    اسی طرح شاہدرہ کے علاقے چمن کالونی میں بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق وہاں ٹیم کے انچارج سمیت دیگر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں 8 افراد ملوث پائے گئے ہیں، جن کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم قومی فریضہ ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔دوسری جانب شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے اور پاکستان کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔

  • لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور پولیس نے بسنت فیسٹیول کے اختتام کے باوجود شہر بھر میں پتنگ بازی پر مکمل اور سخت پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پابندی کا مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پتنگ بازی کے باعث پیش آنے والے جان لیوا حادثات کی روک تھام ہے۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری پتنگ بازی کے دوران قانون کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، چاہے وہ کسی بھی حیثیت یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔بلال صدیق کمیانہ نے لاہور پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ فیلڈ میں سخت چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگ بازی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیمیں حساس مقامات، چھتوں، گلی محلوں اور بازاروں میں گشت کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    لاہور پولیس کی جانب سے دکانداروں اور تاجروں کو بھی سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پتنگ اور کیمیکل ڈور کی خرید و فروخت سے مکمل طور پر باز رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتنگ اور ڈور کی غیر قانونی ترسیل اور ذخیرہ اندوزی کو قابلِ دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ گوداموں کی بھی چیکنگ کی جا رہی ہے۔سی سی پی او لاہور نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ غیر قانونی پتنگ بازی نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، انہیں پتنگ بازی کے خطرات سے آگاہ کریں اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

  • یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

    ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف جوئے کی پرموشن کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے سعد الرحمٰن عرف ڈکی اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تاہم ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے مقدمے کے گواہوں کو 23 فروری کو طلب کر لیا،واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے سعد الرحمٰن عرف ڈکی سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے جس میں ملزمان پر آن لائن جوا ویب سائٹس کی تشہیر کا الزام ہے۔

  • 
لاہور میں نوجوان چھت سے گر کر جاں بحق، بسنت میں ہلاکتوں کی تعداد 4

    
لاہور میں نوجوان چھت سے گر کر جاں بحق، بسنت میں ہلاکتوں کی تعداد 4

    ‎لاہور کے علاقے لوئر مال میں بسنت کے تہوار کے دوران ایک 16 سالہ نوجوان پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق نوجوان کی شناخت عبداللہ کے نام سے ہوئی، جو سیالکوٹ سے لاہور بسنت منانے آیا تھا۔
    ‎حادثے کے وقت نوجوان چھت پر پتنگ بازی کر رہا تھا کہ اچانک توازن کھو بیٹھا اور نیچے جا گرا۔ فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن زخم اتنے شدید تھے کہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ریسکیو حکام نے واقعے کے بعد ضروری کارروائی مکمل کرکے میت کو مردہ خانہ منتقل کر دیا۔
    ‎یہ واقعہ بسنت کے دنوں میں ہونے والے حادثات کی ایک اور کڑی ہے، جس سے اب تک لاہور میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ حکام نے عوام سے محتاط رہنے اور بلند عمارتوں یا خطرناک مقامات پر پتنگ بازی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔

  • 
بسنت سے معاشی سرگرمیوں میں بڑا اضافہ

    
بسنت سے معاشی سرگرمیوں میں بڑا اضافہ

    لاہور میں بسنت کا تہوار بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جہاں شہر بھر میں جشن کا سماں ہے، آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوا ہے اور فضا میں بوکاٹا کے نعرے گونج رہے ہیں۔
    ‎ملک کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے بسنت منانے کے لیے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں کمرے نایاب ہو گئے ہیں، جبکہ شہر بھر میں روایتی کھانوں کی مانگ بھی عروج پر ہے۔
    ‎بسنت نے نہ صرف اہلِ لاہور کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دی ہیں بلکہ مقامی کاروبار کو بھی نمایاں فروغ دیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے لاہور کے بیشتر ہوٹل مکمل طور پر بک ہیں۔
    ‎لاہور ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر گلریز خٹک کے مطابق بسنت فیسٹیول اب بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور تہوار کے دوران کیے گئے انتظامات کو سراہا جا رہا ہے، جن کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے۔
    ‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران مجموعی معاشی سرگرمی 20 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے، جس میں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، خوراک اور مقامی تجارت کا بڑا حصہ شامل ہے۔
    ‎پتنگوں، ڈور اور دیگر متعلقہ سامان کی فروخت سے چھوٹے تاجروں، فروشوں، ڈرائیورز اور سپلائرز کو براہِ راست فائدہ پہنچا ہے، جبکہ بسنت سیزن کے لیے ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد نے رجسٹریشن کروائی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس تہوار کے باعث کاغذ، بانس، دھاگہ، پیکیجنگ، خوراک اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف سپلائی چینز میں اربوں روپے کی کاروباری سرگرمیاں پیدا ہو رہی ہیں اور ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں۔