Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    لاہور : مسلم لیگ ن کی رہنما اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث کردار ‘انمول عرف پنکی’ پر ڈرامہ بنانے کی خبروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پروڈکشن ہاؤسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا، کہا پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پرڈرامہ بنایا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ اگر ‘پنکی’ پر واقعی کوئی ڈرامہ یا سیریل بنائی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور چھچھوری حرکت ہے،ایک جرائم پیشہ اور منشیات فروش خاتون معاشرے کے لیے کسی صورت رول ماڈل نہیں ہو سکتی جس کی زندگی کو سکرین پر پیش کیا جائے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی باوقار خواتین کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ان تمام عورتوں کی صریحاً بے عزتی ہے جنہوں نے معاشرے کی ترقی اور سدھار میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک صرف ویورشپ اور پیسے کے لالچ میں ایسے منفی اور جرائم پیشہ افراد کو ہیرو یا رول ماڈل بنا کر پیش کرتے رہیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روکا جانا چاہیےجبکہ معاشرے میں بے شمار مثبت اور قابلِ تقلید شخصیات موجود ہیں جن کی جدوجہد اور کامیابیاں اجاگر کیے جانے کی مستحق ہیں۔

  • انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    پنجاب پولیس کو کراچی کی جیل میں قید مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز تھانوں کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی تاکہ ملزمہ کو لاہور لا کر مختلف مقدمات میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اس مقصد کے لیے محکمہ داخلہ اور عدالت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات فروشی کے پانچ مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب منشیات کیس کے تفتیشی افسر نے کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ سے پنکی کی مبینہ وائس نوٹس کا فرانزک کرانے کی اجازت بھی طلب کر لی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دورانِ تفتیش کئی وائس نوٹس سامنے آئے، تاہم ملزمہ نے ان وائس نوٹس کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ کیس میں اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے۔

    ادھر پنکی کے دو مبینہ سہولت کاروں سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان نے کراچی کی سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا منشیات کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں بغیر ثبوت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے نام مقدمے سے خارج کیے جائیں۔

    گزشتہ روز کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنکی کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر چالان جمع ہونے تک ملزمہ کی جسمانی حاضری ضروری نہیں۔ تاہم عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ جب بھی عدالت طلب کرے، ملزمہ کو پیش کیا جائے۔پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کرائی جائے کیونکہ عدالت میں پیشی کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر مالیاتی اکاؤنٹس منشیات کی فروخت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان الرحمان کے یو بی ایل میں تین جبکہ بینک الحبیب اور بینک الفلاح میں ایک، ایک اکاؤنٹ موجود ہے، جبکہ سہیل الرحمان کے یو بی ایل اور بینک الحبیب میں ایک، ایک اکاؤنٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    چند ہفتے قبل کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش متعدد افراد کے نام لیے تھے، جن میں بعض معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس گرفتاری کے بعد ملک میں منشیات کے پھیلتے ہوئے کاروبار اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں۔

  • پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔

    اوگرا نے مٹی کا تیل 8روپے70پیسےفی لیٹر مہنگا کردیا جس کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت280 روپے70پیسےفی لیٹر ہوگئی ہے نئی قیمت کا اطلاق آج سے ہی ہو گا اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت272روپےفی لیٹر تھی دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی 20 روپے چھتیس پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، تاہم مٹی کا تیل مزید مہنگا کر دیا گیا ہے دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹرپر برقرار رکھی ہے۔

  • 
لاہور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    
لاہور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    ‎لاہور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہو کر گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکوں نے چند لمحوں کے لیے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
    ‎نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (این ایس ایم سی) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کشمیر کا علاقہ قرار دیا گیا۔
    ‎زلزلے کے جھٹکے لاہور کے مختلف علاقوں کے علاوہ گردونواح کے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔ متعدد شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ عمارتوں میں لرزش محسوس ہوئی، جس کے بعد احتیاطاً لوگ کھلی جگہوں پر منتقل ہو گئے۔
    ‎حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ متعلقہ ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان زلزلوں کے حوالے سے حساس خطے میں واقع ہے کیونکہ یہ بھارتی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے۔ بھارتی پلیٹ مسلسل شمال کی جانب یوریشین پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں زلزلوں کی سرگرمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
    ‎پاکستان ماضی میں کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔ 2005 میں آزاد کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں 2021 کے زلزلے نے بھی جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
    ‎ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں زلزلوں کے بعد امدادی کارروائیاں اکثر مشکل ہو جاتی ہیں، اس لیے پیشگی تیاری اور عوامی آگاہی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ زلزلے کی صورت میں حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور غیر مصدقہ افواہوں سے گریز کریں۔

  • 
حق مہر کی زمین پر شوہر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ

    
حق مہر کی زمین پر شوہر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ

    ‎لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں موجود کسی ابہام یا تکنیکی نکتے کا سہارا لے کر بیوی کے قانونی اور شرعی حقوق سلب نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اس معاملے کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے تناظر میں ایک اہم نظیر قرار دیا ہے۔
    ‎جسٹس سلطان تنویر احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سیشن کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت حق مہر میں مقرر کی گئی زمین کے بدلے خاتون کو 16 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے کیس دوبارہ سماعت اور نئے فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور نکاح کے وقت خاتون کے حق مہر میں دو ایکڑ زرعی زمین مقرر کی گئی تھی۔ بعد ازاں شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ نکاح نامے کے اندراج کی بنیاد پر زمین منتقل کرنے کے بجائے رقم ادا کی جا سکتی ہے، جس پر خاتون نے عدالت سے رجوع کیا۔
    ‎لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نکاح نامہ ایک باقاعدہ سول معاہدہ ہے اور اس کی تشریح فریقین کی اصل نیت، مقاصد اور معاہدے کے حقیقی مفہوم کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ محض تکنیکی یا مبہم نکات کی بنیاد پر کسی خاتون کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی وجہ سے حق مہر میں دی گئی زمین کے بدلے رقم ادا کرنا ضروری ہو تو اس کی مالیت موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق طے کی جائے گی، نہ کہ کئی سال پرانی یا من مانی قیمت کے مطابق۔ اس اصول کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خاتون کو اس کے حق کا مکمل اور منصفانہ معاوضہ مل سکے۔
    ‎فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں یہ جانچیں کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور معاہدے کی تمام شرائط کا مکمل ادراک تھا یا نہیں۔ اگر کسی قسم کا ابہام موجود ہو تو اس کی تشریح انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں حق مہر سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم رہنما اصول ثابت ہو سکتا ہے اور خواتین کے مالی و قانونی حقوق کے تحفظ میں مددگار ہوگا۔

  • 
ای سی سی کی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    
ای سی سی کی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    ‎وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں ترقیاتی، فلاحی، سکیورٹی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی گرانٹس اور فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں قومی ترقی، عوامی فلاح اور سکیورٹی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
    ‎ای سی سی نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام کے لیے 7 ارب 2 کروڑ 63 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے ہنگور پراجیکٹ کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تاکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
    ‎اجلاس میں اسلام آباد پیس ٹاکس کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے، جبکہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ دھماکے کے متاثرین کی امداد کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 80 کروڑ روپے بھی منظور کیے گئے۔
    ‎دارالحکومت میں سکیورٹی نظام کو جدید بنانے کے لیے اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبے کے لیے 1 ارب 88 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی آپریشنل ضروریات کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
    ‎اجلاس میں ریکوڈک منصوبے کے سکیورٹی اخراجات کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے اور پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ گلگت بلتستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
    ‎شہری ترقی کے شعبے میں کراچی اور حیدرآباد کے اربن انفراسٹرکچر پیکجز کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (SAP) منصوبوں کے لیے 2 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
    ‎دوسری جانب پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی تجویز پیش کی ہے۔ ان منصوبوں میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز، ڈے کیئر سینٹرز، خواتین کے بزنس انکیوبیشن سینٹرز، ڈیجیٹل اسکلز پروگرام "ای لرن، شی ارنز” اور دیہی خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کے مختلف پروگرام شامل ہیں۔
    ‎حکومت پنجاب کے مطابق خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور جدید مہارتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، جس سے خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ اور صوبے کی مجموعی ترقی میں بہتری متوقع ہے۔

  • پنجاب حکومت کا 1220 ارب روپے کا ماسٹر اکنامک پلان تیار

    پنجاب حکومت کا 1220 ارب روپے کا ماسٹر اکنامک پلان تیار

    پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے 1220 ارب روپے پر مشتمل ماسٹر اکنامک پلان تیار کر لیا ہے، جس میں معاشی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

    ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق بجٹ تجاویز میں پنجاب ویلتھ فنڈ کے قیام کے لیے 700 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس فنڈ کا مقصد صوبے کے مالی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی طرح پنجاب انفرا اسٹرکچر اینڈ گارنٹی فنڈ کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے انڈسٹریل کلسٹرز اور ایگرو پروسیسنگ زونز قائم کرنے کی تجویز بھی بجٹ پلان کا حصہ ہے، جس سے مقامی صنعت، زراعت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔

    بجٹ دستاویزات میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی 30 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقتصادی منصوبہ صوبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، صنعتی ترقی کو تیز کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے کے حکومتی وژن کا اہم حصہ ہے۔

  • پی ٹی آئی رہنما  کی مبینہ  فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    پی ٹی آئی رہنما کی مبینہ فحش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    لاہور: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے آزاد رکن سلمان مہدی شاہ کی ایک مبینہ نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک شخص کو ایک خاتون کے ساتھ نجی لمحات کے دوران دیکھا گیا ہے، خاتون اور مرد دونوں نے کپڑے اتار رکھے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ ویڈیو سلمان مہدی شاہ کی ہے تاہم ویڈیو کی صداقت اور اس میں موجود شخص کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ویڈیو میں خاتون کون ہیں اس بارے بھی ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی تا ہم ویڈیو دیکھنے کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ویڈیو کسی تیسرے شخص نے بنائی ہے جو ان لمحات کے دوران وہاں موجود تھا

    ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا، جبکہ بعض افراد نے اس حوالے سے تنقیدی تبصرے بھی کیے۔تاحال سلمان مہدی شاہ، ان کے نمائندوں یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ویڈیو کے ماخذ اور اس کی ساکھ کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    سلمان مہدی شاہ 2024 سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی-230 (وہاڑی-II) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ اسمبلی کی پبلک پراسیکیوشن اور ہائر ایجوکیشن کمیٹیوں کے رکن ہیں، جبکہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار اور کاروباری شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

  • اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں نامزد رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چڈھر کو عدالت سے عبوری ریلیف مل گیا، عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 24 جون تک گرفتاری سے روک دیا۔

    مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ کی عدالت میں ہوئی، جہاں ثاقب چڈھر کی جانب سے دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے گئے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقررہ تاریخ تک انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،

    یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ثاقب چڈھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ اس دوران ثاقب چڈھر کو عبوری تحفظ حاصل رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

  • جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    بیوی کی جانب سے جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے کے الزام میں شوہر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کرائے جانے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گاڑی اس کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور اسے شوہر کے پاس بطور امانت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، تاہم شوہر نے گاڑی فروخت کر دی جس پر مقدمہ درج کرایا گیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزار شوہر کا مؤقف تھا کہ بیوی نے خاندانی اختلافات کے باعث مقدمہ درج کرایا۔ درخواست گزار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاتون نے فیملی کورٹ میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے الگ دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ نے خود فیملی کورٹ میں گاڑی کو جہیز کے سامان کا حصہ قرار دیا تھا، جبکہ ایف آئی آر میں زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق گاڑی تاحال خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

    جسٹس طارق محمود باجوہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں مقدمہ میاں بیوی کے خراب تعلقات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر کسی قسم کی بدنیتی یا دھوکہ دہی کا واضح ثبوت موجود نہیں۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔