Baaghi TV

Category: لاہور

  • اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس،ثاقب چدھڑ کی ضمانت منظور

    اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں نامزد رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چڈھر کو عدالت سے عبوری ریلیف مل گیا، عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 24 جون تک گرفتاری سے روک دیا۔

    مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ کی عدالت میں ہوئی، جہاں ثاقب چڈھر کی جانب سے دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر دلائل سنے گئے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقررہ تاریخ تک انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،

    یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ثاقب چڈھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 جون تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ اس دوران ثاقب چڈھر کو عبوری تحفظ حاصل رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

  • جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے پر بیوی شوہر کیخلاف عدالت میں

    بیوی کی جانب سے جہیز میں ملنے والی گاڑی فروخت کرنے کے الزام میں شوہر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کرائے جانے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گاڑی اس کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور اسے شوہر کے پاس بطور امانت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، تاہم شوہر نے گاڑی فروخت کر دی جس پر مقدمہ درج کرایا گیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزار شوہر کا مؤقف تھا کہ بیوی نے خاندانی اختلافات کے باعث مقدمہ درج کرایا۔ درخواست گزار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاتون نے فیملی کورٹ میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے الگ دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ نے خود فیملی کورٹ میں گاڑی کو جہیز کے سامان کا حصہ قرار دیا تھا، جبکہ ایف آئی آر میں زیر التوا فیملی مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق گاڑی تاحال خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

    جسٹس طارق محمود باجوہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں مقدمہ میاں بیوی کے خراب تعلقات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو چکا ہے اور ریکارڈ پر کسی قسم کی بدنیتی یا دھوکہ دہی کا واضح ثبوت موجود نہیں۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی عبوری ضمانت دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔

  • 
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    ‎پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے اور ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام گیا ہے اور اب ایسے واقعات پر متاثرہ خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
    ‎پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موٹروے پر خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس کیس نے ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان پیدا کر دیا تھا، تاہم تمام متعلقہ اداروں نے مل کر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک شہری کی ون فائیو کال موصول ہوئی جس پر پولیس اور دیگر ادارے متحرک ہوئے۔ متاثرہ خاتون کی فراہم کردہ معلومات اور مشتبہ افراد کے حلیوں کی بنیاد پر فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے اور جدید سائنسی طریقوں سے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
    ‎فرہاد علی شاہ کے مطابق مرکزی ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے مطابقت رکھتا تھا، جس نے کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔
    ‎پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پراسکیوشن ٹیم نے دن رات محنت کر کے مضبوط شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں سائنسی شواہد، فرانزک تجزیے اور مؤثر قانونی پیروی انصاف کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
    ‎انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جرم کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی جائے۔ ان کے مطابق اس کیس میں بھی ایک عام شہری کی بروقت اطلاع نے تحقیقات کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا اور یہی ذمہ داری معاشرے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

  • پاکستان کو پانیوں کے تحفظ کے لئے مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کو پانیوں کے تحفظ کے لئے مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پرسرنگ بنانے کا منصوبہ بھارتی آبی جارحیت کی واضح مثال ہے، بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہیں آ رہا، پاکستان کو پانیوں کے تحفظ کے لئے مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہو گا، بھارتی آبی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بھی آواز اٹھائی جائے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے بین الاقوامی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا فیصلہ کیا اب بھارت نے دریائے چناب پر ایک اور متنازع منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،بھارتی وزارتِ ماحولیات نے ضلع کشتواڑ میں 3,277 کروڑ بھارتی روپے سے زائد کی مالیت کے 260 میگاواٹ کے ‘دلہستی اسٹیج-II’ رن آف دی ریور پن بجلی منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ایک علیحدہ ڈائیورژن سرنگ اور نیا ذخیرۂ آب تعمیر کیا جائے گا،مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش بھارتی آبی دہشتگردی ہے،بھارت جب چاہتا ہے پانی روک لیتا ہے اور جب چاہے پاکستان کی طرف پانی چھوڑ دیتا ہے، دونوں صورتوں میں پاکستان کا نقصان ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں حکمرانوں کو آنکھیں بند کرنے کی بجائے واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہئے،پانی زندگی ہے اور پاکستان کو اپنے پانیوں کے تحفظ کا اعلان کرنا چاہئے،پاکستان عالمی سطح پر بھارتی آبی دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرے، مرکزی مسلم لیگ بھی بھارتی آبی دہشتگردی کے خلاف قوم کو متحد و بیدار کرے گی.

  • لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کامقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر

    لاہور: پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمہ ہائی پروفائل ڈیکلیئر کردیا۔

    گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کیس کو ہائی پروفائل ڈیکلیئر کر تے ہوئے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیاپراسیکیوٹر جنرل پنجاب کاکہنا ہےکہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری دے گی اور مقدمے میں دفعات سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پراسیکیوٹر کے مطابق لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے دوسرے بیان سے بھی یوٹرن لے لیا،لڑکی کے والد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتما عی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

    دوسری جانب لڑکی کا ہلاکت سے قبل ریکارڈ کیا گیا دوسرا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے ڈرائیور حسن نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا-

    پولیس کے مطابق لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی یہی مؤقف تحریری بیان کی صورت میں دے چکی تھی لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، جبکہ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں شامل قتل کی دفعات کے تحت بھی تفتیش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے درج کررکھا ہے۔

  • لوڈشیڈنگ،درخواست غیر مستند،عدالت کا درخواست گزار پر جرمانہ

    لوڈشیڈنگ،درخواست غیر مستند،عدالت کا درخواست گزار پر جرمانہ

    لاہور ہائیکورٹ نے بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست غیر مستند اور مبہم قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کردیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے بجلی، گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشینگ سے متعلق درخواست کا 15 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا،عدالت کی جانب سے متعلقہ فورم سےرجوع کیےبغیردرخواست دائر کرنے پر درخواست گزارپرایک لاکھ روپےجرمانہ عائد کیا گیا ہے،عدالت نے کہا درخواست گزار کے پاس داد رسی کے لیے متعلقہ فورم موجود تھا، درخواست گزار نے متعلقہ فورم استعمال کیے بغیر پٹیشن دائر کی جب کہ اس نے لوڈ شیڈنگ، ٹیرف، لائن لاسز، پالیسی مسائل پرثبوت یا گراؤنڈز پیش نہیں کیےگئے، توانائی بحران جیسے پیچیدہ مسائل کا حل متعلقہ اداروں اور پالیسی سے نکلے گا، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں، مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے، مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک اور بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیے، ہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرےتاکہ انصاف کا راستہ آلودہ نہ ہو، مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار مستند حقائق بیان کرے، قیاس آرائی،فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہو سکتی ،عدالتی مداخلت اس وقت تک مناسب نہیں جب تک بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو،عدالتی وسائل اور وقت کا ضیاع روکنے کےلیے ایسی درخواستوں پر جرمانہ ضروری ہے،درخوست گزار نے پٹیشن میں ایک سرٹیفکیٹ لگا کر بتایا کہ وہ متبادل فورم استعمال کرچکا ،درخواست گزار کا لگایا گیا سرٹیفکیٹ بھی جھوٹا ثابت ہوا،درخواست گزار ایک لاکھ روپے بطور جرمانہ ہائیکورٹ بار کی ڈسپنری میں جمع کرائے، درخواست گزار جرمانے کی رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کرائے۔

  • 
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    
گوشت مانگنے کے بہانے کروڑوں کی چوری، باپ بیٹا گرفتار

    ‎لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں عید الاضحیٰ کے روز ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چوری کی واردات میں ملوث باپ اور بیٹے کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر گوشت مانگنے والوں کا روپ دھار کر گھروں کی ریکی کی اور موقع ملنے پر واردات انجام دی۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت جوزف مسیح عرف ساگر اور اس کے بیٹے جمشید ساگر کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کو ٹبہ گوہاوا اور بھٹہ چوک کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔ ڈیفنس سی پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور شواہد کی مدد سے واردات کا سراغ لگایا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزمان عید کے روز مختلف بنگلوں کے دروازوں پر جا کر گوشت طلب کرنے کا بہانہ بناتے تھے۔ اس دوران وہ یہ معلوم کرتے کہ گھر کے مکین موجود ہیں یا نہیں۔ جن گھروں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا تھا، انہیں ممکنہ ہدف سمجھا جاتا تھا کیونکہ اکثر خاندان عید کے موقع پر رشتہ داروں سے ملنے یا تقریبات میں شرکت کے لیے باہر گئے ہوتے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ اسی حکمت عملی کے تحت ملزمان نے ایک بنگلے کو نشانہ بنایا اور وہاں سے طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، غیر ملکی کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چوری کر لیا، جس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس ریکارڈ کے مطابق گرفتار ہونے والا جوزف مسیح ماضی میں بھی متعدد جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف چوری، ڈکیتی، نقب زنی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت 45 مختلف مقدمات درج ہیں، جس کے باعث اسے ایک ریکارڈ یافتہ ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات، قیمتی گھڑیاں اور غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی ہے۔ برآمد ہونے والے سامان کی شناخت اور مالکان کو واپسی کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ملزمان کسی بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ تھے یا نہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ شہری خصوصاً عیدین اور تعطیلات کے دوران گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں اور مشکوک افراد کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 
گھریلو ملازمہ کی موت کا کیس، قتل کی دفعات شامل کرنے کی تیاری

    
گھریلو ملازمہ کی موت کا کیس، قتل کی دفعات شامل کرنے کی تیاری

    ‎لاہور میں گھریلو ملازمہ کے مبینہ جنسی زیادتی اور بعد ازاں اسقاط حمل کے بعد انتقال کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ مقدمے کی تفتیش میں قتل کی دفعات شامل کرنے کے لیے عدالت سے اجازت طلب کرے گی۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزمان کو متاثرہ خاتون کے ابتدائی بیان کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔ تاہم تفتیش کے دوران سامنے آنے والے نئے حقائق اور شواہد کی روشنی میں مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق قتل کی دفعہ 302 شامل کرنے کے لیے عدالتی منظوری درکار ہے۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں نامزد آجران اور دیگر متعلقہ افراد کو دوبارہ طلب کر کے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیان میں ڈرائیور کو مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔ تفتیشی ٹیم اب کیس کے تمام پہلوؤں، طبی رپورٹس، شواہد اور بیانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت قتل کی دفعات شامل کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو مقدمے کی نوعیت مزید سنگین ہو جائے گی اور تفتیش کا دائرہ بھی وسیع ہو جائے گا۔ اس صورت میں پولیس کو نئے شواہد اور بیانات کی بنیاد پر مزید کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں جاری ہیں اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی فرد کا کردار ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎واضح رہے کہ مقدمہ حساس نوعیت کا ہے اور اس میں شامل تمام افراد عدالت کے حتمی فیصلے تک قانوناً بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔

  • 
انمول پنکی کیس، سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع

    
انمول پنکی کیس، سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع

    ‎کراچی میں منشیات سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ملزمہ کے مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی ہیں، جنہیں تفتیش میں اہم دستاویزی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق منشیات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور مالی لین دین مبینہ طور پر دو اہم سہولت کاروں، ذیشان اور سہیل، کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ مالی سرگرمیوں کا سراغ مل سکتا ہے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ذیشان کے تین مختلف بینکوں میں مجموعی طور پر پانچ اکاؤنٹس موجود تھے، جبکہ دوسرے مبینہ سہولت کار سہیل کے دو مختلف بینکوں میں دو اکاؤنٹس فعال تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق یہ تمام اکاؤنٹس براہ راست انہی افراد کے زیر استعمال تھے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ بینک ریکارڈ میں موجود مالی لین دین کی تفصیلات سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رقوم کہاں سے موصول ہوئیں، کن اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں اور ان مالی سرگرمیوں سے کون کون سے افراد یا ادارے منسلک تھے۔
    ‎تفتیشی حکام کے مطابق اکاؤنٹس کے ڈیٹا کا فرانزک اور مالیاتی تجزیہ جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس معلومات کی مدد سے مبینہ منشیات نیٹ ورک، خریداروں، سپلائرز اور دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
    ‎قانونی ماہرین کے مطابق مالی ریکارڈ کسی بھی منظم جرائم کے مقدمے میں اہم شواہد تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے رقوم کے بہاؤ اور نیٹ ورک کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مقدمے کے تمام ملزمان عدالت کے حتمی فیصلے تک قانوناً بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔

  • شالیمار ٹاؤن، کالج روڈ اور شاہی روڈ کی مرمت ادھوری، بارشوں میں حادثات معمول بن گئے

    شالیمار ٹاؤن، کالج روڈ اور شاہی روڈ کی مرمت ادھوری، بارشوں میں حادثات معمول بن گئے

    لاہور، شالیمار ٹاؤن کے علاقے کالج روڈ اور شاہی روڈ پر سڑک کی مرمت کا کام تاحال مکمل نہ ہونے کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حالیہ بارشوں کے بعد حادثات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق گزشتہ ماہ سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے سڑک کو کھودا گیا تھا، تاہم متعلقہ اداروں نے کام مکمل ہونے کے باوجود سڑک کی بحالی اور مرمت کا کام ادھورا چھوڑ دیا، جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار اس مسئلے کی نشاندہی اور شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ بارش کے باعث سڑک پر بننے والے گڑھوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کو حادثات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    علاقے کے کاروباری حضرات اور رہائشیوں نے بتایا کہ ادھوری مرمت کے باعث اٹھنے والا گرد و غبار بھی صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے جبکہ ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔علاقہ مکینوں اور تاجروں نے حکومتِ وقت، سوئی گیس حکام اور متعلقہ وفاقی وزارتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور کالج روڈ و شاہی روڈ کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرکے شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

    رپورٹ:نور فاطمہ