Baaghi TV

Category: لاہور

  • ن لیگ کا عوامی رابطے بڑھانے کے لیے کیلیے لاہور سیکریٹریٹ  کا فیصلہ

    ن لیگ کا عوامی رابطے بڑھانے کے لیے کیلیے لاہور سیکریٹریٹ کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ نواز نے عوامی رابطے بڑھانے کے لیے لاہور میں سیکریٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آٹھ کروڑ کی لاگت سے نصیرآباد آفس کو اسٹیٹ آف دی آرٹ سیکرٹریٹ میں تبدیل کیا جائے گا، لاہور سیکرٹریٹ میں ضلعی و مقامی رہنماؤں کے دفاتر میٹنگ رومز بنائے جائیں گے۔ سیکرٹریٹ کے لیے فنڈز کا فی الحال کھوکھر فیملی از خود انتظام کرے گی، لاہور میں ماڈل ٹاون سیکرٹریٹ ہی مرکزی قیادت کی سرگرمیوں کا محور ہے۔

    مسلم لیگ (ن) کے پارٹی ذرائع کے مطابق عوامی رابطہ مہم کیلیے نصیر آباد آفس کو اسٹیٹ آف دی آرٹ پارٹی آفس بنانے کےلیے پارٹی قیادت سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔لاہور سیکرٹریٹ بننے سے رہنماوں اور کارکنان میں فاصلہ کم ہوگا جس سے کو پارٹی مزید منظم ہو سکے گی۔

    سندھ حکومت کا نوجوانوں کےلیے انٹرپرینیورشپ سیشنز کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا نوجوانوں کےلیے انٹرپرینیورشپ سیشنز کا فیصلہ

    گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں بڑا اضافہ، الیکٹرک وہیکلز پر بھی لاگو

    کراچی میں آگ 2 ہفتے بعد بھی کم نہ ہوئی، امریکی ٹیم کی خدمات حاصل

  • دوستی  سےانکارکیوں کیا؟  امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا

    لاہور: دوستی سےانکارکیوں کیا؟ امیرزادے نے گریجویشن کی طالبہ کواغواء کرلیا-

    باغی ٹی وی: پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نےطالبہ کو گن پوائنٹ پریرغمال بنایا اورمقبرہ جہانگیر کےاحاطہ میں لےگیا متاثرہ طالبہ کو اسلحے کے زورپر ہراسا ں کرتارہا، لڑکی نے گاڑی سے بھاگ کرجان بچائی ، شورمچنے پرملزم مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ سے فرارہوگیا، ملزم کی شناخت کرلی گئی-

    پولیس کا کہنا ہے کہ شاہدرہ ٹاؤن پولیس نےملزم کےخلاف سنگین دفعات کےتحت مقدمہ درج کرلیا، مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ میں پرائیو یٹ گاڑی کاداخلہ ممنوع ہوتا ہے،ملزم کی گاڑی مقبرہ جہانگیرکےاحاطہ میں داخل کرنےپرعملے سےتفتیش جاری ہے،واردات میں ملوث ملزم ریکارڈ یافتہ ہے، تعلق سیاسی گھرانے سےہے-

    وفاقی حکومت کا رواں سال گندم کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ

    مالی سال 2025-26 بجٹ: کھانے پینے کی متعدد اشیا مہنگی ہونے کا امکان

    چراٹ میں تیسری پاک – مراکش مشترکہ دو طرفہ فوجی مشق 2025کا انعقاد، سپیشل فورسز کی شرکت

  • پنجاب حکومت کا بسنت پر عائد پابندی اٹھانے پر غور

    پنجاب حکومت کا بسنت پر عائد پابندی اٹھانے پر غور

    پنجاب حکومت بسنت کے تہوار پر سے پابندی ہٹانے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔

    بسنت کے تہوار کے موقع پر لاہور سمیت پنجاب کے شہریوں کیلئے اچھی خبر سامنے آگئی،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت بسنت تہوارمنانے پرنظرثانی کررہی ہے، حفاطتی اقدامات کے ساتھ بسنت کو منایا جانا چاہیے۔

    بسنت برصغیر پاک و ہند کے علاقے پنجاب کا ایک موسمی اور ثقافتی تہوار ہے۔ اسے بسنت پنچھمی بھی کہتے ہیں۔ پنجابی کیلنڈر کے حساب سے قمری سال کے مہینے ماگھ کی پانچویں تاریخ کو یہ دن منایا جاتا ہے جو آخر جنوری اور شروع فروری کے ایام میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ بسنت رُت کے بدلنے کی نوید ہے۔

    بسنت کا تہوار یوں تو صدیوں سے منایا جا رہا ہے لیکن مقبولیت اسے انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ملی جب پنجاب میں مہاراجہ کی حکومت کا سکہ چلتا تھا بسنت اس دور میں پوری شان و شوکت اور شکوہ سے منائی گئی تھی، مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کی مہارانی مائی موراں پیلے رنگ کے پیرہن زیب تن کرتے اور لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھےتب پنجابی فوج کے جوان پیلے رنگ کےلباس پر زرہ بکتر سجائے اپنی شان دکھاتےتھےامرتسر، قصور اور لاہور میں بسنت زور و شور سےمنائی جاتی تھی، خو ب پتنگ بازی ہوتی، مہاراجہ اور مہارانی خود پتنگ بازی کرتے اور عوامی میلوں کو اپنی شمولیت سے خوشی بخشتے تھے۔

    برصغیر میں پنجاب کی حکومت جب انگریزوں نےسکھوں سے چھین لی تو بہت سی تمدنی و ثقافتی روایات دم توڑ گئیں یا دھیمی پڑ گئیں، تاہم بسنت چونکہ موسمی تہوار تھااور خاص و عام میں مقبولیت پائے ہوئےتھا اس لئے زندہ،متحرک اور تازہ رہا قیام پاکستان کے بعد بھی بسنت نے علاقائی رنگ جمائے رکھا اور مغربی پنجاب میں پیلی سرسوں کے ہویدا ہوتے ہی پتنگ بازی اور میلوں کی صورت میں اپنا علم بلند رکھا یہ ایک ایسا تہوار تھا ، جس سے انسانی خوشیوں کے ساتھ ساتھ معاش و معیشت کا ایک نظام بھی بندھا ہوا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح آسان اور فوری دولت کے حصول کی خواہش اور دیگر قباحتوں نے سیدھی سادی روایتوں کو پامال کیا اسی طرح بسنت کے تہوار پر پتنگ بازی کا شغل بھی گہنا گیا۔ مہلک ڈور نے بچوں کے گلے کاٹنے شروع کر دیئے اور پیدل چلنے والے اور موٹر سائیکل سوار زخمی ہونے لگے۔ ناچار حکومت کو پتنگ بازی پر پابندی عائد کرنا پڑی، یوں ایک اچھا خاصہ مشغلہ عاقبت نا اندیش لوگوں کی حرص اور عجلتی رویے کی نذر ہو گیا۔

  • خلیل الرحمان قمر  کیس،اغوا ثابت نہیں ہوا، آمنہ سمیت تین ملزمان کو سزا

    خلیل الرحمان قمر کیس،اغوا ثابت نہیں ہوا، آمنہ سمیت تین ملزمان کو سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کے کیس میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے تین ملزمان کو سزا سنائی ہے، جبکہ دیگر کو بری کر دیا ہے۔

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت کی اور فیصلہ سنایا کہ ملزمان آمنہ عروج، ممنون حیدر اور ذیشان کو تاوان طلب کرنے کے جرم میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اغوا کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، جس کی بنا پر ملزمان کو اغوا کے جرم میں سزا نہیں دی گئی۔

    عدالت نے مزید کہا کہ حسن شاہ سمیت دیگر نامزد افراد کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے اس کیس میں 17 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کرائی گئیں، جن کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    یاد رہے کہ اس مقدمے میں خلیل الرحمٰن قمر کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار بنایا گیا تھا اور بعد ازاں ان سے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ یہ کیس میڈیا کی بھرپور توجہ کا مرکز رہا اور خلیل الرحمٰن قمر نے بھی اس واقعہ کے حوالے سے مختلف مواقع پر بات کی تھی۔

  • غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ویڈیو بناکر وائرل کرنے کی اجازت کس نے دی؟ عدالت

    غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ویڈیو بناکر وائرل کرنے کی اجازت کس نے دی؟ عدالت

    لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں لڑکے لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو یہ اختیار کس نے دیا کہ لوگوں کو گنجا کر کے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔

    قصور میں لڑکے اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ویڈیو وائرل کرنے سے متعلق کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کی،عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور عدالت میں پیش ہوئے، جس دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا لوگوں کو گنجا کر رہے ہیں اور ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں؟ پولیس کو یہ اختیار کس قانون نے دیا ہے؟ کیسے کسی بندے کو پکڑ کر گنجا کرکے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں، اس ملک میں کوئی قانون رہ گیا ہے یا نہیں، ویڈیو میں بھارتی فلم کا کلپ مکس کرکے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر اپلوڈ کیا گیا۔

    ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ جس نے ویڈیو بنائی اس کو معطل کر دیا گیا ہے، جن لوگوں نے ویڈیو وائرل کی ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، ایس ایچ او کو بھی نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے، آر پی او ایس ایچ او کو فارغ کر سکتا ہے،جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا عدالت کسی بھی قسم کے غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دے گی، کسی نےکوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں مگر اس کے عمل کو پبلک کیوں کریں،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی، تفتیشی افسر نے ملزموں کو مقدمہ میں سہولت دی، اسے نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی ہے،عدالت نے کہا کہ کیسی سہولت دی؟ کسی مذہب یا معاشرے میں ایسے عمل کی اجازت نہیں ہوتی۔

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا تھا فارم ہاؤس پر غیر اخلاقی سرگرمیوں اور پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے، جس پر عدالت نے کہا ایسے کام کی کوئی اجازت نہیں، پولیس کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے مگر ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کی اجازت نہیں،ڈی پی او نے بتایا کہ فارم ہاؤس کا مالک فرار ہو گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ فارم ہاؤس کے مالک کو فرار نہیں ہونا چاہیے تھا، کیا کیا برآمد ہوا تھا؟پولیس حکام نے کہا کہ شراب کی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں، ایس ایچ او کو فارم ہاؤس کے مالک کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی پیش ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں گے دنیا میں کسی زیر حراست ملزم کو ایکسپوز کرنے کا قانون موجود ہے،لاہور ہائی کورٹ نے قصور پولیس کے تفتیشی افسر صادق، کانسٹیبل اور ایس ایچ او کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ پولیس والوں کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا جائے۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 10 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 10 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کی گئی ہے، جس میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس اطلاع پر مختلف اضلاع میں 189 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران 10 انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ان کارروائیوں میں لاہور، راولپنڈی، بہاولپور، گوجرانوالہ اور جہلم سمیت دیگر شہروں میں اہم کارروائیاں کی گئیں۔ راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے دو اہم ملزمان بادل سنگھ اور سورج سنگھ کا تعلق ننکانہ صاحب سے بتایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، 16 ڈیٹونیٹرز، 38 فٹ لمبی حفاظتی فیوز تار، پرائمہ کارڈز، اشتعال انگیز مواد اور نقدی بھی برآمد کی گئی۔ یہ تمام مواد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان دہشت گردوں کا مقصد پنجاب کے عوام کو خوف میں مبتلا کرنا اور امن و سکون کو تباہ کرنا تھا۔

    سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران 2053 کومبنگ آپریشنز کیے گئے، جن میں 82 ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی۔ ان آپریشنز کے دوران 263 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ "محفوظ پنجاب” کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکوں کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کے لیے پنجاب کی سرزمین کو غیر محفوظ بنا دیا جائے گا۔

  • گورنر ہاؤس لاہور میں اسرائیلی برانڈز،مشروبات اور مصنوعات پر پابندی

    گورنر ہاؤس لاہور میں اسرائیلی برانڈز،مشروبات اور مصنوعات پر پابندی

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے لاہور میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے گورنر ہاؤس میں اسرائیلی برانڈز، غیر ملکی مشروبات اور مصنوعات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ گورنر رہیں گے، گورنر ہاؤس میں ایسی تمام اشیاء کا استعمال ممنوع ہوگا جن سے اسرائیل یا کسی بھی غیر مسلم ملک کو مالی فائدہ پہنچتا ہو۔

    گورنر پنجاب سے لاہور میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے ملاقات کی، جن میں راجہ پرویز اشرف، علی گیلانی، چوہدری منظور اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس ملاقات میں گورنر پنجاب نے اسرائیل کے خلاف اپنے موقف کو مزید واضح کیا اور کہا کہ غزہ کے نہتے مسلمانوں پر ظلم کا منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔سردار سلیم حیدر نے کہا کہ "ہمیں ایسی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا جو اسرائیل اور دیگر غیر مسلم ممالک کی معیشت کو فروغ دیتی ہیں۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گورنر ہاؤس میں اسرائیلی برانڈز اور غیر ملکی مشروبات کے استعمال پر پابندی جاری رکھی جائے گی، تاکہ ان ممالک کے مالی فائدے کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

    گورنر پنجاب نے ایران میں دہشت گردی کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے پاکستانیوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا۔ انہوں نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے اور پاکستانی عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔

    یہ فیصلہ گورنر پنجاب کے اسرائیل اور دیگر غیر مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے بائیکاٹ کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کی حمایت اور ان کے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔

  • اسکول پرنسپل کی 9 سالہ طالبہ سے زیادتی کی کوشش، مقدمہ درج

    اسکول پرنسپل کی 9 سالہ طالبہ سے زیادتی کی کوشش، مقدمہ درج

    جنوبی پنجاب کے شہر کوٹ ادو میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل کی زیادتی کی مبینہ کوشش کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق اسکول پرنسپل نے چوتھی جماعت کی 9 سالہ طالبہ کو دفتر میں بلا کر اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔میٍڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دین پناہ جینڈر کرائمز سرکل کی انچارج سب انسپکٹر سعیدہ خالق نے بتایا کہ طالبہ کی والدہ کی درخواست پر اسکول پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ملزم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (iii) کم عمر یا ذہنی، جسمانی معذوری کا شکار فرد کے ساتھ زیادتی اور دفعہ 511 (جرم کی کوشش پر سزا) کے تحت درج کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ ، پنجاب پولیس نے فیصل آباد کے علاقے چک 437 جی بی، سمندری میں 16 سالہ لڑکی کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 4 میں سے 3 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔دوسری جانب غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملک بھر سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کل 1630 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 862 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، 668 اغوا، 82 بچوں کے لاپتا ہونے اور 18 کم عمری کی شادیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ جنسی زیادتی کے بعد فحش مواد بنانے کے 48 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔

    عبادت کے لیے جانے والوں پر روسی میزائل حملہ،32 افراد جاں بحق

    ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی اگلے ہفتے سے شروع

    پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین زندگی کے دشمن ہیں، مصطفی کمال

    اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے 60 ہزار بچے فاقہ کشی کا شکار، یو این کا تشویش کا اظہار

  • جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر  پروفیسر خورشید احمد کا انتقال

    جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر خورشید احمد کا انتقال

    جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر اور مولانا مودودی کے قریبی ساتھی سینیٹر پروفیسر خورشید احمد انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان و دیگر نے پروفیسر خورشید احمد کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کی عمر 93 سال تھی۔ ان کا انتقال برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہوا۔ سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کا شمار بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔اس افوسفناک سانحے پر ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ پروفیسر خورشید احمد کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    پروفیسر خورشید احمد کو اقتصادیات اسلام میں گراں قدر خدمات انجام دینے پر اسلامی بینک نے 1990 میں اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا تھا۔ جبکہ بین الاقوامی اسلامی خدمات انجام دینے پر سعودی حکومت نے 1990 میں انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔امریکن فنانس ہاؤس نے 1998 میں اسلامک فنانس اعزاز عطا کیا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2010 میں اعلیٰ سول ایوارڈ نشان امتیاز سے عطا کیا تھا۔

    مرکزی مسلم لیگ کا یکم مئی سے آئی ٹی اسکلز پروگرام،قیام امن کیلیےسب کو متحد کرنے کا اعلان

    اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

  • پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف

    لاہور: شعبہ صحت میں آڈٹ کے دوران پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں سنگین مالی اور طبی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ادارے میں 2021 کے جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران کم از کم 22 مریضوں کو مکمل طور پر ایکسپائر اسٹنٹس لگائے گئے، جبکہ نو مریضوں کو ایسے اسٹنٹس ڈالے گئے جن کی معیاد ختم ہونے کے قریب تھی، یعنی ان کی صرف تین فیصد مؤثر مدت باقی تھی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے اسٹاک اور مریضوں کی فائلز کا تفصیلی معائنہ کیا، جس کے دوران 263 ملین روپے (26 کروڑ 30 لاکھ) کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہوا، جو ایکسپائر اسٹنٹس اور ادویات کی خریداری میں کی گئیں، آڈیٹر جنرل کی جانب سے اس سنگین معاملے پر وضاحت طلب کی گئی تاہم محکمہ صحت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخِ معیاد ختم ہونے کے بعد اسٹنٹس لگانا نہ صرف غیر قانونی بلکہ مریضوں کی جان کے لیے خطرناک ہے، اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔