لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع ایک ہوٹل میں آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد دو ہوگئی، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں لاپتہ وینڈر ریاض کی تلاش میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہوٹل میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ساڑھے تین گھنٹے سے کوششیں جاری ہیں۔ آگ لگنے کے بعد ہوٹل میں موجود 200 سے زائد افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں زخمی ہونے والے 6 افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
Category: لاہور

گلبرگ کے ہوٹل میں آتشزدگی، جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی

لاہور: گلبرگ کے ہوٹل میں آتشزدگی، ایک جاں بحق، 6 افراد زخمی
لاہور کے علاقے گلبرگ کے ہوٹل کی بیسمنٹ میں اچانک آگ لگنے کے نتیجے میں ایک جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت ہوٹل میں نجی کالج کی تقریب جاری تھی، ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ ہوٹل کے تہہ خانے میں گیس لیکج کے باعث لگی،گلبرگ کے ہوٹل سے 180افرادکوریسکیوکر لیا گیا ہے-
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے کہا ہے کہ آگ ہوٹل کے بیسمنٹ میں لگی، بجھانے کا کام جاری ہےبلڈنگ میں اس وقت کوئی موجود نہیں، آگ کے باعث ایک شخص زخمی ہوا جس کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، ہوٹل کے بیسمنٹ میں لگی آگ پر جلد قابوپا لیا جائے گا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک جھلسنے والے 6 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے، متاثرین میں سے ایک شخص 35 سے 40 فیصد جھلس گیا ہے آتشزدگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہوگئی، متاثرہ افراد میں 28 سال کی خاتون بھی شامل ہے، آگ لگنے سے الیکٹریشن مبین کا جسم چالیس فیصد جھلس گیا، باقی افراد کی حالت دھویں کی وجہ سے غیر ہوئی، گلبرگ ہوٹل سے ایک لاش نکالی گئی، جاں بحق شخص کی شناخت ہو چکی ہے وہ لانڈری ملازم تھا۔

نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف
لاہور:جوہر ٹاؤن سے نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آگیا۔
ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مغوی عابد وزیر کو سی سی ڈی کے خوف سے رہا کیاملزمان نے عابد وزیر کو سی سی ڈی کو نہ بتانے کی شرط پر رہا کیا، اغوا کاروں نے کہا تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے بھی پیسے لے جائیں اغوا کاروں نے بس پر بٹھا کر کرایہ بھی خود دیا، ملزمان نے کہا سی سی ڈی کو یہ بتائیے گا کسی نے اغوا نہیں کیا۔
نجی کالج کے مالک عابد وزیر کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی حکام کے مطابق وہ ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے، سی سی ڈی کی وجہ سے پنجاب میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے۔
22 جنوری کو تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عابد وزیر خان کو آفس سے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عابد وزیر خان اغوا کے وقت خاتون جنرل مینجر کے ساتھ فون لائن پر تھے، خاتون نے فون پر نامعلوم شخص کی آواز سنی۔ نامعلوم شخص نے مغوی کو کہا کہ تم نے میری گاڑی کا ایکسیڈینٹ کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو لیکر ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، مانگا منڈی کے قریب مغوی کی گاڑی کی لوکیشنز ٹریس ہوتی رہیں۔ ابتدائی تفتیش میں اغواء کاروں کی تعداد تین سامنے آئی، ملزمان بظاہر مغوی کو لیکر شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، مانگا منڈی ملحقہ علاقوں میں پولیس کی چھ ٹیمیں روٹ ٹریکنگ کررہی ہیںعابد وزیر کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا یا وجہ کچھ اور ہے تفتیش جاری ہے، مغوی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ملزمان کو جلد ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔

احسن اقبال کا طلبہ کو نیٹ فلکس مووی””دی گریٹ ہیک”دیکھنے کا مشورہ
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہےیہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے،احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔

ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری ، نظام زندگی مفلوج،فوج کا آپریشن جاری
ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا-
وادی نیلم، سدھنوتی، باغ، ہٹیاں بالا، اٹھ مقام، اپر نیلم سمیت آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری ہوئی شدید برفباری کی وجہ سے ضلع حویلی کی حدود میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں،پاک آرمی نے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا، پھنسی ہوئی گاڑیوں میں 100کے قریب افراد سوار تھے، مظفرآباد میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، مری میں برفباری کا بیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، وادی نیلم میں شدید برف باری سے 3 مکانات گر گئے۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق ایمرجنسی گاڑیوں اور ہیوی مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں،ریسکیو 1122 نے 1100 سے زائد متاثرہ افراد کو بحفا ظت ریسکیو کر لیا ہے، برف میں پھنسی 120 سے زائد گاڑیوں کو نکال لیا گیا برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند ہوگئیں، راستے بحال کر نے کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، وادی تیراہ میں شدید برفباری کے بعد ریسکیو کا امدادی آپریشن جاری ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی علاقوں میں کل سے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔

پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، صوبے میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں بسنت فیسٹیول کا جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں ٹریفک کیلئے بہترین پلان بنایا گیا، بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں، پنجاب کی ثقافت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے گا، بسنت 800 سال پرانا فیسٹیول ہے، پنجاب حکومت کے زیرانتظام بسنت منائی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا، سیفٹی پلان کے تحت لاہور کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، وقت سے پہلے پتنگ اڑانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منائی جائے گی، غلط ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید کی سزا ہوگی، ڈوراور پتنگ کے مقرر سائز کی خلاف ورزی پر بھی سزا ہوگی۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، ریڈ زون میں بغیر سیفٹی راڈ کے داخلے پر پابندی ہوگی، پنجاب حکومت موٹر سائیکل سواروں کو 10 لاکھ سیفٹی راڈ دے گی، 3 دنوں میں 500 بسوں پر سفر کی سہولت مفت ہوگی، بسنت کے دوران اورنج لائن، میٹرو اور الیکٹرک بسیں بھی فری چلائیں گے، 3 دن کے دوران 5 لاکھ ٹرپس کا میری طرف سے تحفہ ہے۔

9 مئی حملہ کیس، حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو کلب چوک، جی او آر گیٹ پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں غیر حاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر سمیت 7 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی مسلسل غیر حاضری اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر سمیت دیگر نامزد ملزمان کے دائمی وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور متعلقہ ادارے وارنٹس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ان کے خلاف اشتہاری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
یاد رہے کہ اسی مقدمے میں عدالت اس سے قبل ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا تھا، جبکہ دیگر مرکزی رہنماؤں کے خلاف سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق استغاثہ نے ان ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر سزا سنانا لازم قرار پایا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں رہائشی مسائل کے حل کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، اہداف اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گھروں کی توسیع کے لیے بلا سود قرضوں کے اجرا کی باضابطہ منظوری دی گئی، جس کے بعد اب مشترکہ خاندانوں میں رہائش پذیر افراد اپنے موجودہ گھروں کی توسیع کے لیے اس منصوبے کے تحت قرض حاصل کر سکیں گے۔اجلاس کے دوران جون 2026ء تک 1 لاکھ 60 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا، جسے وزیر اعلیٰ نے قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت پنجاب عام شہری کو باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
اجلاس میں ’’اپنی زمین اپنا گھر‘‘ منصوبے کے تحت 1 ہزار 531 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس سے بے گھر اور کم آمدن افراد کے لیے گھر بنانے کا خواب حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر میں ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ کے تحت 53 ہزار 843 مکانات زیر تعمیر ہیں، جو منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 164 ارب 66 کروڑ روپے کے ریکارڈ بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا اقدام ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ گھر صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ خاندان کے تحفظ، عزت اور مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ مستحق افراد بلا رکاوٹ فائدہ اٹھا سکیں۔

جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔
درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں

بچی پر شیرنی کے حملے کا معاملہ: 11 غیر قانونی شیر برآمد، ملزمان گرفتار
لاہور میں شیرنی کے بچی پر حملے کے واقعے میں مزید پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ خفیہ اطلاع پر ایس پی اقبال ٹاؤن کی سربراہی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے 11 غیر قانونی شیروں کو تحویل میں لے لیا جبکہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں۔ یہ شیر نواں کوٹ کے علاقے میں واقع ایک فیکٹری میں رکھے گئے تھے جہاں گراؤنڈ فلور پر ایمبرائیڈری کا کام جاری تھا جبکہ فرسٹ فلور پر شیروں کو رکھا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق ملزمان چند ماہ قبل شیخوپورہ سے شیروں کو لاہور منتقل کر کے لائے تھے تاہم ان کے پاس لاہور میں خطرناک جنگلی جانور رکھنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ تمام شیروں کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کامیاب کارروائی پر ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمر اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے گزشتہ روز بچی کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شہر بھر میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا حکم دیا تھا۔ حملے میں ملوث شیرنی اور اس کے مالکان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے، جس سے شہریوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے جانوروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی گئی۔ معاملے میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔









