Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

    لاہور میں امن و امان قائم رکھنے کےلیے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق لاہور میں رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے، طلبی کا مقصد صوبائی دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق جی پی او چوک کے باہر اور کئی دیگر پوائنٹس پر رینجرز موجود ہے۔خیال رہے کہ لاہور میں احتجاج کے پیش نظر شہر کے داخلی راستے بند کرکے مختلف شاہراہوں پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔ جی ٹی روڈ سے بتی چوک آنے والا راستہ کنٹینر لگا کر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، مینار پاکستان جانے والے تمام راستوں پر بھی کنٹینر رکھ دیےگئے ہیں۔ رنگ روڈ محمود بوٹی سمیت مختلف مقامات سے بند ہے،گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں ۔ بابو صابو انٹر چینج بھی کنٹینرز کے ذریعے سیل کردیا گیا ہے۔

    ایمبولینسیں پھنسنے سے مسافروں کے ساتھ ساتھ مریض بھی پریشان ہیں۔ لاہور سے دوسرے شہر جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہے اور ویگن والوں نے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔دوسری جانب ایس سی او کانفرنس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کو طلب کیا ہے۔وزارت داخلہ پنجاب کی جانب سے فوج کی خدمات سے متعلق قواعد کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو طلب کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس سے مل کر ایس سی او کانفرنس میں امن و امان برقرار رکھے گی، ائیر پورٹس، راستوں، مقامات اور اردگرد علاقوں میں امن و امان برقرار رکھا جائے گا۔

    پنجاب حکومت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوج کو واضح غیر مبہم رولز آف انگیجمنٹ دیے گئے ہیں، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی خطرے کی اطلاع حاصل کرسکیں گے، دشمن عناصر، ہجوم یا فسادیوں کی طرف سے حملہ یا دھمکی کے موقع پر اقدامات کر سکیں گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گرد و نواح میں فوج کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔

  • حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا قانونی حق تسلیم کیا جانا چاہیے اور حکومت کو مظاہرین کو سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امن و امان کے نام پر جمہوری اقدار کی پامالی کر رہی ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے دیگر رہنما، بشمول لیاقت بلوچ، امیر العظیم، اور قیصر شریف بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو قانونی اور جمہوری حق کے طور پر تسلیم کرے، لیکن اس کے بجائے حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا ہے اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ لاہور کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ "ہم نے کئی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کیا جب ہم شہروں اور دیہاتوں سے گزر کر لاہور پہنچے۔ کنٹینرز کی بھرمار حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔” حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ کیا فوج کو عوام کے سامنے لا کھڑا کرنا حکومت کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ انہوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے فوج اور عوام کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت فوج کو امن و امان کے قیام کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ملک میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ "آنسو گیس اور عوام کو صوبہ جام کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ مارشل لاء کے دوران بھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی گئی جو اس نام نہاد جمہوری حکومت کے دوران پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو سیاسی جماعت جہاں جلسہ کرنا چاہتی ہے اسے اجازت دی جائے اور راستے کھولے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکے۔ "پنجاب کا پورا صوبہ پریشانی میں مبتلا ہے۔ موٹروے اور جی ٹی روڈ بند ہیں، بیماروں اور عام شہریوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ حکومت کے پاس طاقت ہے تو وہ اسے عوامی مفاد میں استعمال کرے اور حالات کو بہتر بنائے۔”
    حافظ نعیم الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیل کی بمباری کو بدترین ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں فلسطینی شہری، بشمول بچے اور خواتین، زخمی اور شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے خطے میں جنگ کو مزید پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے، اور اب یمن اور ایران پر بھی حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک عالمی جنگ کا آغاز ہو سکے۔امیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر اسلامی ممالک کی کانفرنس طلب کرنی چاہیے تاکہ تمام اسلامی ممالک کو متحد کیا جا سکے۔ "اگر پورا عرب خطہ جنگ کی آگ میں جل رہا ہو گا، تو کیا ہم بچ پائیں گے؟” انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور ایک مشترکہ موقف اپنائے تاکہ دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منائے گی اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس دن دوپہر بارہ بجے سڑکوں پر نکلیں اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ "ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 7 اکتوبر کو لوگ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور ثابت کریں کہ وہ غزہ کے ساتھ ہیں۔انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ملک میں حالات خراب رہے اور صوبے لاک ڈاؤن رہے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس نے موجودہ سیاسی اور علاقائی مسائل پر نہ صرف حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ عوام کو بھی فعال ہونے کی ترغیب دی، خاص طور پر فلسطینی عوام کے لیے حمایت کے اظہار کے لیے 7 اکتوبر کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔

  • ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں اور گرفتاریوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد بانی تحریک انصاف، عمران خان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔لاہور میں احتجاج کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا، جہاں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پرچم اٹھا کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کی۔ کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ پارٹی قیادت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات اور کارکنوں کی گرفتاریوں کو فوری روکا جائے۔ تاہم، جب مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور احتجاج زیادہ منظم ہوا تو پولیس نے فوری طور پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران معروف وکیل اور پی ٹی آئی کے قانونی مشیر سلمان اکرم راجا سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    لاہور میں ایوان عدل کے باہر پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وکلا کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تصادم کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے وابستہ 6 سے زائد وکلا کو گرفتار کر لیا ہے۔ زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد کے لیے پی ایم جی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے اس واقعے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور انتشار پھیلانے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
    مینار پاکستان سے بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں ایک خاتون کارکن نے تمام سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مینارِ پاکستان کے پل تک رسائی حاصل کی اور وہاں پہنچ کر پارٹی پرچم لہرایا۔ یہ واقعہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج ثابت ہوا، جس نے سیکیورٹی رکاوٹوں کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر خاتون کارکن سمیت کئی دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔احتجاج کے نتیجے میں لاہور کے مختلف علاقوں میں داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر جی پی او چوک، داتا دربار اور مینارِ پاکستان کے گردونواح میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اور جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر اور دیگر مقامات پر پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ سڑکوں پر کنٹینرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد موجود ہے، جس سے آمدورفت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
    پنجاب حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے سے موجود پولیس کی نفری کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا تھا، تاہم بڑھتے ہوئے مظاہروں اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ رینجرز کی تعیناتی کا مقصد مظاہروں کو قابو میں رکھنا اور لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے اور شہر میں مزید انتشار پھیلنے سے روکا جا سکے۔
    پی ٹی آئی کی قیادت نے ان گرفتاریوں اور حکومتی کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔

  • لاہور سمیت مختلف اضلاع میں بھی فوج طلب

    لاہور سمیت مختلف اضلاع میں بھی فوج طلب

    لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور سمیت مختلف اضلاع میں بھی فوج طلب کر لی۔

    باغی ٹی وی : پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے فوج تعینات کرنے کی استدعا کی تھی،محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاق کو پاک فوج کی تعیناتی کے بارے میں مراسلہ لکھ دیا،دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے فوج تعینات کرنے کی استدعا کی تھی، حکومت نے صوبے کے چھ اضلاع میں پاک فوج کو طلب کرلیا، پاک فوج حساس عمارتوں، ائیر پورٹس سمیت اہم عمارتوں کا کنٹرول سنبھالے گی، محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاق کو پاک فوج کی تعیناتی کے بارے میں مراسلہ لکھ دیا۔

    اسرائیل کا حزب اللہ کے متوقع سربراہ ہاشم صفی الدین کی شہادت کا دعویٰ

    شمالی وزیرستان: خوارج سے فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت 6 جوان شہید،6 خوارج …

    واجح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران نقص امن کے خدشے کے پیش نظر جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر کے فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو تعینات کر رکھا ہے اب اسلام آباد کی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں تعیناتی کے دوران فوج کو حاصل اختیارات کے حوالے سے مراسلہ بھی جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد میں نقص امن کا خدشہ: فوج کو دئیے گئے اختیارات کا مراسلہ جاری

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال کشیدہ ہونے پر فوج کو کارروائی کے اختیارات حاصل ہوں گے، مقامی کمانڈر وفاقی پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا فوج کو شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنے اور گرفتاری کے اختیارات دیے گئے ہیں، فوج کو مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس کی بھی اجازت ہو گی، طاقت کا کم سے کم استعمال کیا جائے گا، شرپسندوں کی موجودگی یا خطرات کی اطلاع پر فوج کارروائی کرے گی۔

  • مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاجی مظاہرہ،رینجرز کی 3 کمپنیاں تعینات

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاجی مظاہرہ،رینجرز کی 3 کمپنیاں تعینات

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک کے بعد آج لاہور کے مینار پاکستان پر احتجاجی مظاہرہ ہے،لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ ہے شہر کے داخلی اور خارجہ راستوں کو بند کر دیا گیا ہے،پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی :لاہور سے اسلام آباد موٹروے جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا لاہور سیالکوٹ موٹروے، بابو صابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ انٹری پوائنٹ پر کنٹینرز لگنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    آج مینار پاکستان پر بانی تحریک انصاف کی سالگرہ کا جلسہ منعقد کرنے کے اعلان پر بھی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے آزادی فلائی اوور پر کیمپ لگا دیا اور داتا دربار کے قریب روڈ بلاک کے لیے کنٹینر بھی پہنچا دیے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تاحال این او سی بھی جاری نہیں کیا گیا۔

    بابوصابو انٹرچینج اور ٹھوکر نیاز بیگ پر واٹر کینن، قیدیوں کی وین اور پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے، موٹروے بند ہونے کے بعد جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔

    گزشتہ روز لاہور میں پولیس نے احتجاج کے حوالے سے جن پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے انہیں شرپسند عناصر ڈیکلیئر کردیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کے 1590 کارکنوں کی گرفتاری کےاحکامات بھی جاری کیے گئے۔

    حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلینج کردیا گیا ہےلاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف شہری ناجی اللہ نے متفرق درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آئین پاکستان شہریوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، عدالت 3 سے 8 اکتوبر تک نافذ کی گئی دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔

    اسلام آباد میں گزشتہ روز کے پی ٹی آئی احجاج مظاہرین کے خلاف ریاستی اقدامات بظاہر کامیاب رہے۔ علی امین گنڈا پور کا قافلہ ابتدائی چند ایک رکاوٹ ہٹا کر آگے بڑھا لیکن حسن ابدال کٹی پہاڑی کے پاس بدترین شیلنگ کے باعث وہ آگے نہیں بڑھ سکا جبکہ ڈی چوک سے چائنہ چوک تک شیلنگ اور پکڑ دھکڑکا سلسلہ بھی جاری رہا اور اس دوران بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان گرفتارکو بھی گرفتار کرلیا گیا پولیس نے جڑواں شہروں سے تقریباً 1600 سے کارکنوں کو گرفتار کیا۔

  • سرباز خان نے ملکی کوہ پیمائی کی نئی  تاریخ  رقم کر دی

    سرباز خان نے ملکی کوہ پیمائی کی نئی تاریخ رقم کر دی

    اسلام آباد: پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے ملکی کوہ پیمائی کی نئی تاریخ رقم کر دی-

    باغی ٹی وی : سر باز خان دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے، انہوں نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیوں کو سر کر لیا ہے،سرباز خان نے یہ سنگ میل 8 ہزار 27 میٹر بلند شیشاپنگما عبور کرکے حاصل کیا، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما نے سب سے اونچی چوٹی ماوئنٹ ایورسٹ 2021 میں عبور کی تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے ایک اور کوہ پیما شہروز کاشف بھی 14 چوٹیاں عبور کرنے کے مشن کے قریب ہیں سرباز خان کا یہ سفر 2017ء میں نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے سے شروع ہوا تھا۔

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے …

    پی آئی اے کی پروازوں کی تاخیر کی خبروں کی تردید

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا پاور شو،رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب

  • نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل  نے جواب داخل کرا دیا

    نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرا دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لیے درخواست پر وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل پاکستان نے جواب داخل کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری نہ کرنے پر متعلقہ عدالتی افسر پر اظہار برہمی کیا،جسٹس راحیل کامران نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت متعلقہ سیاسی جماعتوں کو بھی سننا چاہیئے۔

    لاہورہائیکورٹ آفس کے اہلکار نے غلطی تسلیم کر کے معافی کی استدعا کی، جس پر جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ آئندہ غلطی نہ ہو۔

    درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو سن چکی ہے، ہم صرف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے آئے ہیں، اس اسٹیج پر کسی سیاسی جماعت کو سننا عدالت کے لیے ضروری نہیں، سیاسی جماعتیں ہی تو آئین اور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہیں۔

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے …

    وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں وہاں ہی عملدرآمد کے لیے رجوع کرنے کا لکھا ہے،جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق پارلیمان نے 11 غیر آئینی قانون بنائے جن کو چیلنج کر رکھا ہے، درخواست میں سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کا وضاحتی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کا تفصیلی بھی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، چاروں صوبائی اسمبلی کے اسپیکرز کو بھی مراسلہ جاری کرچکے ہیں، مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو تاحال نہیں۔

    افغان کرکٹر راشد خان نے شادی کرلی

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دے، عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے درخواست پر پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  • مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا پاور شو،رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا پاور شو،رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب

    لاہور: لاہور میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث مینار پاکستان کے اطراف میں ابھی سے ہی کینٹیڑز پہنچا دیے گئے، گریٹر اقبال پارک پر پولیس کی نفری ابھی سے تعینات کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور ممکبہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر پنجاب کے 4 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی جبکہ لاہور، راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز بھی طلب کرلی گئی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نےلاہورمیں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی حکومت پنجاب نے لاہور،میں رینجرز بھی طلب کر لی ہے، لاہور میں 5 اکتوبر کے لیے رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اہور میں جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے، لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں پابندی کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا،ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے، امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کیے گئے،محکمہ داخلہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے جبکہ رینجرز کی خدمات کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلے لکھے گئے ہیں۔

    دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں 6 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلینج کردیا گیا ہےلاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف شہری ناجی اللہ نے متفرق درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آئین پاکستان شہریوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، عدالت 3 سے 8 اکتوبر تک نافذ کی گئی دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔

  • ڈی چوک احتجاج:  اڈیالہ جیل کا قیدی پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے،عظمی بخاری

    ڈی چوک احتجاج: اڈیالہ جیل کا قیدی پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے،عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی پلاننگ ہے لاشیں گریں اور ان کو کیش کریں۔

    باٹی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کی اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کی کال پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرینوں، لفٹر اور سرکاری وسائل و سرکاری ملازمین کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آرہے ، کیا اس قسم کی مشینری کے ساتھ سیاسی جدوجہد ہوتی ہے؟ علی امین گنڈا پور سیاسی شو نہیں فساد پھیلانے آرہے ہیں، سیاسی لوگ سیاسی جدوجہد کرتے ہیں لیکن یہ دہشت گرد جماعت ہے، پنجاب کے لوگوں نے فتنہ فساد کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے، جو بھی قانون توڑے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شنگائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، پاکستان کے انٹرنیشنل کمیونٹی سے تعلقات دوبارہ بحال رہے ہیں لیکن یہ جماعت پاکستان کو دوبارہ عالمی تنہائی کا شکار کرنے والے حربے استعمال کر رہی ہے، اڈیالہ جیل کا قیدی(عمران خان) پاکستان میں جلاؤ گھراؤ اور مار دھاڑ چاہتا ہے۔

    پی ٹی آئی کا ی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں …

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جس پر گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ غیر ملکی سربراہ کی دارالحکومت میں موجودگی میں احتجاج مناسب نہیں، پی ٹی آئی احتجاج کی کال پر نظر ثانی کرے، کوئی مظاہرہ کرے گا تو نرمی نہیں برتی جائے گی۔

    دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی پی ٹی آئی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس ختم ہونے تک اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کو احتجاج مؤخر کرنے کا مشورہ دیا۔

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ …

    ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی آج ہونے والے احتجاج میں ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں عمران خان کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے احکامات پر ہر صورت عمل کیا جائےگاحکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا احتجاج پُر امن ہوگا اور حالات کی خرابی کے ذمہ داری تشدد کرنے والے ہوں گے۔

  • پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا قانون 21 سال بعد بھی التواء کا شکار

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا قانون 21 سال بعد بھی التواء کا شکار

    لاہور(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں21سال قبل بنایا گیا قانون ردی کی نظر، سرکاری ہسپتالوں میں نجی پریکٹس کا نظام نافذ نہ ہوسکا

    یکم اگست 2024کو جاری شدہ لیٹر NO. SO (RMC) 2-121/2024 کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ادارہ جاتی نجی پریکٹس کے نظام کے قیام کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    یہ احکامات اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک مراسلے کے ذریعے جاری کیے گئے، جس میں تمام میڈیکل یونیورسٹیوں، کالجز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایات دی گئی ہیں۔حکومت نے 2003 کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ انسٹیٹیوشنز ایکٹ کے تحت پنجاب کے بیشترہسپتالوں کو خودمختار بنایا تھا،

    جس کی شق 20 کے مطابق ایک سال کے اندر ادارہ جاتی نجی پریکٹس کے نظام کا قیام ضروری قرار دیا گیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے باوجود زیادہ ترہسپتال اس نظام کو قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ڈاکٹرز نےسرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کی بجائے اپنے ذاتی کلینک کوترجیح دی،

    اس حوالے سے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں کے بورڈ آف مینجمنٹ کو نجی مریضوں کے علاج کے لیے واضح طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔ مزید برآں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد ایک مئوثر ادارہ جاتی نجی پریکٹس کا نظام قائم کریں تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    اس مراسلے کی نقول وزیر صحت، سیکرٹری صحت، اور دیگر اعلی حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں تاکہ اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔