Baaghi TV

Category: لاہور

  • پی ٹی آئی والے اب گنڈاپور کو کیوں گالیاں دے رہے؟عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی والے اب گنڈاپور کو کیوں گالیاں دے رہے؟عظمیٰ بخاری

    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صدیق جان تحریک انصاف یو ٹیوب ونگ کا جنرل سیکرٹری ہے وہ بھی کہہ رہے ہیں دھوکہ ہو گیا،

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سرکاری وسائل اسلام آباد پر چڑھائی کے لئے استعمال ہورہے ہیں، پی ٹی آئی کی لیڈر شپ جو انقلاب کی دھمکیاں دے رہے تھے وہ ورک فرام ہوم کر رہے تھے، کارکنان سڑکوں پر تھے، شاندانہ گلزار کے پی کو بچوں کو مروانے کے لئے سڑکوں پر لے آئی، خود گھر سے نہ نکلی، اس نے گاڑی سے قوم سے خطاب کیا،انکے ہر لیڈر نے یہی حرکت کی،ان کا لیڈر بارہ موسم بنا سکتا ہے تو علی امین کیلئے بارہ ضلعے بنانا کون سا مشکل کام ہے, پتا نہیں کونسی دوائیاں کھا کر یہ حرکتیں کرتے ہیں،شاندانہ باجی آپ چاہتی کیا ہیں؟ یہ فتنہ فساد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں،میں نے ٹویٹ کیا ، ڈرم کو رسیاں ڈال کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنےکے لئے "گرین لائن” خیبر پختونخوا میں چل رہی ہے، 12 سال سے اس صوبے کے وسائل صرف وفاق پر چڑھائی کے لئے استعمال ہو رہے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات نہیں ہو سکتی، دھمکیاں دینے والے گھروں میں رہے،انکے سیکرٹری اطلاعات نے کمال کیا، باغ میں کھڑے ہو کر قوم سے خطاب کیا، شاندانہ گلزار کے ملک کے خلاف کام کرنے کا ایجنڈہ ملا ہوا ہے،

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ بیوقوفی ہوتی ہے ڈی چوک جائیں اور پھر جیل چلے جائیں ،پھربچوں کو کیوں بھیجا گیا، بچے خیبر پختونخوا سے لے کر آئے، ٹرینڈ کر کے لایا گیا افغان باشندوں کو 120 افراد اسلام آباد پولیس نے پکڑے،یہی ٹریننگ زمان پارک میں ہو رہی تھی، کیسے پولیس والوں کے سر پھاڑنے ہیں یہی ٹریننگ دی گئی، یہ بلوائی ہیں، جو پولیس اہلکار شہید ہوا اس کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے ، گنڈا پور کو اب یہ خود گالیاں دے رہے ہیں اسکو جو کہا گیا تھا اس نے وہ کر دیا، وہ بلوائیوں کو لے کر یلغار کرنے آیا تھا،بنگلہ دیش ماڈل دوہرانے کا پروگرام تھا لیکن یہاں غلطی ہو گئی جن بچوں کو لے کر آئے، پیسے دے کر ، انہوں نے جب دیکھا کہ لیڈر نہیں ہیں تو وہ پیچھے ہٹ گئے،گنڈا پور کو گالیاں دینے کا فائدہ نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جو اسکو گالیاں دے رہے ہیں، یوٹیوب ونگ کے سیکرٹری جنرل صدیق جان بھی بلبلا رہے ہیں کہہ رہے دھوکہ ہو گیا ،آپ کو پوری خبر کا پتہ نہیں ہے، صدیق جان نے اسوقت ٹویٹ کیا تھاجب سب کہہ رہے تھے کہ گنڈا پور لاپتہ ہو گیا، اسکا مطلب ہے کہ صدیق جان کو پتہ تھا پھر بھی لاپتہ ہونے کا ڈرامہ کیا گیا.

  • پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مریم نواز

    پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مریم نواز

    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نےیومِ اظہارِ یکجہتی فلسطین پر پیغام میں کہا ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حالتِ زار پر دنیا کی خاموشی انسانیت کیلئے ایک المیہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ فلسطین کے لوگ اپنے بنیادی حقوق اور اپنی زمین کے تحفظ کیلئے لڑ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔مسلم لیگ (ن) نے ہر فورم پر فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے فلسطین اور کشمیر کے مسئلے اور اس کے حل کا روڈ میپ جاندار انداز میں پیش کیا ہے۔پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔جب تک اس کا منصفانہ حل فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں نکلتا، دنیا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی مدد کیلئے آگے بڑھیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

  • وفاق اور پنجاب حکومت نے  بہترین سٹریٹجی سے بلوائیوں کی بغاوت ناکام بنادی،عظمی بخاری

    وفاق اور پنجاب حکومت نے بہترین سٹریٹجی سے بلوائیوں کی بغاوت ناکام بنادی،عظمی بخاری

    لاہور:وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی بہترین سٹریٹجی سے بلوائیوں کی بغاوت ناکام بنائی گئی-

    باغی ٹی وی: عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی بہترین سٹریٹجی سے بلوائیوں کی بغاوت ناکام بنائی گئی،شرپسند وں کے پتھراؤ سے ایک سینئر پولیس اہلکار شہید ہوا جبکہ درجنوں زخمی ہیں، یہ دہشتگرد اور فسادی کہتے ہیں ہمارا احتجاج پرامن تھا خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل اور سرکاری ملازمین کے ذریعے فیڈریشن پر یلغار کی گئی، احتجاج میں خیبرپختونخوا کی پولیس کے اہلکاروں اور افغان شہریوں کی شرکت باعث تشویش اور تحقیق طلب ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے تحریک فساد اور اسکے ماسٹر مائنڈ کو اس مرتبہ بھی مسترد کر دیا، جو انقلاب لانے نکلے تھے اب وہ جوتیاں چھوڑ کر بھاگ گئے، جس کے اپنے بچے لندن میں بیٹھے وہ قوم کے بچوں کو ریاست کے خلاف استعمال کر رہا ہے مجھے افسوس ہے ان والدین پر جو اپنے بچوں کو اس فتنے کی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں، کیا خیبر پختونخوا کے لوگوں کی قسمت میں دھرنے، جلسے اور مار دھاڑ ہی باقی رہ گئے ہیں؟

    علی امین گنڈا پور پولیس یا کسی ادارے کی حراست میں نہیں، وزیر داخلہ

    انہوں نے کہا کہ جو بہترین معیار زندگی کی سہولیات پنجاب کے لوگوں کو مل رہی ہیں ،وہی سہولیات کے پی کے عوام کا بھی حق ہیں، کے پی کے عوام کو اپنے بہتر مستقبل کیلئے ان شرپسندوں کا محاسبہ کرنا چاہئے، پاکستان جب بھی ٹریک پر آتا ہے تو ایسے فتنے رخنہ ڈالنے کیلئے باہر نکل آتے ہیں۔

    لاہور: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر بغاوت، دہشتگردی کا مقدمہ

  • احتجاج کی آڑ میں تشدد اور دہشتگردی کی اجازت نہیں منہ توڑ جواب ملے گا،مریم نواز

    احتجاج کی آڑ میں تشدد اور دہشتگردی کی اجازت نہیں منہ توڑ جواب ملے گا،مریم نواز

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں تشدد اور دہشت گردی کی اجازت نہیں منہ توڑ جواب ملے گا-

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں کانسٹیبل کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور واقعہ کی شدید مذمت کی، مریم نواز نے شہید کانسٹیبل حمید شاہ کے اہلخانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، حمید شاہ شہید اور دیگر ڈیوٹی اہلکاروں پر تشدد کی شدید مذمت بھی کی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں تشدد اور دہشت گردی کی اجازت نہیں منہ توڑ جواب ملے گا،تشدد اور دہشتگردی کا راستہ اختیار کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے، عوام پوچھتے ہیں یہ کیسا پرامن احتجاج ہے جس میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو حملے کر کے زخمی کردیا گیاتحریک انتشارمسلح جتھے کی شکل اختیار کر چکی ہے، نام نہاد احتجاج کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار متاثر ہوا، لاکھوں شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، دوسروں کو اذیت دینا اور عوام کی جان وما ل پر متعین پولیس اہلکاروں پر تشدد کونسی سیاست ہے۔

    گنڈا پورکے خیبر پختونخوا ہاؤس سے غائب ہونے کے حقائق منظر عام پر

    لاہور: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر بغاوت، دہشتگردی کا مقدمہ

    علی امین گنڈا پور پولیس یا کسی ادارے کی حراست میں نہیں، وزیر داخلہ

  • لاہور: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر  بغاوت، دہشتگردی کا مقدمہ

    لاہور: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر بغاوت، دہشتگردی کا مقدمہ

    لاہور:بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر لاہور میں بغاوت، دہشتگردی کا مقدمہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے تناظر میں تھانہ اسلام پورہ میں ریاست کے خلاف بغاوت، دہشت گردی اور اقدام قتل کی سنگین دفعات کے تحت چئیرمین پی ٹی آئی ،رہنماؤں اور 200 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مقدمے میں حماد اظہر ،سلمان اکرم راجا،غلام محی الدین، ایم پی اے شہباز، مسرت جمشید چیمہ، شیخ امتیاز، علی امتیاز، شبیر گجر سمیت دیگر رہنماؤں کو نامزد کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں غیر معمولی سہولیات حاصل ہیں، چئیرمین نے جیل کے اندر سے ان رہنماؤں کو ریاست کے خلاف تشدد پر اکسایا، جس پر ان رہنماؤں نے کارکنوں کے ساتھ ریاست مخالف نعرے بازی کی اور توڑ پھوڑ کی، کارکنوں نے کانسٹیبل بلال کو زخمی کیا، پولیس نے موقع سے 16 مشتعل کارکنوں کو حراست میں لیا، مشتعل کارکنوں کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی آج وطن واپس آئیں گے

    علاوہ ازیں شہر میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج کرنے پر تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے،تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف تھانہ ملت پارک اور ہنجروال میں بھی مقدمات درج کیے گئے۔

    اے ایس آئی عقیل کی مدعیت میں 20 کارکنوں کے خلاف تھانہ ہنجروال میں مقدمہ درج کیا گیا ہنجروال پولیس نے گزشتہ روز کارکنوں کو احتجاج کیلئے نکلنے پر گرفتار کیا تھا،تھانہ ملت پارک میں مقدمہ سب انسپکٹر حافظ عمران کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمہ 10 کارکنوں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا۔

    جب تک کپتان حکم نہیں دیتے احتجاج جاری رہے گا،شیخ وقاص اکرم

    تھانہ ٹیکسلا پولیس نے بھی بانی پی ٹی آئی سمیت 300 افراد پر دہشتگردی دفعات و دیگر سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا، مقدمے میں دیگر قائدین راجہ بشارت ،تیمور مسعود ،اجمل صابر راجہ ،ضیاد خلیق کیانی ، شہریار ریاض ، راجہ راشد حفیظ، اعجاز خان جازی ، ناصر محفوظ ، ایڈووکیٹ عقیل ، چوہدری امیر افضل ،راجہ شہباز ، عثمان ٹائیگر کو نامزد کیا گیا ہے ٹیکسلا پولیس نے 105 مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا۔

  • پی ٹی آئی کے دھرنے کیخلاف درخواستیں 10سال بعد سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کے دھرنے کیخلاف درخواستیں 10سال بعد سماعت کیلئے مقرر

    لا آئی کے 2014ء کے دھرنے کیخلاف درخواستیں10سال بعد سماعت کیلئے مقررکر دی گئیں، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ 10 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اس حوالے سے کاز لسٹ جاری کر دی ۔تحریکِ انصاف کے دھرنے کے خلاف درخواست دائر کرنے والے وکیل اے کے ڈوگر انتقال کر چکے ہیں۔درخواستوں میں عوامی تحریک، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو فریق بنایا گیا تھا۔واضح رہے کہ 2014ءمیں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان اور طاہر القادری نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف دھرنا دیا۔دونوں رہنماوں نے طویل دھرنا دے کر توہین عدالت کی۔ لہٰذا عدالت ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے۔

    بھارت میں خون ریز نسلی فسادات ،پولیس کیساتھ مظاہرین کی جھڑپیں، حالات کشیدہ

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر جلد سماعت کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیاگیا تھا۔معروف قانون دان اے کے ڈوگر نےلاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں مرکزی کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان اور طاہر القادری نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف دھرنا دیاتھا۔ دونوں رہنماﺅں نے طویل دھرنا دے کر توہین عدالت کی تھی۔عدالتی احکامات کے منافی عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنا دینے ، عدالتی احکامات سے روگردانی کرنے پر ان رہنماﺅں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    کراچی میں منوڑا کے ساحل پر دو خواتین سمیت چار افراد ڈوب گئے

    درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت تھی تاہم درخواست 3 ماہ سے سماعت کیلئے مقرر نہیں کی گئی تھی۔درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ توہین عدالت ایک اہم نوعیت کا معاملہ ہے، اس لیے عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کی جائے۔

  • وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    وزیراعلی پنجاب نے پی ٹی آئی کو دہشت گرد جماعت قرار دے دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی، ہے اور نہ ہو سکتی ہے، یہ ایک دہشت گرد جماعت ہے جو بار بار اپنے ہی ملک پر حملہ آور ہوتی ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک پیغام میں مشورہ دیا کہ ریاست کو ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بھیس میں تحریک انتشار کا واحد مقصد ملک میں آگ لگانا ہے، یہ کسی رعایت یا نرمی کی مستحق نہیں ہے۔مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لشکر کی فرنٹ لائنز میں تربیت یافتہ دہشت گرد شامل ہیں، کون سا ملک یہ برداشت کرتا ہے؟
    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے پی ٹی آئی نے ہر حال میں ڈی چوک جانے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث حکومت نے قیام امن کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی طلب کر لیا ہے. دوسری طرف اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے پولیس اور مظاہرین میں جحڑپوں کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں.

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

  • لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

    لاہور میں قیام امن کیلئے رینجرز طلب

    لاہور میں امن و امان قائم رکھنے کےلیے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق لاہور میں رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے، طلبی کا مقصد صوبائی دارالحکومت میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق جی پی او چوک کے باہر اور کئی دیگر پوائنٹس پر رینجرز موجود ہے۔خیال رہے کہ لاہور میں احتجاج کے پیش نظر شہر کے داخلی راستے بند کرکے مختلف شاہراہوں پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔ جی ٹی روڈ سے بتی چوک آنے والا راستہ کنٹینر لگا کر مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، مینار پاکستان جانے والے تمام راستوں پر بھی کنٹینر رکھ دیےگئے ہیں۔ رنگ روڈ محمود بوٹی سمیت مختلف مقامات سے بند ہے،گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں ۔ بابو صابو انٹر چینج بھی کنٹینرز کے ذریعے سیل کردیا گیا ہے۔

    ایمبولینسیں پھنسنے سے مسافروں کے ساتھ ساتھ مریض بھی پریشان ہیں۔ لاہور سے دوسرے شہر جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہے اور ویگن والوں نے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔دوسری جانب ایس سی او کانفرنس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کو طلب کیا ہے۔وزارت داخلہ پنجاب کی جانب سے فوج کی خدمات سے متعلق قواعد کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو طلب کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس سے مل کر ایس سی او کانفرنس میں امن و امان برقرار رکھے گی، ائیر پورٹس، راستوں، مقامات اور اردگرد علاقوں میں امن و امان برقرار رکھا جائے گا۔

    پنجاب حکومت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوج کو واضح غیر مبہم رولز آف انگیجمنٹ دیے گئے ہیں، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی خطرے کی اطلاع حاصل کرسکیں گے، دشمن عناصر، ہجوم یا فسادیوں کی طرف سے حملہ یا دھمکی کے موقع پر اقدامات کر سکیں گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گرد و نواح میں فوج کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔

  • حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    حافظ نعیم الرحمان کا پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور حکومت کے اقدامات پر شدید تنقید

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا قانونی حق تسلیم کیا جانا چاہیے اور حکومت کو مظاہرین کو سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امن و امان کے نام پر جمہوری اقدار کی پامالی کر رہی ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے دیگر رہنما، بشمول لیاقت بلوچ، امیر العظیم، اور قیصر شریف بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو قانونی اور جمہوری حق کے طور پر تسلیم کرے، لیکن اس کے بجائے حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا ہے اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ لاہور کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ "ہم نے کئی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کیا جب ہم شہروں اور دیہاتوں سے گزر کر لاہور پہنچے۔ کنٹینرز کی بھرمار حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔” حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ کیا فوج کو عوام کے سامنے لا کھڑا کرنا حکومت کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ انہوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے فوج اور عوام کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت فوج کو امن و امان کے قیام کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ملک میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ "آنسو گیس اور عوام کو صوبہ جام کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ مارشل لاء کے دوران بھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی گئی جو اس نام نہاد جمہوری حکومت کے دوران پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جو سیاسی جماعت جہاں جلسہ کرنا چاہتی ہے اسے اجازت دی جائے اور راستے کھولے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکے۔ "پنجاب کا پورا صوبہ پریشانی میں مبتلا ہے۔ موٹروے اور جی ٹی روڈ بند ہیں، بیماروں اور عام شہریوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ حکومت کے پاس طاقت ہے تو وہ اسے عوامی مفاد میں استعمال کرے اور حالات کو بہتر بنائے۔”
    حافظ نعیم الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیل کی بمباری کو بدترین ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں فلسطینی شہری، بشمول بچے اور خواتین، زخمی اور شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے خطے میں جنگ کو مزید پھیلانے کا منصوبہ بنایا ہے، اور اب یمن اور ایران پر بھی حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک عالمی جنگ کا آغاز ہو سکے۔امیر جماعت اسلامی نے پاکستان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر اسلامی ممالک کی کانفرنس طلب کرنی چاہیے تاکہ تمام اسلامی ممالک کو متحد کیا جا سکے۔ "اگر پورا عرب خطہ جنگ کی آگ میں جل رہا ہو گا، تو کیا ہم بچ پائیں گے؟” انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے اور ایک مشترکہ موقف اپنائے تاکہ دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا جا سکے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منائے گی اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس دن دوپہر بارہ بجے سڑکوں پر نکلیں اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ "ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 7 اکتوبر کو لوگ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور ثابت کریں کہ وہ غزہ کے ساتھ ہیں۔انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ 7 اکتوبر کو یوم یکجہتی غزہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ملک میں حالات خراب رہے اور صوبے لاک ڈاؤن رہے تو دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس نے موجودہ سیاسی اور علاقائی مسائل پر نہ صرف حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ عوام کو بھی فعال ہونے کی ترغیب دی، خاص طور پر فلسطینی عوام کے لیے حمایت کے اظہار کے لیے 7 اکتوبر کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔

  • ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    ایوان عدل ،جی پی او چوک اور مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد کے بعد لاہور میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں اور گرفتاریوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد بانی تحریک انصاف، عمران خان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر احتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔لاہور میں احتجاج کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا، جہاں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پرچم اٹھا کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کی۔ کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ پارٹی قیادت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات اور کارکنوں کی گرفتاریوں کو فوری روکا جائے۔ تاہم، جب مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور احتجاج زیادہ منظم ہوا تو پولیس نے فوری طور پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران معروف وکیل اور پی ٹی آئی کے قانونی مشیر سلمان اکرم راجا سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    لاہور میں ایوان عدل کے باہر پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وکلا کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تصادم کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے وابستہ 6 سے زائد وکلا کو گرفتار کر لیا ہے۔ زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد کے لیے پی ایم جی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے اس واقعے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور انتشار پھیلانے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
    مینار پاکستان سے بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں ایک خاتون کارکن نے تمام سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مینارِ پاکستان کے پل تک رسائی حاصل کی اور وہاں پہنچ کر پارٹی پرچم لہرایا۔ یہ واقعہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج ثابت ہوا، جس نے سیکیورٹی رکاوٹوں کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر دیا۔ پولیس نے فوری طور پر خاتون کارکن سمیت کئی دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔احتجاج کے نتیجے میں لاہور کے مختلف علاقوں میں داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر جی پی او چوک، داتا دربار اور مینارِ پاکستان کے گردونواح میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اور جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر اور دیگر مقامات پر پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ سڑکوں پر کنٹینرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد موجود ہے، جس سے آمدورفت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
    پنجاب حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے سے موجود پولیس کی نفری کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا تھا، تاہم بڑھتے ہوئے مظاہروں اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ رینجرز کی تعیناتی کا مقصد مظاہروں کو قابو میں رکھنا اور لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے اور شہر میں مزید انتشار پھیلنے سے روکا جا سکے۔
    پی ٹی آئی کی قیادت نے ان گرفتاریوں اور حکومتی کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔