Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    لاہور: پنجاب حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لاہور میں 6 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی، جس کے تحت 3 سے 8 اکتوبر تک مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبائی دارالحکومت میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس پابندی کا اطلاق جمعرات 3 اکتوبر سے منگل 8 اکتوبر تک ہو گا، جبکہ محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ شہر میں امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، سیکیورٹی خطرات کے باعث عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا ہے ، عوامی آگاہی کیلئے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کی گئی۔

    بجلی کے بلوں میں کمی نہ لائی گئی تو تحریک منظم کی جائے گی …

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب حکومت نے دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر صوبے کے 6 اضلاع میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا تھا، اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھاد فعہ 144 کا نفاذ میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ میں ہوگا، میانوالی میں دفعہ 144 کا نفاذ یکم سے 7 اکتوبر تک کیا گیا جبکہ دیگر 5 اضلاع میں دفعہ 144 کا نفاذ 2 دن کے لیے کیا گیا۔

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں …

  • پنجاب بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

    پنجاب بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

    لاہور (باغی ٹی وی)پنجاب بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

    تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر بیوروکریسی میں تبدیلیاں کرتے ہوئے متعدد ڈپٹی کمشنروں کے تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان مہر شاہد زمان کو چیف آپریٹنگ آفیسر ٹیکنیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا ہے۔
    قرآت العین میمن کو ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ تعینات کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ محمد طارق قریشی کو محکمہ سروسز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہےجبکہ عمرانہ توقیر کو ڈپٹی کمشنر وہاڑی تعینات کیا گیا ہے۔
    فرحان فاروق کو ڈپٹی کمشنر بہاولپور تعینات کیا گیا ہے۔

    محمد عثمان خالد کو ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اورنوید احمد کو ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا ہے اورصفی اللہ خان کو ڈپٹی کمشنر چینوٹ تعینات کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر بہاولپور ظہیر انور کو ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈوپلپمنٹ بورڈ تعینات کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ میاں عثمان علی کو ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ کھیل تعینات کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر وہاڑی سید آصف حسین شاہ کو ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی تعینات کیا گیا ہے۔

    یہ تبدیلیاں صوبے میں ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔

  • پنجاب حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی، مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن اور احتجاج کی ممانعت

    پنجاب حکومت نے دفعہ 144 نافذ کردی، مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن اور احتجاج کی ممانعت

    پنجاب حکومت نے مختلف شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں میانوالی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، رینجرز کی دو کمپنیوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوامی اجتماع کو روکا جا سکے۔ بہاولپور میں پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ شہر میں مہنگائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
    بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ مقامی پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا ہے، اور انتظامیہ نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ پی ٹی آئی کے مہنگائی کے خلاف احتجاج کو ناکام بنایا جا سکے۔

    فیصل آباد میں احتجاج اور گرفتاریاں
    فیصل آباد میں بھی پی ٹی آئی کے صدر حماد اظہر نے احتجاج میں شرکت کی، جہاں کارکنان کے ہمراہ نعرے لگاتے ہوئے وہ پولیس کے ساتھ آمنے سامنے آ گئے۔ پولیس نے حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن کارکنان نے ان کا تحفظ کیا۔ گھنٹہ گھر چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے شیلنگ کا استعمال کیا۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مزید چھ ارکان اسمبلی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر گرفتار شدہ ارکان کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ یہ گرفتاریاں گھنٹہ گھر چوک سے رائے احسن کھرل، خیال کاسترو، اور اسد محمود کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی ایم پی اے جاوید نیاز منج کی رہائش گاہ سے کی گئیں۔
    دفعہ 144 کا نفاذ میانوالی، فیصل آباد، بہاولپور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ میں کیا گیا ہے۔ میانوالی میں یہ پابندی یکم سے سات اکتوبر تک نافذ رہے گی، جبکہ دیگر پانچ اضلاع میں یہ پابندی دو دن کے لیے ہے۔ یہ فیصلہ صوبے میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس پابندی کا مقصد عوامی اجتماعات کو دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
    پنجاب حکومت کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو آئین کے تحت احتجاج کا حق ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت دفعہ 144 کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے، کیونکہ یہ صرف پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔حکومت نے حال ہی میں صوبائی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے، جس کے تحت دفعہ 144 کو کم از کم تین ماہ کے لیے نافذ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ، حکومت کی جانب سے عوامی اجتماعات پر پابندی کی مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  • مریم نواز شریف نے "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا افتتاح کیا

    مریم نواز شریف نے "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا افتتاح کیا

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے ہمراہ "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ سکیم عوامی رہائش کے مسائل کے حل کے لیے متعارف کروائی گئی ہے، جس کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو گھر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ تقریب ایک شاندار موقع پر منعقد کی گئی، جہاں مریم نواز نے نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس موقع پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا، "نواز شریف صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے میری درخواست پر یہاں تشریف لائے۔ یہ تقریب نواز شریف کے بغیر ادھوری رہتی۔” مریم نواز نے نواز شریف کی بصیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1980 کی دہائی میں عوام کے لیے ایک خواب دیکھا تھا، اور اسی خواب کے تحت "اپنی چھت، اپنا گھر” سکیم کا آغاز ہوا۔
    مریم نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف ہمیشہ انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔ انہوں نے اس سکیم کے تحت 700 بلین روپے کے منصوبے کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ منصوبہ ابتدائی طور پر چھوٹے سطح پر شروع کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر سے 5 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان درخواستوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 لاکھ قرضے دیے جائیں گے، جس سے 5 لاکھ گھر بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شہروں میں 5 مرلے اور دیہاتوں میں 10 مرلے زمین کے مالکان کو قرض دیا جائے گا۔ درخواست دہندگان کو صرف اپنا شناختی کارڈ اور زمین کا کاغذ دکھانا ہوگا، اور وہ قرض حاصل کر سکیں گے۔ مریم نواز نے بتایا کہ یہ سکیم 15 لاکھ تک کے قرضے فراہم کرے گی، اور ہر سال ایک لاکھ گھروں کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ مزید برآں، غریب طبقوں سے بھی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس قرض کی واپسی کی مدت 9 سال ہوگی، اور خاص بات یہ ہے کہ اس قرض سکیم میں کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگوں کو اس منصوبے کی پہلی قسط فراہم کی جا رہی ہے، جو کہ ڈیڑھ ماہ کی قلیل مدت میں فراہم کی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ نے اس موقع پر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہے اور ملک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ مریم نواز نے اس تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ بعض عناصر ابھی بھی ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے تنقید کی کہ جبکہ حکومت عوام کی خدمت میں مصروف ہے، کچھ لوگ صرف گالیاں دینے اور پروپیگنڈا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ لوگ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کی جانب توجہ دینے کے بجائے تخریب کاری کی باتیں کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس تقریب کے ذریعے عوام کو یہ یقین دلایا کہ حکومت ان کی مشکلات کو سمجھی رہی ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ سکیم ایک تاریخی قدم ہے جو عوام کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کرے گی اور انہیں مالی طور پر مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔

  • نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک جارحانہ خطاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ڈی چوک میں کھڑے ہوکر ایک منتخب وزیراعظم کو رسہ ڈالنے کی دھمکیاں دینے والا شخص آج جیل میں ہے۔ نواز شریف نے کہا، "یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔”نواز شریف نے لاہور میں پنجاب حکومت کے تحت شروع کیے گئے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب پر یلغار کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان لڑائی کرانا چاہتے ہیں تاکہ خون خرابہ ہو؟ انہوں نے کہا، "یہ کبھی نہیں ہوگا، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
    نواز شریف نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں بیٹھے شخص سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ارب درختوں کا منصوبہ اور دیگر بڑی اسکیمیں کہاں ہیں؟ نواز شریف نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت صرف مار دھاڑ میں نمبر ون اور کارکردگی میں صفر ہے۔نواز شریف نے آئی ایم ایف سے متعلق اپنی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ن لیگ کی حکومت میں آئی تو انہوں نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا، لیکن مخالفین نے دوبارہ آئی ایم ایف کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی سیاست اور خدمت کی سیاست میں واضح فرق ہوتا ہے اور ن لیگ ہمیشہ عوام کی خدمت کی سیاست کرتی آئی ہے۔
    نواز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس آج بھی وہ آڈیو موجود ہے جس میں ثاقب نثار کہہ رہے تھے کہ "نواز شریف کو نکالنا ہے اور عمران خان کو لانا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اس آڈیو پر سوالات نہیں اٹھائے جو افسوس کی بات ہے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ریاست کے ستونوں نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور 5 ججوں نے 25 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا، لیکن ان سے کسی نے سوال نہیں کیا۔نواز شریف نے واضح طور پر کہا کہ ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے جو پاکستان میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملکی ترقی کو پیچھے دھکیلا اور عوام کو دھوکے میں رکھا۔
    نواز شریف نے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کو پنجاب حکومت کا ایک شاندار منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ کی حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو آج ملک میں کوئی بھی بے گھر نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں کبھی اڑھائی سال تو کبھی تین سال بعد نکال دیا گیا، جس کی وجہ سے ملکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دیتی آئی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمیں ہمیشہ کام سے روکا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت جب بھی ترقی کے چار قدم آگے بڑھتی، مخالفین آٹھ قدم پیچھے دھکیل دیتے، جو کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے۔
    نواز شریف نے اپنے خطاب میں ن لیگ کی حکومت کی کارکردگی کا بھرپور دفاع کیا اور پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عوامی خدمات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر سے نمٹا جائے جو ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔نواز شریف کا یہ خطاب ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم اور عوام کی حمایت کے حصول کی کوششوں کا حصہ تھا، جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کی خدمات کو اجاگر کیا اور مخالفین پر سخت تنقید کی۔

  • شبلی فراز کی توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج

    شبلی فراز کی توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج

    اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما و سینیٹر شبلی فراز کا نام سفری پابندی(ای سی ایل) کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود سینیٹر شبلی فراز کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی، شبلی فراز کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، ایف آئی اے اور پاسپورٹ امیگریشن حکام عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کو فوری طور پر عدالت طلب کیا گیا۔

    وکیل ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے کی صرف پی این آئی ایل لسٹ ہوتی ہے جس میں شبلی فراز کا نام شامل نہیں، پاسپورٹ امیگریشن حکام نے بتایا کہ ہم نے پی سی ایل (پاسپورٹ کنٹرول لسٹ) سے نام نکال دیا تھا، اب یہ ای سی ایل پر ہیں جو وزارت داخلہ کے ماتحت آتا ہے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بلا لیں ان سے پوچھ لیتے ہیں، وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شائستہ خالد عدالت میں پیش ہوئیں اور بتایا کہ سینیٹر شبلی فراز کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شبلی فراز کا نام ای سی ایل اور پی سی ایل دونوں سے نکال دیا ہے، راستوں کی بندش کے باعث وزارت داخلہ حکام رستے میں ہیں، نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کی عمل درآمد رپورٹ کچھ دیر بعد پیش کر دیں گے۔

    آرٹیکل 63 اے: نظرثانی اپیلوں پر تیسری سماعت آج ہو گی

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہوچکا ہے لہٰذا توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج کی جاتی ہے،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد شبلی فراز کی توہین عدالت کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئی۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف دونوں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کر لیے۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف منیر احمد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی ،سماعت لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کی،دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ سے 63 اے نظر ثانی کیس کا فیصلہ ہوا تو یہ درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی، جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس درخواست کو سنیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دونوں درخواستوں میں ایک ہی طرح کے سوالات اٹھائے گئے ہیں جس پر عدالت نے دونوں درخواستیں یکجا کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے دونوں درخواست گزاروں سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کر لیے،لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو معاونت کے لیے 7 اکتوبر کو طلب کر لیا جبکہ عدالت نے افتخار احمد کی نئی درخواست کی کاپی سرکاری وکیل کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

    آرٹیکل 63 اے: نظرثانی اپیلوں پر تیسری سماعت آج ہو گی

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا، درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے، عدالت پٹیشن کے حتمی فیصلے تک صدارتی آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا حکم جاری کرے۔

    واضح رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا،قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 منظور کیا تھا۔

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم …

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیا ہے؟

    آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی، آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہوں گے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہوں گی۔

    ٹیسٹ سیریز :انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

  • بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری

    بینائی سے محروم افراد کا دھرنا 9ویں روز میں داخل، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری

    لاہور: بینائی سے محروم افراد کا احتجاجی دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کے منصوبے کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔نابینا افراد نے حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے پر فیصل چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا آغاز کیا تھا۔ مارچ کے دوران گورنر ہاؤس کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے افراد زخمی ہوئے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور ڈی سی لاہور سمیت دیگر حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نابینا افراد پر تشدد کی خبریں غلط ہیں۔ "ہم گزشتہ 9 دنوں سے ان کے ساتھ ہیں اور ہمارے بھی 8 سے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ان کے مطالبات کے حوالے سے جلد ایک پلان کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری جانب نابینا مظاہرین نے کہا کہ وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مستقل ملازمتوں کی فراہمی کا اعلان نہیں ہوتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

  • پاکستانی کرکٹر نے  غیر مسلم بھارتی لڑکی سے منگنی کر لی

    پاکستانی کرکٹر نے غیر مسلم بھارتی لڑکی سے منگنی کر لی

    لاہور: پاکستانی کرکٹر رضا حسن نے بھارت سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم لڑکی پوجا سے منگنی کرلی۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ رضا حسن اور پوجا کی منگنی نیویارک میں ہوئی اور دونوں کی شادی آئندہ برس فروری میں ہوگی،میڈیا رپورٹ میں رضا حسن کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حسن اور پوجا کی شادی کی باقاعدہ تقریب اگلے برس فروری میں منعقد کی جائے گی، منگیتر کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حسن کا کہنا تھا کہ پوجا مذہب اسلام میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور جلد ہی مسلمان ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    واضح رہے کہ رضا حسن اب پاکستان کوچھوڑ کر امریکا منتقل ہوچکے ہیں، وہ ایک ون ڈے اور 10 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکےہیں۔

  • پنجاب حکومت کا لیگی پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے 61 کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا لیگی پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے 61 کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    لاہور: حکومت پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے لگژری گاڑیاں خریدنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، 61 کروڑ 24 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے 76 مہنگی گاڑیاں خریدی جائیں گی، جنہیں پارلیمانی سیکرٹریز اور مختلف سرکاری افسران کے استعمال میں دیا جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے 29 لگژری گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ یہ گاڑیاں مخصوص طور پر ان سیکرٹریز کے پروٹوکول اور دیگر سرکاری استعمال کے لیے فراہم کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ، پنجاب کے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی (سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ) کے لیے 9 کروڑ 96 لاکھ روپے کی لاگت سے 15 گاڑیاں خریدی جائیں گی، جن میں اعلیٰ افسران اور محکمے کے پروٹوکول کے لیے مخصوص گاڑیاں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایس اینڈ جی اے ڈی کے پروٹوکول کے لیے خصوصی طور پر 3 کروڑ 61 لاکھ روپے کی دو لگژری گاڑیاں بھی خریدی جائیں گی۔ ان گاڑیوں کو محکمے کے افسران اور پروٹوکول کے اہم مواقع پر استعمال میں لایا جائے گا۔ صوبائی وزراء کے پروٹوکول کے لیے 20 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مالیت سے 30 لگژری گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ یہ گاڑیاں وزراء کے سرکاری و نجی پروٹوکول کے لیے استعمال کی جائیں گی، تاکہ ان کی سہولت اور نقل و حمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
    واضح رہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے 76 لگژری گاڑیاں خریدنے کی درخواست کی تھی، جس پر عمل درآمد کا آغاز جلد متوقع ہے۔ اس فیصلے پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اس فیصلے کو عوامی پیسے کا ضیاع قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ دوسری جانب، حکومت اس فیصلے کو ضروری قرار دے رہی ہے تاکہ اہم عہدیداروں کو ان کی سرکاری ذمہ داریوں میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ یہ فیصلہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے ایک متنازع موضوع بن چکا ہے، اور حکومت کو اس حوالے سے ممکنہ عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔