Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب: آج سے  8 اپریل  تک بارشوں کا امکان

    پنجاب: آج سے 8 اپریل تک بارشوں کا امکان

    پنجاب میں آج شام سے 8 اپریل تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور ژالہ باری کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، گجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، سرگودھا، میانوالی، شیخوپورہ، گجرات، خوشا ب اور منڈی بہاؤالدین میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے،لاہور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور گردو نواح میں بھی بارش کا امکان ہے، ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔

    ایران میں فوجی تنصیب پر مبینہ حملے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا ہے اور عوام سے محفوظ مقامات پر ر ہنے کی ہدایت کی ہے آسمانی بجلی کے دوران کھلے مقامات تلے نہ جائیں اور کسان اپنی زرعی سرگرمیوں میں موسمی حالات کو مدنظر رکھیں، شمالی علاقہ جا ت کے سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

  • 
لاہور قلندرز کا ٹیومر میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان

    
لاہور قلندرز کا ٹیومر میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان

    
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے ٹیومر میں مبتلا ایک بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس نے کپتان شاہین شاہ آفریدی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔
    تفصیلات کے مطابق فرزان نامی بچہ گزشتہ چار سال سے ٹیومر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور وہ لاہور قلندرز کا بہت بڑا مداح ہے۔ بچے نے اپنے پیغام میں بتایا کہ اس کا تعلق گوجرانوالہ کے علاقے قلعہ دیدار سنگھ سے ہے اور وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑی شاہین آفریدی سے ملنا چاہتا ہے۔
    ‎لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے بچے کا پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بہادر بچے کو میچ میں مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے پسندیدہ کپتان سے ملاقات کر سکے۔
    ‎انتظامیہ نے مزید کہا کہ بچے کو خوش کرنے کے لیے ٹیم کی جانب سے دستخط شدہ شرٹ بھی تحفے میں دی جائے گی تاکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جا سکے۔
    ‎لاہور قلندرز کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے جہاں صارفین نے ٹیم کے اس انسان دوست قدم کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھیل صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ انسانیت اور امید کا پیغام بھی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے بچوں کے لیے جو زندگی کی مشکل جنگ لڑ رہے ہوں۔

  • اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    اپووا کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس،ایوارڈز تقسیم

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے چھٹی سالانہ خواتین کانفرنس کا انعقاد لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیریٹیج میں نہایت شاندار اور پروقار انداز میں کیا گیا۔ اس باوقار تقریب میں ملک بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ پروگرام ایک بھرپور، کامیاب اور یادگار اجتماع ثابت ہوا۔تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین میں ایوارڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جس نے شرکاء کے حوصلے کو مزید بلند کیا۔

    اپوواکی خواتین کانفرنس کے موقع پر باغی ٹی وی اور اپووا کے مشترکہ زیر اہتمام منعقد ہونے والے "شانِ پاکستان” تحریری مقابلے میں بہترین تحریریں پیش کرنے والے شرکاء میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ اپووا کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لکھاریوں میں "شانِ پاکستان ایوارڈ” تقسیم کیے۔باغی ٹی وی کی جانب سے شان پاکستان ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی، رقیہ غزل،قرۃ العین خالد اور ماریہ خان شامل تھے، جن کی تحریروں کو معیار، موضوع اور قومی جذبے کے اعتبار سے بہترین قرار دیا گیا،

    خواتین کانفرنس میں وائس چیئرپرسن سوشل ڈویلپمنٹ جہاں آرا منظور وٹو، معروف سماجی کارکن عائشہ احد ملک، ڈپٹی سیکرٹری گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، اور اداکارہ، ماڈل و سوشل ورکر رابی پیرزادہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ اس کے علاوہ معروف ادیب و شاعر ناصر بشیر، ملک یعقوب اعوان اور دیگر علمی و ادبی شخصیات کی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔تقریب کا آغاز حافظ محمد زاہد نے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پڑھنے کی سعادت سکینہ خان نے حاصل کی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر فضیلت بانو نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سمیرا شفق اور مدیحہ کنول نے احسن انداز میں سرانجام دیے۔ یہ شاندار تقریب بانی و صدر ایم ایم علی کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی۔اس موقع پر ہمدرد ادارہ کی جانب سے خواتین کے لیے خوبصورت تحائف اور تعریفی اسناد پیش کی گئیں، جس پر آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سی ای او ہمدرد مس فاطمہ زہرہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر ہمدرد سید علی بخاری نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات و تحائف تقسیم کیے۔

    مزید برآں، بذریعہ قرعہ اندازی بھی خواتین کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ دیگر شرکاء کے لیے بھی دلکش تحائف کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں خواتین کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کے اعتراف اور معاشرے میں ان کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔یہ کانفرنس نہ صرف ایک منظم، شاندار اور باوقار تقریب ثابت ہوئی بلکہ خواتین کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے۔
    apwwa

    apwwa

    apwwa

    apwwa

  • چکن سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

    چکن سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

    پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل کر دی ہے۔ مارکیٹوں میں دکانداروں کی جانب سے قیمتیں از خود بڑھانے کے رجحان نے مہنگائی کو غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا ہے۔لاہور میں چکن کی قیمتیں سرکاری نرخ 595 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 630 روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔ انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھ کر 232 روپے درجن تک پہنچ گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف پھلوں کے نرخوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عام صارفین کی خریداریاں محدود ہو گئی ہیں۔

    راولپنڈی میں بھی مہنگائی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔ زندہ مرغی کی قیمت بڑھ کر 470 روپے فی کلو اور گوشت کی قیمت 650 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہری اب روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔پشاور میں ایک دن کے اندر مرغی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو اضافہ ہوا، جس کے بعد زندہ مرغی کے نرخ 455 سے بڑھ کر 490 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ گوشت کی قیمت بھی 780 روپے فی کلو ہو گئی، جس نے عوام کی خریداری کی طاقت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مارکیٹ میں سپلائی چین کے مسائل، بڑھتی ہوئی پیداوار کی لاگت اور دکانداروں کی منافع خورانہ رویے کی وجہ سے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور مارکیٹ میں ریگولیشن سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت عام آدمی کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے، اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اشیاء کی قیمتوں میں اس رفتار سے اضافہ جاری رہا تو ملک میں معاشی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • پنجاب میں موٹرسائیکل سوار 20 لیٹر پٹرول کم قیمت پر کیسے حاصل کر سکتے

    پنجاب میں موٹرسائیکل سوار 20 لیٹر پٹرول کم قیمت پر کیسے حاصل کر سکتے

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے عوام، خصوصاً موٹر بائیک استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ہے، جسے موجودہ مہنگائی کے دور میں عوامی سہولت کے لیے اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پورے صوبے میں موٹر بائیک رجسٹریشن فیس اور ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے لاکھوں شہریوں کو فوری مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ریلیف پیکیج کے تحت ہر رجسٹرڈ موٹر بائیک مالک کو ماہانہ 2000 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ مزید یہ کہ حکومت کی جانب سے ہر رجسٹرڈ بائیک کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر خصوصی سبسڈی دی جائے گی، موٹر سائیکل سوار شہریوں کو پٹرول فی لیٹر 100 روپے کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔

    حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ ریلیف پیکیج فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ موٹر بائیک مالکان کو سبسڈی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔شہری ہیلپ لائن 1000 پر کال کر کے معلومات حاصل کر سکتے ہیں،موبائل صارفین Maryam ko Batayn ایپ کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں،آن لائن درخواست کے لیے سرکاری ویب پورٹل mkb.punjab.gov.pk بھی فعال کر دیا گیا ہے

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت عام آدمی پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیکیج خاص طور پر متوسط اور نچلے طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا اور سفری اخراجات میں نمایاں کمی لائے گا۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔سبیل اکرام

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔سبیل اکرام

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ظالمانہ اضافہ عوام پر کھلا خودکش حملہ ہے۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے ۔ ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 211 روپے صرف ٹیکس، لیوی اور مختلف چارجز کے نام پر وصول کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا وہ ممالک جو جنگ سے براہ راست متاثر ہیں ان میں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایک طرف عوام کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے باآسانی گزررہے ہیں اور دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کردیا گیا ہے کہ جو لوگوں کو کچل دے گا اور معیشت کو تباہ کردے گا ۔فی لیٹر پٹرول پر عائد لیوی اور مختلف ٹیکسز یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ عوام کی خالی ہوتی جیب، مزدور کے بجھتے چولہے اور سفید پوش طبقے کی ٹوٹتی امیدوں کی کہانی ہے جس نے ہر فرد کی مشکلات کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا دیا ہے۔اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ درحقیقت مہنگائی کے ایک نہ ختم ہونے والے طوفان کو جنم دے گا ۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، بجلی اور گیس کے بل عوام کے لیے ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں۔ ایک عام آدمی جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اب مکمل بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں ۔ وزراء اور سرکاری افسران کو ملنے والی مفت پٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کی جائے، کیونکہ اب عوام کیلئے یہ شاہ خرچیاں برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ عوام کیلئے مہنگا پٹرول وزراء اور حکمرانوں کیلئے شاہانہ مراعات یہ حکمرانوں کا کھلا تضاد بھی ہے اور عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بھی ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ عوام دشمن رویہ ترک کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔

  • میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کیس، تفصیلی فیصلہ جاری

    میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کیس، تفصیلی فیصلہ جاری

    
علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کو ختم کر دیا ہے۔
    عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں فریقین کے بیانات اور مؤقف کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا، جس کے بعد کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔
    ‎دستاویزات کے مطابق میشا شفیع نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ذاتی تجربے کی بنیاد پر آواز اٹھائی تاکہ معاشرے میں خاموشی کو توڑا جا سکے اور دیگر خواتین کو بھی بولنے کا حوصلہ ملے۔ انہوں نے اس اقدام کو مشکل مگر ضروری قرار دیا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود کو اس معاملے میں تنہا نہیں سمجھتیں اور ان کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو فروغ دینا تھا۔
    دوسری جانب علی ظفر نے عدالت میں تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا کہ وہ قانونی طریقے سے اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
    عدالتی ریکارڈ کے مطابق علی ظفر نے کہا کہ وہ اپنے خاندان، ساتھیوں اور مداحوں کے سامنے جوابدہ ہیں اور اسی لیے اس معاملے کو عدالت کے ذریعے حل کرنا چاہتے تھے۔
    ‎اس کیس کے دوران میڈیا کوریج اور عوامی بحث نے دونوں فریقین کی پیشہ ورانہ زندگی پر بھی اثر ڈالا، جبکہ یہ معاملہ پاکستان میں #MeToo تحریک کے تناظر میں ایک اہم قانونی مثال کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔

  • ‎پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت، مریم نواز کا بڑا اعلان

    ‎پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت، مریم نواز کا بڑا اعلان

    
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    حکومتی احکامات کے بعد اب اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس سروس، اسپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کرنے والے مسافروں کو ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
    ‎مریم نواز کا کہنا تھا کہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
    ‎وزیراعلیٰ پنجاب نے کاشتکاروں کے لیے بھی خصوصی سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی ایکڑ ایک لیٹر ڈیزل پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، تاکہ زرعی شعبے کو سہارا دیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث دنیا معاشی بحران کا شکار ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎مریم نواز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک ماہ میں اربوں روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حالات بہتر ہوتے ہی عوام کو مزید معاشی بوجھ سے نجات دلائی جائے گی۔
    ‎واضح رہے کہ اسلام آباد میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

  • روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    روزانہ کافی پینے کے حیران کن فوائد، ماہرِ امراضِ معدہ کی تفصیلی وضاحت

    دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے کافی پینا صبح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی دن کی شروعات ایک کپ کافی کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔

    حال ہی میں معروف ماہرِ امراضِ معدہ ڈاکٹر سورب سیتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں بتایا کہ اگر کوئی شخص مسلسل 14 دن تک روزانہ کافی پیتا ہے تو اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی کا باقاعدہ استعمال جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی پینے والوں میں فیٹی لیور، فائبروسس اور سروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کافی جگر میں داغ دار ٹشو بننے کے عمل کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم جگر کی مکمل صحت کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی بھی ضروری ہے۔کافی میں موجود کلوروجینک ایسڈ جیسے اجزاء انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ بلیک کافی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور جسم میں چربی کے جلنے کے عمل کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ بھوک کو بھی کم کرتی ہے، جس سے کیلوریز کے استعمال کو کنٹرول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کافی میں موجود کیفین دماغی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ اس سے توجہ، چوکنا پن اور ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیفین وقتی طور پر نیند کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ نیند کا مکمل متبادل نہیں ہے۔

    ڈاکٹر سیتی کے مطابق کافی آنتوں کی حرکت کو تیز کرتی ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 29 فیصد کافی پینے والوں کو کافی پینے کے بعد رفع حاجت کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔کافی میں موجود تیزاب گیسٹرن ہارمون کو متحرک کرتے ہیں، جو آنتوں کی حرکت کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹر سیتی نے تجویز دی کہ روزانہ ایک سے تین کپ بلیک کافی مناسب ہے، تاہم اگر کسی کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، تیزابیت یا نیند کی کمی محسوس ہو تو کافی کا استعمال کم یا بند کر دینا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کافی میں زیادہ چینی یا مصنوعی کریمرز شامل کرنا اس کے فوائد کو کم کر سکتا ہے۔
    کافی اگر اعتدال کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ جگر، دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق اس کا استعمال کرنا چاہیے۔

  • جم میں محنت کے باوجود وزن کیوں کم نہیں ہوتا؟ ماہرین نے بتا دیا

    جم میں محنت کے باوجود وزن کیوں کم نہیں ہوتا؟ ماہرین نے بتا دیا

    اگر آپ روزانہ جم جاتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، مگر وزن کم نہیں ہو رہا، تو اس کی وجہ صرف ورزش کی کمی نہیں بلکہ آپ کی روزمرہ عادات بھی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق وزن میں کمی کا عمل صرف 45 منٹ کی ورزش تک محدود نہیں بلکہ دن کے باقی 23 گھنٹوں میں کیے گئے فیصلے بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ماہر ڈاکٹروں اور ماہر غذائیت نے وضاحت کی ہے کہ کیوں مسلسل ورزش کے باوجود وزن کم نہیں ہوتا اور اس مسئلے سے کیسے نکلا جا سکتا ہے،وہ بھی بغیر کسی سخت ڈائٹ کے۔ماہرین کے مطابق لوگ اکثر دو بڑی غلطیاں کرتے ہیں ،ورزش سے جلنے والی کیلوریز کو بڑھا چڑھا کر اندازہ لگانا،روزمرہ خوراک میں لی جانے والی کیلوریز کو کم سمجھنا،ڈاکٹر انجیلی پلئے کے مطابق، طویل وقت تک بیٹھنا، بے ترتیب کھانے، بار بار اسنیکس لینا، کم نیند اور ویک اینڈ پر زیادہ کھانا وہ عوامل ہیں جو ورزش کے فائدے کو ختم کر دیتے ہیں۔

    ماہر غذائیت ڈاکٹر پرتیکشا بھاردواج کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ ورزش کے بعد خود کو زیادہ کھانے کی اجازت دے دیتے ہیں، جو وزن کم ہونے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ویلی نیس کوچ سمرت کٹھوریا کے مطابق صرف کارڈیو کافی نہیں،طاقت بڑھانے والی ورزش ضروری ہے،نیند کی کمی اور غیر متوازن غذا بھی وزن کم ہونے سے روکتی ہے،کلینیکل ڈائٹیشن ڈاکٹر ردھیما کھمیسرا کہتی ہیں کہ صرف جم میں محنت کافی نہیں، بلکہ پورے دن میں نظم و ضبط ضروری ہے۔بے ترتیب کھانے،بار بار باہر کا کھانا،یہ سب وزن کم ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق چھپی ہوئی کیلوریز وزن کم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جیسے میٹھی چائے یا کافی،جوس اور فلیورڈ ڈرنکس،”ہیلتھی” اسنیکس جیسے گرینولا بارز،زیادہ تیل اور سوسزوغیرہ،یہ سب روزانہ 300 سے 500 اضافی کیلوریز بڑھا سکتے ہیں، بغیر آپ کو احساس ہوئے۔

    ڈاکٹرز کے مطابق کم نیند بھوک بڑھاتی ہے،اسٹریس ہارمون چربی کو جمع کرتا ہے،7 سے 8 گھنٹے کی نیند ضروری ہے،جیسا کہ ماہرین کہتے ہیں "چربی صرف جم میں نہیں، بلکہ نیند کے دوران بھی کم ہوتی ہے۔”اگر آپ مناسب مقدار میں پروٹین نہیں لے رہے تو زیادہ بھوک لگتی ہے،پٹھے کمزور ہوتے ہیں،وزن کم ہونے کے بجائے جسم ڈھیلا ہو سکتا ہے،روزانہ خوراک میں دال، چکن، مچھلی اور سبزیاں شامل کرنا مفید ہے۔ یعنی روزمرہ کی عام حرکتیں جیسے چلنا،سیڑھیاں چڑھنا،گھر کے کام یہ روزانہ 200 سے 800 کیلوریز تک جلا سکتی ہیں، جو وزن کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اگر آپ ورزش کے باوجود وزن کم نہیں کر پا رہے تو صرف جم کا وقت بڑھانا حل نہیں۔ ماہرین کے مطابق کامیابی کے لیے ان باتوں پر عمل ضروری ہے روزمرہ روٹین کو بہتر بنائیں،چھپی ہوئی کیلوریز پر نظر رکھیں،نیند اور اسٹریس کو کنٹرول کریں،ہر کھانے میں پروٹین شامل کریں،دن بھر زیادہ حرکت میں رہیں.