Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور میں  پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد ، تاجک فنکاروں کا روایتی ثقافتی رقص

    لاہور میں پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد ، تاجک فنکاروں کا روایتی ثقافتی رقص

    محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر اہتمام پاک تاجک فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    فیسٹیول میں تاجکستان سے آئے فنکاروں نے روایتی ثقافتی رقص اور پرفارمنس پیش کیں جبکہ معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کے دل موہ لیے،72 رکنی تاجک ثقافتی وفد کی قیادت تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات پنجاب شازیہ رضوان، سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا آرٹس کونسل محمد نواز گوندل اور ڈی جی پی آر شیخ فرید احمد بھی موجود تھے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے تاجک وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور تاجکستان مشترکہ ثقافتی اقدار، روایات اور تہذیبی رشتوں میں گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تاجکستان ثقافتی فیسٹیول نے دونوں ممالک کے باہمی روابط کو مزید مضبوط کیا ہے اور پنجاب حکومت تاجکستان کے ساتھ ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی،عظمیٰ بخاری نے تاجک ثقافت کے منفرد رنگ، تشخص، لباس اور روایات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاجک خواتین کا وقار، حسن اور لباس قابلِ تحسین ہے۔تاجک فنکاروں کی موسیقی اور رقص نے دل موہ لیے ہیں، علامہ محمد اقبال کا کلام پاکستان اور تاجکستان کو ایک فکری رشتے میں جوڑتا ہے ۔

    تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری و فکر پاکستان اور تاجکستان کے عوام کو یک جان کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے لاہور کو جنت سے تشبیہ دیتے ہوئے خوبصورت فیسٹیول اور یادگار میزبانی پر وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اطلاعات کا شکریہ ادا کیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    لاہور: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی فورس(پیرا) کے ملازمین کے لیے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے PERA اسپیشل الاؤنس کی سمری منظور کر لی جس کے تحت گریڈ 20 افسران کو ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار، گریڈ 19 کو 1 لاکھ 25 ہزار روپے الاؤنس ملے گا ،گریڈ 18 کے افسران کو 1 لاکھ، گریڈ 17 کو 75 ہزار روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس ملے گا جبکہ گریڈ 16 سے گریڈ 7 تک ملازمین کے لیے 20 سے 50 ہزار روپے ماہانہ الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔

    الاؤنس کا اطلاق پاکستان ایڈمنسٹریٹو ، پی ایس پی اور پی ایم ایس کے افسران پر نہیں ہوگا ،اتھارٹی الاؤنس کے لیے پہلے سے مختص بجٹ استعمال کرے گی، خصوصی الاؤنس کا مقصد پیرا کی کارکردگی اور نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے ۔

  • بویا سیکورٹی فورسز ہیڈ کوارٹر پر حملہ،ایک حملہ آور کی افغان شہری ہونے کی تصدیق

    بویا سیکورٹی فورسز ہیڈ کوارٹر پر حملہ،ایک حملہ آور کی افغان شہری ہونے کی تصدیق

    پاکستانی سرزمین پر افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی مداخلت کا ایک اور واضح ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ 19 دسمبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشت گردوں میں سے ایک کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس حملے میں شامل چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت ذکی اللہ عرف احمد وزیرستانی ولد مولوی فیض محمد کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ کابل کے ضلع موسہی سے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں اس دہشت گرد کا افغان شہری ہونا ثابت ہو چکا ہے۔مزید تصدیق اس وقت ہوئی جب معتبر ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے خودکش حملہ آور کے لیے فاتحہ (تعزیتی) تقریب کابل میں اس کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی۔ یہ تقریب آج صبح 8 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہی، جس میں مقامی افراد کی شرکت بھی سامنے آئی۔ اس تعزیتی اجتماع نے حملہ آور کی شناخت اور افغان پس منظر کی مزید تصدیق کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ خودکش حملہ گل بہادر گروپ سے وابستہ افغان دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا، جو ماضی میں بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے جا ملتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متعدد بار افغان حکام کو اس حوالے سے شواہد فراہم کیے ہیں، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات کا تسلسل برقرار ہے

  • ویپنگ سگریٹ کا محفوظ متبادل نہیں، ماہرین کا انتباہ

    ویپنگ سگریٹ کا محفوظ متبادل نہیں، ماہرین کا انتباہ

    عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ویپنگ، سگریٹ نوشی کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ یا کم نقصان دہ متبادل ہے، تاہم یورپ اور امریکا کے ماہرینِ صحت نے اس خیال کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نہایت خطرناک اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

    یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک جامع اور طویل المدتی تحقیق میں نکوٹین کی زہریلی خصوصیات اور اس کے دل، شریانوں اور مجموعی قلبی نظام پر پڑنے والے منفی اثرات کی تفصیل سے نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق نکوٹین کا استعمال، چاہے کم مقدار میں کیا جائے یا زیادہ، ہر صورت دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ماہرین نے واضح کیا کہ نکوٹین کے تمام ذرائع، جن میں روایتی سگریٹ، ویپنگ ڈیوائسز، نکوٹین پاؤچز، ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات اور شیشہ شامل ہیں، دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نکوٹین بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتی ہے، خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک مسائل کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔

    کئی دہائیوں پر محیط سائنسی شواہد اور طبی مطالعات کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نکوٹین کسی بھی شکل میں محفوظ نہیں۔ تحقیق کے مصنفین نے خاص طور پر نوجوانوں اور کم عمر افراد میں ویپنگ، ہیٹڈ ٹوبیکو اور نکوٹین پاؤچز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ماہرین کے مطابق نوجوان نسل میں نکوٹین کے استعمال میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سوشل میڈیا پر جارحانہ اور دلکش مارکیٹنگ، مختلف ذائقوں (فلیورز) کی آسان دستیابی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے تشہیر شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل نوجوانوں کو نکوٹین کی طرف تیزی سے راغب کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں صحت کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تحقیق میں شامل ایک ماہر کا کہنا تھا کہ “دل کے لیے محفوظ نکوٹین نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔” ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نکوٹین کا کوئی بھی استعمال، چاہے وہ سگریٹ نوشی کی صورت میں ہو، ویپنگ ہو یا چبانے والی مصنوعات، صحت بالخصوص دل کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ماہرینِ صحت نے والدین، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو نکوٹین کے خطرات سے آگاہ کریں اور اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ آنے والی نسل کو دل کے مہلک امراض سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • پنجاب ، جنگلات، ماحولیات کانظام   کرپشن فری ،وزیراعلی مریم نواز کا بڑا قدم

    پنجاب ، جنگلات، ماحولیات کانظام کرپشن فری ،وزیراعلی مریم نواز کا بڑا قدم

    پنجاب میں، جنگلات اور ماحولیات کے تمام نظام کو کرپشن فری بنانے کے لیے وزیراعلی مریم نواز شریف کا بڑا قدم سامنے آ گیا

    10 سال بعد انگریز دور کے بنائے فارسٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی ،ماحول کے تحفظ کا ادارہ(ای پی اے) سے ‘کاغذی کارروائی’ کا سو فیصد خاتمہ ہوگیا، جدید ٹیکنالوجی سے لیس جدید نظام کے ذریعے تمام نظام چلانے والا ‘ای پی اے’ پہلا سرکاری محکمہ بن گیا ،ہر دستاویز پر مخصوص حوالہ نمبر اور ‘کیو آر کوڈ’ ہوگا، سیکنڈز میں تصدیق کرنا ممکن ہوگا، ہر فیصلے کی پڑتال ہو سکے گی، فیصلوں کی وجوہات، سفارشات، منظوری سمیت ہر چیز کا ڈیجیٹل ریکارڈ کمی وقت دستیاب ہوگا ،ماحولیات سے متعلق تمام محکمے جدید ڈیجیٹل نظام کے بغیر حکم جاری کریں گے نہ کوئی منظوری دیں گے ،ڈیجیٹل نظام "ای فوس” (e-FOAS)کے سوا حکم جاری کرنے، منظوری دینے یا کوئی انتظامی فیصلہ جاری کرنے والے محکمے کے افسر اور عملے کے خلاف سخت تادیبی کاروائی ہوگی، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ،امپورٹ لائسنس کا اجرا بھی مکمل طور پر e-FOAS ڈیجیٹل نظام سے ہی ہوگا، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا،لیبارٹری سرٹیفکیشن، پروٹیکشن آرڈرز اور سرکاری سفارشات کا اجرا صرف (e-FOAS) کے ذریعے ہوگا،ڈیجیٹل نظام سے ہٹ کر جاری ہونے والا کوئی حکم، تصدیق یا منظوری قانونی اور درست نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ انسانی مداخلت کا خاتمہ جعلسازی اور غیرقانونی اجازت ناموں کا خاتمہ ہے، ماحول کے تحفظ کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کو بھی یقینی بنا رہے ہیں، الحمدللہ،

  • خلیل الرحمان قمر ویڈیو وائرل کیس،آمنہ عروج کی ضمانت خارج

    خلیل الرحمان قمر ویڈیو وائرل کیس،آمنہ عروج کی ضمانت خارج

    ضلع کچہری لاہور میں معروف ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر کی نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت خارج کر دی گئی۔

    ضلع کچہری لاہور میں ملزمہ آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس میں وکیل چوہدری مدثر ایڈووکیٹ نے مدعی کی جانب سے اس مقدمے میں دلائل دیے،ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ ایک سال تین ماہ کی تاخیر سے درج کیا گیا اور ملزمہ کا اس کیس میں کوئی کردار نہیں ہے، یہ مقدمہ سزا کی معطلی کے بعد درج کیا گیا تھا لیکن پراسکیوٹر نے مختلف دلائل دیے اور کہا کہ ملزمہ نے ویڈیو بنوانے اور وائرل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے. شریک ملزمان کو صرف سہولت کاری کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور ملزمہ کے خلاف ریکارڈ پر موجود ثبوت نے اس کیس کو مضبوط کیا،عدالت نے اس کیس کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی، یہ مقدمہ این سی سی آئی اے کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔

  • پٹواریوں کو   اختیارات دیے، یہی کل قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے،عدالت

    پٹواریوں کو اختیارات دیے، یہی کل قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پنجاب حکومت کا بس چلے تو آئین کو بھی معطل کردے۔
    عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ حکومت کو بتائیے اگر کسی نے جاتی امرا کے خلاف درخواست دی تو پھر تو ڈی سی اس کے حق میں بھی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اگر یہ قانون رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا،کچھ لوگوں کو تمام اختیارات کی بڑی خواہش ہے،ڈی سیز کیسے پراپرٹیوں کےفیصلے کر سکتے ہیں ؟عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دے دیا

    عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں نہیں آئے، وکیل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں اس لیے نہیں آئے، ایڈووکیٹ چنرل پنجاب کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس برہم،کہا کہ میں بھی بیمار ہوں۔ڈاکٹرز نے بیڈ ریسٹ کا کہا ہے۔ میں نے بیماری کے باوجود یہاں عدالت لگائی۔ اس اونر شپ ایکٹ نے دیگر تمام قوانین ختم کر دئیے۔ عدالت نے پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گیے قبضوں کو واپس کردیا

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا ہے، آپ کا بس چلتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے، اگر ڈی سی آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دیں تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا، آپ کا قانون یہ کہتا ہے کہ ہائیکورٹ معاملے پر اسٹے بھی نہیں کرسکتا، موبائل پر آپ فون کرتے ہیں اور کہتے آجاؤ ورنہ تمہارا قبضہ چلا گیا، آپ یہاں کھڑے ہیں اور آپ کا گھر جا رہا ہو گا، قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہو گا، کیا یہاں جعلی رجسٹریاں ،جعلی دستاویزات نہیں بنتی ہیں، اگر آپ کا پٹواری جعلی دستاویزات نہ بنائے تو سول عدالتوں میں اتنے کیسز دائر ہی نا ہوں، قانون کے تحت آپ نے ڈیسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی بنائی ہے، آپ کی کمیٹی کو لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی ہے، آپ کے کمیٹی ممبران لوگوں کو کہتے ہیں کہ قبضہ نہ دیا تو باہر پولیس کا ڈالا کھڑا ہے،کمیٹی ممبران کہتے ہیں کہ دس دس سال قید سزا دیں گے، آپ نے ہمارے سول جج کو دیکھا ہے؟ کیسے خاموشی سے بیٹھا ہوتا ہے، قاضی کا فرض خاموشی سے اپنا کام کرنا ہوتا ہے، عدالت دل سے نہیں بلکہ دماغ سے فیصلے سے کرتی ہے، آپ کے ڈی سیز خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے پوچھا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات آپ کو دے دیے جائیں، کیا آپ اس قانون کا دفاع کر رہے ہیں؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ڈی سیز کو قبضے کا اختیار نہیں دیا گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سینکڑوں کیسز ہیں جہاں ڈی سیز نے قبضے دیے ہیں،اس قانون کے تحت میں یہاں بیٹھی ہوں کوئی درخواست دے اور میرے گھر کا قبضہ بھی ہوجائے گا، جن پٹواریوں کو آپ نے اختیارات دیے، یہی کل کو قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے۔

  • تاحال پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے،محکمہ داخلہ پنجاب

    تاحال پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے،محکمہ داخلہ پنجاب

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں تاحال پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق پتنگ بازی کی اجازت صرف مخصوص تاریخوں میں دی جائے گی، جس کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ترجمان نے بتایا کہ پتنگ بازی کی اجازت 6، 7 اور 8 فروری کو دی جائے گی۔ ان مخصوص دنوں میں بھی اجازت ڈپٹی کمشنر کی منظوری سے مشروط ہو گی، اور ہر ضلع میں مقامی انتظامیہ حالات کے مطابق اجازت نامے جاری کرے گی۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ منظور شدہ تاریخوں اور شرائط کے علاوہ پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو گی۔ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، مقررہ دنوں اور ضوابط کے مطابق ہی سرگرمی انجام دیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک عرفان شفیع کھوکھر انتقال کرگئے

    مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک عرفان شفیع کھوکھر انتقال کرگئے

    مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک عرفان شفیع کھوکھر انتقال کرگئے۔

    باخبر ذرائع کے مطابق ملک عرفان شفیع کھوکھر کو ہارٹ اٹیک ہونے پر لاہور کے نجی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے وہ وزیر کھیل ملک فیصل کھوکھر کے کزن اور لیگی ایم این ایز اور نواز شریف کے قریبی رفقا ملک افضل کھوکھر اور ملک سیف الملوک کھوکھر کے بھتیجے تھے،وزیراعظم شہباز شریف نے عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔

  • گورنر گلگت بلتستان  کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ

    گورنر گلگت بلتستان کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ

    لاہور:گلگت بلتستان کے گورنر مہدی شاہ نے الگ صوبے کا مطالبہ کیا ہے-

    گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ نے جاتی امرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وسائل ہمارے ہیں جبکہ فائدہ ہمارے علاوہ پورے پاکستان کو ہو رہا ہے، گلگت بلتستان کی حق تلفی ہو رہی ہے اور آزاد کشمیر طرز پر یہاں بھی احتجاجی تحریک شروع ہوسکتی ہےمرکز میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی اتحادی حکومت ہے لیکن ہمیں کچھ نہیں مل رہا ہے، احسن اقبال وہاں آئے اور کہا کہ 200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن کچھ نہیں کیا۔

    گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ ہماری زمین اور پہاڑ ایک ہیں لیکن علاقے کو متنازع قرار دے کر ہمیں سہولتوں سے محروم کیا جا رہا ہے، میں کہتا ہوں کہ بجلی کی پیداوار کے لیے جو پانی استعمال ہو رہا ہے، وہ ہمارے ہاں سے آرہا ہے لیکن ہمارا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے 27 ویں ترمیم میں ہمارے دو مطالبات تھےپہلا مطالبہ اسمبلی میں سیٹیں 24 سے بڑھا کر 30 کرنے کا تھا، احسن اقبال صاحب آپ نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کریں اور 200 میگا واٹ کے بجائے 50 میگا واٹ بجلی ہی دے دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ باقی صوبوں کی نسبت اپنی مرضی سے آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہوئے ہیں، جب ہمارے الیکشن آتے ہیں تو سیاست دان وعدے کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے 100 میگا واٹ بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے امید ہے مل جائے گی، مسلم لیگ (ن) کا اتحادی ہونا فائدے میں نہیں اور یہ بات میں نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں بھی کی تھی۔