Baaghi TV

Category: لاہور

  • عرفان صدیقی مرحوم کی سینیٹ سیٹ پر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    عرفان صدیقی مرحوم کی سینیٹ سیٹ پر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کی خالی نشست پر جماعت کے دیرینہ، وفادار اور فعال رہنما میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی زبیر گل کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ نشست معروف کالم نگار، سینئر سیاستدان اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما مرحوم عرفان صدیقی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے طویل مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے لیے ایسا امیدوار نامزد کیا جائے جس نے نہ صرف پارٹی کے مشکل ترین ادوار میں ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ اندرون و بیرون ملک مؤثر انداز میں پیش کیا ہو۔ اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) یوکے کے سابق صدر اور موجودہ چیف آرگنائزر زبیر گل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ یا گیا ہے

    زبیر گل طویل عرصے سے نواز شریف کے بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پارٹی کی سرگرمیوں کو منظم، مستحکم اور متحرک کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زبیر گل کی نامزدگی نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہو گی بلکہ سمندر پار پاکستانیوں کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ایک مثبت اور اہم پیغام ہو گا

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عابد شیر علی کوبھی ٹکٹ جاری کیا جا سکتا ہے،تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا،

  • بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب سے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی

    پندرہ رکنی سٹیرنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو مقرر کیاگیا ،سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا سٹیرنگ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ،سکول ایجوکیشن، سرمایہ کاری و کامرس، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر و بیت المال اور ہنرمندی و چھوٹے کاروبار کی ترقی کے صوبائی وزرا کمیٹی کے ارکان ہوں گے ،داخلہ، محنت و افرادی، سکول ایجوکیشن، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر، سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اینٹرپرینیور کی وزارتوں کے صوبائی سیکریٹری، چیئرمین پی ٹی آئی بی اور ڈی آئی جی پولیس بھی کمیٹی کے ارکان ہوں گے

    کمیٹی تمام شعبوں کی میپنگ کرے گی، جبری مشقت لینے والے شعبوں کا تعین کرے گی ،صنعتوں، بھٹوں، زراعت، ماہی گیری، ورکشاپس اور آٹو ری پئیر کے شعبوں کا خاص طور پر ڈیٹا جمع کیا جائے گا ،اے آئی اور ‘جی-آئی-ایس’ سے منسلک صوبائی سطح پر مرکزی ڈیٹا بینک بنایا جائے گا ،کمیٹی بچوں سے جبری مشقت کے حوالے سے نمایاں اضلاع، شعبوں اور علاقوں کا بھی تعین کرے گی ،کمیٹی جبری مشقت کے شکار بچوں کے لیے متبادل طریقے بھی وضع کرے گی ،کمیٹی فوری، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کی حکمت عملی تیار کرے گی،کمیٹی اپنی تجاویز کے ساتھ ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی بھی تیار کرے گی ،والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس معاملے میں آگاہ کرنے کی حکمت عملی اور اداروں کی اس ضمن میں کارکردگی جانچنے کے معیار کی تیاری بھی کمیٹی کے فرائض میں شامل ہے ،صوبہ پنجاب بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کے جامع اقدامات کرنے والا پہلا صوبہ ہے ،بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی عالمی سطح پر رینکنگ بھی بہتر ہوگی

  • جو بھی پنجاب میں گندگی پھیلائے گا، جرمانے کی سزا پائے گا،مریم نواز کا حکم

    جو بھی پنجاب میں گندگی پھیلائے گا، جرمانے کی سزا پائے گا،مریم نواز کا حکم

    پنجاب میں صفائی والی گاڑیاں بھی اب ماحول دوست الیکٹرک وہیکلز ہونگیں ،پنجاب میں اب کوڑے کرکٹ سے بھی انرجی پیدا کی جائے گی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ”ویسٹ ٹو ویلیو“پراجیکٹ کے لئے وسط جنوری تک جامع پلان طلب کر لیا

    پنجاب کے ہر گلی کوچے میں ،اب اتوار کو بھی پنجاب میں صفائی ہوگی،وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کو الیکٹرک وہیکل متعارف کرانے کا حکم دے دیا،پنجاب میں کمرشل ایریاز اور سڑک پر کوڑا کرکٹ پھیلانے والے قانون کے شکنجے میں ،جرمانے ہونگے،پنجاب میں روڈز پر کوڑا کرکٹ پھیلانے والا 15 دن کے بعد قانون کی گرفت میں آئے گا،پنجاب میں پہلی مرتبہ اتوار کے روز بھی صفائی کے لئے عملہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، روایتی جھاڑو کی بجائے ستھرا پنجاب کے ہیروز جدید میکنیکل سوئپر استعمال کرنے پر اتفاقِ کیا گیا،ستھرا پنجاب کے تحت ہر یونین کونسل میں صفائی کے ہیروز کی تعداد بڑھائی جائے گی،پنجاب کی ہر دو یونین کونسل کو ایک ٹریکٹر کی فراہمی کی تجویز کا جائزہ لیا گیا،صفائی کا نیا نظم و نسق اور نئے معیار کے لئے پنجاب میں کوڑے دان اور کنٹینر کے لیے باقاعدہ ویسٹ انکلوژر بنائے جائیں گے

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، ستھرا پنجاب کے ہر پہلو پر تفصیلی بریفنگ،مزید جدت لانے کا فیصلہ کیا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ صفائی کا اتنا بڑا نظام کسی معجزے سے کم نہیں۔ شہروں اور دیہات کی صفائی کا جامع نظام برسوں پہلے بننا چاہیے تھا،زیرو سے آغاز کیاوقت کے ساتھ ساتھ ستھرا پنجاب پراجیکٹ میں بہتری لارہے ہیں۔ صوبے بھر میں ستھرا پنجاب پر عوام کی طرف سے اچھے کام کا مثبت فیڈ بیک آرہا ہے۔دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ شفافیت کے لئے ستھرا پنجاب میں تنخواہوں اور ادائیگی کا سسٹم ڈیجیٹلائز کر دیا گیا۔ گاڑیوں کی چیکنگ کے لئے وہیکل ٹریکنگ مینجمنٹ سسٹم اور لائیو کنٹینر مانیٹرنگ جاری ہے۔ویسٹ کمپنیوں کے لئے کے پی آئیز کے مطابق مارکس دیکر کارکردگی کا تعین کیا جارہا ہے۔

  • میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان  آئے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان آئے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کررہی ہے اور پھر قانون سازی کرکے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا درست نہیں،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت بھاری جرمانوں کےلیے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔

    درخواست گزار کے دلائل پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے اس پر عمل کریں، یہاں پر آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں،بچوں کی ٹانگیں زمین پر لگتی نہیں اور انہیں موٹر سائیکل لے کر دے دیتے ہیں، میرے گھر کے بڑوں اور بچوں دونوں کے چالان بھی آئے ہیں، پولیس نےبتایا کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے،کم عمر بچے موٹرسائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور جرمانہ زیادہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کرے،دنیا بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزی پر بہت زیادہ جرمانے ہوتے ہیں، دبئی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ درہم تک جرمانے ہوتے ہیں، گلی محلوں میں ہٹ اینڈ رن کے کیس بہت زیادہ ہوتے ہیں، ہمارے بچوں کی سیفٹی بہت ضروری ہے لہٰذا ہمیں قانون پر عمل کرنے والا بننا چاہیے، حکومت نے کہہ دیا ہے پہلی خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا اور دوسری خلاف ورزی پرقانونی کارروائی ہوگی، قانون سوسائٹی کو بہتر کرنے کے لیے بنتے ہیں لہٰذا شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور والدین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں،بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

  • انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقدمے کی سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، جنہوں نے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کرائے۔انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہے جس کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں 3 ایم پی او (پبلک آرڈر آرڈیننس) کے تحت گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا۔ بعد ازاں ان کے وکلا نے گرفتاری اور مقدمے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔

    سماعت کے دوران مرزا کے وکلا کا مؤقف تھا کہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور اُن کے مؤکل کو مخصوص گروہوں کی مخالفت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن کی تحقیقات درکار ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کرلی۔ رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد اُن کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان، مقررہ جگہوں اور اوقات میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی،

    18 سال سے کم عمر پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کردیا۔آرڈیننس کے تحت بسنت کے لئے شرائط مقرر کی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی لگی تھی پچیس سال بعد پتنگ بازی کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے خلاف ورزی پر والد یا سرپرست ذمہ دار ہوگا،صرف دھاگے سے بنی ڈور سے ہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی دھاتی یا تیز دھار مانجھے سے بنی ڈور کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں گی،قانون کی خلاف ورزی پرکم از کم تین اور زیادہ سےزیادہ پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپےجرمانےکی سزادی جا سکےگی، پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنز متعلقہ ضلع کےڈپٹی کمشنرکےپاس رجسٹرکی جائیں گی، قانون کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے والے(Whistle blower)کی قانونی طورپر حوصلہ افزائی کی جائے گی، پتنگیں رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جائیں گی ہر رجسٹرڈ دکاندار کو ایک کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا، پتنگ پر بھی کیو آر کوڈ ہوگا جس سے پتنگ بیچنے والے کی شناخت ہو سکے گی،ڈور بنانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہوگی کیو آر کوڈ سے ان کی بھی شناخت ہوگی

  • امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فروری 2026 تک اعزازیہ کارڈ کے اجرا کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے یکم جنوری سےادائیگی کاحکم دیا ہے اور پہلی مرتبہ پےآرڈر دیےجائیں گے،یکم فروری سے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب کے ذریعے ادائیگی ہوگی،مریم نواز نے ہدایت دی کہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے، پنجاب بھر میں آئمہ کرام کے 62994 رجسٹریشن فارم وصول کیے گئے ہیں جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے، ملک وقوم کے مفادات کےخلاف اور اخلاقی یامالی جرائم میں ملوث امام مسجد کا اعزازیہ بند کردیا جائے گا،صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہر ماہ آئمہ کرام کو مدعو کرکے میٹنگ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت کارروائی کے لیے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،مریم نواز نے غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

  • لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق جنوری 2022 سے نومبر 2025 تک 15 ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی "کرائم کالز اگینسٹ پراپرٹی” میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کے 15 کالز کے ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر تین سال میں شکایات کی تعداد میں 73 فیصد کمی ہوئی ہے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں شہریوں نے جائیداد سے متعلق جرائم، جن میں ڈکیتی، راہزنی، موبائل فون چھیننا، موٹر سائیکل،گاڑی کی چوری و چھیننا اور گھر میں چوری شامل ہے، کے بارے میں 84,529 کالز کیں۔اسی سال مختلف مہینوں میں شکایات میں 3 فیصد سے 15 فیصد تک اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

    سال 2023 میں جرائم کی شکایات کا گراف مزید بلند ہوا اور مجموعی تعداد 95,367 تک پہنچ گئی۔یہ سال جرائم میں اضافہ کا سال تصور کیا جا رہا ہے، جب بیشتر مہینوں میں 10 سے 16 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر مارچ اور اپریل 2023 میں شکایات کی تعداد 9 ہزار سے بھی اوپر رہی۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں جرائم کی شرح میں واضح کمی سامنے آئی۔سال بھر میں موصول ہونے والی کالز کی مجموعی تعداد 64,638 رہی، جو پچھلے سال کی نسبت نمایاں کمی ہے۔اگست 2024 سے مسلسل کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور دسمبر میں شکایات کی تعداد 3,980 تک گر گئی۔چارٹ کے مطابق 2025 میں مجموعی تعداد کم ہو کر 38,727 رہ گئی، جو تین سال میں شکایات کی سب سے کم شرح ہے۔اکتوبر اور نومبر 2025 میں ماہانہ کمی بالترتیب 16 فیصد اور 35 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جو رجحان میں بڑی تبدیلی ظاہر کرتی ہے۔

    چارٹ میں بڑی واضح نشاندہی کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ جنوری 2023 سے لے کر نومبر 2025 تک شکایات میں 73 فیصد کمی ہوئی، جو پولیس کے اسٹریٹ پٹرولنگ میں اضافے، ٹریفک کیمروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    رپورٹ کے مجموعی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لاہور میں گزشتہ تین سال کے دوران اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں شہر کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران سنگین نوعیت کے جرائم میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران لاہور میں متحرک ہیں،

    اس ضمن میں باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 اور 2024 کے مقابلے میں 2025 میں تمام کیٹیگریز کے جرائم میں مجموعی طور پر نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی بہتری قرار دیا جارہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں سنگین جرائم کی مجموعی تعداد 76,334 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 43,631 رہ گئی۔ تاہم 2025 کے پہلے 11 ماہ میں یہ تعداد مزید کم ہو کر صرف 20,867 رہ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 73 فیصد کمی ہے۔

    جرائم کی مختلف اقسام میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کے دوران قتل 2023 میں 23 واقعات ہوئے،2024 میں 13 واقعات ہوئے،2025 میں 8 واقعات ہوئے، 2023 کے مقابلے میں 65٪ کمی، 2024 کے مقابلے میں 38٪ کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کی 2023 میں 93وارداتیں،2024 میں 80وارداتیں،2025 میں اب تک 41وارداتیں ہوئیً، دو سال میں مجموعی طور پر 56٪ کمی دیکھنے میں آئی، رابری کے2023 میں 22,496واقعات،2024 میں 12,637 واقعات،2025 میں 3,432واقعات ہوئے، گزشتہ دو برسوں میں حیران کن 85٪ کمی دیکھنے کو ملی، اسنیچنگ ،چھینا جھپٹی کے 2023 میں 16,725واقعات،2024 میں7,153واقعات اور 2025 میں 3,514 واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 79٪ کمی دیکھنے میں آئی،گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کی چوری و چھیننے کی وارداتوں میں بھی کمی ہوئی، موٹر سائیکل چوری کے 2023 میں 27,251 واقعات،2024 میں 16,681واقعات،2025 میں 9,617واقعات پیش آئے، دو برس میں 65٪ کمی دیکھنے کو ملی، گاڑیاں چوری کے 2023 میں 2,623واقعات،2024 میں 1,853واقعات،2025 میں 972واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 63٪ کمی دیکھنے کو ملی،موٹر سائیکل اسنیچنگ کے 2023 میں1,535کیسز،2024 میں 1,130کیسز، اور 2025 میں 409مقدمات درج ہوئے، 73٪ نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، گاڑیوں کی اسنیچنگ کے 2023 میں 70 واقعات،2024 میں 50واقعات،2025 میں23واقعات پیش آئے، دو سال میں 67٪ کمی ہوئی، چوری،ڈکیتی کے 2023 میں5,518واقعات،2024 میں4,054واقعات،2025 میں 2,851واقعات پیش آئے،اور 48٪ کمی دیکھنے کو ملی،

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    پولیس حکام کے مطابق اسمارٹ پیٹرولنگ،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،اسٹریٹ کرائم ہاٹ اسپاٹس کی مانیٹرنگ، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز،خصوصی اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈزجرائم کی کمی کی وجوہات ہیں،نیز شہریوں کی جانب سے بروقت رپورٹنگ اور پولیس تعاون بھی اس کمی کا سبب بنا۔

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کی زیر نگرانی جاری “کھلی کچری” پروگرام کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق اپریل 2024 سے نومبر 2025 تک شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر 30,899 درخواستیں موصول ہوئیں۔ عوامی سہولت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری نے پولیس اور عوام کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط بنایا، جس کا عملی ثبوت 76 فیصد عوامی اطمینان کی شرح ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔اپریل 2024 میں 103 درخواستیں موصول ہوئیں،مئی میں یہ تعداد 432 تک جا پہنچی،جون میں 519،جولائی میں 621،اگست میں 703،ستمبر میں 780 اوراکتوبر 2024 میں 898 درخواستیں موصول ہوئیں۔یہ سلسلہ 2025 میں مزید تیز ہوا، جنوری میں تعداد 1,093،اپریل 2025 میں 1,726،مئی میں 2,136،جون میں 2,597اورجولائی میں 2,754 تک پہنچ گئی۔اگست اور ستمبر 2025 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر بالترتیب 2,784 اور 3,207 تک جا پہنچی۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 کے دوران شہر میں ٹی ایل پی کے پُرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث کھلی کچہری عارضی طور پر معطل رہیں، جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے دوران درخواستوں کی تعداد کم ہو کر 2,667 رہ گئی۔ بعد ازاں معمول کی بحالی کے ساتھ نومبر 2025 میں دوبارہ بڑھ کر 3,003 درخواستیں موصول ہوئیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران خود شہریوں کے مسائل سنتے ہیں، جبکہ پولیس ٹیمیں مختلف مقامات پر کھلی عدالتوں میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل کے آن اسپاٹ حل کے لیے متحرک ہیں۔ شہریوں نے نہ صرف اپنے مسائل پیش کیے بلکہ شکایات کے فوری ازالے پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔روزانہ کی کھلی کچہری پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اہم ذریعہ بن رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں شہریوں نے اپنی شکایات رجسٹر کروائیں جن میں سے متعدد کے مسائل کو موقع پر ہی حل کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔