Baaghi TV

Category: لاہور

  • بیٹے کی شادی پرمریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے کے سوال پر کیپٹن صفدر نے کیاجواب دیا؟

    بیٹے کی شادی پرمریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے کے سوال پر کیپٹن صفدر نے کیاجواب دیا؟

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر سابق کیپٹن (ر) صفدر نے اپنے بیٹے کی شادی میں اپنی بیوی کے ساتھ مشترکہ تصاویر نہ ہونے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے دیا ہے۔

    کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہوئی، جوسوشل میڈیا پر کئی دن تک زیر بحث رہی، شادی کی تقریب کی زیادہ تر تصاویر میں مریم نواز نظر آئیں، جبکہ کیپٹن صفدر کی چند ہی تصاویر سامنے آئیں،سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ شادی میں جوڑے کی مشترکہ تصاویر کیوں نہیں ہیں۔

    اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو آج ہی میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک تصویر بھیج سکتا ہوں، مسئلہ صرف تصاویر کا نہیں ہے، بلکہ دلوں کا جڑا ہونا اہم ہے، ہمارے دل گہرائی سے جڑے ہیں، جب یہ دل دھڑکتا ہے تو وہ بھی دھڑکتا ہے، اور جب وہ دھڑکتا ہے تو یہ بھی دھڑکتا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ جو لوگ ہمارے بیٹے کی شادی پر تنقید کرتے ہیں، میں دعا کروں گا کہ اللہ ان کے گھروں میں بھی خوشیاں لائے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، چاہے وہ تنقید کرنے والے ہوں یا خیر مقدم کرنے والے، جنہوں نے ہماری خوشی میں شرکت کی۔

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

  • بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے سے متعلق نئی اور تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    خاتون کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی طور پر واقعے کو ’فیک‘ قرار دینے، ریسکیو ذرائع اور انتظامیہ کے متضاد بیانات، اور پولیس کی بدلتی ہوئی تفتیش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ماں اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کی اطلاع خاتون کے شوہر نے دی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، تاہم تلاش مکمل ہونے سے قبل ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے میڈیا کو رپورٹ جاری کرتے ہوئے واقعے کو جعلی (فیک) قرار دے دیا تھا۔ریسکیو ذرائع نے اس دعوے کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ سیوریج ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام کی نشاندہی کی گئی، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے، جہاں سیوریج کا ڈھانچہ ایسا نہیں کہ کوئی شخص اس میں بہہ سکے۔

    دوسری جانب لاہور انتظامیہ نے بھی سیوریج لائن کا معائنہ کرنے کے بعد یہی دعویٰ کیا کہ وہاں کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا۔ انتظامیہ کے مطابق جائے وقوع پر کوئی شواہد نہیں ملے جو ماں بیٹی کے سیوریج میں گرنے کی تصدیق کر سکیں۔

    تاہم معاملہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد ہو گئی۔ خاتون کی لاش ملنے کے بعد انتظامیہ اور ریسکیو کے ابتدائی مؤقف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، جبکہ 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ نے پہلے مینارِ پاکستان کی سیر کی، اس کے بعد داتا دربار پہنچے۔ اسی دوران خاتون اپنی 9 ماہ کی بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی، جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا اور مبینہ طور پر انتظامیہ کی جانب سے وہاں کھدائی کی گئی تھی، جس کے باعث خطرہ مزید بڑھ گیا۔

    پولیس نے ابتدائی تفتیش میں شوہر اور بیوی کے درمیان تنازع اور دیگر سنگین الزامات کی رپورٹ جاری کی تھی۔ شبہے کی بنیاد پر خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی کو باضابطہ طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ادھر لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا، مگر بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے الزامات کے تحت ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

    خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ جس سیوریج ہول میں گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم لاش کی برآمدگی کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور واقعے کے ہر پہلو کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    لاہور میں بھاٹی دروازے کے قریب خاتون اور 9 ماہ بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا، دونوں کے گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا،عظمی بخاری کے مطابق داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے مبینہ ڈوبنے کا واقعہ، ریسکیو آپریشن کے دوران فیک نکلا

    ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع "فیک” نکلی،ریسکیو ٹیمیز فوری متحرک، انتظامیہ آن سپاٹ موجود ہے،ابتدائی تفتیش میں شوہر کا بیوی کے ساتھ شدید تنازعات اور سنگین الزامات سامنے آئے، خاتون کے والد نا پولیس سے رابطہ کیا اور کہا کہ”بیٹی کو قتل کیا گیا، سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے”، لاہور پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا

    جان بچانے کے مقدس جذبے کے تحت ریسکیو کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گے ،ریسکیو 1122 کی ٹیمیں نالے کے 4 مختلف پوائنٹس پر تلاشی میں مصروف، اب تک کوئی سراغ نہ مل سکا، ریسکیو 1122 پنجاب کا لاہور داتا دربار کے قریب بڑا سرچ آپریشن جاری ہے،ریسکیو ذرائع کے مطابق جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے،لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، لیکن کافی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،پولیس اور انتظامیہ سیف سٹی کی فوٹیجز کی مدد سے واقعے کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہے

    ذرائع کے مطابق جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

    لاہور انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،ماں بیٹی اگر سیوریج لائن میں نہیں گرے تو آخر کہاں گئے؟ اس حوالے سے پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر سے تحقیقات جاری ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    شورکوٹ کی رہائشی فیملی کا دعوی ہے کہ ان کی بہو سعدیہ اوراس کی نو ماہ کی بیٹی ردا سیوریج لائن میں اندھیرے کے باعث گریں،ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق اطلاع ملنے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاحال اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور جائے حادثہ ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی ڈوب یا بہہ جائے،پولیس نے سیوریج لائن کے چار مختلف مقامات پر سرچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ کے اطراف میں جاری ترقیاتی کام کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا.

  • مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں  گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس کیس کو بے بنیاد قرار دے کر پہلے ہی خارج کر چکا ہے، اس لیے کیس کے خاتمے کے بعد بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم واپس کی جائے۔درخواست کی سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل ہیں۔

    درخواست گزار مریم نواز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب نے مکمل تحقیقات کے بعد کسی بھی قسم کے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیس کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود دورانِ سماعت بطور گارنٹی جمع کرائی گئی خطیر رقم تاحال واپس نہیں کی گئی، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی مقدمے کو متعلقہ ادارہ خود ہی بے بنیاد قرار دے کر ختم کر دے تو ایسی صورت میں ضمانت کے طور پر جمع کرائی گئی رقم کو روکے رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت عالیہ اس رقم کی فوری واپسی کا حکم صادر کرے۔

  • سابق بیورو کریٹ محمد سعید  مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی تقریبِ رونمائی ہوئی، تقریب سے محمد سعید مہدی،ولید اقبال،پیپلز پارٹی کے رہنما ،سینئر سیاستدان،ممتاز وکیل اعتزاز احسن،سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی،سینئر صحافی سہیل وڑائچ ،اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب و دیگر نے خطاب کیا،

    محمد سعید مہدی کی کتاب دی آئی وٹنس کی تقریبِ رونمائی میں سیاست دانوں، بیورو کریٹس ، صحافیوں ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب کے دوران لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے افتتاحی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا، محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں زندہ تاریخ ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ،میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ،یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا، بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔

    محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں اپنی زندگی کے واقعات سنائے اور کہا کہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اڈیالہ جیل کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھا ایک روز جنرل ضیاء الحق نے مجھے طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اس جیل میں کون کون سی کلاسز تعمیر کی گئی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ بی اور سی کلاس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مزاق میں کہا کہ اس میں اے کلاس بھی بنا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اس جیل میں جانا پڑ جائے۔ اڈیالہ جیل میں پندرہ کمروں پر مشتمل اے کلاس بھی تعمیر کر دی گئی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ کئی برس بعد، جنرل پرویز مشرف کے دور میں مجھے گرفتار کیا گیا اور اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس موقع پر وہاں ان کے نام کی وہ تختی موجود تھی جو سنگِ بنیاد کے حوالے سے نصب کی گئی تھی۔ میں نے جیلر سے کہا کہ کم از کم اس تختی کی کچھ لاج رکھ لی جائے۔ دو دن بعد جب عدالت پیش کرنے کے لئے جیل سے باہر لایا گیا تو تختی سے میرا نام غائب تھا،

    اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے سعید مہدی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو چکا ہے، سعید مہدی کی کتاب ایک تاریخ ہے، اگر ہم کچھ لکھیں تو کئی بار سوچنا پڑتا ہے کبھی توہین عدالت، کبھی توہین مذہب کے الزام، کچھ بھی ہو سکتا ہے،اب تو عمران خان کا نام نہیں لکھا جاتا بلکہ بانی پی ٹی آئی کہا اور لکھا جاتا ہے،یہ کیا ہے، میں تو عمران خان ہی کہتا ہوں کیونکہ وہ میرا دوست ہے،

    ولید اقبال نے بھی مصنف محمد سعید مہدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب میں بعض غلطیوں کی بھی نشاندہی کی،جن کو انتظامیہ کی جانب سے اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی نشاندہی کی گئی.

    سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید مہدی سلطانی گواہ نہیں بنے عوامی گواہ بنے اور سرخرو ہوئے ۔ اہل صحافت کو بھی انکی کتاب پڑھنی چاہئے لکھنے والے نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ انکے جذبات احساسات ہیں۔ بھٹو کی محبت انکے دل میں ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے جو انکی زبانی ہم تک پہنچا۔ دائرے کا سفر پاکستان میں کب تک جاری رہے گا اس کا جواب سب کو تلاش کرنا ہے ماضی کو دوہرانے کا وقت نہیں۔ کاش نئے سرے سے آغاز سفر اور ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں تا کہ پاکستان آگے بڑھے

    سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو ہوتے دیکھا لیکن کچھ بدلتے بھی نہیں دیکھا، وہی کھیل تماشا اب بھی جاری ہے ۔ اب تو شاید سعید مہدی جیسا گواہ بھی نہ یو۔ ایک دھاندلی ہوئی تو اگلی نہ ہو ۔ کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے آئین پر تو ساری قوم متفق ہو اور جو اس سے پھرے تو اسکو سمجھایا جائے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔ سعید مہدی کی گواہی معتبر ہے ، ہم واقعات سنتے تھے آج وہی کتاب میں تاریخ کا حصہ بن گئے ۔سعید مہدی خوش قسمت ہیں انکو تھانیداری چھوڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج لوگ ان کے لیے گواہ بن کر آئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ عینی گواہ بننے کے لیے آنکھ کافی نہیں۔ ضمیر بھی درکار ہوتا ہے۔

  • لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے مین گیٹ کے سامنے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق انہیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اس کی بیٹی گٹر میں گر گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گٹر گہرا ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ماں اور بیٹی کی تلاش کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں،عینی شاہدین کے مطابق مین ہول کا ڈھکن موجود نہیں تھا اور اندھیرے یا رش کے باعث خاتون اور بچی کو گٹر کا اندازہ نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ شہریوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی غفلت کو ذمہ دار قرار دیا۔

  • لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    ‎لاہور پولیس نے بسنت سے پہلے غیر قانونی پتنگ بازی پر 1078 مقدمات درج کر کے 1015 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ 40 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں اور 926 چرخیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔
    ‎سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخوں کے علاوہ پتنگ بازی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوام کے تحفظ کے لیے بسنت سیفٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی پتنگ بازی پر والدین اور سرپرست کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بسنت کے موقع پر 10 لاکھ بائیکس پر مفت سیفٹی راڈز نصب کیے جا رہے ہیں اور سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

  • ظلم کی انتہا،سسرالیوں نے 5 ماہ کی حاملہ بہو کو جلا کر قتل کر دیا

    ظلم کی انتہا،سسرالیوں نے 5 ماہ کی حاملہ بہو کو جلا کر قتل کر دیا

    ‎پنجاب کے علاقے فیروزوالا میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں سسرالیوں نے 5 ماہ کی حاملہ خاتون کو جلا کر قتل کر دیا، جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون ثناء کو زندہ جلایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ، بازو اور جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ جھلس گیا۔ ثناء کی شادی چھ ماہ قبل مصطفیٰ نامی شخص سے ہوئی تھی۔
    ‎پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔

  • ٹی ٹوئنٹی سیریز: آسٹریلوی اسکواڈ پاکستان پہنچ گیا

    ٹی ٹوئنٹی سیریز: آسٹریلوی اسکواڈ پاکستان پہنچ گیا

    آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے لئے پاکستان پہنچ گئی۔

    آسٹریلیا کا 17 کھلاڑیوں پر مشتمل آسڑیلوی اسکواڈ لاہور پہنچ گیا ہے، آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی آج آرام کریں گے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ کل 29 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں کھیلا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پہلے میچ میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کی قیادت ممکنہ طور ٹریوس ہیڈ کریں گے کپتان میچل مارش اور جوش انگلس کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آرام دیے جانے کا امکان ہے،میچل مارش اور جوش انگلس نے اتوار کو بگ بیش لیگ کا فائنل کھیلا تھا، جس کی وجہ سے دونوں کھلاڑیوں کو آرام دیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ 31 جنوری جبکہ تیسرا اور آخری میچ یکم فروری کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

    دوسری جانب آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ٹی20 سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی میں آسٹریلوی ٹیم کے کپتان مچل مارش اور پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے شرکت کی،اس موقع پر دونوں کپتانوں نے سیریز کو اہم قرار دیتے ہوئے شائقین کرکٹ کے لیے دلچسپ مقابلوں کی امید ظاہر کی۔

    تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے کہا کہ ان کی ٹیم پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کے لیے پُرجوش ہے دونوں ٹیموں کے لیے یہ سیریز نہایت اہم ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ ورلڈ کپ سے قبل منعقد ہو رہی ہے اور ٹیموں کو اپنی تیاریوں کا جائزہ لینے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔

    مچل مارش نے پاکستانی فاسٹ بولرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فاسٹ بولنگ کی تاریخ ہمیشہ سے مضبوط رہی ہےانہوں نے خاص طور پر شاہین شاہ آفریدی کو ایک شاندار اور چیلنجنگ بولر قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف کھیلنا آسان نہیں ہوگا سیریز کے لیے ٹیم نے اچھی تیاری کی ہے اور زیادہ تر کھلاڑی دبئی میں ٹریننگ کرتے رہے ہیں، جبکہ کچھ کھلاڑی بگ بیش لیگ میں بھی مصروف رہے۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے بگ بیش میں کھیل کر اچھا تجربہ حاصل کیا ہوگا کل کے میچ کے لیے آسٹریلوی ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی، اپنے کھیلنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں آج رات یا کل حتمی فیصلہ کریں گے آسٹریلوی ٹیم نے اسپنرز کے لیے خصوصی پلان تیار کر لیا ہے اور کوشش ہوگی کہ جارحانہ انداز اپنایا جائے یہاں کی کنڈیشنز آسٹریلوی ٹیم کے لیے چیلنجنگ ہوں گی، تاہم ٹیم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    اس موقع پر پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ایک واضح ڈائریکشن کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اور آسٹریلیا کے خلاف آئندہ سیریز پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے آسٹریلیا کے خلاف تینوں میچز انتہائی اہم ہیں اور یہ سیریز ٹیم کے لیے خود کو منوانے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے ٹی20 کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، اس لیے ہر میچ مکمل توجہ اور درست حکمت عملی کے ساتھ کھیلنا ضروری ہے۔

    سلمان علی آغا کے مطابق تمام کھلاڑیوں کے لیے ان کے رول واضح ہیں اور ہر کھلاڑی جانتا ہے کہ اس سے کیا ذمہ داری لی جانی ہے،ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا ہی کامیابی کی کنجی ہے، کھلاڑی کو ٹیم کی ڈیمانڈ کے مطابق کھیلنا چاہیے، اگر ٹیم کو 6 رن ریٹ کی ضرورت ہو تو اسی حساب سے بیٹنگ کی جانی چاہیے اور اگر 10 رن ریٹ کی ضرورت ہو تو حکمت عملی بھی اسی کے مطابق ہونی چاہیے۔

    آسٹریلوی ٹیم کے حوالے سے سلمان علی آغا نے کہا کہ آسٹریلیا کا مائنڈ سیٹ ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے اور اگر ان کے کچھ مرکزی کھلاڑی ٹیم میں شامل نہ بھی ہوں تو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا،پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتے، پاکستانی کپتان نے عثمان طارق کو ممکنہ طور پر ٹیم کے لیے ٹرمپ کارڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیریز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر  متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی،عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیاد ی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔