Baaghi TV

Category: لاہور

  • موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے ،مریم نواز

    موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے ،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام نعرے اور عملی اقدامات میں فرق جان گئے، اب کوئی بہکاوے میں نہیں آئے گا۔

    مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضمنی انتخابات میں نومنتخب ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے،قائد محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فرداً فرداً تمام ارکان اسمبلی کو مبارکباد دی،نو منتخب ارکان اسمبلی نے اپنی فتح کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی محنت کا ثمر قرار دیا،قائد محمد نواز شریف کی نومنتخب ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں جاکر پہلے دن سے ہی خدمت کا آغاز کرنے کی ہدایت کی ،نومنتخب اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ عوام نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی محنت اور قائد محمد نواز شریف کے نام پر ہمیں ووٹ دیا، عوام کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی پالیسی اور پراجیکٹس بہت پسند آرہے ہیں، عوام کے لیے پنجاب میں جو کام کیے گئے ان کا ثمر ہمیں ضمنی الیکشن میں ملا، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ اور ستھرا پنجاب کو عوام میں مقبولیت کی سند حاصل ہے

    لاہور میں نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ ن کو اتنی بڑی فتح سےنوازا، تمام حلقوں میں کارکنوں نے سخت محنت کی، شاندارکامیابی پرتمام عہدےداروں،کارکنوں کومبارکباد دیتی ہوں، میانوالی میں بھی تبدیلی آ گئی ہے، دھاندلی ہوتی ہے توپوری دنیا دیکھتی ہے، ڈسکہ میں آپ نے دیکھاتھا، جتنی بھی مشکلات آئیں مسلم لیگ ن نےبہادری سےمقابلہ کیا اور کبھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا،گزشتہ دور حکومت میں مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، لوگوں کو اصل اور نقل کے فرق کا پتا چل گیا، ہمیں موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے لیکن عوام کو سمجھ آ گئی ہے اب کوئی بہکاوے میں نہیں آئے گا،مسلم لیگ ن نےکبھی بھی سیاسی عمل سےانکارنہیں کیا، عوام نعرے اور عملی اقدامات میں فرق جان گئےہیں، ہری پورمیں بھی بھاری لیڈ سےمسلم لیگ ن جیتی۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھاکہ گزشتہ دورحکومت میں سیاست کوذاتی دشمنی میں تبدیل کیاگیا، ہر دفعہ سازشیوں کا ایک نیا گروپ سامنےآجاتا ہے اور ہر دفعہ کہا جاتاہےکہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی، جلاوطنی سمیت ہم نے ہر تکلیف برداشت کی، ہم نہیں جانتےآج وہ تاریخ کے کس کوڑےدان میں پڑے ہیں، ہم نےخدمت کرنا کس سے سیکھا ہے، نواز شریف سے سیکھا ہے، آج نوازشریف کہتے ہیں کہ شہبازشریف اورمریم نوازمجھ سے آگے نکل گئےہیں، ہمیں حکومت ملی تھی تو دشمن کہتےتھےپاکستان ڈیفالٹ کرجائےگا، آج لوگ ان کی کسی کال پر دھیان نہیں دے رہے،ڈیڑھ سال کے دوران پنجاب میں روٹی کی قیمت نہیں بڑھی، میرے مخالفین بھی کہتےہیں وہ پنجاب میں محفوظ تصور کر رہے ہیں، ہماری خدمت کی وجہ سےہی آج مسلم لیگ ن کو ووٹ ملاہے، نوازشریف کی 40 سال کی سیاست کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔

  • پسند کی شادی،لڑکی عدالت میں مکر گئی،دولہا پر 50 ہزار جرمانہ

    پسند کی شادی،لڑکی عدالت میں مکر گئی،دولہا پر 50 ہزار جرمانہ

    لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کے کیس میں لڑکی کے مُکرنے پر اس کے مبینہ شوہر پر 50ہزار روپے جرمانہ کردیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے شہری شعیب ظفر کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار نے کہا کہ 6 جون 2025 کو فریدہ بی بی کے ساتھ پسند کی شادی کی، لڑکی کے والدین نے زبردستی بیوی کو اپنے پاس رکھا ہے،اس پر جسٹس غضنفر علی خان نے کہا کہ اگر لڑکی نے تمہارے حق میں بیان نہ دیا تو 50 ہزار جرمانہ کروں گا،دوران سماعت لڑکی نے والدین کے ساتھ جانے کا بیان دے دیا جس پر عدالت نے نوجوان پر 50 ہزار روپے جرمانہ کردیا،عدالت نے حکم دیا کہ جب تک جرمانہ ادا نہیں ہوگا، درخواست گزار پولیس کی حراست میں رہے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر ،   37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    مقبوضہ کشمیر ، 37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    آج دنیا بھر میں ”خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے جب کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں خواتین 1947ء سے بھارت کے مسلسل فوجی قبضے اور سیاسی ناانصافیوں کی وجہ سے ناختم ہونے والے مصائب ، ریاستی دہشت گردی ، مظالم ، خوف اور اذیت کا بدستور شکار ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج کے دن کی مناسبت سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 37 برس کے دوران اپنی ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین کو شہید اور 11 ہزار 2 سو 69 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔1989ء سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے 22 ہزار 9 سو 91 کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ درجنوں کشمیری خواتین بشمول حریت رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، صوبیہ عزیز، شیما شفیع وازہ، شائستہ مقبول، شمس بیگم، زیتون اختر، روبینہ نذیر، ثریا راشد وانی، شکیلہ، صائمہ بشیر میر ، مفیدہ اقبال ، راشدہ سلام دین، شفیقہ بیگم، سردہ بیگم، منیرہ بیگم، عشرت رسول، نگینہ منظور لون، آفرینہ المعروف آیات گنائی، افروزہ بیگم، شبروزہ بانو برکاتی، سلیمہ بیگم، گلشن ناز، دیوان باغ، نصرت جان، فرحت بیگم، حلیمہ بشیر ، نرگس بٹ ، آبانو ، نگینہ منیرہ بیگم ، پروین اختر ، مریم بیگم ، شمیمہ بیگم ، عظمیٰ وسیم، سلیمہ بی بی اور شہزادہ اختر نئی دلی کی تہاڑ سمیت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل قید ہیں ۔بھارتی قابض فوجی کشمیریوں کو ان کے استصواب رائے کے سیاسی مطالبے پر اجتماعی سزا دینے کے لیے جنسی ہراساں کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں جو کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ، شوہروں اور بھائیوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے مسلسل اذیت کا شکار ہیں – اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی کشمیری خواتین کو بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم و تشدد سے نجات دلانے کیلئے اقدامات کرے ۔رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر نامی دو خواتین کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران سو کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ باوردی بھارتی اہلکاروں نے 29 مئی 2009ء کو شوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور بعد میں دونوں کو قتل کر دیا۔ جنوری 2018ء میں جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلم بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس اہلکاروں اور دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ فرقہ پرست ہندوؤں نے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا ۔ بھارتی فوج نوجوانوں کے قتل ، گرفتاری اور انکی جبری گمشدگی کے ذریعے خواتین کو مسلسل ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    اُدھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیری خواتین کو خوف و دہشت کا نشانہ بنانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا اور وہ تحریکِ آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہیں گی ۔

    دریں اثناء خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر رہنماؤں محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، ایڈووکیٹ پرویز احمد، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، زاہد اشرف اور دیگر نے اسلام آباد میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں خواتین مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتیوں کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء کے بعد کشمیری خواتین پر بھی قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم میں تیزی آئی ہے ۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے 20 ہزار محنت کشوں کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا فیصلہ کرلیا، پنجابی زبان کو تعلیم اور عوامی زندگی میں مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم بھی دیدیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں تمام محکموں کے بارے میں 6 گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی، 20 ہزار محنت کشوں کو اپنے گھر کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں آرکیالوجی، اسپورٹس اور لیبر سمیت ہر شعبے کی جانچ پڑتال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کردی۔

  • ایتھوپیا،آتش فشاں پھٹ گیا، راکھ کے بادل پاکستان تک پہنچ گئے

    ایتھوپیا،آتش فشاں پھٹ گیا، راکھ کے بادل پاکستان تک پہنچ گئے

    ایتھوپیا میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں پھٹ گیا، آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور پاکستان تک پہنچ گئے۔

    محکمہ موسمیات نے پہلی بار کسی آتش فشاں کی راکھ سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے،ترجمان کے مطابق آتش فشاں کی راکھ گوادر کے جنوب میں 60 ناٹیکل میل پر دیکھی گئی،راکھ 45ہزار فٹ کی بلندی پر تھی، پاکستان کی اندرون ملک پروازیں 34 سے 36 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتی ہیں،بین الاقوامی پروازوں کے جہاز 40 سے 45 ہزار فٹ کی بلندی پر ہوتے ہیں،راکھ بین الاقومی پروازوں کے جہاز کے انجن کو متاثر کرسکتی ہے۔

    دوسری جانب بھارتی شہری ہوابازی کے ادارے ڈی جی سی اے اور ممبئی و دہلی کے موسمیاتی مشاہدہ دفاتر نے فضائی کمپنیوں کیلئے سخت الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں راکھ والے علاقوں کے اوپر پرواز نہ کرنے کی ہدایت دی ہے،آتش فشاں کے دھماکے کے فوراً بعد راکھ کا بادل تقریباً 30 سے 35 ہزار فیٹ کی اونچائی تک پہنچا، جو انہی فضائی پرتوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے زیادہ تر بین الاقوامی پروازیں گزرتی ہیں۔ ہواؤں کا رخ خلیجی ممالک کی طرف تھا، اسی وجہ سے یہ بادل سیدھا عمان کی جانب بڑھا اور پھر بحیرہ عرب کے اوپر سے گزرتا ہوا 24 نومبر کی شام بر صغیر تک آ پہنچا،موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس وقت مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور وسطی ہندوستان کے اوپر کی ہوا میں راکھ کے باریک ذرات موجود ہیں جو پروازوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    طیاروں کے ماہرین کہتے ہیں کہ آتش فشانی راکھ ہوابازی کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ عناصر میں شامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ راکھ انجن میں داخل ہو کر پگھلتی ہے اور ٹربائن کے اندر جم کر رکاوٹ پیدا کرتی ہے، جس سے انجن بند ہونے تک کا خدشہ رہتا ہے۔ صرف انجن ہی نہیں بلکہ جہاز کی سامنے والی شیشے کی پرت بھی بری طرح کھرچ جاتی ہے، جس سے پائلٹ کے لیے منظر دھندلا ہو جاتا ہے۔ آلات اور سینسر بھی خراب ہو سکتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ راکھ عام موسمی ریڈار پر صاف دکھائی نہیں دیتی، لہٰذا خطرہ اچانک اور بغیر پیشگی خبر کے سامنے آ سکتا ہے۔

  • پیپلز پارٹی ذمہ دار اتحادی، بائیکاٹ سیاسی غلطی ہے: عطا تارڑ

    پیپلز پارٹی ذمہ دار اتحادی، بائیکاٹ سیاسی غلطی ہے: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور مضبوط اتحادی ہے، اور حکومت ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مظفرگڑھ کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ نتیجہ سیاسی عمل میں باہمی اعتماد اور تعاون کا مظہر ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل ہمیشہ مکالمے، کھلے دروازوں اور بات چیت سے آگے بڑھتا ہے، جبکہ مستقل مزاجی اور جمہوری شمولیت مضبوط سیاسی نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سیاسی شرکت کے بغیر اصلاحات ممکن ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کرنا ہے، کیونکہ کسی عمل میں شریک ہوئے بغیر دھاندلی کا الزام لگانا مناسب طرزِ عمل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں بھرپور شمولیت سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی طاقت اور عوامی حمایت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔

    اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    ملائیشیا، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ بھی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو مستحکم بنانے کے لیے کام کرتی رہے گی

  • سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ موبائل یونٹ ایک چلتا پھرتا ہیڈ کوارٹر ہوگا، جسے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں تکنیکی برتری فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ خصوصی طور پر حساس پروگراموں کے دوران استعمال ہوگا، جن میں رائیونڈ اجتماع، داتا دربار، کرکٹ میچز اور دیگر بڑے ایونٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوم عاشور اور بڑے سیاسی اجتماعات کی سیکیورٹی کیلئے بھی اسے موثر طور پر استعمال کیا جائے گا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق حساس پروگراموں کی مانیٹرنگ، کمانڈ اور کوآرڈی نیشن ایک ہی موبائل وین سے سرانجام دی جائے گی، جبکہ لائیو آپریشنز کے دوران فورس کو ڈیٹا، ویڈیو فیڈ اور تجزیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔مزید بتایا گیا کہ یہ موبائل یونٹ لاہور سے کراچی، کوئٹہ، پشاور اور سرحدی علاقوں تک بطور بیک اپ کمانڈ سینٹر کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس جدید یونٹ کے ذریعے جلسوں، جلوسوں اور بڑے اجتماعات کی سیکیورٹی مزید مؤثر اور مربوط ہو جائے گی

    پاکستان کا سری لنکا دورہ، 3 ٹی 20 میچز کی سیریز کا امکان

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

    شی جن پنگ اور ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، تائیوان سمیت اہم امور پر گفتگو

  • بچوں پر تشدد ، پنجاب میں 4150 سے زائد واقعات رپورٹ

    بچوں پر تشدد ، پنجاب میں 4150 سے زائد واقعات رپورٹ

    سال 2025 کی پہلی ششماہی میں پنجاب میں بچوں کے خلاف تشدد کے 4,150 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی فیکٹ شیٹ میں جاری کیے گئے، جو جنوری تا جون 2025 کے واقعات پر مشتمل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 3,989 کیسز میں چالان پیش کیا گیا جبکہ 3,791 مقدمات زیرِ سماعت رہے۔ روزانہ اوسطاً 23 کیسز رپورٹ ہوئے۔ششماہی کے دوران صرف 12 سزائیں ہو سکیں، جبکہ سزاؤں کی مجموعی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی۔جنسی زیادتی کے 717 کیسز — کوئی سزا نہیں،بچوں سے بھیک منگوانا: 2,693 کیسز — کوئی سزا نہیں،اسمگلنگ: 332 کیسز — 4 سزائیں ،چائلڈ لیبر: 182 کیسز — 8 سزائیں،جسمانی تشدد (87 کیسز)، اغوا (27 کیسز) — کوئی سزا نہیں اور بچوں کی شادی: 12 کیسز — کوئی سزا یا بریت نہیں.رپورٹ کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ بچوں کے استحصال اور اسمگلنگ کے بڑے ہاٹ اسپاٹس ہیں، جبکہ لاہور میں سب سے زیادہ جنسی زیادتی، بھکاری بازی اور اسمگلنگ کے کیسز سامنے آئے۔

    ایس ایس ڈی او نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے نظام میں سنگین خامیاں، کمزور تفتیش، سست عدالتی عمل اور کم رپورٹنگ کے رجحانات تشویشناک ہیں۔تنظیم نے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا، جن میں تفتیشی نظام بہتر بنانے، مقدمات کی تیز سماعت، محکموں کے درمیان تعاون، بچوں کے تحفظ کے یونٹس کی توسیع اور عوامی سطح پر آگاہی مہم شامل ہیں۔

    اس ماہ کے آغاز میں وزارتِ انسانی حقوق اور عالمی ادارۂ صحت نے بچوں کے خلاف تشدد کے تدارک کے لیے قومی اسٹریٹجک ایکشن پلان کی تیاری پر مشاورت بھی شروع کر دی ہے

    لاہور ، پشاور اور کوئٹہ کے پی ایس ایل معاہدوں میں مزید 10 سال کی توسیع

    غزہ تک صحافیوں کی رسائی میں تاخیر پر ایف پی اے کا شدید اظہارِ تشویش

  • سندھ پر قبضے کا بھارتی وزیر دفاع کا بیان گیدڑ بھبکی،قوم متحد ہے،خالد مسعود سندھو

    سندھ پر قبضے کا بھارتی وزیر دفاع کا بیان گیدڑ بھبکی،قوم متحد ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کا سندھ پر قبضے کا بیان گیدڑ بھبکی، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کی وجہ سے مودی سرکار ابھی تک بوکھلاہٹ کا شکار ہے،اب اگر بھارت نے کوئی غلطی کی تو آپریشن سندور کو بھول جائے،راجناتھ سنگھ کا بیان اشتعال انگیز،غیر ذمہ دارانہ ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے مقابلے میں مکمل طور پر متحد ہے،عالمی برادری کو چاہیے کہ بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے،پاکستان عالمی دنیا کے سامنے کئی بار بھارتی دہشت گردی ،خطے میں بدامنی کے ثبوت پیش کر چکا ہے،بھارتی سازشوں کے خلاف قوم ایک ہے، پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، پاکستان کا دفاع مستحکم،مسلح افواج قومی اتحاد کے ساتھ اپنے ہر انچ کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہیں، راجناتھ سنگھ سن لیں،سندھ پاکستان تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا

  • اسلامک یکجہتی گیم میں گولڈ میڈل جیت کرارشد ندیم لاہور پہنچ گئے،سرکاری حکام استقبال کو نہ آئے

    اسلامک یکجہتی گیم میں گولڈ میڈل جیت کرارشد ندیم لاہور پہنچ گئے،سرکاری حکام استقبال کو نہ آئے

    پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ایتھلیٹ ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر عائد پابندی کو ختم کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ایس بی کے ثالث سینیٹر پرویز رشید نے کوچ سلمان بٹ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،سلمان بٹ پر ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان نے تاحیات پابندی عائد کردی تھی،بعد ازاں سلمان بٹ نے اس پابندی کو اسپورٹس بورڈ کے آئین کے مطابق چیلنج کیا تھا جس کے پیش نظر دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی ایس بی ثالث نے پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ پی ایس بی ثالث کے فیصلے کے مطابق سلمان بٹ کے خلاف کارروائی میں ایتھلیٹکس فیڈریشن نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا تھا، نہ کوئی چارج شیٹ فراہم کی گئی اور نہ ہی کوئی سماعت کا موقع دیا گیا چنانچہ ایتھلیٹکس فیڈریشن نے سلمان بٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور ارشد ندیم کے کوچ پر پابندی سے ارشد ندیم کی تیاریوں کو بھی متاثر کیا گیا ۔

    دوسری جانب پی ایس بی ایڈجیوڈیکیٹر نے ایتھلیٹکس فیڈریشن کو سلمان بٹ کے خلاف بیان سے بھی روک دیا ہے،پنجاب ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے معاملات براہ راست ایتھلیٹکس فیڈریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں تھے ،پی اے اے کے انتخابات پنجاب اسپورٹس بورڈ اور پنجاب اولمپکس کے زیر نگرانی ہوئے تھے ،مزید برآں اسپورٹس بورڈ نے اے ایف پی کا پنجاب ایتھلیٹکس الیکشن کالعدم کرنے کا فیصلہ بھی معطل کردیا ہے۔

    علاوہ ازیں اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولین تھرور ارشد ندیم اور یاسر سلطان سعودی عرب میں ہونیوالی اسلامک سالیڈیریٹی گیمز میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتنے کے بعد لاہور پہنچ گئے۔وزیر کھیل سمیت اعلیٰ حکام کی جانب سے دونوں ایتھلیٹ کے استقبال کیلئے کوئی نہیں پہنچا۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ ورلڈ چیمپئن شپ کے بعد بہت محنت کی، انجری کے بعد گولڈ میڈل جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے، 2026ء کے ایونٹ کیلئے سخت محنت کروں گا۔یاسر سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت ہماری سہولیات بہتر کرے، پریکٹس کیلئے جیولن ارشد ندیم سے مانگتا ہوں۔