Baaghi TV

Category: لاہور

  • پنجاب حکومت نے 2026 کیلئے سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    پنجاب حکومت نے 2026 کیلئے سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    پنجاب حکومت نے سال 2026 کے لیے سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے،جبکہ وفاقی حکومت کی منظور شدہ عوامی تعطیلات پنجاب میں بھی نافذ العمل ہوں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق کشمیر ڈے 5 فروری کو منایا جائے گا جبکہ پاکستان ڈے 23 مارچ کو منایا جائے گاعیدالفطر کی تعطیلات 21 سے 23 مارچ تک ہوں گی اور یوم تکبیر 28 مئی کو سرکاری تعطیل رہے گا عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 27 سے 29 مئی تک ہوں گی، عاشورہ کی چھٹیاں 24 اور 25 جون کو ہوں گی، یومِ آزادی 14 اگست کو عام تعطیل ہوگی، عید میلادالنبی 25 اگست کو منائی جائے گی، علامہ اقبال ڈے 9 نومبر کو تعطیل رہے گا، جبکہ قائداعظم ڈے اور کرسمس دونوں 25 دسمبر کو منائے جائیں گےکرسمس کے بعد 26 دسمبر کی تعطیل صرف مسیحی ملازمین کے لیے ہوگی۔ یکم جنوری، 18 فروری اور یکم جولائی کو بینک تعطیل ہوں گے۔

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    پنجاب میں اختیاری تعطیلات کی فہرست بھی جاری کی گئی ہےسرکاری ملازمین جن کا مذہب مسلم ہوگا، سال میں صرف ایک اختیاری تعطیل لے سکیں گے، جبکہ غیر مسلم ملازمین کو سال میں تین اختیاری تعطیلات حاصل ہوں گی اختیاری تعطیلات لینے کے لیے متعلقہ محکمے کے سربراہ سے پیشگی اجازت لازمی ہےضلعی کمشنرز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں دو مقامی تعطیلات کا اعلان کر سکیں، جبکہ لاہور میں مقامی تعطیلات کا اعلان صوبائی حکومت کرے گی۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

  • جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا-

    نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی درخواستیں اور پٹیشنز دائر کی جا سکیں گی پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اس فیصلے کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی تاکہ جعلی اور بوگس مقدمات کا راستہ روکا جا سکے۔

    عدالتی نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور عدالت میں بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق لاگو کر دی گئی ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی تھیں۔

    کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

  • پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور حفظانِ صحت کے نظام کو مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں صفائی کے نظام میں بڑی انتظامی اور قانونی تبدیلی متوقع ہے۔منظور شدہ بل کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی ایک بااختیار کارپوریٹ ادارہ ہوگی جو پورے صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسی سازی، قانون سازی، معیار کے تعین اور نگرانی کے فرائض انجام دے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس اتھارٹی کی چیئرمین ہوں گی جبکہ وزیر بلدیات وائس چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور تمام ڈویژنل کمشنرز اتھارٹی کے ممبران ہوں گے، جس سے فیصلہ سازی میں انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

    بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پالیسی، قوانین اور معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ لینڈفل سائٹس کی تعمیر اور ان کے انتظام کی بھی مجاز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کچرے کے سائنسی اور ماحول دوست انتظام کو فروغ دینا ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ضلع کی سطح پر ستھرا پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو لائسنسنگ، رجسٹریشن اور فیس وصولی کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ ویسٹ مینجمنٹ انسپکٹرز کی تقرری بھی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔ دیہی علاقوں میں صفائی اور حفظانِ صحت کی بہتری کی ذمہ داری بھی اسی اتھارٹی پر عائد کی گئی ہے۔

    بل کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ خدمات کے عوض فیس مقرر کر سکے گی۔ تاہم ایک اہم شق کے مطابق اتھارٹی کے فیصلوں کو براہِ راست عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جسے حکومت انتظامی امور میں تیزی اور رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف صوبے میں صفائی کے نظام کو مرکزی اور مربوط انداز میں چلایا جا سکے گا بلکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام پنجاب کو جدید اور ماحولیاتی طور پر محفوظ صوبہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

  • 15 فروری کو 2 پاک بھارت ٹاکرے

    15 فروری کو 2 پاک بھارت ٹاکرے

    15 فروری کو 2 پاک بھارت معرکے طے ہو گئے ہیں-

    تفصیلات کے مطابق 15 فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑا مقابلہ شیڈول ہے، جو کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سلسلے میں کولمبو میں کھیلا جائے گا، جس میں دونوں ٹیمیں ایک ہی گروپ میں ہیں اور شائقین اس اہم میچ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں-

    مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے ساتھ ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں بھی پاکستان اور بھارت کا سامنا ہوگاایشین کرکٹ کونسل نے ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز کا شیڈول جاری کردیا آٹھ ٹیموں پر مشتمل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ 13 سے 22 فروری تک تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں کھیلا جائے گا،اس کا مقصد براعظم سے ابھرتی ہوئی ٹیموں کو پلیٹ فارم کی فراہمی اور ایشیائی کرکٹ کے فیوچر اسٹارز کو متعارف کرانا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے ساتھ گروپ اے میں متحدہ عرب امارات اور نیپال شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں بنگلادیش، سری لنکا، ملائیشیا اور میزبان تھائی لینڈ کو شامل کیا گیا ہے پاک بھارت ویمنز میچ کو گروپ مرحلے کا سب سے نمایاں مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے، اس سے رائزنگ اسٹارز ٹورنامنٹ کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    گرین شرٹس مہم کا آغاز 13 فروری کو نیپال کے خلاف کریں گی، گروپ مرحلے میں آخری مقابلہ 17 فروری کو یو اے ای سے ہوگا دوسری جانب بھارت کا پہلا میچ متحدہ عرب امارات اور دوسرا میچ نیپال سے ہونا ہےگروپ مرحلہ 18 فروری تک جاری رہے گا، اس کے بعد ہر گروپ کی ٹاپ 2 ٹیمیں 20 فروری کو ہونے والے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کرپائیں گی جبکہ فائنل 22 فروری کو کھیلا جائے گا،ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026 کو نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور ایشیا بھر میں ویمنز کرکٹ کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے-

  • عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہیں، جس کے ساتھ ہی صحافتی حلقوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے،سالانہ انتخابات کے لئے ووٹنگ 25 جنوری اتوار کو ہو گی

    لاہور پریس کلب انتخابات کے سلسلے میں دو بڑے پینل سامنے آ گئے ہیں، صدر کے عہدے کے لیے ارشد انصاری اور اعظم چوہدری آمنے سامنے ہیں، جبکہ سیکرٹری جنرل کے اہم عہدے پر ایک بار پھر عبدالمجید ساجد نے میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے، جن کا مقابلہ افضال طالب سے ہو گا۔اسی طرح دیگر عہدوں پر بھی امیدواروں کے نام سامنے آ چکے ہیں،

    لاہورپریس کلب انتخابات کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار برائے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست یا عہدوں سے ذاتی طور پر کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ صرف صحافتی کمیونٹی کی بہتری اور حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف الیکشن لڑنا مقصد نہیں، ہم عہدوں کے خواہش مند نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نئے لوگ آگے آئیں، لیکن اگر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں تو صرف اور صرف صحافی برادری کے لیے لڑ رہے ہیں،عبدالمجید ساجد نے اتحاد کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل تمام افراد کریڈٹ کے مستحق ہیں جنہوں نے اختلافات بھلا کر قربانیاں دیں۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ اب ہم میدان میں آ چکے ہیں، ہم جیت کر آئیں گے، پورا پینل کامیاب ہو گا، ان شاء اللہ۔ گرینڈ الائنس کلین سویپ کرے گا۔

    صحافی برادری کا کہنا ہے کہ لاہور پریس کلب کی تاریخ گواہ ہے کہ عبدالمجید ساجد ہمیشہ صحافتی کمیونٹی کے لیے تنِ تنہا بھی میدانِ عمل میں ڈٹے رہے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے، باوقار اور باکردار لیڈر کے طور پر وہ ایک بار پھر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ماضی میں وہ چار مرتبہ ممبران کے ووٹ اور اعتماد سے کامیاب ہو چکے ہیں اور ایک بار پھر وہ اسی اعتماد کی تجدید کے لیے میدان میں اترے ہیں،کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ

  • لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی  تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق و تالیف کے شعبے میں پہلی خواتین یونیورسٹی بن گئی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 475 تحقیقاتی مضامین، 75 ریسرچ پروپوزلز اور 40ملین کی ریسرچ گرانٹ حاصل کیں،گذشتہ برس 200 اساتذہ کی تربیت، 5 پیٹنٹ درخواستیں، 30نمائشیں اور 31 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے

    تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے سال 2025 کے لیے اپنی ابتدائی سالانہ تحقیقی، جدتی اور کمرشلائزیشن رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی اشتراک کے شعبوں میں یونیورسٹی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ رپورٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت اور ادارہ جاتی سرپرستی میں تیار کی گئی، جس میں 2025 کے دوران ایل سی ڈبلیو یو کی تحقیقی سرگرمیوں اور جدتی اقدامات کا جامع مگر مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے تحقیق، مسابقتی فنڈنگ کے حصول، جدت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہے، جو مختلف نمایاں کارکردگی اشاریوں میں واضح طور پر سامنے آتی ہے۔سالانہ رپورٹ میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹیم اور خلائی علوم، سماجی علوم اور فنون جیسے اہم تحقیقی شعبوں میں یونیورسٹی کی شراکت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) بالخصوص ہدف 3، 4، 5، 7، 9، 13 اور 17 سے ہم آہنگ ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ORIC کی یہ رپورٹ نہ صرف یونیورسٹی کی تحقیقی سمت کا تعین کرتی ہے بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سماجی ترقی میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

    لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نواسے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات لاہور میں بھرپور انداز سے منعقد ہوئیں۔

    جنید صفدر کا نکاح معروف سیاستدان شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی روحیل سے ہوا، جبکہ شادی کی تقریبات میں سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مہندی کی تقریب شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا لاہور میں منعقد ہوئی، جہاں دلہن شانزے علی روحیل نے معروف بھارتی فیشن ڈیزائنر سبیاسچی مکھرجی کا تیار کردہ زمردی سبز رنگ کا لہنگا زیب تن کیا۔ اس دیدہ زیب لباس میں سبیاسچی کے روایتی ورثہ سے متاثرہ ڈیزائن، متضاد رنگوں کے پینلز، چوڑا سنہری بارڈر، جبکہ سبز اور گلابی رنگ کے دوپٹے شامل تھے، جس نے تقریب کی رونقوں کو دوبالا کر دیا۔

    مہندی کے بعد نکاح کی تقریب بھی جاتی امرا میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی شادی کی تقریب میں دلہن نے ایک اور معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہلیانی کا تیار کردہ سرخ ساڑھی زیب تن کی۔جہاں شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، وہیں دلہن کے بھارتی ڈیزائنرز کے انتخاب نے پاکستان میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے ایک نمایاں سیاسی خاندان کی شادی میں بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات کو ترجیح دینے پر تنقید کی۔

    کچھ صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بے شمار باصلاحیت ڈیزائنرز موجود ہیں جو مقامی ثقافت اور روایات کی بھرپور عکاسی کر سکتے تھے، اس لیے یہ انتخاب غیر ضروری اور مقامی فیشن انڈسٹری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک صارف نے لکھا،“ایچ ایس وائے، نومی انصاری، خدیجہ شاہ، زارا شاہجہان، فائزہ ثاقب، بنتو قاضی، فراز منان، ماریہ بی، اور ارم خان جیسے بڑے نام موجود تھے، پھر بھی بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب کیا گیا، حیران کن ہے۔”

    ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ پاکستانی ڈیزائنرز اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور ثقافتی طور پر نمائندہ لباس تیار کر سکتے تھے۔تاہم کئی صارفین نے دلہن کے حق میں آواز بلند کی اور کہا کہ شادی ایک ذاتی معاملہ ہے اور لباس کا انتخاب بھی ذاتی پسند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیشن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور جیسے بھارتی شوبز شخصیات پاکستانی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہنتی ہیں، ویسے ہی پاکستانی دلہن کا بھارتی ڈیزائنر کا انتخاب قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    ایک صارف نے لکھا،“یہ 2026 ہے، دلہن کو اس کی شادی پر اپنی پسند کا لباس پہننے کا حق ہونا چاہیے۔ ہر کسی کو ہر لباس پسند آنا ضروری نہیں۔”واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شریف خاندان کو اس نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ دسمبر 2024 میں بھی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سبیاسچی کا لباس پہننے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • لاہور،مکان میں آگ ،5 افرادجھلس کر زخمی

    لاہور،مکان میں آگ ،5 افرادجھلس کر زخمی

    لاہور: بیدیاں روڈ کے علاقے میں واقع ایک رہائشی مکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے نتیجے میں پانچ افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلِ محلہ نے فوری طور پر ریسکیو اداروں کو آگاہ کیا، جس پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے باعث ایک خاتون، ایک مرد اور دو بچوں سمیت مجموعی طور پر پانچ افراد جھلس گئے۔ زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی طور پر واقعہ شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بروقت کارروائی کے باعث آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا گیا، جس سے بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

  • ، پنجاب میں  لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں، طلال چودھری

    ، پنجاب میں لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں، طلال چودھری

    گوجرہ: وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پنجاب میں کوئی کچے یا پکے کا ڈاکو نہیں بلکہ جو بھی جرم کرتا ہے وہ قانون کی گرفت میں آتا ہے-

    وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اس وقت ترقیاتی کاموں میں ملک کے دیگر صوبوں سے آگے ہے، پنجاب میں کوڑا کرکٹ باقاعدگی سے لوگوں کے گھروں سے اٹھایا جاتا ہے، جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں یہ صورتحال نظر نہیں آتی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئی کچے یا پکے کا ڈاکو نہیں بلکہ جو بھی جرم کرتا ہے وہ قانون کی گرفت میں آتا ہے صوبے کے ہر علاقے میں کارپٹ سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے جو دیگر صوبوں میں موجود نہیں، پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں،موجودہ حکومت نے اپنی سیاست نہیں بلکہ ریاست بچانے کو ترجیح دی۔

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں تھانے نہیں بکتے اور شہری بلاخوف سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں، طلال چودھری نے اعتراف کیا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران مہنگائی میں اضافہ ہوا، تاہم گزشتہ دو سے اڑھائی برسوں میں ملکی معاشی حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مستقبل میں مزید بہتری متوقع ہے،طلال چودھری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی اور موازنہ کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ووٹ دیں۔

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

  • پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

    لاہور: پنجاب بارکونسل کے حالیہ انتخابات میں اعظم نذیر تارڑ گروپ نے شاندار کامیابی حاصل کی، جہاں ان کے 56 امیدوار کامیاب ہوئے۔

    انتخابات کے بعد اعظم نذیر تارڑ اوراحسن بھون گروپ نے اکثریت کی بنیاد پرپنجاب بار کونسل کے لیے کابینہ منتخب کرلی ہےوفاقی وزیر قانون نے اعظم نذیر تارڑ کی قیادت کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی وزیر قانون نے خواجہ قیصر کو وائس چیئرمین منتخب ہونے پر بھی مبارکباد پیش کی۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وکلا برادری کے مسائل کے حل اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے پنجاب بار کونسل کا کردار انتہائی اہم ہے انہوں نےامید ظاہر کی کہ نومنتخب قیادت مؤثر اقدامات کرے گی اور وکلا کے حقوق اور مسائل کے حل میں پیش رفت ہوگی –

    پنجاب بار کونسل پاکستان کی سب سے بڑی بار کونسل ہے اور اس میں اکثریت حاصل کرنے سے وکلا برادری میں اہم اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے یہ انتخابات وکلا برادری میں شفافیت اور جمہوری عمل کو فروغ دینے کی اہم مثال ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ نئی قیادت قانون اور انصاف کے شعبے میں مثبت کردار ادا کرے گی۔