Baaghi TV

Category: لاہور

  • بحریہ ٹاؤن لاہور میں بجلی بند، شہری شدید پریشان، 35 ہزار گھر شامل

    بحریہ ٹاؤن لاہور میں بجلی بند، شہری شدید پریشان، 35 ہزار گھر شامل

    بحریہ ٹاؤن لاہور میں بجلی کی طویل بندش نے 35 ہزار گھروں کو تاریکی میں مبتلا کر دیا، جس کے باعث علاقے کے رہائشی شدید مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں۔

    بجلی بند ہونے کی وجہ مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن لاہور کی جانب سے بجلی کے بل کی عدم ادائیگی بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی فراہم کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن لاہور نے اپنے واجبات ادا نہیں کیے، جس کے باعث بجلی منقطع کر دی گئی۔ دوسری جانب بحریہ ٹاؤن لاہور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں، جس کے باعث ادائیگی ممکن نہیں ہو پا رہی۔بجلی کی طویل غیر اعلانیہ بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ گھروں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگئی،بچے، خواتین اور بزرگ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،دکانیں اور کاروبار بند ہونے سے مالی نقصان بڑھ رہا ہے،جنریٹرز اور یو پی ایس بھی طویل بندش کے باعث جواب دے چکے ہیں.

    رہائشیوں نے حکومت، نیپرا اور پنجاب انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے اور بحریہ ٹاؤن کے انتظامی تنازعات کی سزا شہریوں کو نہ دی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی ہٹ دھرمی اور فیصلے نے ہزاروں افراد کو مشکلات میں ڈال دیا ہے اور پورا علاقہ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔بحریہ ٹاؤن اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مسئلے کے حل تک علاقے میں بجلی بحال ہونے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا، جبکہ متاثرین شدید بے چینی میں صورتحال کے حل کے منتظر ہیں

    پاکستان بار کونسل انتخابات 2025، 59 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے

    سلطان احمد چوہدری نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے نئے آئی جی مقرر

    تاجکستان نے افغانستان کا حملہ دہشتگردی قرار دے دیا

  • ٹک ٹاک نے  شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک نے شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک (TikTok) نے ایسی کئی نئی اپ ڈیٹس متعارف کی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو بہتر طور پر پہچاننے،سمجھنے اور اپنی پسند کے مطابق کنٹرول کرنے میں مدد دینا ہے۔ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اے آئی کو اگر ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، دریافت کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اور تحفظ میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ اپ ڈیٹس کمیونٹی کو زیادہ واضح معلومات اور مزید اختیارات فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ وہ اے آئی کے ساتھ اپنے تعامل کے حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکیں۔

    ایک نیا کنٹرول جو اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کے لیے ہے، جلد ہی “Manage Topics” فیچر میں آزمایا جائے گا۔ اس سیٹنگ کے ذریعے صارفین یہ طے کر سکیں گے کہ ان کی For You فیڈ میں اے آئی سے بنایا گیا کانٹینٹ کس حد تک دکھائی دے۔جو لوگ اے آئی سے تخلیق کردہ کہانیوں یا تعلیمی ویڈیوز سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے کنٹنٹ کی مقدار بڑھا سکیں گے، جبکہ وہ صارفین جو کم دیکھنا چاہتے ہیں، اسے کم کر سکیں گے۔ یہ ٹول افراد کو ،ٹک ٹاک کو منفرد بنانے والے تخلیقی تنوع کو محدود کیے بغیر،اپنی فیڈ کواپنی پسند کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول، اُن ٹولز کے مجموعہ میں اضافہ کرتا ہے جو لوگوں کو کنٹنٹ کی سفارشات کو ذاتی نوعیت کا بنانے اور اپنی پسندیدہ اشیاء کو دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے، جیسا کہ حسب ضرورت کی ورڈ فلٹرز اور ”Not interested“ بٹن۔

    شفافیت کو مزید مضبوط بنانےکی غرض سے ،ٹک ٹاک اپنے اے آئی لیبلنگ سسٹمز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ پلیٹ فارم پہلے ہی متعدد ایسے طریقے استعمال کرتا ہے، جن میں کریئیٹرز کے لیبل، اے آئی ڈیٹیکشن (AI detection models)ماڈلز، اور C2PA Content Credentials شامل ہیں، تاکہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اب تک 1.3 ارب سے زائد ویڈیوز کو لیبل کیا جا چکا ہے۔ ایپ اب "نظر نہ آنے والی واٹر مارکنگ(invisible watermarking) “ کے نام سے دستیاب ایک حل کا تجربہ کر رہی ہے۔

    نظر نہ آنے والے واٹر مارکس ایک مضبوط تکنیکی ”واٹر مارک“ کے ذریعے حفاظتی اقدامات کی ایک نئی پرت کا اضافہ کرتے ہیں، جسے صرف ٹک ٹاک کے سسٹمز ہی پڑھ سکتے ہیں، اور اس طرح دوسروں کے لیے انہیں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واٹر مارکس ایڈیٹنگ یا ری پوسٹنگ کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، جس سے AI لیبلنگ مزید قابلِ اعتماد اور پائیدار ہو جاتی ہے۔ آنے والے چند ہفتوں میں، ٹک ٹاک اپنے ٹولزمثلاً AI Editor Proکے ذریعے بنائے گئے اے آئی کانٹینٹ اور C2PA Content Credentials کے ساتھ اپ لوڈ کیے گئے کانٹینٹ میں نظر نہ آنے والے واٹر مارکس شامل کرنا شروع کرے گا۔

    عالمی سطح پرٹک ٹاک اے آئی سے متعلق تعلیم میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا نیا اے آئی لٹریسی فنڈ قائم کیا ہے۔ یہ فنڈ غیر منافع بخش اداروں اور ماہرین کی معاونت کرے گا تاکہ وہ ایسا تعلیمی کانٹینٹ تیار کریں جو لوگوں کو سمجھنے میں مدد دے کہ اے آئی کیسے کام کرتا ہے، اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو کیسے پہچانا جائے، اور اے آئی کو محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جائے۔ ایک درجن سے زائد ممالک میں شراکت دار ایسے وسائل تیار کریں گے جو میڈیا لٹریسی، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، اور شفافیت سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک کے ٹولز سے آگاہی کو فروغ دیں گے۔

    یہ اپ ڈیٹس ٹک ٹاک کے اُس مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت وہ اپنی کمیونٹی کو اعتماد کے ساتھ اے آئی کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے ترقی کرنے کے ساتھ ،ٹک ٹاک محفوظ، شفاف اور تخلیقی ڈیجیٹل تجربات کو فروغ دینے کے لیے اپنے ٹولز اور شراکتوں میں مزید توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کے تحت سزا پانے والے ملزم کی سزا معطل

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کے تحت سزا پانے والے ملزم کی سزا معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرم سلمان مرتضیٰ کی 3 سال قید کی سزا معطل کردی۔ عدالت نے مجرم کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

    جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مجرم کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے،میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے سلمان مرتضیٰ کو اپنی کزن کی قابلِ اعتراض تصاویر چوری کرنے اور شیئر کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، حالانکہ مدعی اور متاثرہ لڑکی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ سلمان مرتضیٰ نے کوئی مواد شیئر نہیں کیا،وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ ٹرائل کے دوران ایک بھی الزام ثابت نہ کر سکا، اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے سزا سنا دی، مجرم کو اس کے رشتہ داروں نے والدہ کی جائیداد ہتھیانے کے لیے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا، قانون کے مطابق اگر سزا 3 سال یا اس سے کم ہو تو مجرم سزا معطلی اور ضمانت کا حق رکھتا ہے۔

    عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور تفصیلی دلائل سننے کے بعد مجرم کی 3 سال قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر اس کی رہائی کا حکم دے دیا.

  • مفتی قوی ایشوریا رائے سے نکاح کے خواہاں

    مفتی قوی ایشوریا رائے سے نکاح کے خواہاں

    مشہور مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی ایک بار پھر غیر متوقع بیان کے باعث خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تازہ ویڈیو میں انہوں نے بالی وُڈ کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ایشوریا رائے بچن سے متعلق حیران کن دعویٰ کردیا ہے،مفتی قوی کہتے ہیں کہ “اگر ایشوریا اور ابھیشیک میں علیحدگی ہوئی تو وہ مجھ سے نکاح کے لیے رابطہ کریں گی”

    وائرل ویڈیو میں مفتی عبدالقوی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر ایشوریا رائے اور ان کے شوہر ابھیشیک بچن کے درمیان خدانخواستہ علیحدگی ہوتی ہے تو "ایشوریا رائے چند ماہ میں مجھ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کر سکتی ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ’’ایشوریا رائے کو مسلمان کریں گے اور ان کا اسلامی نام ‘عائشہ رائے’ رکھیں گے‘‘، میزبان کی جانب سے پوچھے گئے سوال ’’کیا غیر مسلم خاتون سے نکاح ممکن ہے؟‘‘ کے جواب میں مفتی قوی نے بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کی مثال دی۔انہوں نے کہا کہ راکھی ساونت نے اسلام قبول کرکے اپنا نام فاطمہ رکھا تھا، لہٰذا ایسی مثالیں موجود ہیں۔

    مفتی قوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔کئی صارفین نے ان کے بیان کو مذاق، توجہ حاصل کرنے کی کوشش اور بے بنیاد دعویٰ قرار دیا۔کچھ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایشوریا رائے کو شاید اس دعوے کا علم بھی نہیں ہوگا۔جب کہ دیگر صارفین نے مفتی قوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ مفتی قوی نے بالی وُڈ اداکاراؤں سے متعلق اس نوعیت کے بیانات دیے ہوں۔ماضی میں وہ اداکارہ راکھی ساونت سے شادی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں، جسے راکھی نے مزاحیہ انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا تھا "مفتی قوی کی چاہے 100 بیویاں ہوں یا 900 وہ مجھے سنبھال نہیں پائیں گے

  • منشیات اسمگلنگ کیخلاف اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک اور شاندار کامیابی

    منشیات اسمگلنگ کیخلاف اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک اور شاندار کامیابی

    منشیات اسمگلنگ کیخلاف اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک اور شاندار کامیابی سامنے آئی ہے،

    اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) نے منشیات اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی،اے این ایف نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں 154.15 ملین امریکی ڈالر مالیت کی منشیات برآمد کر لی،اے این ایف پنجگور میں بین الاقوامی ڈرگ ٹریفکنگ تنظیم کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی ،اے این ایف ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گیس کنٹینر کو ایم 8 گوادر سی پیک روڈ پر روک کر تلاشی لی،موقع پر تلاشی کے دوران 553.5 کلو گرام آئس اور 40 کلو گرام ہیروئن قبضے میں لے لی گئی،قبضے میں لی گئی منشیات کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ میں 154.15 ملین امریکی ڈالر ہے، منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کے 2 کارندے بھی گرفتار، مقدمات درج کرلئےگئے

    بدنام زمانہ اسمگلر علی جان کی سربراہی میں یہ گروہ افغانستان سے منشیات کو پنجگور سے تربت، گوادر اور پسنی کے راستے اسمگل کرتا تھا،یہ گروہ بھاری منشیات کو یمن تنزانیہ اور دیگر ممالک تک سپیڈ بوٹس اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اسمگل کرتا تھا،،نشیات کو ایل پی جی گیس کنٹینر ٹرک میں چھپا کر پنجگور سے گوادر اور پھر بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا،یہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے انسداد منشیات کیلئے خشکی پر کی جانے والی سب سےبڑی کارروائی میں سے ایک ہے، منشیات میں ملوث دیگر ملزمان اور سہولت کاروں کی گرفتاری کےلیے کوششیں جاری ہیں،زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا اے این ایف منظم ڈرگ نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے بھرپور کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا بیواؤں کے قبضہ کیس فوری حل کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا بیواؤں کے قبضہ کیس فوری حل کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے بے سہارا بیواؤں کے قبضہ کیس فوری حل کرنے کا حکم دے دیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آرڈیننس 2025ء کے مکمل نفاذ کی ہدایت دے دی، جائیدادوں پر ناجائز قبضے کے خلاف ہر دن کی مانیٹرنگ ہوگی، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو روزانہ رپورٹ پیش کی جائے گی،تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز روزانہ اجلاس کریں گے، وزیراعلیٰ مریم نواز خود مانیٹرنگ کریں گی۔پنجاب میں ناجائز قبضے کے خلاف فوری حکومتی اقدامات کی اطلاع عوام تک پہنچانے کے لئے مساجد میں اعلانات کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہر تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر آفس میں بھی قبضے کے بارے میں درخواستیں وصول کرنے کی ہدایت کی، گجرات، لیہ، حافظ آباد اور دیگر اضلاع میں قبضے کے جلد فیصلے نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ ناجائزقبضہ کیس کے جلد حل سے عوام کو فوری ریلیف دینا چاہتے ہیں، تمام ڈپٹی کمشنر ناجائز قبضہ کیس پر روزانہ اجلاس کریں، خود مانیٹر کروں گی۔

  • موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے ،مریم نواز

    موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے ،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام نعرے اور عملی اقدامات میں فرق جان گئے، اب کوئی بہکاوے میں نہیں آئے گا۔

    مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضمنی انتخابات میں نومنتخب ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے،قائد محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فرداً فرداً تمام ارکان اسمبلی کو مبارکباد دی،نو منتخب ارکان اسمبلی نے اپنی فتح کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی محنت کا ثمر قرار دیا،قائد محمد نواز شریف کی نومنتخب ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں جاکر پہلے دن سے ہی خدمت کا آغاز کرنے کی ہدایت کی ،نومنتخب اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ عوام نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی محنت اور قائد محمد نواز شریف کے نام پر ہمیں ووٹ دیا، عوام کو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی پالیسی اور پراجیکٹس بہت پسند آرہے ہیں، عوام کے لیے پنجاب میں جو کام کیے گئے ان کا ثمر ہمیں ضمنی الیکشن میں ملا، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ اور ستھرا پنجاب کو عوام میں مقبولیت کی سند حاصل ہے

    لاہور میں نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ ن کو اتنی بڑی فتح سےنوازا، تمام حلقوں میں کارکنوں نے سخت محنت کی، شاندارکامیابی پرتمام عہدےداروں،کارکنوں کومبارکباد دیتی ہوں، میانوالی میں بھی تبدیلی آ گئی ہے، دھاندلی ہوتی ہے توپوری دنیا دیکھتی ہے، ڈسکہ میں آپ نے دیکھاتھا، جتنی بھی مشکلات آئیں مسلم لیگ ن نےبہادری سےمقابلہ کیا اور کبھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا،گزشتہ دور حکومت میں مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، لوگوں کو اصل اور نقل کے فرق کا پتا چل گیا، ہمیں موروثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے اپنی بیوی، بھائی، رشتہ دارکھڑےکیے لیکن عوام کو سمجھ آ گئی ہے اب کوئی بہکاوے میں نہیں آئے گا،مسلم لیگ ن نےکبھی بھی سیاسی عمل سےانکارنہیں کیا، عوام نعرے اور عملی اقدامات میں فرق جان گئےہیں، ہری پورمیں بھی بھاری لیڈ سےمسلم لیگ ن جیتی۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھاکہ گزشتہ دورحکومت میں سیاست کوذاتی دشمنی میں تبدیل کیاگیا، ہر دفعہ سازشیوں کا ایک نیا گروپ سامنےآجاتا ہے اور ہر دفعہ کہا جاتاہےکہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی، جلاوطنی سمیت ہم نے ہر تکلیف برداشت کی، ہم نہیں جانتےآج وہ تاریخ کے کس کوڑےدان میں پڑے ہیں، ہم نےخدمت کرنا کس سے سیکھا ہے، نواز شریف سے سیکھا ہے، آج نوازشریف کہتے ہیں کہ شہبازشریف اورمریم نوازمجھ سے آگے نکل گئےہیں، ہمیں حکومت ملی تھی تو دشمن کہتےتھےپاکستان ڈیفالٹ کرجائےگا، آج لوگ ان کی کسی کال پر دھیان نہیں دے رہے،ڈیڑھ سال کے دوران پنجاب میں روٹی کی قیمت نہیں بڑھی، میرے مخالفین بھی کہتےہیں وہ پنجاب میں محفوظ تصور کر رہے ہیں، ہماری خدمت کی وجہ سےہی آج مسلم لیگ ن کو ووٹ ملاہے، نوازشریف کی 40 سال کی سیاست کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔

  • پسند کی شادی،لڑکی عدالت میں مکر گئی،دولہا پر 50 ہزار جرمانہ

    پسند کی شادی،لڑکی عدالت میں مکر گئی،دولہا پر 50 ہزار جرمانہ

    لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کے کیس میں لڑکی کے مُکرنے پر اس کے مبینہ شوہر پر 50ہزار روپے جرمانہ کردیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے شہری شعیب ظفر کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار نے کہا کہ 6 جون 2025 کو فریدہ بی بی کے ساتھ پسند کی شادی کی، لڑکی کے والدین نے زبردستی بیوی کو اپنے پاس رکھا ہے،اس پر جسٹس غضنفر علی خان نے کہا کہ اگر لڑکی نے تمہارے حق میں بیان نہ دیا تو 50 ہزار جرمانہ کروں گا،دوران سماعت لڑکی نے والدین کے ساتھ جانے کا بیان دے دیا جس پر عدالت نے نوجوان پر 50 ہزار روپے جرمانہ کردیا،عدالت نے حکم دیا کہ جب تک جرمانہ ادا نہیں ہوگا، درخواست گزار پولیس کی حراست میں رہے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر ،   37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    مقبوضہ کشمیر ، 37 برس کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین شہید

    آج دنیا بھر میں ”خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے جب کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں خواتین 1947ء سے بھارت کے مسلسل فوجی قبضے اور سیاسی ناانصافیوں کی وجہ سے ناختم ہونے والے مصائب ، ریاستی دہشت گردی ، مظالم ، خوف اور اذیت کا بدستور شکار ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج کے دن کی مناسبت سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 37 برس کے دوران اپنی ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 3 سو 56 خواتین کو شہید اور 11 ہزار 2 سو 69 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیری خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔1989ء سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے 22 ہزار 9 سو 91 کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے کشمیری خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ درجنوں کشمیری خواتین بشمول حریت رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، صوبیہ عزیز، شیما شفیع وازہ، شائستہ مقبول، شمس بیگم، زیتون اختر، روبینہ نذیر، ثریا راشد وانی، شکیلہ، صائمہ بشیر میر ، مفیدہ اقبال ، راشدہ سلام دین، شفیقہ بیگم، سردہ بیگم، منیرہ بیگم، عشرت رسول، نگینہ منظور لون، آفرینہ المعروف آیات گنائی، افروزہ بیگم، شبروزہ بانو برکاتی، سلیمہ بیگم، گلشن ناز، دیوان باغ، نصرت جان، فرحت بیگم، حلیمہ بشیر ، نرگس بٹ ، آبانو ، نگینہ منیرہ بیگم ، پروین اختر ، مریم بیگم ، شمیمہ بیگم ، عظمیٰ وسیم، سلیمہ بی بی اور شہزادہ اختر نئی دلی کی تہاڑ سمیت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل قید ہیں ۔بھارتی قابض فوجی کشمیریوں کو ان کے استصواب رائے کے سیاسی مطالبے پر اجتماعی سزا دینے کے لیے جنسی ہراساں کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں جو کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا ایک جنگی ہتھیار بن چکا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ، شوہروں اور بھائیوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے مسلسل اذیت کا شکار ہیں – اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی کشمیری خواتین کو بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری ظلم و تشدد سے نجات دلانے کیلئے اقدامات کرے ۔رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر نامی دو خواتین کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران سو کے قریب خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ باوردی بھارتی اہلکاروں نے 29 مئی 2009ء کو شوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور بعد میں دونوں کو قتل کر دیا۔ جنوری 2018ء میں جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلم بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس اہلکاروں اور دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ فرقہ پرست ہندوؤں نے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا ۔ بھارتی فوج نوجوانوں کے قتل ، گرفتاری اور انکی جبری گمشدگی کے ذریعے خواتین کو مسلسل ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    اُدھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے بری طرح نشانہ بن رہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیری خواتین کو خوف و دہشت کا نشانہ بنانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا اور وہ تحریکِ آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کرتی رہیں گی ۔

    دریں اثناء خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر رہنماؤں محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، ایڈووکیٹ پرویز احمد، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، زاہد اشرف اور دیگر نے اسلام آباد میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں خواتین مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت کشمیری خواتین کی آبروریزی اور بے حرمتیوں کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019ء کے بعد کشمیری خواتین پر بھی قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم میں تیزی آئی ہے ۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا 20 ہزار محنت کشوں کو پلاٹ دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے 20 ہزار محنت کشوں کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا فیصلہ کرلیا، پنجابی زبان کو تعلیم اور عوامی زندگی میں مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم بھی دیدیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں تمام محکموں کے بارے میں 6 گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی، 20 ہزار محنت کشوں کو اپنے گھر کیلئے جھنگ اور کمالیہ میں 3 مرلہ پلاٹ دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں آرکیالوجی، اسپورٹس اور لیبر سمیت ہر شعبے کی جانچ پڑتال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کردی۔