Baaghi TV

Category: لاہور

  • اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹرابیری پھل دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتا ہے اور ذائقے کے لحاظ سے بھی بہترین ہے اسٹرابیری، موسم بہار اور موسم گرما میں ایک پسندیدہ پھل اپنی مزیدار میٹھی خوشبو اور ذائقے کی بدولت سب کا پسندیدہ بھل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ، وٹامن اے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فولیٹ سمیت غذائی اجزاء کا ایک شاندار ذریعہ ہیں۔ مزید برآں ان کا شمار وٹامن سی اور مینگنیز سے بھرپور پھلوں میں بھی ہوتا ہے

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اسٹرابیری اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو دل کی صحت اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے فوائد رکھتی ہیں عام طور پر سٹرابیری کچی اور تازہ کھائی جاتی ہیں، مگر اس کی علاوہ ان کو مختلف قسم کے جیمز، جیلیوں اور میٹھوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اسٹرابیری بنیادی طور پر %91 پانی اور %7.7 کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں معمولی مقدار میں چربی (0.3%) اور پروٹین (0.7%) بھی موجود ہوتی ہے۔

    اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ‘بیج’ پھل کے اندر ہونے کی بجائے اوپر موجود ہیں آپ یہ جان کر حیران رہ جئیں گے کہ اسٹرابیری کے اوپر جو بیج نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں بیج نہیں اور جو سرخ رنگ کا پھل ہم کھاتے ہیں وہ تکنیکی طور پر پھل ہی نہیں،اسٹرابیری کے اوپر جو بیج جیسی چیز نظر آتی ہے اسے ایچین کہا جاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    یہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ ایچین درحقیقت اسٹرابیری پودے کا پھل ہوتا ہے اور ہر ایچین کے اندر ایک بیج ہوتا ہےجہاں تک سرخ گودے کی بات ہے جسے ہم اسٹرابیری پھل تصور کرتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا ٹشو ہے جو پھول کو پودے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔

    جب اسٹرابیری کے ایک پھول کی تخم کاری ہوتی ہے تو یہ ٹشو نشوونما پاکر بدل جاتا ہے تو اسٹرابیری کی سطح پر جو متعدد بیج نظر آتے ہیں وہ درحقیقت پھل ہوتے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ چھوٹے اور خشک پھل اس سرخ میٹھے حصے کے باہر کیوں ہوتے ہیں۔

    بس یہ معلوم ہے کہ دیگر پھلوں کے برعکس اسٹرابیری کے پھول میں پھل نہیں پھولتا بلکہ اس کا ٹشو پھول جاتا ہے جبکہ حقیقی پھل چھوٹی خشک شکل میں نظر آتا ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹرابیری کے بیشتر پودوں کو اگنے کے لیے بیجوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نقول بناکر پھیلتے رہتے ہیں۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • حضرت علیؓ کا یوم ولادت آج عقیدت واحترام سے منایا جا رہا ہے

    خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا یوم ولادت آج عقیدت واحترام سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: خلیفہ چہارم مولود کعبہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کایوم ولادت (آج) اتوار13رجب المرجب کو نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں مساجد، امام بارگاہوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی محافل و تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں علما و خطیب حضرات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے دین ا سلام کی آبیاری کیلیے پیش کی گئی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے، سرکاری و نجی ٹی وی چینلز سے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔

    آپ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اورامت مسلمہ کےخلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، آپ کا شماراسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں ہوتا ہے۔

    آ پ بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کے سن میں اسلام قبول کیا، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔

    19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر 19 رمضان 40 ہجری میں شام سے آئے ایک شقی القلب شخص عبد الرحمن بن ملجم نامی شخص نے قطامہ نامی خارجی عورت کی مدد سے مسجد کوفہ میں حالتِ سجدہ میں پشت سے سر پر زہر بجھی تلوار سے وار کرکے زخمی کردیا، زخمی ہونے پر آپ کے لبوں پر جو پہلی صدا آئی وہ تھی کہ ’’ربِ کعبہ کی قسم آج علی کامیاب ہوگیا۔

    دو روز تک حضرت علیؓ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخرکار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔

  • بھارتی فلم انڈسٹری پاکستان کو لے کر پاگل کیوں؟

    بھارتی فلم انڈسٹری پاکستان کو لے کر پاگل کیوں؟

    بھارتی فلم انڈسٹری پاکستان کو لے کر پاگل کیوں؟

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ نے ہمیشہ بھارت کی سیاسی سوچ کی عکاسی کی ہے بالی ووڈ میں کوئی ایسی فلم نہیں ملے گی جس میں ولن یا منفی کردار میں کسی چینی کو دکھایا گیا ہواگر حالیہ بھارتی فلموں کو دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انڈین فلم انڈسٹری پاکستان کو لے کر پاگل ہو چکی ہے جیسے کوئی انسان رات کے وقت دور بین لے کر اپنے اپارٹمنٹ سے نظارہ کر رہا ہو۔


    سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ آخر اس چیزکواتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہمسایہ ملک چائنہ نے لداخ میں 38ہزار مربع کلومیٹررقبہ پرناصرف قبضہ کرلیا ہےبلکہ وہاں تعمیرات بھی شروع کردی ہیں لیکن بالی وڈ فلموں میں تمام برے کرداروں کو پاکستانی دکھایا جاتا ہے جو عام طور پر فوجی وردی پہنتے ہیں اور ہمیشہ مسلمان ہی ہوتے ہیں۔

    بالی ووڈ میں تمام ترپاگل پن صرف پاکستان کے لئے ہی ہے۔1950 کی دہائی کی فلمیں نئے آزاد ملک کی اُمید اور رومانس کی آئینہ دار تھیں۔
    70 کی دہائی کا ہیرو طاقتور اور بدعنوانوں کے خلاف لڑنے والا ایک قابل فخر لیکن حق رائے دہی سے محروم آدمی ہوتا تھااسی طرح1990 کی دہائی میں ایسے کرداروں پر فلمیں بنیں جس میں ہیرو یا تو دبئی میں کام کرتا یا لندن کے ڈسکوز میں رقص کرتا تھا اورچم چماتی مرسڈیز چلاتا تھا۔

    جب سے ہندوتوا کے پیروکار مودی کی حکومت آئی ہے بالی ووڈ نے بھارتی چالوں سے بھری سیاست کو اپنا لیا ہے سال 2018 میں عالیہ بھٹ فلم ’راضی‘ کی وجہ سے خبروں کی زینت بنیں، یہ فلم ایک ایسی خاتون کے بارے میں ہے جو 1971 کی جنگ کے دوران جاسوسی کرنے کے لیے ایک پاکستانی فوجی افسر سے شادی کرتی ہے۔

    سال 2019میں ’اُڑی‘ فلم ریلیز ہوئی جس میں دہشت گردی کے واقع کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دیا گیا۔اس فلم میں بھی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا۔اگرچہ یہ فلم حقیقت پر مبنی نہیں تھی جس میں دو نیوکلئیر ملک آمنے سامنے ہو گئے لیکن یہ فلم بھی حقائق کی بنیاد پر پر کامیاب نہ ہو سکی۔

    انڈین فلم انڈسٹری کے بیشتر نامور ستارے جس میں شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان اور دلیپ کمار جو پشاور میں پیدا ہوئے بالی ووڈ ہمیشہ مختلف مذاہب کو اُجاگر کرتا رہا ہےبالی ووڈ کے کئی نامور گلوکار مسلمان ہیں اور ان کو سکرین پر بڑی پذیرائی ملتی ہے مغلِ اعظم فلم کو انتہائی پذیرائی ملی جس میں جہانگیر کے دور کو اُجاگر کیا گیا تھالیکن آج بھارتی فلم انڈسٹری اپنے سیاسی نظام کے باعث سیاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔

    گزشتہ ماہ شاہ رخ کی فلم پٹھان ریلیز ہوئی جس میں آرٹیکل370کو غلط انداز میں اُجا گر کرنے کی کوشش کی گئی فلم کا آغاز لاہور میں ہوتا ہے جہاں ایک پاکستانی فوجی جنرل کے کردار کو دکھایا گیا، یہ منظر بھی شامل کئے گئے کہ نریندر مودی کی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا ہے، اس آرٹیکل کے تحت کشمیر، بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کی ضمانت دی گئی تھی۔

    پاکستانی جنرل اپنی زندگی کے بقیہ سالوں کو ہندوستان کو شکست دینے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور فوری طور پر ایک دہشت گرد کو بلاتا ہے تاکہ بھارت کے خلاف سازش کرسکے یہ حقائق سے بالاتر ہے اور اگر آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی ایسی ہی ہے لیکن ہم حقائق پر کیوں بات کریں، ہم کیوں بات کریں کے کشمیری اصل میں کیا سوچتے ہیں؟-

    جب سے ہندوتوا کے پیروکار مودی کی حکومت آئی ہے بھارت میں مسلمان اداکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ان اداکاروں کو بار بار کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان چلے جائیں شاہ رخ خا ن کے والد نے آزادی کے لئےجنگ لڑی لیکن شاہ رخ خا نےکبھی بھی ایک لفظ مُودی حکومت کے خلاف نہیں کہا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انڈیا میں مسلمانوں کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔

    بھارت نے اپنے شہریت ایکٹ میں بھی7لاکھ مسلمانوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے مُودی کی سالگرہ کے موقع پر شاہ رخ خان نے نریندر مودی کیلئے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہمارے ملک اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے آپ کی لگن قابل تعریف ہے، آپ کو اپنے تمام اہداف میں کامیابی حاصل ہو اور آپ صحت مند رہیں“۔

    یہ بات خان نے ایک ایسے شخص کیلئے کہی جس کی نگرانی میں 2002 کے فسادات کے دوران گجرات میں 2000 مسلمانوں کے قتل اور سیکڑوں خواتین کی منظم عصمت دری کی گئی۔“

    پنکج سرا نے کہا کہ بالی ووڈ نے مودی سرکار کو موڈ میوزک دیا جب وہ حکومت میں آئے۔

    پٹھان فلم نے اس بات کو صحیح کر کے چھپانے کی کوشش کی جس میں بھارتی ریاست نے370آرٹیکل لگا کر کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کی،جس میں انٹرنیٹ لاک ڈاؤن، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور انسانی حقو ق کی خلاف ورزی کی یہ بات ایک المیہ سے کم نہیں کہ جن لوگوں نے مودی سرکار کے اس عمل کو درست کہا وہی لوگ مودی سرکار کے آلہ کار ثابت ہوئے۔

    جنوری میں نیٹ فلکس نے مشن مجنوں کو بھی ریلیز کیا جس کی کہانی ایک بھارتی جاسوس کے گرد گھومتی ہے وہ جاسوس پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جب اس فلم کا ٹریلر ریلیز ہوا تھا تو تب بھی صارفین نے اس کا مذاق اڑایا تھا لیکن انڈیا میں اس فلم کا موازنہ اداکارہ عالیہ بھٹ کی فلم ’راضی‘ سے کیا جا رہا ہے۔

    مودی سرکار کے دور میں بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایک بُلندی تک پہنچے 2017میں مودی پہلے وزیراعظم ہیں جس نے اسرائیل کا دورہ کیا۔جس میں نتن یاہو دونوں مل کر اسرائیل کے ساحل پر پیدل چل رہے اور اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔

    ان تصویروں کے علاوہ ان ممالک کی 8بلین ڈالر کی تجارت ہے۔اس طرح بھارت اسرائیل سے سب سے زیادہ جنگی سامان خریدنے والا ملک بن گیا ہے پاکستان کو پچھلی دو دہائیوں سے خراب معیشت، دہشت گردی اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا سامنا ہے۔

    پاکستان فلم انڈسٹری میں پیار محبت، خواتین سے متعلق معاملات اور اس طرح کی موسیقی کو اُجاگر کیا جا رہا ہے جس میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہم دو ہمسایہ ممالک کے درمیان علیحدگی کیوں ہے اس کے برعکس ہمسایہ ملک بھار ت میں ایسی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جن سے ثقافت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

    بھارت سرکار نے یوٹیوب اور ٹویٹر کو حکم دے رکھا ہے کہ جو ڈاکومنٹری مودی کے خلاف بنی ہے اس کو بند کرےایک ڈاکومنٹری 2002 کے دوران گجرات میں ہونے والے فسادات پر مبنی ہے جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے جبکہ دوسری ڈاکومنٹری اسلاموفوبیا پر مبنی ہے جس میں دُنیا کی سب سے بڑی ڈیمو کریسی میں مسلمانوں کو درپیش حالات۔

    سوال یہ ہے کہ اِن واقعات کے باوجود بھی مودی وزیراعظم کیسے بنا؟اس بات میں کوئی حیرانی نہیں کہ بھارت میں مودی پر بننے والی ان فلموں کو نا صرف بین کیا گیا بلکہ نئی دہلی میں دو طالبعلموں کو بھی گرفتار کیا گیا جنہوں نے اس کو سکرین کرنے کی کوشش کی۔

    ان حالات کے باعث مغرب بھارت کو چائنہ کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے اگر بھارت کے مرکزی سینما نے اس نفرت انگیز عمل کو نہ روکا تو مستقبل میں یہ عمل دہائیوں تک بالی ووڈ پر چھا جائے گا جس میں خوشی اور مذاق کی بجائے صرف نفرت ہی دیکھنے کو ملے گی۔

  • جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے،حافظ حمداللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

    جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے،حافظ حمداللہ کا عمران خان کے بیان پر ردعمل

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک کے لیے پہلے اپنی گرفتاری دینا ضروری ہے ۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں ، ایک ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ہے، معیشت کی ایسی حالت ہے کہ پہیہ جام ہڑتال سے حالات مزید خراب ہوں گےکارکنوں کو کہتا ہوں کہ جیل بھرو تحریک کی تیاری کریں، میرے سگنل کا انتظار کریں، جیل بھرو تحریک کی کال دوں گا۔

    جیل بھرو تحریک کی بات کرنے والا زمان پارک میں چھپ کر بیٹھا ہے،مریم

    انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو ڈرانے دھمکانے کا مقصد میدان سے ہٹانا ہے تاکہ لندن سے بھاگا بھاگا ایک شخص آئے اور الیکشن جیت سکے، ان کے اوپراس وقت 60 سے زائد مقدمات ہیں، منصوبہ یہ تھا کہ عمران خان کو جیل میں ڈالا جائے، بولنے والوں کے منہ بند کیے جائیں،ان کا پلان ہے کہ تحریک انصاف کو ڈرادھمکا کر کمزور کیا جائے، وہ لوگ جو ہمارے مخالف تھے انھیں دونوں صوبوں میں اوپر لایا گیا۔

    عمران خان کی جانب سے جیل بھرو تحریک کے اعلان پر پی ڈی ایم رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے-

    پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ خان صاحب کو اپنی گرفتاری نظر آنے لگی تو جیل بھرو کا ڈراما شروع کردیا۔

    خان صاحب جیل جانے کا شوق،ضمانتیں کیوں کراتے ہیں؟ فیصل کریم کنڈی

    اس سے قبل عمران خان کی جیل بھرو تحریک کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ جیل بھرو تحریک میں سب سے پہلے قیادت گرفتاری دیتی ہے، عمران خان کیسز میں جواب دیں جیل خود بھر جائے گی، جو لوگ دو دن کی جیل میں رو پڑیں وہ جیل بھرو تحریک نہیں چلا سکتے،جیل بھرنے کی بات کرنے والا بزدل شخص چار ماہ سے ٹانگ پر پلستر چڑھا کر عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر بیٹھا ہے۔

    عمران خان کے جیل بھرو تحریک سے متعلق بیان پر مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ خان صاحب کو کسی نے جیل بھرو تحریک کا مطلب غلط بتایا ہےایسی تحریک چلنے پر تمام زیر سماعت اور زیر التوا مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لی جاتی ہیں،عطااللہ تارڑ نے سوال کیا کہ کیا خان صاحب فارن فنڈنگ کیس، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں ضمانت کی درخواستیں واپس لیں گے؟ کیا دیگر رہنما بھی جیل جائیں گے؟-

    عمران خان بھول گئے کہ اللہ نے مکافات عمل بھی دنیا میں رکھا ہے،مریم

  • بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجی تو پاکستانی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی،نجم سیٹھی

    بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجی تو پاکستانی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی،نجم سیٹھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجی تو پاکستانی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی۔

    باغی ٹی وی: بحرین میں ہوئے ایشین کرکٹ کاؤنسل کےاجلاس میں پی سی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے میزبانی کا ڈٹ کر کیس لڑاجبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کا موقف پیش کیا کہا کہ بھارتی بورڈ کا مؤقف تبدیل نہ ہوا تو ایشیا کپ نیوٹرل وینیو پر ہوسکتا ہے بھارت نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیجی تو پاکستانی ٹیم بھی بھارت نہیں جائےگی۔

    کوہلی سے جھگڑا کیوں ہوا،سہیل خان نے وجہ بتادی

    ذرائع کے مطابق نیوٹرل وینیو کے طور پر یو اے ای اور قطر کے ناموں پر غور کیا جاسکتا ہے, ایشیا کپ متاثر ہوا تو ورلڈکپ اور چیمپیئنز ٹرافی پر بھی ڈیڈلاک ہوگا۔

    بھارتی بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں بھیج سکتے۔ پی سی بی اور بی سی سی آئی کے اپنے اپنے موقف سے نہ ہٹنے کے بعد اب مارچ میں اے سی سی کے اجلاس اہمیت اختیار کرگیا ہے جس میں ایشیاء کپ کے حوالے سے فیصلے ہوگا۔

    اگر پاکستان میں یہ ایونٹ ممکن نہ ہو پایا تو سری لنکا اور یو اے ای ممکنہ متبادل آپشن ہوسکتے ہیں، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اجلاس کے بعد بحرین سے دوبئی پہنچ گئے ہیں جہاں ایک روز قیام کےبعد وطن واپس لوٹیں گے۔

    ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں جاپان اور انڈونیشیا کو پاتھ وے پروگرام میں شامل کرنے کے ساتھ سالانہ کیلنڈر آف ایونٹس اور بجٹ کی بھی منظوری دی گئی ۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی دو رکنی ٹیم آج بحرین روانہ ہوگی

    مارچ میں اے سی سی اور آئی سی سی دونوں کے اجلاس شیڈولڈ ہیں، دوسری جا نب اے سی سی اجلاس میں افغانستان کرکٹ پر بھی بات ہوئی اور بورڈ نے افغانستان کا بجٹ 9 فیصد سے بڑھاکر 15 فیصد تک کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کی میٹنگ میں رواں سال شیڈول ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو دی گئی تھی، مگر سیکریٹری بی سی سی آئی و صدر اے سی سی جے شاہ نے چند ہفتے قبل اپنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ستمبر میں ہونے والے ایونٹ کیلیے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی، ایونٹ کسی نیوٹرل وینیو پر ہوگا۔

    جواب میں اس وقت کے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارتی ٹیم نہ آئی تو پاکستان بھی اکتوبر میں شیڈول ورلڈکپ میں شرکت نہیں کرے گا، اے سی سی کا ایونٹس کیلنڈر جاری کیا گیا تو اس میں ایشیا کپ موجود رہا مگر میزبان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

    پی سی بی نے قومی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا

    بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایشیا کپ کا کوئی امکان نہیں، بی سی سی آئی اپنی ٹیم نہ بجھوانے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، ایونٹ یواے ای یا پھر سری لنکا منتقل ہوجائے گا مگر میزبانی کے حقوق پی سی بی کے پاس رہیں گےحالیہ واقعات کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے،یہی موقف آئی سی سی اجلاس میں بھی دہرایا جائے گا۔

    ایک بی سی سی آئی عہدیدار نے کہا تھا کہ جے شاہ بورڈ میٹنگ کیلیے بحرین میں ہیں مگر بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بلو شرٹس پاکستان نہیں جائیں گے کیونکہ حکومتی کلیئرنس حاصل نہیں ہوسکی۔

    یاد رہے کہ جے شاہ کا تعلق بھارت کے سیاسی خاندان سے ہے،وزیر داخلہ امیت شاہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے انہوں نے ہمیشہ کرکٹ پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی نجم سیٹھی نے ایشیا کپ کے حوالے سے بھارتی بیان بازی اور کیلینڈر جاری کرنے کو دھونس قرار دیا تھا، پیچیدہ صورتحال میں ان کا ردعمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کے بعد اکتوبر میں پاکستان ٹیم کو بھی ورلڈکپ میں شرکت کیلیے بھارت جانا ہے پی سی بی پہلے ہی واضح کر چکا کہ ایونٹ کی میزبانی اپنے ملک میں ہی کرے گا۔

    ایشیا کپ کی پاکستان میں میزبانی ،پی سی بی اور بی سی سی آئی آئندہ ماہ آمنے…

  • لاہور کے 84 تھانوں کے ایس ایچ اوز تبدیل

    لاہور کے 84 تھانوں کے ایس ایچ اوز تبدیل

    لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے لاہور کے 84 تھانوں کے ایس ایچ اوز تبدیل کر دیئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی کی ہدایت پر پولیس لائنز سے انسپکٹر آصف عطاء ایس ایچ او اسلام پورہ، سب انسپکٹر شبیہ رضا ٹاؤن شپ سے ایس ایچ اولوئر مال، سب انسپکٹر وقاص افسر چوکی ایف سی کالج سے ایس ایچ او نیو انارکلی تعینات کردیا گیا۔

    اسی طرح سب انسپکٹر عرفان محمود اشرف ایس ایچ اوداتا دربار تعینات، انسپکٹر محمد جاوید ڈولفن ہیڈ کوارٹر سے ایس ایچ اوبھاٹی گیٹ، سب انسپکٹر عامر انجم ایس ایچ اوٹبی سٹی، انسپکٹر حمزہ نواز ہڈیارہ سے ایس ایچ اومستی گیٹ، سب انسپکٹر شہریار علی ایس ایچ اویکی گیٹ، سب انسپکٹرمحمد بلال پولیس لائنز سے ایس ایچ اورنگ محل، انسپکٹراختر حسین وحدت کالونی سے ایس ایچ اولوہاری گیٹ، انسپکٹرحافظ عبیداللہ قلعہ گجر سنگھ سے ایس ایچ اونولکھا، انسپکٹر محمد ندیم اختر کو رائیونڈ سٹی سے ایس ایچ اوموچی گیٹ تعینات کردیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر انسپکٹر سردار محمد افضل کو باغبانپورہ سے ایس ایچ او شاہدرہ، سب انسپکٹر خرم شہزاد مناواں سے ایس ایچ او شاہدرہ ٹاؤن، سب انسپکٹرفاروق اعظم کو پولیس لائنز سے ایس ایچ او شفیق آباد، سب انسپکٹر عثمان یونس ایس ایچ او راوی روڈ، سب انسپکٹر خالد پرویز کو قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ سے ایس ایچ او بادامی باغ تعینات کردیا گیا ہے۔

    جبکہ سب انسپکٹر محمد شہزاد کو گوالمنڈی، سب انسپکٹر محمد یونس کو لاری اڈہ، انسپکٹرقمر عباس کو شادباغ، انسپکٹر ریحان انور مسلم ٹاؤن سے ایس ایچ او ریس کورس، انسپکٹرظہیر الدین کو ایس ایچ اوسول لائنز تعینات، انسپکٹرعارف ایوب پولیس لائنز سے ایس ایچ اوقلعہ گجر سنگھ، انسپکٹرمحمد عاصم کو ایس ایچ اوگڑھی شاہو تعینات کردیا گیا۔

    علاوہ ازیں عظیم انور لٹن روڈ، انسپیکٹر محمد جمیل امزنگ، آصف ادریس شالیمار، سب انسپکٹرخضر حیات کو ہربنس پورہ سے ایس ایچ اوگجرپورہ، سب انسپکٹر عاصم حمید کو کاہنہ سے ایس ایچ اومغلپورہ، لیڈی سب انسپکٹر جیبہ منصور سرور روڈ سے ایس ایچ او ویمن ریس کورس، سب انسپکٹر حسن رضا ہاشمی کو نصیر آباد سے ایس ایچ اوڈیفنس بی تعینات کردیا گیا۔

  • ایشین کرکٹ کونسل اجلاس، پاکستان میں ایشیا کپ کے انعقاد کا فیصلہ نہ ہوسکا

    ایشین کرکٹ کونسل اجلاس، پاکستان میں ایشیا کپ کے انعقاد کا فیصلہ نہ ہوسکا

    منامہ: پاکستان نے ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ایشیاء کپ کی میزبانی سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔ اس بارے میں مزید پیش رفت اگلے ماہ اجلاس میں ہوگی۔بحرین میں ہوئے اجلاس میں پی سی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے میزبانی کا ڈٹ کر کیس لڑاجبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کا موقف پیش کیا۔

    بھارتی بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں بھیج سکتے۔ پی سی بی اور بی سی سی آئی کے اپنے اپنے موقف سے نہ ہٹنے کے بعد اب مارچ میں اے سی سی کے اجلاس اہمیت اختیار کرگیا ہے جس میں ایشیاء کپ کے حوالے سے فیصلے ہوگا۔اگر پاکستان میں یہ ایونٹ ممکن نہ ہو پایا تو سری لنکا اور یو اے ای ممکنہ متبادل آپشن ہوسکتے ہیں۔

    چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اجلاس کے بعد بحرین سے دوبئی پہنچ گئے ہیں جہاں ایک روز قیام کےبعد وطن واپس لوٹیں گے۔ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں جاپان اور انڈونیشیا کو پاتھ وے پروگرام میں شامل کرنے کے ساتھ سالانہ کیلنڈر آف ایونٹس اور بجٹ کی بھی منظوری دی گئی ۔

  • ایشین کرکٹ کونسل اجلاس، پاکستان میں ایشیا کپ کے انعقاد کا فیصلہ نہ ہوسکا

    منامہ: پاکستان نے ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ایشیاء کپ کی میزبانی سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔ اس بارے میں مزید پیش رفت اگلے ماہ اجلاس میں ہوگی۔بحرین میں ہوئے اجلاس میں پی سی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے میزبانی کا ڈٹ کر کیس لڑاجبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کا موقف پیش کیا۔

    بھارتی بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں بھیج سکتے۔ پی سی بی اور بی سی سی آئی کے اپنے اپنے موقف سے نہ ہٹنے کے بعد اب مارچ میں اے سی سی کے اجلاس اہمیت اختیار کرگیا ہے جس میں ایشیاء کپ کے حوالے سے فیصلے ہوگا۔اگر پاکستان میں یہ ایونٹ ممکن نہ ہو پایا تو سری لنکا اور یو اے ای ممکنہ متبادل آپشن ہوسکتے ہیں۔

    چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اجلاس کے بعد بحرین سے دوبئی پہنچ گئے ہیں جہاں ایک روز قیام کےبعد وطن واپس لوٹیں گے۔ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں جاپان اور انڈونیشیا کو پاتھ وے پروگرام میں شامل کرنے کے ساتھ سالانہ کیلنڈر آف ایونٹس اور بجٹ کی بھی منظوری دی گئی ۔

  • کینسر کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا:اہم وجہ بھی سامنے آگئی

    کینسر کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا:اہم وجہ بھی سامنے آگئی

    کراچی:پاکستان میں ریڈی ایشن تھراپی کیلئے لینیئر ایکسیلیٹرز کی تعداد انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کو ریڈی ایشن کیلئے 3 سے 8 ہفتے کی ویٹنگ لسٹ دی جارہی ہے۔

    آغا خان اسپتال کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اور ریڈی ایشن آنکالوجسٹ ڈاکٹر بلال مظہر قریشی کے مطابق پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی ریڈی ایشن تھیراپی کیلئے صرف 50 سے 60 مشینیں موجود ہیں، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس وقت پاکستان کو 200 ریڈی ایشن مشینوں کی ضرورت ہے۔پاکستان میں جس تیزی سے مختلف کینسر میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ایسے میں ہمیں ریڈی ایشن کیلئے مشینوں اور افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے۔

    ممنوعہ اشیا کا استعمال:معروف جمناسٹ کھلاڑی پر21ماہ کی پابندی

    انہوں نے کہا کہ ریڈی ایشن تھیراپی کینسر کے کیوریٹو ٹریٹمنٹ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر اس میں گیپ آجائے تو صرف ہیڈ اینڈ نیک کینسر ڈیڑھ فیصد واپس آنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

    بھارت روسی خام تیل کی ادائیگیاں ڈالر کے بجائے درہم میں کیوں کررہا؟

    ڈاکٹر بلال کا کہنا ہے کہ ریڈی ایشن آنکالوجی سینٹرز کو چلانے کیلئے تربیت یافتہ ٹیکنیشنز کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ریڈی ایشن آنکالوجسٹ کے علاوہ 3 مزید ایکسپرٹس بھی چاہئے ہوتے ہیں، کلینیکل میڈیکل فزیسسٹ جو ٹریٹمنٹ کو مرتب کرتے ہیں، ریڈی ایشن تھیراپی ٹیکنالوجسٹ جو مشینوں کو آپریٹ کرتے ہیں اور کلینیکل انجینئرز جو مشینوں کی مینٹینس کا کام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریڈی ایشن تھیراپی کی ایک مشین 50 کروڑ روپے سے زائد کی ہے، پاکستان میں موجود کچھ مشینیں نئی اور جدید ہیں لیکن زیادہ تر مشینیں پرانی ہیں۔

    پنک بس سروس کا کرایہ 7 روز نہیں لیا جائے گا،شرجیل میمن

  • نگران حکومت کادائرہ اختیار:لاہور ہائی کورٹ کی جانب سےتشکیل دیا گیا لارجربنچ تبدیل

    نگران حکومت کادائرہ اختیار:لاہور ہائی کورٹ کی جانب سےتشکیل دیا گیا لارجربنچ تبدیل

    لاہور:صوبہ پنجاب کی نگران حکومت کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لئے تشکیل دیا گیا لارجر بنچ تبدیل ہوگیا۔ لارجر بنچ کے رکن جسٹس رسال حسن سید نے طبی بنیادوں پر بنچ کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے لارجر بنچ کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم کو پانچ رکنی لارجر بنچ میں شامل کیا ہے۔ لارجر بنچ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا ہے جب کہ جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس مزمل اختر شبیر اور جسٹس عاصم حفیظ بھی لارجر بنچ کا حصہ ہیں۔

    واضح رہے کہ جسٹس مزمل اختر شبیر نے پنجاب کی مختلف پبلک کمپنیوں، محکمہ جات اور اداروں کے سربراہان کو عہدوں سے ہٹانے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے فل بنچ بنانے کی سفارش کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ تشکیل دیاتھا۔

    اسی طرح پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست 26 جنوری 2023 کو لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ درخواست گزار کے کونسل کی درخواست پر متذکرہ پٹیشن اُسی دِن جسٹس مزمل اختر شبیر کی عدالت میں سماعت کے لئے مقرر ہوئی۔ جسٹس مزمل اختر شبیر نے 27 جنوری کو کیس کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے مزید سماعت سے معذرت کرلی اور فائل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوادی۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے حکم سے اُسی روزمذکورہ کیس جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں فکس کیا گیا ، تاہم بروز جمعہ عدالتی وقت کی کمی کے باعث فاضل جج دستیاب نہ تھے۔درخواست گزار کے وکیل کے اصرار پر دفتر نے کیس کوفاضل چیف جسٹس کے حکم سے جسٹس عاصم حفیظ کی عدالت میں سماعت کے لئے مقرر کیا اور جسٹس عاصم حفیظ نے27 جنوری کو ہی کیس پر ابتدائی سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت یکم فروری کے لئے ملتوی کر دی۔ جسٹس عاصم حفیظ نے یکم فروری کو کیس پر سماعت کی ۔ فاضل جج نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ زیرِ سماعت کیس الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کی کلاز”g” سے متعلق ہے اور اس نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے فل بنچ تشکیل دے دیاگیا ہے، لہٰذا فاضل جسٹس نے کیس کو مزید سماعت کے لئے فل بنچ کو بھجوانے کی سفارش کی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی نے نگران حکومت کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر تمام دائر درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا، لیکن جسٹس شجاعت علی خان کی جانب سے بنچ کی سربراہی سے معذرت کی گئی۔ بعد ازاں چیف جسٹس کی جانب سے لارجر بنچ کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لارجر بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس مزمل اختر شبیر ،جسٹس رسال حسن سید اور جسٹس عاصم حفیظ شامل تھے۔ اب جسٹس رسال حسن سید کی جانب سے صحت کے کچھ معاملہ کی وجہ سے معذرت کی گئی ہے، فاضل جج کی عدم دستیابی کی بناء پر جسٹس شاہد کریم کو بنچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔۔