Baaghi TV

Category: لاہور

  • ن لیگ کا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین ناموں پر غور شروع

    ن لیگ کا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین ناموں پر غور شروع

    لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ (ن) نے تین ناموں پر غور شروع کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اب نگراں وزیراعلٰی کے تقرر کے لیے ن لیگ نے مختلف ناموں پر غور شروع کردیا۔

    مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے، سابق بیورو کریٹ ناصر مسعود کھوسہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ناموں پر غور ہوگا جبکہ قیادت نے سینئر رہنماؤں سے نگراں وزیراعلی کے لیے مزید نام بھی طلب کئے ہیں-

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے قائم مقام وزیراعلی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو نگراں وزیراعلی کی تقرری کے لیے خط لکھ رکھا ہے، حمزہ شہباز اس وقت بیرون ملک موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ، سمری کے 48 گھنٹے پورے ہونے پر اسمبلی اور کابینہ خود بخود تحلیل ہوگئی تھی اب حکومت اور اپوزیشن مل کر 7 روز میں نگراں وزیراعلیٰ کا مقرر کریں گے۔

    گورنرپنجاب کا اسمبلی تحلیل کرنےسےانکار:اسمبلی پھربھی تحلیل ہوگئی

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا، سمری پر دستخط نہ کرنے سے آئینی عمل میں رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین و قانون میں آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔

    قبل ازیں واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسملبی کی تحلیل کی دستخط شدہ سمری 12 جنوری کو گورنر پنجاب کو بھجوائی تھی۔اس سے قبل انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا، اعتماد کے ووٹ کی قرار داد کے حق میں 186 اراکین نے ووٹ دیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ بننے کا اعلان کیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

  • ڈولفن پولیس نے ریکارڈ یافتہ دو رکنی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا

    ڈولفن پولیس نے ریکارڈ یافتہ دو رکنی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا

    لاہور: ڈولفن اسکواڈ نے شفیق آباد کے علاقے سے 2 رکنی ڈکیت گینگ کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ڈولفن ٹیم نے دوران پٹرولنگ 2 مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا، ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن تعاقب کے بعد راؤنڈ اپ کرلیا۔

    داماد نے سسرال میں کیا گھناؤنا کام ،سن کر ساس بھی دنگ رہ گئی

    ترجمان کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے پستول، موبائل و موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ ملزمان نے راوی روڈ، اسلامپورہ، شفیق آباد اور دیگر علاقوں میں وارداتوں کا انکشاف کیا،ملزمان سفیان اور ذوالفقار ریکارڈ یافتہ ہیں، ڈولفن نے تھانہ شفیق آباد کے حوالے کر دیا۔

    قبل ازیں اسلام آباد کیپیٹل پولیس رورل زون نے گزشتہ سات ماہ کے دوران سنگین و دیگر جر ائم میں ملوث 62 گینگ کے180 ارکان سمیت 1332 کو گرفتار کرکے9 کروڑ 98 لاکھ روپے سے زائد کا ما ل مسروقہ برآمد کیا ،،جس میں7 مجرمان اشتہا ری اور عدالتی مفروران بھی شامل ہیں ، قتل اوراندھے قتل میں ملوث 76ملزمان کو ٹر یس کرکے گرفتار کیا گیا –

    ٹھٹھہ: بائی پاس پر ڈمپر اور کار میں تصادم 2 بچوں سمیت 4 زخمی

    اغو اء کے مقدما ت میں ملوث 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ، جبکہ اغو اءبر ائے تا وان کے ایک مقدمہ میں ملوث پا نچ اغو اءکا روں کو گرفتار کرکے مغوی کو بغیر تا وان دئیے بحفاظت با زیا ب کر الیا، ڈکیتی ، ڈکیتی معہ قتل، رابری، نقب زنی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث 459ملزمان کو گرفتار کیاگیا-

    اسی طرح منشیات فروشی اور ناجائز اسلحہ میں ملوث 547 ملزمان سے 134کلوگر ام چرس، 75کلو ہیرو ئن گرام ہیروئن، 2383 گرام افیون، 4619 گرام آئس ،1961 بوتلیں ،2785 لیٹر شراب برآمد کرلی، اسی طرح ملزمان سے 294 پسٹل،15عدد رائفلیں/کا ربین اور18 کلا شنکوفیں معہ ایمو نیشن برآمد کیا گیا،اسی عر صہ کے دوران پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے 288 پیشہ ور بھکا ریو ںکو گرفتار کرلیاگیا-

    62 گینگ کے180 ارکان سمیت 1332 ملزم گرفتار

  • شاہد آفریدی کابطور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری پوری ہونے پر پیغام

    شاہد آفریدی کابطور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری پوری ہونے پر پیغام

    لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی بطور چیف سلیکٹر کی مدت ختم ہو گئی-

    باغی ٹی وی:گزشتہ سال 24 دسمبر کو شاہد آفریدی کو نیوزی لینڈ کیخلاف ہوم سیریز کیلئے عبوری سلیکشن کمیٹی کاچیئرمین مقررکیا گیا تھا، عبد الرزاق، راؤ افتخار انجم رکن اور ہارون رشید کنوینر کے طور پر شامل تھے،سلیکشن کمیٹی نے ٹیسٹ اور ون ڈے اسکواڈز منتخب کئے۔

    سیریز کے اختتام پر سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شاہد آفریدی نے پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ عبوری چیف سلیکٹر کے طور پر کردار ادا کرنے کا موقع دینے پر پی سی بی کا شکریہ، میں نے اس ذمہ داری کا بھرپور لطف اٹھایا-

    انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ میں اپنے دلیرانہ فیصلوں کے باعث مداحوں کی امیدوں پر پورا اترا ہوں گا، میں ہمیشہ کسی بھی طور پر پاکستان کی خدمت کیلیے دستیاب رہوں گا۔

    شاہین آفریدی کابنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے دستبردار ہونے کا اعلان

    سابق کپتان نے نیوزی لینڈ کو ون ڈے سیریز میں فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پرُ اعتماد ہوں کہ قومی ٹیم جلد فارم میں واپس آئے گی۔

    واضح رہے کہ پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی نے چارج سنبھالنے کے بعد محمد وسیم کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کردیا تھا۔

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • گورنرپنجاب نےچوہدری پرویزالٰہی اورحمزہ شہبازکو3دن کی مہلت دے دی

    گورنرپنجاب نےچوہدری پرویزالٰہی اورحمزہ شہبازکو3دن کی مہلت دے دی

    لاہور:گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے نگراں وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازشریف اور پرویز الٰہی کو مراسلہ جاری کردیا ہے جس میں گورنرپنجاب نے دونوں رہنماوں سے تین دن کے اندرنگران وزیراعلیٰ کےلیے کوئی مشترکہ نام مانگ لیے ہیں‌

    تمام تر تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے:ایم کیو ایم

    چوہدری پرویز الہی نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر تک بطور قائم مقام وزیراعلی کام کرتے رہیں گے جبکہ وہ نگراں حکومت کے قیام کیلیے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز سے مشاورت بھی کریں گے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”593440″ /]

    دونوں رہنماوں کو آئندہ 3 روز میں باہمی مشاورت کے بعد نگراں وزیراعلی کا تقرر کرنا ہے اور اگر دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا تو معاملہ 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔

    مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن بینچوں کے 3، 3 اراکین شامل ہوں گے، پارلیمانی کمیٹی 3 روز میں اتفاق رائے سے نگراں وزیراعلی کا تقرر کر سکتی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کا عدم اتفاق کی صورت میں نگراں وزیراعلی کا تقرر الیکشن کمیشن کرے گا۔

    سندھ فوڈ اتھارٹی کی فوڈ اسٹریٹ پورٹ گرینڈ کیماڑی میں کارروائی

    اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہا تھا کہ اسمبلی عوام کا منتخب ادارہ ہے جس کو وقت سے پہلے تحلیل کرنا جمہوریت پسند انسان کے لیے مشکل ہے۔لاہور میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے سمری موصول ہوئی ہے جس پر دو دنوں میں فیصلہ کرنا ہے اور منظور کرتے ہی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔

    پاکستان اب بھی ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے۔ عالمی اقصادی فورم

    گورنر نے کہا تھا کہ مجھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ الیکشن کے لیے کون سی تاریخ دی جائے کیونکہ 90 روز میں انتخابات کرانے ہوں گے جس میں رمضان بھی ہوگا اور اگر اس سے پہلے انتخابات ہوں تو وقت بہت کم ہوگا اس لیے تمام چیزوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کو کہنا ہے کہ وہ پہلے آپس میں مل کر فیصلہ کریں اور اگر نہ کر سکیں تو پھر اگلے مراحل ہوں گے اور نگراں حکومت کا بھی نوٹی فکیشن جاری کرنا ہے۔

  • گورنرپنجاب کا اسمبلی تحلیل کرنےسےانکار:اسمبلی پھربھی تحلیل ہوگئی

    گورنرپنجاب کا اسمبلی تحلیل کرنےسےانکار:اسمبلی پھربھی تحلیل ہوگئی

    لاہور:گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے ، سمری کے 48 گھنٹے پورے ہونے پر اسمبلی اور کابینہ خود بخود تحلیل ہوگئی۔ حکومت اور اپوزیشن مل کر 7 روز میں نگراں وزیراعلیٰ کا مقرر کریں گے۔

    کراچی بلدیاتی انتخابات، سندھ حکومت کا ایک اور مراسلہ

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا، جس کے بعد پنجاب اسمبلی سمری کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پر 10 بجے خود بخود تحلیل ہوجائے گی۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا، سمری پر دستخط نہ کرنے سے آئینی عمل میں رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین و قانون میں آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔

    پنجاب میں ڈسٹرکٹ بارکونسلزکےانتخابات،لاہورمیں بدنظمی،الیکشن23جنوری تک ملتوی

    واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسملبی کی تحلیل کی دستخط شدہ سمری 12 جنوری کو گورنر پنجاب کو بھجوائی تھی۔اس سے قبل انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا، اعتماد کے ووٹ کی قرار داد کے حق میں 186 اراکین نے ووٹ دیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

    مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ بننے کا اعلان کیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

  • مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    لاہور:مسلم لیگ ن نےپنجاب اورخیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنےکا فیصلہ کیا ہے۔ ن لیگ کا کہنا ہے کہ قومی اور دیگردوصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مقرروقت پر ہوں گے۔مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے نواز شریف اور مریم نواز نے بھی شرکت کی، اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین خصوصی، آئینی ماہرین اور دیگرپارٹی رہنما بھی شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخاب بھرپور انداز سے لڑیں گے جبکہ قومی اور دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جائیں گے۔رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ڈوبتے جہاز میں کوئی سوار ہونا پسند نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ہدایت کی کہ قیادت الیکشن کیلئے خود تیار ہو اور ورکرز کو بھی متحرک کرے، عمران دور کے معاشی، سفارتی و سیاسی نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔قائد پاکستان مسلم لیگ ن نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو پنجاب میں انتخابات کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے شہباز شریف کو پارلیمانی بورڈ قائم کرنے کا بھی کہا ہے۔

    نواز شریف نے کہا کہ پورے جذبے، اعتماد اور بھرپور تیاری و قوت سے آگے بڑھیں، انشاء اللہ فتح پاکستان مسلم لیگ ن کی ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اجلاس کو بتایا کہ اتوار کو وہ آصف زرداری سے ملنے ان کی رہائش گاہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک و قوم کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہا ہے، قوم عمران خان کو مسترد کر چکی ہے۔

  • پنجاب میں ڈسٹرکٹ بارکونسلزکےانتخابات،لاہورمیں بدنظمی،الیکشن23جنوری تک ملتوی

    پنجاب میں ڈسٹرکٹ بارکونسلزکےانتخابات،لاہورمیں بدنظمی،الیکشن23جنوری تک ملتوی

    لاہور:پنجاب میں ڈسٹرکٹ بارکونسلزکےانتخابات،لاہورمیں بدنظمی،الیکشن 23 جنوری تک ملتوی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں ڈسٹرکٹ بار کونسلز کے سالانہ انتخابات ہوئے،لاہور میں بدنظمی کے باعث الیکشن متنازعہ ہو گیا، ایگزیکٹو کمیٹی نے پولنگ 23 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    ایف بی آر کا ڈیٹا لیک کیس، گرفتار صحافی جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    سکیورٹی کے سخت انتظامات میں صوبہ بھر میں وکلا کی جانب سے نمائندوں کے انتخاب کیلئے حق رائے دہی کا استعمال کیا گیا، لاہور میں وکلا گروپوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات کے باعث بدنظمی دیکھنے میں آئی۔

    گرل فرینڈ کو قتل کر کے لاش کے 35 ٹکڑے کیسے کئے؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی

    چیئرمین الیکشن بورڈ کی جانب سےنتائج کا اعلان کرتے ہوئے حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار رانا انتظار کو کامیاب قراردینے پرلاہور بار میں حالات کشیدہ ہو گئے، وکلاء کے یونیفارم میں افراد نےفائرنگ کی،جس پرایکشن لیتے ہوئے پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے بارکے الیکشن 23 جنوری تک ملتوی کر دئیے۔

    نازیبا ویڈیو کیس،دانیہ شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

     

     

    پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہا، اس موقع پر ایوان عدل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ہفتہ 14 جنوری کو لاہور بار کے سالانہ انتخابات میں 10 نشستوں پر 31 امیدواروں کے درمیان کاٹنے دار مقابلہ ہوا۔ 13 ہزار سے زائد ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کا اہل قرار دیا گیا تھا۔

     

  • ملک پراب بھی غربت کے سائے، مشکلات سے ضرورنکلیں گے،وزیراعظم

    ملک پراب بھی غربت کے سائے، مشکلات سے ضرورنکلیں گے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں نے سیلاب زدگان کی جو مدد کی وہ قابل تحسین ہے

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی خدمت کرنے والوں نے مشکل کے باوجود انسانیت کی مدد کی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو یاد رکھا جائے گا ،عملی میدان میں ہر قسم کے چیلنجز آئیں گے ،نمٹنے کا ہنر ہونا چاہیے،ایسے افسران کو جانتاہوں جنہوں نے لگن سے لوگوں کی خدمت کی ،بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے پانی اب بھی موجود ہے پبلک سروس کمیشن میں بہترین خدمات والے افسروں کو ہم نے سر کا تاج بنایا عرب امارات نے دل کھول کر پاکستان کی مدد کی ہم نے عزم کیاتھا کہ ملک کے لیے قرضہ نہیں لیں گے مگرمالی مشکلات نے مجبور کیا،ہم آئی ایم ایف کی شرائط میں پھنسے ہوئے ہیں،آئی ایم ایف کا ابھی بھی مطالبہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرے

    چند ماہ بعد عمران خان خود کہیں گے کہ مراسلے والی بات غلط تھی،مبشر لقمان

    آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،عمران خان

     دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا،

     سال 2022ء میں پاکستان نے خارجہ محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک پر اب بھی غربت کے سائے ہیں، مشکلات سے ضرورنکلیں گے،ہم تقاریر،شاعری اور خطابات اچھے کرتے ہیں مگر عملی میدان میں مشکل سے نمٹنا اہم ہے،قائد کے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے سب کو محنت کرنی ہوگی،محرومی ختم کرنی ہوگی ،75سال میں ملک کو دولخت ہوتے دیکھا،آج ہمیں پہلے سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے ،آرمی چیف کوسعودی عرب حکومت نے عزت دی اور بڑی امداد دی ،سعودی عرب نے سرمایہ کاری کی مد میں بھی پاکستان کی مالی مدد کا اعلان کیا،

  • پاکستان نیوزی لینڈ:ٹیسٹ سیریز برابر:ون ڈے میں شکست؛ کھلاڑی گھروں کو لوٹ گئے

    پاکستان نیوزی لینڈ:ٹیسٹ سیریز برابر:ون ڈے میں شکست؛ کھلاڑی گھروں کو لوٹ گئے

    کراچی: نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے اختتام کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔اطلاعات کے مطابق دورہ پاکستان کے پہلے مرحلے میں 2 میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئی تھی جبکہ ون ڈے سیریز میں نیوزی لینڈ نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی۔

    خواتین کا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ جاری

    پاکستان کرکٹ ٹیم نے مسلسل تین سیریز جیتنے کے بعد ناکامی کا ذائقہ چکھنا پڑا۔ اس سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز 1-2 سے جیتی تھی جبکہ نیدر لینڈ کو 0-3 سے زیر کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کو بھی 0-3 سے قابو کیا تھا۔

    دوسری جانب جمعہ کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 110 واں میچ کھیلا گیا، مہمان ٹیم نے اپنی فتوحات کی 50 مکمل کی جبکہ پاکستان 56 ون ڈے انٹرنیشنل میچز اپنے نام کرچکا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ایک میچ ٹائی ہوا جبکہ 3 میچز کا نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

    پی سی بی نےسابق ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں اضافہ کردیا

    یاد رہےکہ کل نیوزی لینڈ نے پاکستان کو تیسرے ایک روزہ میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں نیوزی لینڈ نے 281 رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر 49 ویں اوور میں پورا کیا۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے گلین فلپس 4 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 42 گیندوں پر 63 رنز بنا کر نمایاں رہے۔کپتان کین ولیمسن 53 اور ڈیوون کانوے 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ڈیرل مچل 31 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

    بابر اعظم جو فیصلہ کرینگےمن وعن قبول ہوگا: نجم سیٹھی

    پاکستان کی جانب سے سلمان آغا اور محمد وسیم نے 2،2 جبکہ محمد نواز اور اسامہ میر نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔اس سے قبل ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 280 رنز بنائے.

    ابتداء میں پاکستان کے بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اوپنر شان مسعود صفر جبکہ کپتان بابراعظم 4 رنزبناکر پویلین لوٹ گئے، 21 کے مجموعی اسکور پر دو وکٹیں گرنے کے بعد فخز زمان اور محمد رضوان نے 153 رنز کی پارنٹرشپ قائم کی تاہم رضوان 77 رنز بناکر وکٹ گنوا بیٹھے، فخرزمان 101 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے جبکہ حارث سہیل بھی 22 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

    آغا سلمان نے 45 رنز کی اہم اننگ کھیلی تاہم وہ نصف سینچری مکمل نہ کرسکے اور گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے ساوتھی نے 3، لوکی فرگوسن نے 2 جب کہ مچل بریسویل اور ایش سودھی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ فخر زمان اور حارث سہیل رن آؤٹ ہوئے۔