Baaghi TV

Category: لاہور

  • لاہور کے ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد سے کروائے جانے کا انکشاف

    لاہور کے ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد سے کروائے جانے کا انکشاف

    لاہور کے جنرل ہسپتال میں بدعنوانی، بدنظمی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
    جنرل ہسپتال کے مردہ خانے میں خواتین کے پوسٹمارٹم اب غیر تربیت یافتہ اور مرد عملے کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ہیلپر خاتون کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے، جبکہ لاش پر ٹانکے لگانے والا شخص نہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی جنرل ہسپتال کا ملازم۔ یہ دونوں عمل قانونی اور طبی طور پر غیر مجاز ہیں، حساس پوسٹمارٹم کے عمل کے لیے غیر متعلقہ افراد کو بھی خواتین کی لاشوں کا معائنہ کرنے پر مامور کیا گیا۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر دوہری ملازمت میں مصروف ہیں ، جہنوں نے ہیلپر کو پیسوں پر اپنی جگہ کام پر رکھا ہوا ہے۔ڈان نیوز کی خبر پر پرنسپل جنرل ہسپتال نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی جب کہ صوبائی وزیر صحت نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    لاہور کی ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد کی جانب سے کیا جانا لمحہ فکریہ ہے،عفت سعید
    مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین کی رہنما عفت سعید نے کہا ہےکہ لاہور کی ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد کی جانب سے کیا جانا لمحہ فکریہ ہے، ایک طرف پنجاب کے ہسپتالوں میں تمام سہولیات کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب خواتین کے پوسٹ مارٹم مردوں سے کروائےجا رہے، شریعت کی رو سے اور اخلاقی طور پر ایسا کسی صورت درست نہیں، مرد خاتون کا پوسٹ مارٹم نہیں کر سکتا،اسلامی تعلیمات کے مطابق، عورت اور مرد دونوں کے لیے حیا، پردہ اور جسمانی حرمت کا خاص خیال رکھا گیا ہے، کسی خاتون کے جسم کا معائنہ خاتون ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے، پوسٹ مارٹم کے دوران خاتون ڈاکٹر کو بھی سترپوشی کا خیال کرنا چاہئے،خاتون ڈاکٹر نہ ہو تو مرد ڈاکٹر سے خاتون کا پوسٹ مارٹم کروانا کسی صورت درست نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے پوسٹ مارٹم صرف خواتین میڈیکل آفیسرز سے کروانے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے،مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے میڈیکل لیگل فریم ورک کو اسلامی رہنما اصولوں کے مطابق ازسر نو ترتیب دیا جائے،لاہور کے اس مرد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جس نے خاتون کا پوسٹ مارٹم کیا.

  • گرفتار این سی سی آئی اے کے 6 افسران سے سوا 4 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری

    گرفتار این سی سی آئی اے کے 6 افسران سے سوا 4 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری

    رشوت کے الزام میں گرفتار این سی سی آئی اے کے 6 افسران سے سوا 4 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری ہوگئی، ایف آئی اے نے ملزمان سے ہونے والی تفتیش کی رپورٹ مقامی عدالت میں پیش کردی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ایک کروڑ 25 لاکھ ریکور کئے گئے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سے 36 لاکھ، ملزم علی رضا سے 70 لاکھ کی ریکوری ہوئی۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے افسران پر رشوت لینے کا الزام ہے۔

    دوسری جانب ضلع کچہری لاہور میں رشوت لینے کے مقدمے میں این سی سی ائی اے کے افسران کا مزید تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا گیا،عدالت نے ملزمان کو تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا،عدالت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت دیگر تمام ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

  • ماں جیسی ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے، قبضہ مافیا ختم شد، مریم نواز

    ماں جیسی ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے، قبضہ مافیا ختم شد، مریم نواز

    جس کی ملکیت، اسی کا قبضہ……وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے عوام کی ملکیت ہتھیانے والوں سے نمٹنے کے لئے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ ایم موایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کی منظوری دے دی۔ اراضی پر قبضے چھڑانے کے لئے سالوں سے عدالتوں کے چکر لگانے والے سائلین کے لئے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈِسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب میں اب ہر قبضہ کیس کا فیصلہ ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے ذریعے صرف 90 دن میں ہوگا۔ ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے فیصلے کی اپیل ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل سنے گا۔ خصوصی ٹربیونل بھی اپیل کا فیصلہ90کے اندر اندر کرنے پابند ہو گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نئے آرڈیننس کے تحت پنجاب کے ہر ضلع میں ڈِسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی قائم کرنے پراتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں نئے نظامِ انصاف کے تحت عدالت جانے سے پہلے ہی نجی جائیداد پر قبضہ کا ایشوڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی حل کرے گی۔ برسوں سے لوگ عدالتوں کے چکر کاٹنے والے سائلین کو پنجاب میں برق رفتار انصاف کی فراہمی کے لئے ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی ہرقبضہ کیس کا فیصلہ 90دن میں کرے گی۔ 6 رکنی ضلعی تصفیہ کمیٹی کا کنونیئرڈپٹی کمشنر ہوگا جبکہ ڈی پی او اور دیگر حکام بھی شامل ہونگے۔ اجلاس میں 30دن کے اندر ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں فنکشنل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کیس کے فیصلے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرانے کے پابند ہوں گے۔ اجلاس میں عوام کی ملکیت ہتھیانے والوں سے قبضہ چھڑانے کے لئے پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی سفارش کاجائزہ لیا گیا۔ شفافیت کے لئے ڈیجیٹل ریکارڈ اور سوشل میڈیا لائیو سٹریمنگ کی تجاویز پر غورکیاگیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں اب کوئی کسی کی زمین نہیں چھینے گا ماں جیسی ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے۔جس کی ملکیت، اسی کا حق ہے قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔عام آدمی کے لئے چھوٹی سی جائیداد یا اراضی کل کائنات ہوتی ہے اور مافیا اس پر قبضہ کر لیتا ہے۔

  • لاہورہائیکورٹ، کار بنانے والی نجی کمپنی کے خلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار

    لاہورہائیکورٹ، کار بنانے والی نجی کمپنی کے خلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے کار بنانے والی نجی کمپنی کے خلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار دے دی۔

    لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس راحیل کامران نے نجی کمپنی کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا، مسابقتی کمیشن پاکستان کی جانب سے بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے عدالت میں دلائل دیئے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن پاکستان کے پاس معلومات طلب کرنے اور انکوائری شروع کرنے کا مکمل اختیار ہے، کار بنانے والی نجی کمپنی نے 2018 سے 2022 تک کمیشن کی کارروائی میں خود حصہ لیا، مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس معلومات کے حصول کے لیے ہیں، حتمی حکم نہیں ، کمپنی کو چاہئے کہ مطلوبہ معلومات فراہم کرے تاکہ انکوائری مکمل ہو سکے، طویل عرصہ تک انکوائری زیر التوا رکھنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ مسابقتی کمیشن کا مقصد مارکیٹ میں غیر منصفانہ قیمتوں اور مقابلے کی خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے، مارکیٹ کی نگرانی کے لیے معلومات کا حصول کوئی غیر قانونی عمل نہیں،لاہور ہائیکورٹ نے مسابقتی کمیشن پاکستان کو 2018 سے جاری انکوائری چھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

  • لوکل گورنمنٹ کے لیے اگر 27ویں ترمیم کرنی پڑتی ہے تو فوراً کریں۔ملک احمد خان

    لوکل گورنمنٹ کے لیے اگر 27ویں ترمیم کرنی پڑتی ہے تو فوراً کریں۔ملک احمد خان

    پنجاب اسمبلی نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے اگر 27 ویں ترمیم کرنی پڑتی ہے تو فوری طور پر کی جائے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کے معاملے پر کھل کر بات ہونی چاہیے، پارلیمنٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پانچ سال ہے، جب لوگوں کے پاس جمہوریت کے ثمرات نہیں ہوں گے تب ان کا جمہوریت سے اعتماد اٹھنا شروع ہو جائے گا،پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے، قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایک آئینی ترمیم کی جائے جس میں ایک نیا باب ڈالا جائے، لازمی قرار دیا جائے کہ مقررہ مدت میں انتخابات ہوں، کوئی سیاسی جماعت ایسا نہ کر سکے کہ مقامی حکومت کی مدت کم کر دی جائے، کاکس پنجاب اسمبلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، کاکس لوکل حکومت میں 80 ارکان شامل ہیں، اپوزیشن کے 35 اراکین تھے، 140 اے نامکمل ہے، صوبے مقامی حکومتیں قائم کریں گے، نئی حکومت نے آتے ہی لوکل گورنمنٹ کوختم کر دیا پھر کیا قانون بنانے میں 3 سال کا عرصہ لگا، جہاں میں رہتا ہوں وہاں پرآج تک ڈرنیج اور صفائی کا مسئلہ ہے،لازمی قرار دیا جائے کہ مقررہ مدت میں بلدیاتی انتخابات ہوں، پنجاب اسمبلی آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتی، بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات دیے جائیں، لوکل گورنمنٹ کے لیے اگر 27ویں ترمیم کرنی پڑتی ہے تو فوراً کریں۔

    ملک احمد خان کا کہنا تھا میں نے فیض آباد اور مری روڈ کو جلتے ہوئے دیکھا، مجھے تشویش ہوتی تھی کہ پاکستان میں لا قانونیت کیوں ہے، میں نے دیکھا کہ کچھ بلوائیوں نے سڑک پر گڑھے کھودے، پولیس پر سیدھےفائر کیے، امن و امان کا قیام حکومت کی ذمے داری ہے،مولانا فضل الرحمان کو بڑا سیاست دان سمجھتاہوں، مولانا نے جو کہا وہ ان کی رائے ہے، ملک میں 27ویں آئینی ترمیم کی بہت بازگشت ہے، بے اختیار پارلیمنٹ سے بہتر ہے کہ پارلیمنٹ ہو ہی نہیں، مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے، مالی، سیاسی اور انتظامی خود مختاری کے لیے پارلیمان کو جامع تجاویز بھیج دی ہیں، امید ہے کہ اس پنجاب اسمبلی کی تجاویز کو اہمیت دی جائے گی۔

  • مولانا فضل الرحمان کی دہشتگردوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت

    مولانا فضل الرحمان کی دہشتگردوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی حمایت کر دی۔

    چینیوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اُن کی جماعت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشتگردوں کے خلاف طاقت کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہیے۔سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کالعدم تحریک طالبان کے عناصر پاکستان میں داخل ہو کر دہشتگرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات انتہائی خراب ہیں اور لوگ خوف کے باعث گھروں سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔پاک افغان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے

    سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی اسپتال پر کارروائی، 460 افراد قتل

    اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

    شبر زیدی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ درج

  • لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبہ

    لاہور کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبہ

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے “لنگز آف لاہور” منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ماحول دوست منصوبہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں قدرتی فضا کی بحالی میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔

    ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق منصوبے کے تحت لاہور کے اردگرد جنگل نما حد بندی قائم کی جائے گی، جس کے لیے تقریباً 48 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ منصوبہ “پی ایچ اے لاہور” کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ لاہور کی جنگل نما حد بندی کی کل لمبائی 112 کلومیٹر جبکہ رقبہ 1,711 ایکڑ پر مشتمل ہو گا۔ “رِنگ فاریسٹیشن” منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں 1,210 ایکڑ اراضی پر 59 کلومیٹر طویل رنگ فاریسٹ تیار کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں 31 اور تیسرے مرحلے میں 22 کلومیٹر رقبے پر شجر کاری کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق پہلا مرحلہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

    منصوبے کے تحت جامن، کچنار، امرود اور دیگر پھل دار درختوں کے علاوہ پلکن، ارجن، گلِ نشتر، سکھ چین، جیٹروفہ اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق “لنگز آف لاہور” منصوبے سے تقریباً دو کروڑ افراد مستفید ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ نہ صرف سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ شہری پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا، جبکہ سینئر منسٹر پنجاب مریم اورنگزیب سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے مکمل خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ترجمان نے کے مطابق یہ منصوبہ ماحولیاتی تحفظ اور صحت مند پنجاب کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

  • خاتون صحافی  ایشل عدنان کا آفتاب اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام

    خاتون صحافی ایشل عدنان کا آفتاب اقبال پر جنسی ہراسانی کا الزام

    ٹی وی میزبان اور صحافی ایشل عدنان نے معروف صحافی اور ٹاک شو میزبان آفتاب اقبال پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور ان کی جانب سے مبینہ طور پر پیش قدمی مسترد کیے جانے پر انہیں ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام سے نکال دیا،ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں ایشل نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں آفتاب اقبال کے شو میں شریک میزبان کے طور پر رکھا گیا تھا اور پروموشنل مواد میں ان کا نام اور تصویر شامل کی جا چکی تھی۔ تاہم ان کے مطابق نئی ذمہ داری شروع ہونے کے صرف تین دن بعد ہی ان کا جوش و خروش بے چینی میں بدل گیا کیونکہ انہیں میزبان کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا،ایشل کا کہنا تھا کہ انہوں نے آفتاب اقبال کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی عزت کرتی ہوں لیکن آپ کا یہ رویہ آپ جیسے سینئر شخص کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق آفتاب اقبال نے یہ سن کر غصے کا اظہار کیا اور دھمکی دی کہ وہ انہیں شو سے ہٹا دیں گے اور مستقبل میں ٹی وی پر کسی موقع سے محروم کر دیں گے،ان کا کہنا ہے کہ آفتاب اقبال نے انہیں شریک میزبان کے عہدے سے ہٹا دیا اور مکمل طور پر پروگرام سے نکال دیا گیا اور یہ سب متعدد گواہوں کے سامنے ہوا۔

    ایشل نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کیا جس پر چینل کے مالک نے مداخلت کی۔ ان کے مطابق مالک نے تسلیم کیا کہ آفتاب اقبال ایک بااثر شخصیت ہیں مگر انہیں یقین دلایا کہ ان کے سامنے آنے پر انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔ایشل نے مزید کہا کہ وہ اب اس واقعے سے آگے بڑھ چکی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ آفتاب اقبال شاید وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وہ چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد ہیں مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔

    پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی خاتون اینکر یا میزبان نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہوں۔ ماضی میں بھی کئی خواتین صحافی اور شوبز شخصیات طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف آواز اٹھا چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان میں میڈیا اداروں میں خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیوں کی کتنی ضرورت ہے،ابھی تک افتاب اقبال یا ایکسپریس ٹی وی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

  • خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس،گرفتار ملزم کی ضمانت خارج

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس،گرفتار ملزم کی ضمانت خارج

    لاہور کی ضلعی کچہری نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو بنانے کے مقدمے میں گرفتار ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کردی۔

    رپورٹ کے مطابق ضلعی کچہری لاہور میں خلیل الرحمان قمر کی مبینہ ویڈیو کے مقدمے کی سماعت ہوئی،مقدمے میں مدعی کی جانب سے مدثر چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے،عدالت نے ملزم ممنون حیدر کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ضمانت ملزم کا قانونی حق سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقابلِ ضمانت جرائم میں یہ حق لاگو نہیں ہوتا،تفتیش سے ظاہر ہوا کہ ملزم ممنون حیدر کے موبائل فون سے قابلِ اعتراض ویڈیو بنائی گئی، جو کہ ایک سنگین سائبر کرائم ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یہ افراد کی ساکھ اور نجی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں، ملزم پر عائد الزامات کے تحت درج دفعات ناقابلِ ضمانت ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ممنون حیدر کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں اس کی سزا معطلی کی استدعا منظور کی جاچکی ہے،ضلعی عدالت نے موجودہ کیس میں ملزم ممنون حیدر کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • پاکستان دشمنی میں مبتلا جھوٹے بھارتی میڈیا کی ایک اور پروپیگنڈا سازش بے نقاب

    پاکستان دشمنی میں مبتلا جھوٹے بھارتی میڈیا کی ایک اور پروپیگنڈا سازش بے نقاب

    پاکستان دشمنی میں مبتلا جھوٹے بھارتی میڈیا کی ایک اور پروپیگنڈا سازش بے نقاب ہو گئی

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے شفاف مؤقف اور حقائق پر مبنی وضاحت نے بھارتی فریب کا پردہ ایک بار پھر چاک کر دیا،بھارتی حکومت اور گودی میڈیا نے اپنی ہی صدر کو جھوٹے بیانیہ کا حصہ بنا کر شرمناک حد پار کر دی،ریپبلک ٹی وی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کی خاتون پائلٹ شیوَانگی سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے،ریپبلک ٹی وی نے بھارتی صدر کے ساتھ شیوانگی سنگھ کی تصاویر نشر کر کے پاکستان کے نام سے من گھڑت بیانیہ کو جھوٹا ثابت کرنے کا تاثر دیا

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق؛پاکستان نے آپریشن بنیانِ المرصوص کے دوران کسی بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کا دعویٰ ہی نہیں کیا ،پاکستان نے 7 مئی 2025 کے بعد سے بھارت کو کسی بھی پائلٹ کی حوالگی نہیں کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے 11 مئی 2025 کی پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ؛پاکستان کی تحویل میں کوئی بھارتی پائلٹ موجود نہیں، تمام خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں

    بھارتی پروپیگنڈا مشینری حکومتی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ اور فریب کا سہارا لے رہی ہے،گودی میڈیا پہلے بھی متعدد بے بنیاد، مضحکہ خیز اور جعلی رپورٹس شائع کر کے جگ ہنسائی کرا چکا ہے