Baaghi TV

Category: لاہور

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    آج 28 اکتوبر کو وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 28 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور اس وقت ملک کی تاریخ رقم کرنے والی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب وہ اس منصب پر فائز ہوئیں تو انھوں نے شفاف طرزِ حکمرانی، عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے نئے رجحانات متعارف کروائے۔

    مریم نواز کا تعلق پاکستان کے معروف سیاسی خانوادے شریف خاندان سے ہے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز ابتدا میں خاموشی سے کیا، جب وہ اپنے والد، سابق وزیراعظم نواز شریف کی معاونت میں مصروف رہتی تھیں۔ اس دوران ان کے پاس کوئی عوامی یا جماعتی عہدہ نہیں تھا، اور وہ پسِ پردہ سیاسی و تنظیمی امور میں شریک رہتی رہیں۔2012 میں مریم نواز پہلی بار اس وقت سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوئیں جب مسلم لیگ (ن) نے انہیں 2013 کے عام انتخابات کی مہم کا انچارج مقرر کیا۔ الیکشن کے بعد انہیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن بنایا گیا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیے جانے کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔

    مریم نواز نے اپنی پہلی آزادانہ انتخابی مہم 2017 میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کے لیے لاہور کے حلقہ این اے-120 میں چلائی۔ یہ الیکشن اس وقت منعقد ہوا جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا،بیگم کلثوم نواز اس وقت علاج کے لیے لندن میں زیرِ علاج تھیں، چنانچہ مریم نواز نے تنِ تنہا اپنی والدہ کے لیے مہم چلائی۔ مخالفانہ سیاسی فضا، عدالتی دباؤ اور بدترین تنقید کے باوجود انہوں نے نہ صرف انتخابی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی والدہ کے لیے نشست بھی جیت لی۔ اس کامیابی نے مریم نواز کو ملک بھر میں ایک مضبوط اور جرات مند سیاسی رہنما کے طور پر منوایا۔

    1999 کی فوجی بغاوت کے بعد شریف خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا۔ مریم نواز نے اپنے خاندان کے ساتھ وہ دن سعودی عرب میں گزارے اور 2007 میں وطن واپسی کے بعد ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کیا،پانامہ پیپرز کیس کے دوران جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، تو مریم نواز نے ن لیگ کی مزاحمتی سیاست کی قیادت سنبھالی۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ عدالتوں، میڈیا اور عوامی دباؤ کے درمیان ڈٹ کر کھڑی رہیں۔2018 میں جب نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی گئی، تو وہ اپنے والد کے ساتھ وطن واپس آئیں اور گرفتاری پیش کی۔ جیل میں قید کے دوران ان کی والدہ کا لندن میں انتقال ہو گیا، جس پر انہیں صرف پانچ دن کی پیرول پر رہائی ملی۔ اس سانحے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی والدہ کے مشن کو جاری رکھا۔مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کو روایتی سیاست سے نکال کر جدید سیاسی اظہار اور پاپولر سیاست کی سمت گامزن کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو پارٹی کی تنظیم اور عوامی رابطے کا موثر ذریعہ بنایا۔ ان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا سوشل میڈیا سیل پاکستان کی سب سے منظم ڈیجیٹل سیاسی ٹیم کے طور پر سامنے آیا،انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں ایک جدید، تعلیم یافتہ اور عملیت پسند سوچ کو فروغ دیا، جس نے نوجوانوں کو پارٹی کے قریب کیا۔

    2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور مریم نواز کو صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔ ان کا یہ انتخاب نہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل تھا بلکہ پاکستانی سیاست میں خواتین کی قیادت کی علامت بھی بن گیا،وہ اپنے والد میاں نواز شریف، چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز کے بعد شریف خاندان کی چوتھی شخصیت ہیں جو صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر فائز ہوئیں،وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے گورننس میں شفافیت، ڈیجیٹل اصلاحات، تعلیم و صحت کے منصوبوں اور خواتین کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے۔ عوامی سطح پر ان کا نعرہ "پنجاب کی بیٹی، پنجاب کی ماں” آج ایک سیاسی شناخت بن چکا ہے۔

    مریم نواز نے 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر اعوان سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں مہرالنساء، جنید اور ماہنور، مریم نواز شریف خاندان کے اس حصے سے تعلق رکھتی ہیں جس نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کیا۔ مریم نواز کا سیاسی سفر جدوجہد، قربانی اور استقامت سے عبارت ہے۔ وہ آج نہ صرف پاکستان کی سب سے بااثر خواتین رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں بلکہ ایک ایسی سیاست دان کے طور پر جانی جاتی ہیں جنہوں نے مشکلات میں بھی امید کی شمع روشن رکھی۔

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کیلئے سالگرہ کے موقع پر تہنیتی پیغام جاری کیا اور کہا کہ پنجاب کی عوام کو اتنے تحفے دینے کا شکریہ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی عوام کی خدمت کے بارے میں تیار کردہ خصوصی ویڈیو بھی جاری کی،ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کی لمبی زندگی، صحت اور عوام کی اس سے بڑھ کر خدمت کیلئے دعا گو ہیں۔

  • لاہور میں فضائی آلودگی،پہلے نمبر پر، پنجاب کے دیگر شہر بھی متاثر

    لاہور میں فضائی آلودگی،پہلے نمبر پر، پنجاب کے دیگر شہر بھی متاثر

    لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں صبح کے اوقات میں فضائی آلودگی کی شدت بدستور برقرار ہے۔ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور آج بھی پہلے نمبر پر موجود ہے، جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک سطح 420 تک جا پہنچا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فضا میں مائیکرو پارٹیکلز کی بڑھتی ہوئی مقدار نے سانس، گلے اور آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں حدِ نگاہ متاثر ہونے سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ فیصل آباد میں پارٹیکیولیٹ میٹرز (PM2.5) کی مقدار 622، ملتان میں 485 جبکہ بہاولپور میں 255 ریکارڈ کی گئی۔ انڈیکس کے مطابق 300 سے اوپر کی سطح انسانی صحت کے لیے نہایت مضر قرار دی جاتی ہے۔

    طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا لازمی استعمال کریں، اور آنکھوں و جلد کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔فضائی آلودگی کے عالمی ادارے آئی کیو ائیر (IQAir) کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور کے بعد بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی دوسرے، بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا تیسرے، جبکہ بھارتی شہر کلکتہ چوتھے نمبر پر ہے۔اسی فہرست میں پاکستان کا ساحلی شہر کراچی بھی پیچھے نہیں رہا، جہاں فضائی آلودگی کا ائیر کوالٹی انڈیکس 165 ریکارڈ کیا گیا، جس کے ساتھ وہ دنیا کے پانچویں آلودہ ترین شہر کے طور پر درج ہوا ہے۔

    ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور اور دیگر شہروں میں آلودگی کی بڑی وجوہات میں فصلوں کی باقیات جلانا، صنعتی اخراج، ٹریفک کا دھواں، اور موسم کی تبدیلی کے اثرات شامل ہیں۔ حکومتی اداروں کو اسموگ ایمرجنسی پلان پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سانس لینے کے لیے صاف فضا میسر آ سکے۔

  • ایف آئی اے کی کارروائی، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے 4 افسران گرفتار

    ایف آئی اے کی کارروائی، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے 4 افسران گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سمیت 4 مبینہ کرپٹ افسران کو گرفتار کر لیا۔

    گرفتار افسران پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملزمان کو منگل کے روز لاہور کی ضلع کچہری میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان کی جانب سے سینئر وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق پیش ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے لاہور سے 5 اور اسلام آباد سے ایک افسر کے لاپتا ہونے کے بعد ہیڈ آفس سمیت مختلف دفاتر کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ فیصل آباد، لاہور، ملتان، راولپنڈی اور ہیڈ آفس کے 12 سے 15 افسران دفاتر نہیں آ رہے، جب کہ بعض افسران کے بیرون ملک جانے یا جانے کی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں.

    تجارتی کشیدگی، چین کی امریکا سے تعلقات بہتر بنانے کی امید

    نگران حکومت کی مدت بڑھانے کےلیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش

    وزیرِاعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، علاقائی امور پر گفتگو

    2028 کے انتخابات میں بطور نائب صدر حصہ نہیں لوں گا،ٹرمپ کا اعلان

  • اسموگ ، پنجاب بھر میں اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی

    اسموگ ، پنجاب بھر میں اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی

    لاہور بدستور اسموگ کی لپیٹ میں ہے اور فضائی آلودگی کے باعث شہر ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوگیا ہے، جس کے پیش نظر اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کردی گئی ہے۔

    وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں بتایا کہ اب اسکول صبح 8 بج کر 45 منٹ پر کھلیں گے جبکہ ڈیڑھ بجے چھٹی ہوگی۔نجی ٹی وی کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے اسموگ کے باعث صوبے بھر میں سرکاری اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔پنجاب کی سینئر وزیر برائے ماحولیات مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسموگ گن کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کمی لا رہی ہے اور رواں سال کی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت بہتر ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 41 ایئر کوالٹی مانیٹرز نصب کیے جا چکے ہیں، جب کہ مزید مانیٹرنگ یونٹس اور اے آئی بیسڈ فورکاسٹنگ سسٹم کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی کی بروقت پیشگوئی اور مؤثر کنٹرول ممکن بنایا جا سکے.

    ٹک ٹاک معاہدے کی تفصیلات طے،چین سویا بین دوبارہ خریدے گا: امریکی وزیر خزانہ

    آزاد کشمیر میں بڑی سیاسی ہلچل، پی ٹی آئی کے 5 وزرا پیپلز پارٹی میں شامل

  • مسلم لیگ (ن) کا پنجاب میں ضمنی انتخابات کیلیے امیدواروں کا اعلان

    مسلم لیگ (ن) کا پنجاب میں ضمنی انتخابات کیلیے امیدواروں کا اعلان

    لاہور: مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں ہونے والے آئندہ ضمنی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات و سینئر رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے تفصیلی مشاورت کے بعد امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق، قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 96 فیصل آباد سے بلال بدر چوہدری کو مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے، جبکہ این اے 104 سے راجہ دانیال ریاض پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتریں گے۔ اسی طرح این اے 143 سے محمد طفیل جٹ کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدوار فائنل کر لیے ہیں۔ پی پی 203 سے محمد حنیف جٹ جبکہ پی پی 98 سے آزاد علی تبسم پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت اور کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اور پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ عوام ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے ٹکٹ میرٹ، عوامی نمائندگی اور تنظیمی سفارشات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں، جبکہ باقی حلقوں کے لیے بھی جلد امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے، اور پارٹی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متحد ہوکر ضمنی انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریں۔

  • سکیورٹی خدشات، مریم نواز کی سیکیورٹی ٹیم کی مکمل سکریننگ شروع

    سکیورٹی خدشات، مریم نواز کی سیکیورٹی ٹیم کی مکمل سکریننگ شروع

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سیکیورٹی ٹیم کے تمام اہلکاروں کی تفصیلی سکریننگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب بلا خوف و خطر نقل و حرکت کر رہی ہیں، تاہم کالعدم تنظیموں کے خطرات کے باعث سیکیورٹی پیرا میٹرز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کے انخلا اور ٹی ایل پی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مریم نواز کی سیکیورٹی میں ازسرِنو تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے پس منظر کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ سکریننگ کا عمل جاتی عمرہ، وزیراعلیٰ آفس اور ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ تک جاری ہے، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت دیگر عملے کی بھی مکمل چھان بین ہو رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اہلکاروں کے سیاسی و مذہبی رجحانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اگر کسی فرد کا تعلق کسی مشکوک تنظیم سے پایا گیا تو اسے فوری طور پر ڈیوٹی سے ہٹا دیا جائے گا۔سکریننگ مکمل ہونے کے بعد ایک جامع رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی

    ویڈیو بنانےکے دوران فائرنگ، ٹک ٹاکرلڑکی جاں بحق

    فلسطین کی حامی کیتھرین کونولی آئرلینڈ کی ممکنہ نئی صدر قرار

    بنگلہ دیش کا بھارت سے سرحدی سیکیورٹی مضبوط کرنے کا فیصلہ، تین نئی بٹالینز قائم

    طالبہ کی ہراسانی شکایت، صوبائی محتسب نے انکوائری رپورٹ مسترد کر دی

  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 میں 8 روز کی توسیع، اجتماعات پر پابندی برقرار

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 میں 8 روز کی توسیع، اجتماعات پر پابندی برقرار

    حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 8 دن کی توسیع کر دی ہے۔

    سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور دیگر عوامی اجتماعات پر پابندی ہفتہ، یکم نومبر تک برقرار رہے گی۔ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر بھی مکمل پابندی عائد رہے گی۔

    البتہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازوں، تدفین، سرکاری فرائض انجام دینے والے اہلکاروں اور عدالتوں پر نہیں ہوگا، جب کہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبے کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔ترجمان کے مطابق یہ توسیع امن و امان برقرار رکھنے، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے، کیونکہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر عوامی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن سکتے ہیں اور شرپسند عناصر ان کا فائدہ اٹھا کر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو پنجاب بھر میں 18 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، جس میں اب توسیع کر دی گئی ہے

    کراچی میں فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم 27 اکتوبر سے شروع ہوگا

    صدر آصف زرداری کی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی منظوری

    چراٹ میں پاک فوج اور قازقستان کی مشترکہ مشق "دوستاریم 5” اختتام پذیر

  • بھارتی مشقوں کے خدشات،کراچی اور لاہور کے فضائی روٹس میں عارضی تبدیلی

    بھارتی مشقوں کے خدشات،کراچی اور لاہور کے فضائی روٹس میں عارضی تبدیلی

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اعلان کیا ہے کہ کراچی اور لاہور کے فضائی روٹس میں آئندہ ہفتے کے لیے چند پروازوں کے راستوں میں عارضی تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ فضائی ٹریفک کی حفاظت اور مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پی اے اے کی جانب سے جاری نوٹم (NOTAM) کے مطابق یہ پابندیاں 28 اکتوبر 2025ء بروز منگل صبح 5 بج کر ایک منٹ سے نافذ ہوں گی اور 29 اکتوبر بروز بدھ صبح 9 بجے تک برقرار رہیں گی۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام معمول کی حفاظتی اور آپریشنل وجوہات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے تاکہ فضائی نظام کی کارکردگی اور سیکیورٹی کو برقرار رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب، اوپن سورس ٹریکر ڈیمین سائمن کے مطابق بھارتی فضائی حکام نے بھی ایک روز قبل نوٹم جاری کیا ہے، جو ممکنہ طور پر کسی فوجی مشق یا ہتھیاروں کے تجربے سے متعلق ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت اپنی تینوں مسلح افواج کی مشترکہ مشق کی تیاری کر رہا ہے۔ٹریکر کے مطابق بھارت کا نوٹم 30 اکتوبر سے 10 نومبر تک مؤثر رہے گا، اور اس میں شامل علاقہ بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جیسلمیر سے لے کر سرکریک کے متنازع دلدلی علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

    یہ علاقہ طویل عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کا باعث رہا ہے، جبکہ سمندری حدود پر مذاکرات اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے.

    کراچی میں فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم 27 اکتوبر سے شروع ہوگا

    صدر آصف زرداری کی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی منظوری

    عمران خان نے کہا تھا ہر بات کی ذمہ داری امریکا پر ڈالوں گا،سی آئی اے کے سابق چیف کے انکشافات

  • یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    درخواست گزار محمد ناصر اور غلام حسین نے ڈاکٹر محسن کی تعیناتی بطور پروفیسر شعبہ ٹیکسٹائل اور تقرری بطور کیمپس کوآرڈینیٹر کو غیر قانونی ہونے کی بنا پر پہلے موجودہ وائس چانسلر شاہد منیر کو درخواست گزاری کہ ڈاکٹر محسن کی مذکورہ تعیناتی و تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے لیکن وائس چانسلر نے موجودہ رجسٹرار (آصف) کی غلط قانونی تشریح پر اس معاملہ میں کوئی کاروائی نہ کی جس پر درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو اپیل کر دی جس پر گورنر پنجاب نے انصاف کا ابتدائی تقاضہ پورا کرتے ہوئے تمام فریقین کو مورخہ 2025-10-14 کو ہیئرنگ کیلئے اپنے دفتر میں طلب کر لیا جس میں رجسٹرار نے یہ اقرار کیا کہ ڈاکٹر محسن کی تعیناتی و تقرری میں قانونی پراسس مکمل نہیں کیا گیا

    علاوہ ازیں دورانِ ہیئرنگ درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو باآور کرایا کہ جامعہ مذکورہ میں جملہ غیر قانونی و جعلی بھرتیوں کا ذمہ دار براہِ راست موجودہ رجسٹرار (آصف) ہے کیونکہ رجسٹرار سلیکشن بورڈ کا سیکرٹری ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ بورڈ کے سامنے تمام درست ریکارڈ پیش کرے اور قانون کی درست وضاحت کرے تاکہ بورڈ میرٹ پر تعیناتی کر سکے لیکن رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے سلیکشن بورڈ اور وائس چانسلر سے غلط ریکارڈ پیش کر کے بھرتیاں کروا رہا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رجسٹرار (آصف) نے خود یونیورسٹی میں اپنی نوکوری جعلی ایکسپرینس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے حاصل کی ہے جو کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے یعنی ایک جعلی بھرتی یافتہ آگے خود جعلی بھرتیاں کیے جا رہا ہے جس کے تسلسل میں رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ نمبر 380 کا ایجنڈا جاری کیے بغیر ڈاکٹر محسن کو اپنی ماہرانہ بد عنوانی کیلئے بطورِ پروفیسر بھرتی کروا دیا اس کے علاوہ ڈاکٹر محسن کا انٹرویو لینے والے جو ماہرین رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ منٹس میں ظاہر کیے ہیں وہ بھی ڈاکٹر کے خاص تعلق دار ہیں جو ڈاکٹر محسن کے ساتھ مل کر کئی ریسرچ پیپرز بھی بین الاقوامی سطح پر لکھ چکے ہیں اس حوالہ سے تو رجسٹرار نے حرام کھانے کیلئے شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے اس کے بعد بات یہاں تک نہیں رکی رجسٹرار نے ڈاکٹر محسن پر اپنی مزید مہربانی کرتے ہوئے اسے غیر قانونی طور پر سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بغیر ڈاکٹر محسن کو فیصل آباد کیمپس یو ای ٹی کا کوآرڈینیٹر بھی لگوا دیا۔

    درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو بتایا کہ یہ تمام لاقانونیت رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے کی ہے جس پر گورنر پنجاب نے وہیں پر موجود رجسٹرار (آصف) سے بھی استفسار کیا لیکن وہ اپنی صفائی پیش نہ کر سکا جس پر گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے لہٰذا فیصلہ بالکل میرٹ پر ہو گا اور گورنر صاحب نے درخواست گزاروں کو مزید یقین دہانی کرائی کہ اس کیس میں کسی کی مداخلت بھی قبول نہیں کی جائے گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور غیر قانونی، آؤٹ آف میرٹ اور جعلی بھرتیوں کو بھی منسوخ کیا جائے گا۔

  • آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج،گرفتار

    آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج،گرفتار

    بھاٹی گیٹ پولیس اہلکار کا آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد کا معاملہ ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا واقعہ کا نوٹس، مقدمہ درج کر لیا گیا

    مقدمہ واقعہ میں ملوث اہلکار ظہیر کے خلاف درج کیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس پی سٹی کو واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز نے متعلقہ اہلکار کی فوری معطلی کا بھی حکم دیا اور کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں،تھانہ اہلکاروں کی قانون شکنی پر ایس ایچ او کی بھی جواب طلبی ہو گی،لاہور پولیس میں احتساب کا سخت نظام موجود ہے، اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں،

    درج مقدمے میں مدعی کی جانب سے کہا گیا کہ میں اوور سیز پاکستانی ہوں اور آسٹریلین نیشنلٹی ہولڈر ہوں مورخہ 24.10.2025 بوقت 03:00 بجے صبح میں بھائی گیٹ سے گزر رہا تھا جوس پینے کے لیے فار میسی نزد تھانہ ٹبی سٹی رکا اسی دوران تین کس کانسٹیبلان بسواری موٹر سائیکل میری پاس آکر رکے اور مجھ سے بد تمیزی شروع کر دی اور میرے پوچھنے پر انھوں نے کہا ہم نے آپ کو روکا تھا آپ رکے کیوں نہیں اس کے بعد ایک کانسٹیبل نے مکوں اور لاتوں سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا جس کا نام بعد میں ظہیر اقبال معلوم ہوا یہ مجھ پر تشدد کرتا رہا اور مجھ سے میری گاڑی کی چابی اور موبائل فون بھی چھین لیا اس کے بعد باقی نامعلوم کا نسٹیبلان مجھے دھکے دیکر اور گھسیٹ کر اغواء کر کے تھانہ بھائی گیٹ لے گئے وہاں پر انھوں نے مجھے ایک جگہ زبر دستی بٹھا دیا اور کہا کہ یہاں سے ہلنا نہیں ورنہ گولی مار دینگے۔ کانسٹیبل ظہیر اقبال میری گاڑی ڈرائیو کر کے تھانہ بھائی گیٹ لے آیا میں نے پولیس والوں کو کہا کہ میرا موبائل فون بہت مہنگا ہے یہ مجھے واپس کر دو جس پر تھانہ میں موجود سلیم ASI نے الزام علیہان سے موبائل فون واپس کروادیا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو اطلاع دی جس پر میری بھانجی ماریہ عاصم اور اس کا شوہر عمر تھانہ بھائی گیٹ آئے انھوں نے میری حالت بچشم خود دیکھی اور انھوں نے میری وہاں سے جان بخشی کروائی میں نے گاڑی میں جاکر دیکھا میرے 3 ہزار آسٹریلین ڈالر غائب تھے جو ظہیر اقبال کا ٹیبل نے چوری کر لیے اس کے بعد ہم نے 15 پر کال کی جس پر تھانہ سٹی کی پولیس آئی ان کو میں نے سارا وقوعہ بتایا وہ ہمیں تھانہ ٹبی سٹی کے اندر لے گئے انھوں نے کہا کہ آپ طبی معائنہ کروا کر لے آئیں۔ جناب عالی میں نے اپنا طبی معائنہ MLC نمبر 345/25 میاں منشی ہسپتال سے کر والیا ہے لہذا الزام علیہان کے خلاف مجھے مضروب کرنے، اغواء کرنے ، میرے ڈالر چوری کرنے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور پولیس آرڈر کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے اور میری 3 ہزار آسٹریلین ڈالر مجھے واپس دلوائے جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں