Baaghi TV

Category: لاہور

  • ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور ارکان قومی اسمبلی کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ن لیگ کے ایم این ایز، ایم پی ایز، ورکرز اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں۔نواز شریف نے پاکستان اور بیرون ملک مقیم پارٹی اراکین اور کارکنوں کو بھی اہم ہدایت کی ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاست انتظار کر سکتی ہے، اس وقت ہماری اولین ترجیح مشکلات میں گھرے ہمارے بہن بھائی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی تکالیف کے ازالے کیلئے ہمیں ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے استفسار کیا ہے کہ میرے حق میں اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟ لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہر بات پر سوموٹو لینے والوں کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ میرے حق میں جج ارشد ملک، جسٹس شوکت صدیقی کے بعد اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ میرا اور مریم نواز کا عدالتی فیصلوں کے ذریعے سیاسی قتل کیا گیا، میرے ساتھ ناانصافی ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ پوچھتا ہوں مجھے اور مریم نواز کو کون انصاف فراہم کرے گا؟ ہے کوئی میرے اور مریم نواز کے کیس پر سوموٹو لینے والا؟

    نواز شریف کا مذید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بہترین کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی سابقہ حکومت ہے۔

  • شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر پولیس خدمت مرکز کی سہولیات فراہم

    شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر پولیس خدمت مرکز کی سہولیات فراہم

    شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر پولیس خدمت مرکز کی سہولیات فراہم

    سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا ہے کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ،جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی پولیسنگ کے تحت پولیس خدمت مراکز کے ذریعے شہریوں کو کریکٹر و ویریفیکیشن سرٹیفکیٹس،ایف آئی آرز،گمشدگی رپورٹس،کرایہ داری اندراج اور ڈرائیونگ لائسنسنگ سمیت 14 مختلف سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کر رہی ہے۔شہریوں، کاروباری طبقے اور وکلا برادری کو پولیس سے متعلقہ جدید آن لائن سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،لاہور ہائی کورٹ سمیت شہر کے آٹھ مختلف مقامات پر یہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ دو ای پولیس خدمت مراکز اور ایک موبائل وین پولیس خدمت مرکز کی سہولت بھی شہریوں کی سہولت کے لئے موجود ہے۔

    سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے کہا ہے کہ رواں سال 02 لاکھ 48 ہزار 500 سے زائد شہریوں نے پولیس خدمت مراکز سے استفادہ کیا۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق رواں سال 23623 کریکٹر،29612 پولیس ویریفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے۔بیرون ممالک سے 1201،ایمبیسی سے 28،دیگر اضلاع سے 2796 سے زائد شہریوں نے سرٹیفکیٹ بنوائیں۔پولیس خدمت مراکز سے 29612 شہریوں کی جنرل پولیس ویریفیکشن کی گئی۔شہریوں نے 4742 نئے ڈرائیونگ لائسنس،36346 پرانے لائسنس کی تجدید،1166 ڈپلیکیٹ بنوائے۔شہریوں نے 52800 نئے لرنگ ڈرائیونگ لائسنس بنوائے،60464 کی تجدید کی۔اسی طرح 2751 نئے انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس جاری،1336کی تجدید کی گئی۔دستاویزات کی 1682 گمشدگی رپورٹس درج،269کرایہ داروں،288 نجی ملازمین کی رجسٹریشن کی گئی۔شہریوں نے 4423 ایف آئی آرز کی فوٹو کاپی حاصل کیں، 187 کرائم رپورٹ درج کروائیں۔سربراہ لاہور پولیس نے پولیس خدمت مراکز میں تعینات افسران اور اہلکاروں کو پولیس خدمات کے لئے رجوع کرنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی ہدایت کی ہے۔

    مجھے پنجاب پولیو سے پاک چاہیے،جس ضلع میں کیس آیا افسران کیخلاف ایکشن ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ذمہ دار حکومت،بابر بن عطا کو جیل کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ شیری رحمان

     تھانہ لاری اڈا کی حدود میں پولیو ٹیم سے بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی

  • پاکستان بحرانوں کی زد میں ہے:مشکل وقت میں ملک وقوم کی مدد کریں:شوبزستاروں کی اپیل

    پاکستان بحرانوں کی زد میں ہے:مشکل وقت میں ملک وقوم کی مدد کریں:شوبزستاروں کی اپیل

    لاہور:پاکستان بحرانوں کی زد میں ہے:مشکل وقت میں ملک وقوم کی مدد کریں ، قوم سے یہ اپیل شوبز کے بڑے ناموں نے کی ہے اور اس موقع پر کہا ہے کہ ہم ایک قومی بحران سے دوچار ہیں ۔ اس سال مون سون کی بارشیں غیرمعمولی طور پر مسلسل ہوئیں، جس کے نتیجے میں پورے پاکستان میں سیلاب آ گئے۔ تنظیمیں، سرکاری اور غیر سرکاری، ہر ممکن حد تک رسائی اور مدد کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ صورتحال کی عجلت کو دیکھتے ہوئے ، مشہور شخصیات نے اپنے پیروکاروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے عمل کرنے کی ضرورت کو زبانی بیان کرنا شروع کردیا ہے۔

    سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 937 تک پہنچ گئی ہے اور اب بھی بڑھ رہی ہے، حکومت پاکستان نے مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلابوں کو "مہاکاوی تناسب کا موسمیاتی انسانی بحران” قرار دیا ہے۔ 30 ملین لوگوں کو پناہ سے محروم چھوڑ کر سیلاب نے زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

    مشہور شخصیات اپنے اثر و رسوخ کو اچھے اور حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ گلوکار اور اداکار فرحان سعید نے اپنے پیروکاروں کو "خیرات کرنے” پر زور دیا اور ضرورت کے اس وقت میں "ہمارے لوگوں” کی مدد کرنے کا پیغام پھیلا دیا۔

    اداکار احسن خان نے سیلاب سے متاثرہ بچے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ اس نے مرنے والوں کی تعداد اور نقصان کے اعدادوشمار شیئر کیے اور کہا، "آئیے مل کر ان کی مدد کریں!”

    اداکارہ نیلم منیر نے ان رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو "بے گھر، بے گھر، تباہ حال” سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے اور کہا کہ "وہ اللہ تعالی کے سامنے اپنے آپ کو کیسے انصاف دیں گے؟ ”

    عمار خان نے صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالی اور اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ "جو بھی ممکن ہو مدد کریں”۔ اگر کچھ نہیں تو، اس نے ان سے کہا کہ وہ ان کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں، کم از کم۔

     

    کرکٹر شاہین آفریدی نے تمام شہریوں سے زیادہ سے زیادہ مدد اور عطیات دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم بحیثیت قوم اس سے باہر نکلیں۔

    اداکارہ عائشہ عمر نے ایک ویڈیو دوبارہ پوسٹ کی جس میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی عکاسی کی گئی اور اسے تکلیف دہ قرار دیا۔ اس نے netizens سے متحد ہونے کی اپیل کی، "ہمارے پاس صرف ایک دوسرے ہیں۔ ہمیں اپنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی مدد کے لیے اپنے وسائل میں سب کچھ کرنا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے۔ یہ صرف شروعات ہے۔ یہی وقت ہے. HELP HELP HELP جتنی آپ کر سکتے ہیں مدد کریں۔”

    اداکار فیروز خان نے انسٹاگرام الگورتھم کو چلانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچانے کے لیے ایک چال استعمال کی۔ اس نے اپنے لوگوں سے عطیہ کرنے کو کہا، چھوٹا شروع کریں لیکن شروع کریں۔

    اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ یہاں ان تنظیموں کی فہرست ہے جو آفت سے متاثر ہونے والوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ مدد کریں اور اپنا حصہ ڈالیں۔

  • پاک فوج کا ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن

    پاک فوج کا ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن

    پاک فوج کا ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن

    پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ڈیرہ غازی خان کے اضلاع کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے اسوقت تک پاک فوج کی ٹیموں نے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہوئے متعدد افراد بشمول خواتین اور بچوں کو ان کے سامان سمیت بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ڈی جی خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر پچھلے ایک مہینے سے پاک فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ڈی جی خان میں متاثرہ رقبہ – 246345 ایکڑ میں پاک فوج کی جانب سےہیلی ریلیف آپریشن بھی جاری ہےاسوقت تک فوج کی ٹیموں نے پھنسے ہوئے5683 لوگوں اب تک بچا لیا ہے جن میں خواتین، بچے اور ان کے املاک کو سیلاب زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ریلیف کیمپوں میں مقیم لوگوں کو تیار کھانا، خشک راشن 14933 پیکٹس اور رہنے کے لئے 9298 ٹینٹ تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور متاثرین میں تیار کھانے کی تقسیم کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے۔ڈی جی خان میں فیلڈ ہسپتال قائم ہے۔ ڈی جی خان کے میڈیکل کیمپوں میں اب تک 1043مردوں، 542 عورتوں اور 791 بچوں کا علاج معالجہ کیا گیا ہے اور آرمی میڈیکل کور کے قائم کردہ میڈیکل کیمپوں میں صحت کی دیکھ بھال کی تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

    راجن پور میں متاثرہ رقبہ – 701064 ایکڑ میں پاک فوج کی جانب سےہیلی ریلیف آپریشن بھی جاری ہے فوج کی ٹیموں نے پھنسے ہوئے40337 لوگوں اب تک بچا لیا ہے جن میں خواتین، بچے اور ان کے زندہ املاک کو سیلاب زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ریلیف کیمپوں میں مقیم لوگوں کو تیار کھانا، خشک راشن کے 24680 پیکٹس اور رہنے کے لئے 1550 ٹینٹ تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور متاثرین میں تیار کھانے کی تقسیم کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے۔راجن پور کےمیڈیکل کیمپوں میں اب تک 421مردوں، 103 عورتوں اور 449 بچوں کا علاج معالجہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی فضائیہ سیلاب سے نمٹنے اور بچاؤ کی کوششوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہیں۔

    میانوالی سے سکھر تک دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے، دریائے سندھ کے قریب رہنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم جاری کردیا گیا ہے، میانوالی،لیہ،تونسہ،راجن پور،روجھان،رحیم یار خان، خان پور کو بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، پورے ضلع رحیم یار خان کو سیلاب سے متاثر ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، ضلع میں صادق آباد،رحیم یار خان،خان پور،لیاقت پور،اور دیگر مضافاتی علاقے شامل ہیں

     بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    ہ وادی کمراٹ میں 18 سیاح پھنسے ہوئے ہیں

     شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بدترین مخالفین کے بھی ساتھ کام کرنےکو تیار ہیں

  • شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    لاہور: معروف فنکار اور ڈراما نگار انور مقصود کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت عوام کی مدد نہیں کر رہی تو فلم کو کیا کرے گی۔اب تو بس ایک ہی حل ہےکہ اگرشیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید حکومت فلم انڈسٹری کونئی زندگی مل سکے ورنہ حالات کچھ بہتر نظرنہیں آرہے

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انورمقصود نے فلم انڈسٹری کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے ہمارے یہاں نہیں ہے۔انورمقصود نے کہا کہ ہمارے یہاں عوام کو نہیں ہے تو فلموں کو کیا کریں گے، وزیر کے لئے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی ہیروین کے ساتھ فلموں میں کام کریں۔ اگر شیخ رشید ، ریما اور شہباز شریف اور میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید پاکستانی فلم انڈسٹری کے حالات بہتر ہو جائیں۔

     

     

    لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    پاکستان کی موجودہ صورت حال پر خوبصؤرت تبصرہ کرتے ہوئے کراچی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ بعض شہراجڑنے کے لئے بنائے جاتے ہیں کراچی ان میں سے ایک ہے۔ لوگ کراچی سے نکل کر لاہور اور اسلام آباد جا رہے ہیں، کچھ دن بعد لوگ لاہور اور اسلام آباد سے بھی نکل کر کہیں اور جائیں گے ۔

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انورمقصود شہروں میں ویرانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ک ڈیفنس کی خراب صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ڈیفنس کی حالت تو 1947 سے بہت اچھی ہے لیکن ہاں ڈیفنس سوسائٹی کی حالت خراب ہے۔ وہ خیابان بخاری میں رہتے ہیں جہاں ہفتوں تک ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ تک پانی ان کے گھر کے باہر کھڑا رہا۔

    عمران خان کے نو حلقوں سے بیک وقت انتخابات لڑنے کے حوالے سے انور مقصود نے کہا کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہیں گیارہ سے بیک وقت لڑسکتے ہیں۔ مگر غلطی سے عمران خان ہاکی کے اسٹیڈیم میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے لوگوں کو کبھی نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو عمران کی طرف جا رہے ہیں وہ کسی اور کے خلاف اس کے طرف جا رہے ہیں۔

  • تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب

    تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی ملاقات ہوئی ہے

    سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی محمد خان بھٹی بھی موجود تھے،ملاقات میں  باہمی دلچسپی کے امور اورسیلاب سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر گفتگو کی گئی، امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، راولپنڈی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے ممکنہ وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے متاثرین کے لئے مالی امداد کی اپیل کیلئے کہا ہے۔  متاثرین سیلاب کی مدد کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے- متاثرین کی پکار پر سب کو یکجان ہو کر ان کا سہارا بننا ہوگا۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور سندھ میں تباہی پر ہر آنکھ اشکباراوردل دکھی ہے انسانی المیہ کو روکنے کیلئے سب کو ملکر مشترکہ اور مربوط انداز میں بحالی کا کام کرنا ہے۔ راولپنڈی میں مدراینڈ چائلڈ ہسپتال کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے گا۔راولپنڈی میں گرلز ڈگری کالج پراجیکٹ کو جلد مکمل کریں گے۔ نالہ لئی ایکسپریس وے پراجیکٹ سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔ راولپنڈی کے عوام کے لئے فلاحی منصوبوں کی ذاتی طورپر مانیٹرنگ کروں گا۔

    اس موقع پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اجتماعی کاوش ضروری ہیں۔ شمصیبت زدگان کی مدد ہر صاحب استطاعت کیلئے فرض ہے۔ ہنگامی حالات میں حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں

     بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    ہ وادی کمراٹ میں 18 سیاح پھنسے ہوئے ہیں

     شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بدترین مخالفین کے بھی ساتھ کام کرنےکو تیار ہیں

  • کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی بھارتی کپتان روہت شرما سے ملاقات

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی بھارتی کپتان روہت شرما سے ملاقات

    دبئی :ایشیا کپ کے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان اور بھارت کپتانوں کی خوشگوار موڈ میں گپ شپ ہوئی۔پاکستان کرکٹ کے ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور بھارتی کپتان روہت شرما کے درمیان تبادلہ خیال گزشتہ شب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اکیڈمی گراؤنڈ میں ہوا تھا۔

    ملاقات اس وقت ہوئی جب بھارتی ٹیم ٹریننگ سیشن ختم کر کے واپس جا رہی تھی اور پاکستان کا ٹریننگ سیشن شروع ہونے والا تھا۔

    پاکستان اور بھارت کے دیگر کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف کے ارکان کی بھی ملاقات ہوئی تھی۔اس سے قبل ویرات کوہلی اور بابر اعظم بھی ایک دوسرے سے ملے تھے، ویرات کوہلی اور دیگر کھلاڑیوں نے شاہین شاہ آفریدی سے بھی خیریت دریافت کی تھی۔

    کپتان بابر اعظم نے روہت شرما سے ان کی فیملی کے حوالے سے پوچھا، جس پر روہت شرما نے بتایا کہ وہ چار پانچ روز تک آئیں گے۔روہت شرما نے بابر اعظم سے ان کی فیملی کا پوچھا، بابر اعظم ابھی نہیں ہے کہہ کر مسکرا دیے۔

    دوسری طرف کرکٹ شائقین پاک بھارت میچ کوبڑی اہمیت دے رہے ہیں، ساتھ ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم اوربھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما کی قیادت کے حوالے سے مختلف تجزیئے پیش کیے جارہے ہین ،

    28 اگست کو پاکستان اور بھارت اے سی سی ٹی 20 ایشیا کپ میں آمنے سامنے آرہے ہیں، پاکستان کی قیادت بابر اعظم جب کہ بھارت کے کپتان روہت شرما ہیں۔بابر اعظم کی قیادت میں گزشتہ برس پاکستان نے بھارت کو 10 وکٹوں سے دھول چٹوائی تھی لیکن اس بار بھارتی سورماؤں کی قیادت روہت شرما کے ہاتھ میں ہے۔

    کرکٹ کے سب سے چھوٹے فارمیٹ میں روہت شرما نے 2017 سے اب تک 35 میچوں میں بھارتی ٹیم کی قیادت کی ہے۔بابر اعظم نے ٹی ٹوینٹی کرکٹ میں 2019 سے اب تک 41 میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی ہے۔

    کتنے جیتے کتنے ہارے

    ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن اس سے ناصرف ٹیم بلکہ اس کے مداحوں کا بھی مورال منسلک ہوتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے روہت شرما کی قیادت میں کھیلے گئے 35 ٹی 20 میچز میں سے 29 جیتے اور صرف 6 ہارے ہیں۔اس طرح روہت شرما بھارتی ٹیم کو ایم ایس دھونی (41) اور وراٹ کوہلی (30) کے بعد ٹی 20 کرکٹ میں سب سے زیادہ جیت دلانے والے کپتان ہیں۔

    بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان نے 26 میچ جیتے جب کہ 10 ہارے اور پانچ میچ بے نتیجہ رہے۔اس وقت سرفراز احمد (29) کے بعد اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ میچوں میں شاہینوں کو جیت دلانے والے کپتان ہیں۔

    بیٹنگ میں کون زیادہ دم دار

    بحیثیت کپتان دونوں کھلاڑیوں کی بیٹنگ کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو بابر اعظم بھارتی مدمقابل سے کہیں آگے نظر آتے ہیں۔بابر اعظم نے 41 میچوں کی 36 اننگز میں 42.30 کی اوسط سے 1396 رنز بنائے ہیں۔بحیثیت کپتان روہت شرما نے 35 اننگز میں 36.28 کی اوسط سے 1161 رنز بنائے ہیں۔

    سنچریاں اور ففٹیز

    41 میچز میں بابر اعظم نے ایک سنچری اور 16 نصف سنچریاں بنائی ہیں ۔35 میچز میں روہت شرما نے 2 سنچریاں اور نصف سنچریاں بنائی ہیں۔

    کتنے چھکے اور کتنے چوکے

    اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے 151 چوکے اور 24 چھکے لگائے ہیں۔بحیثیت کپتان روہت شرما ان کے بلے سے 100 چوکے اور 63 چھکے نکلے ہیں۔

  • لاہورایئرپورٹ کےاطراف 5کلو میٹرعلاقوں میں دفعہ 144 نافذ:صدقے کا گوشت پھینکنے پر پابندی

    لاہورایئرپورٹ کےاطراف 5کلو میٹرعلاقوں میں دفعہ 144 نافذ:صدقے کا گوشت پھینکنے پر پابندی

    لاہور:لاہور ایئرپورٹ کے اطراف 5 کلو میٹر علاقوں میں دفعہ 144 نافذ:صدقے کا گوشت پھینکنے پر پابندی ،اطلاعات کے مطابق لاہور ایئر پورٹ کے اردگرد کچھ مسائل کی وجہ سے محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور ایئرپورٹ کے اطراف میں 5 کلومیٹر کے علاقے میں دفعہ 144کا نوٹفکیشن جاری کردیا۔

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور توسیعی منصوبہ کی تفصیلات جاری

    محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے یہ فیصلہ اس تناظر میں کیا گیا ہے کہ مسافر طیاروں سے پرندوں کے ٹکرانے کے واقعات کے پیش نظر یوم دفاع سے قبل لاہور ایئرپورٹ کے اطراف میں پانچ کلو میٹر کے علاقے میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پابندی کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے،نوٹیفکیشن میں تفصیلات کے ساتھ جن امور پر پابندی ہے ان کی وضاحت کی گئی ہے، اطلاعات ہیں کہ اس نوٹیفکیشن کے تحت ایئرپورٹ کے اطراف میں 10ستمبر تک دفعہ144نافذ رہے گی۔

    لاہور ایئرپورٹ پر غیر ملکی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ ضلعی انتظامیہ لاہور کی سفارش پرمحکمہ داخلہ پنجاب نےلاہورایئرپورٹ کےاطراف 5کلومیٹرتک دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔نوٹفکیشن کےمطابق ائیرپورٹ کے اطراف کے علاقوں میں کبوتر اڑانے، آتشبازی اور لیزرلائٹس کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

    لاہورایئرپورٹ پرٹیک آف کے دوران غیرملکی طیارے کے ٹائر پھٹ‌ گئے

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں ڈرون کیمرے اڑانے اور صدقے کا گوشت پھینکنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائےگی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام نے مانیٹرنگ شروع کردی ہے

  • شعیب ملک کا کے پی ایل کی اپنی انعامی رقم سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان

    شعیب ملک کا کے پی ایل کی اپنی انعامی رقم سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنے کا اعلان

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں میرپور خاص رائلز کے کپتان شعیب ملک نے اپنی انعامی رقم سیلاب سے متاثرہ افراد کو عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی :کے پی ایل میں بہترین کارکردگی کے باعث شعیب ملک مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے جس کے بعد انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ وہ اس کی رقم سیلاب متاثرین کو دیں گے۔


    شعیب ملک نے لکھا کہ میں مین آف دی ٹورنامنٹ جیتنے اور مزید ایک اور ٹرافی اٹھانے پر خوش ہوں، میں یہ ایوارڈ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے نام کرنا چاہتا ہوں، ہمیں ہر چیز سے بالا تر ہوکر بحیثیت قوم اکٹھے ہونا چاہیے میں اپنی جیتی ہوئی انعامی رقم سیلاب متاثرین کو عطیہ کروں گا-


    قومی کرکٹر نے اپنی ٹوئٹ میں لگاتار دوسری بار اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے انتظامیہ، تمام گراؤنڈ اسٹاف، میڈیا پرسنل، مبصرین اور فرنچائزز کا شکریہ ادا کیا اوراس سب کیلئے کی گئی کوششوں پر راشد لطیف کو بھی خراج تحسین پیش کیا-

    واضح رہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے سیزن ٹو میں میرپور رائلز بغیر مقابلے کے فاتح قرار پائی، میرپور رائلز اور باغ اسٹالیئنز کا فائنل بارش کی نذر ہوگیا جس کے بعد میرپور رائلز کو لیگ مرحلے میں ٹیبل پر زیادہ پوائنٹس کی بنیاد پر چیمپئن قرار دے دیا گیا۔


    مجموعی طور پر چھ میچ کھیل کر میر پور رائلز آٹھ پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست تھی۔ جب کہ باغ اسٹالینز سات پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔

    قبل ازیں خراب موسم کی وجہ سے ٹورنامنٹ کے پلے آف مرحلے کے چاروں میچ مکمل طور پر منسوخ ہو گئے تھے۔

  • سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی

    سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں سیلاب سے تباہی مچی ہوئی ہے

    سیلابی پانی میں شہری محصور ہو چکے، گھر تباہ ہو چکے، مویشی مر چکے، گھروں کا سامان بہہ گیا، سیلابی علاقوں میں لوگ کھانے پینے کو ترس گئے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،حکومت ، پاک فوج، رفاہی ادارے سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک یہ مدد کچھ بھی نہیں، انسانی زندگیوں کو محفوظ کرنا ہے، انکے املاک کو بچانا ہے

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے آپٹیکل فائبر کیبل کو پہنچنے والے نقصان اور بجلی کی بندش سے چترال، اپر دیر، دونبالا، سوات، مدین، لال قلعہ ثمربغدیر، ٹانک اور ڈی آئی خان میں رابطہ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سروسز کی مکمل بحالی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

    ہرنائی، کیچ کے مقام پر پل ٹوٹنے سے کوئٹہ زیارت روڈ بند ہو گیا ہے، ہرنائی ٹو کوئٹہ شاہراہ مانگی اور زردآلو پل ٹوٹنے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چیئر لفٹ پر پہاڑی تودا گرنے سے راستہ بند ہوا،ہرنائی پنچاب شاہراہ بھی سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہے

    میانوالی سے سکھر تک دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے، دریائے سندھ کے قریب رہنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم جاری کردیا گیا ہے، میانوالی،لیہ،تونسہ،راجن پور،روجھان،رحیم یار خان، خان پور کو بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، پورے ضلع رحیم یار خان کو سیلاب سے متاثر ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، ضلع میں صادق آباد،رحیم یار خان،خان پور،لیاقت پور،اور دیگر مضافاتی علاقے شامل ہیں

    دوسری جانب نوشہرہ ،پولیس لائن کے قریب پانی مین جی ٹی روڈ تک پہنچ گیا پولیس لائن کے قریب آبادی اور ہوٹل زیر آب آگئے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے کابل میں پانی کے سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مختلف علاقوں سے دریائے کابل کے کنارے متاثرین کی نقل مکانی جاری ہے

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی نیشنل پریس کلب میں پاکستان سویٹ ہوم اور پی ایف یو جے کے مشترکہ فلڈ ریلیف کیمپ میں آمد۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ بھی چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ تھے۔ امدادی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورت حال کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسطرح کے سیلاب اور بارشوں سے کوئی بھی حکومت اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ساری قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے چاروں صوبائی حکومتوں کی کوششوں کو سراہا۔ انکا کہنا تھا کہ فوری امدادی کاموں کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی اصل مرحلہ ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے امدادی کیمپ میں مدعو کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کو اس وقت اسطرح کی مزید کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امداد کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کے حضور جُھک کر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ پاک ہماری غلطی کوتاہیاں معاف فرمائے اور متاثرین کی مشکلات میں کمی فرمائے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سرگرمیوں شروع کر دی گئی ہے ،ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سبی اوردیگر اضلاع میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد راشن پہنچا دیا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی مسلسل جاری رہے گی،مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے کوئٹہ میں میاں غنڈی کا دورہ کیا مشیر داخلہ بلوچستان نے میاں غنڈی کے متاثرین سیلاب سے ملاقات کی اور کہا کہ سڑکوں اور شاہراوں کو بند کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،پورا پاکستان سیلاب سے متاثر ہے،یہ کسی ایک علاقے کی بات نہیں،مکینوں کی بحالی کےلیے جلد ازجلد اقدامات کیے جائیں گے

    30 جون 2022 سے 26 اگست 2022 کے درمیان سیلاب اور بارشوں کے باعث گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں 14 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوئے ہیں گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں مختلف قدرتی آفات سے 4 ارب روپے سے زائد مالیت کی عوامی املاک تباہ ہوئی ہیں اس میں 383 مکمل طور پر تباہ شدہ گھر اور257 جزوی طور پر تباہ شدہ “پکے” گھر شامل ہیں 52 پل بھی تباہ ہوئے ہیں جس سے 360 ملین روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ان تباہ شدہ پلوں میں سے 43 کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے سرکاری تخمینے کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران گلگت بلتستان کو 7 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں نے متاثرین کی بحالی کے لئے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں ہیں اور اب تک 62 ونٹرائزذ ٹینٹس، 769 ٹینٹس، 666 راشن بیگز، 326 کمبل، 162 رضائیاں، 422 فوم میٹریس، 419 سرانے، 690 پلاسٹک میٹس، 360 گیبنز، 126 ترپال، 50 سینڈ بیگز، 59 سلیپنگ بیگز، 1 جنریٹر(3.5 کلوواٹ)، 1 واٹر ٹینک، 4 پورٹیبل واش رومز متاثرہ خاندانوں اورعلاقوں کو مہیا کردیئے گئے ہیں

    ٹھٹہ پولیس نے دريا سندھ جرار بیلے میں پھنسے مزید 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ایس ایس پی ٹھٹہ عدیل حسین چانڈیو کی ہدایات پر ٹھٹہ پولیس کی جانب سے حالیہ بارشوں میں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے، ایس ایچ او کینجھر سب انسپیکٹر بشیر احمد ملاح بمعہ اسٹاف نے رات کے وقت دریا سندھ جروار سونڈا بیلے میں پھنسے ہوئے چانگ اور ملاح قوم کے 40/50 فیملیز کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کرکے نکالا گیا تھا اس کے علاوہ ولیج انور ملاح جرار بیلے میں پھنسے ہوئے مزید 17 فیملیز جن میں 50 سے زائد بوڑھے، عورتیں، بچے شامل ہیں جن کو سیلاب ریسکیو کرکے نکالا گیا ہے مزید ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے ایس ایس پیب ٹھٹہ نے کہا کہ پولیس عوام کی خدمت اور قانون کی عملداری کیلئے ہر وقت تیار اور پر عزم ہے، ٹھٹہ پولیس کہ افسران اور اہلکار متاثرہ علاقوں میں موقع پر موجود ہیں ، اس کے علاوہ کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے،

    صدرپیپلزپارٹی خیبرپختونخوا نجم الدین کا کہنا ہے کہ وادی کمراٹ دیر میں 18سیاح پھنسے ہوئے ہیں،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے سیاحوں کو مقامی لوگوں نے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو مقامی لوگ نہیں نکال پا رہے وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی نکالنا ممکن ہے،ہم صوبائی حکومت اور اداروں سے متعدد بار ہیلی کاپٹر کی درخواست کر چکے وفاقی یا صوبائی حکومت جلد از جلد سیاحوں کو نکالے ورنہ کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بارشوں او رسیلاب سے ملک بھر میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں ہم سب کو ایک ہو کر متاثرین سیلاب کی زندگیاں بچانے پر توجہ دینی چاہیے سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی،سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے حکومتی ،فوجی ، ملکی اور مقامی رضاکار واہلکار سرگرم ہیں میڈیا والے سیلاب کی اپیلیں چلا رہے ہیں جو قابل تعریف ہے

    دوسری جانب وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے اعلان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ خاندانوں میں 25 ہزار روپے کی نقد رقم تقسیم کی جارہی ہے اور ضلع کوہلو کے 4904 مستحق خاندانوں میں رقم کی تقسیم کا عمل جاری ہے

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے صوبائی وزیر مال نوابزادہ منصور علی خان کی ملاقات ہوئی ہے، نوابزادہ منصور علی خان نے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے چیک دیا .وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مالی امداد کے چیک پر نوابزادہ منصور علی خان کا شکریہ ادا کیا ,وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے جذبے کو سراہا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے آگے آنا عبادت سے کم نہیں۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یقین ہے کہ قوم متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری کے کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی صاحب ثروت افراد کی دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد میں پیش پیش ہوں حکومت پنجاب متاثرین کی مدد کے لئے تمام ممکنہ وسائل مہیا کررہی ہے۔ پنجاب حکومت کی سیاسی و انتظامی ٹیم ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔جنوبی پنجاب میں غیر معمولی بارشوں و سیلاب سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ تباہ کاریوں کوالفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت اختلافات بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے۔ اصل سیاست اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے ۔

    قبل ازیں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب پولیس کے جوان الرٹ اورامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں پولیس متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہی ہیں۔آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کے حکم پر تمام سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس کی امدادی ٹیمیں متحرک ہیں، جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کی سیلابی صورتحال اور امدادی سر گرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، آئی جی پنجاب کے حکم پر دریائے سندھ میں سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، اٹک، میانوالی ، بھکر ، لیہ، مظفرگڑھ ، رحیم یار خان اور ڈی جی خان ریجن کے علاقوں میں پنجاب پولیس کی امدادی ٹیمی تعینات ہیں،پولیس کی اضافی نفری رود کوہیوں کے راستوں ،نشیبی علاقوں اور کچہ میں بھی تعینات ہیں،

    ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ریجن میں پولیس ٹیموں نے اب تک سیلابی پانی میں گھرے 13 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے پولیس ٹیموں نے 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا ہے ۔ سیلاب زدگان میں 15 ہزار سے زائد امدادی سامان کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں ۔ریجن کی تمام دریائی چوکیاں ہائی الرٹ ہیں اور کشتیوں کے ذریعے بھی گشت جاری ہے ۔پولیس دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں موجود آبادیوں کو مطلع کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔پولیس دیگر اداروں کے ہمراہ ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں پولیس اپنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر اور عمران خان کے چیف آف سٹاف سینیٹر شبلی فراز صاحب سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کہا کہ میری طرف سے عمران خان سے درخواست کریں کہ سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کریں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔سب کام چھوڑ کر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں کی دوبارہ بحالی کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، خوارک اور ادویات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصان کا ازالہ کریں گے اور مکانات دوبارہ بنا کر دیں گے۔ سیلاب سے متاثرین کی بحالی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج ولاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی امداد اور ریلیف سرگرمیوں کے لئے 6رکنی کمیٹی قائم کر دی جو مخیر حضرات سے متاثرین سیلاب کی فوری امداد و بحالی کے لئے نقد رقوم کے علاوہ راشن، خوراک، ادویات، کپڑے کی مد میں بھی عطیات وصول کرے گی اور اس حوالے سے فوری طور پر کام شروع کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے گی۔پروفیسر الفرید ظفر نے پی جی ایم آئی سے فارغ التحصیل بیرون ملک خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹرز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی طور پر آگے آئیں اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی عملی مدد کریں۔انہوں نے شہریوں اور میڈیکل کمیونٹی سے درخواست کی کہ پی جی ایم آئی کی تشکیل کردہ اس ریلیف کمیٹی کو دل کھول کر عطیات دیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے یقین دلایا کہ اس مد میں وصول ہونے والی ایک ایک پائی کو دیانتداری کے ساتھ متاثرین کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا لہذا وہ کھلے دل کے ساتھ دکھی انسانیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر محمد حنیف میاں اس ریلیف فنڈکمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ڈاکٹر محمد عرفان ملک، ڈاکٹر رضوان فاروق، ڈاکٹر عمران حیات،ڈاکٹر جہانزیب عقیل اور ڈاکٹر احمد فراز اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی اترنے کے بعد وبائی امراض،جلد و پیٹ کی بیماریاں، ملیریا، ٹائیفائیڈ پھیلنے کے امکانات ہیں جس کے کیلئے میڈیکل کمیونٹی کو ابھی سے تیار رہنا ہوگا اور متعلقہ اداروں کو بھی ان بیماریوں سے بچاؤ اور مریضوں کے بہتر علاج کیلئے ضروری انتظامات کو عملی شکل دینا ہوگی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ ان حالات میں ہم سب کو اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

    بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،