Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ : ہیڈ بلوکی روڈ پر رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم، ایک نوجوان جاں بحق، 6 افراد زخمی

    ننکانہ : ہیڈ بلوکی روڈ پر رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی میں خوفناک تصادم، ایک نوجوان جاں بحق، 6 افراد زخمی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کے علاقے ہیڈ بلوکی روڈ پر تیز رفتار رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 20 سالہ عدنان ارشد کے طور پر ہوئی ہے۔

    زخمی ہونے والوں میں 60 سالہ صغراں بی بی، 27 سالہ شاہزیب، 12 سالہ نور، 30 سالہ وقاص، 25 سالہ کلثوم اور 2 سالہ اویس شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ تیز رفتاری کو قرار دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ حادثے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا قائم ہے۔

  • ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بدانتظامی کی انتہا، میڈیکل سلپس ختم، مریض خوار، نظام مفلوج

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں بنیادی سہولت کا فقدان مریضوں کے لیے شدید اذیت کا باعث بن گیا ، ہسپتال میں میڈیکل سلپس کی عدم دستیابی کے باعث ایمرجنسی سمیت تمام شعبوں میں علاج معالجے کا عمل متاثر ہو چکا ہے، جبکہ مریضوں اور طبی عملے دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق پرچی نہ ہونے کے باعث ڈاکٹرز مریضوں کو ادویات تجویز کرنے سے قاصر ہیں جبکہ نرسنگ سٹاف کا ریکارڈ مرتب کرنا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے میں ہسپتال انتظامیہ نے "انویسٹی گیشن فارم” کو عبوری پرچی کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو نہ صرف غیر موزوں ہے بلکہ مستقبل کے ریکارڈ میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب سالانہ کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لاکھوں روپے پرنٹنگ کی مد میں مختص کیے جانے کے باوجود دو پرتوں والی عام میڈیکل سلپ تک دستیاب نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انتظامی نااہلی کی بدترین مثال ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    ایک مریض کے لواحق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”ڈاکٹر نے دوائی تو لکھ دی، لیکن پرچی ہی نہیں ملی، میڈیکل اسٹور والا کہتا ہے بغیر پرچی دوا نہیں دے گا۔ ہم کہاں جائیں؟ کیا سرکاری ہسپتال صرف نام کے لیے رہ گئے ہیں؟”

    ہسپتال عملہ بھی پریشان ہے۔ ایک نرس کا کہنا تھا کہ:”ریکارڈ مرتب نہ ہونے سے ہمیں مریض کی حالت اور سابقہ علاج کی تفصیل یاد رکھنے میں شدید دقت ہوتی ہے۔ ہر روز کام کا دُہرا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔”

    شہری و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ایسی بنیادی سہولتوں کی کمی صرف نااہلی نہیں بلکہ عوامی صحت کے ساتھ مجرمانہ کھلواڑ ہے۔کیا سرکاری اسپتالوں میں قلم اور پرچی بھی اب عیاشی بن چکے ہیں؟

  • ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بہتری کا دعویٰ، حقیقت یا رسمی کارروائی؟

    ننکانہ صاحب: ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بہتری کا دعویٰ، حقیقت یا رسمی کارروائی؟

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب میں حالیہ مہینوں کے دوران صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری کا عمل قابل تعریف ہے، تاہم کئی اہم پہلو اب بھی فوری اصلاح کے منتظر ہیں۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی قیادت میں ہسپتال کے نظم و نسق، ادویات کی دستیابی اور صفائی کے نظام میں مثبت تبدیلیاں واضح طور پر دیکھی گئی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے چارج سنبھالتے ہی پہلا دورہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ صحت عامہ ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی تعیناتی کے بعد انتظامیہ نے بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اس کے باوجود بعض اہم مسائل فوری توجہ کے طالب ہیں، جن میں ایمرجنسی وارڈ میں چاروں ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔ ہنگامی صورتحال میں مریض کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ ہو، اس کے لیے ڈیوٹی پر موجودگی محض کاغذی نہ ہو بلکہ جسمانی اور فعال موجودگی ہونی چاہیے۔

    ہر وارڈ میں میڈیکل آفیسرز کی مستقل اور متحرک تعیناتی لازمی ہے۔ مریض کے ساتھ براہ راست مشاہدہ، وقت پر ادویات اور مسلسل رابطہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ہیڈ نرس کا کردار بھی محض شیڈول سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شفٹ میں حاضری، صفائی، نرسنگ اسٹاف کا اخلاقی و پیشہ ورانہ رویہ، ادویات کی دستیابی اور مریضوں سے براہ راست فیڈبیک لینا اس منصب کی اصل روح ہے۔

    یہ امر تشویش ناک ہے کہ متعدد دوروں کے دوران ہیڈ نرس کی غیر موجودگی رپورٹ ہوئی، جسے آفس ورک کا دباؤ قرار دیا گیا۔ اس مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ ہیڈ نرس کو ہسپتال کے اندر رہائش فراہم کی جائے تاکہ وہ رات کے اوقات میں بھی وارڈز کی نگرانی کر سکیں اور ایمرجنسی صورتِ حال میں مؤثر کنٹرول برقرار رہے۔

    ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بہتری کے لیے قائم کی گئی ہیلتھ کونسل کا فعال کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ہفتہ وار سرپرائز وزٹ، مریضوں سے براہ راست رائے، وارڈز کی حالت کا جائزہ، عملے کی کارکردگی پر رپورٹنگ، اور ادویات کی فراہمی کا جائزہ کونسل کی مؤثر نگرانی کا مظہر ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ فورم محض رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

    یہ ہسپتال روزانہ سینکڑوں مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ یہاں کے ہر ملازم، ڈاکٹر، نرس اور منتظم پر فرض ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو نوکری نہیں بلکہ انسانی خدمت سمجھ کر انجام دے۔ اگر ایمانداری، احساسِ ذمے داری اور حاضری کو اپنا شعار بنایا جائے تو ننکانہ صاحب کا یہ ادارہ پنجاب کے بہترین طبی مراکز کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

  • واربرٹن: آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    واربرٹن: آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    واربرٹن(باغی ٹی وی،نامہ نگارچوہدری عبدالغفار) آر پی او اطہر اسماعیل کا تھانہ دورہ، کھلی کچہری میں شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ

    ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) شیخوپورہ اطہر اسماعیل نے ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کے ہمراہ تھانہ واربرٹن کا دورہ کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ آر پی او نے موقع پر موجود شہریوں کی شکایات اور درخواستیں سنیں اور فوری احکامات جاری کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔

    دورے کے دوران آر پی او نے تھانے کا مکمل وزٹ کیا، ریکارڈ رجسٹرز کی جانچ پڑتال کی اور اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ ان کی واربرٹن آمد پر پولیس افسران اور مقامی افراد نے ان کا استقبال پھولوں سے کیا۔ آر پی او نے صحافیوں اور تاجر برادری سے بھی ملاقاتیں کیں اور پولیس کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    آر پی او اطہر اسماعیل کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق پولیس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال لایا جا رہا ہے تاکہ شکایات اور مقدمات کی مؤثر نگرانی ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپلین مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ہر درخواست اور مقدمے پر پیش رفت کا ریکارڈ موجود ہے، اور تمام ڈی پی اوز شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے چوبیس گھنٹے سرگرم عمل ہیں۔

    اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن حنا نیک بخت سمیت دیگر افسران بھی ہمراہ موجود تھے۔ آر پی او نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ عوامی شکایات کا فوری اور شفاف ازالہ ممکن ہو۔

  • ننکانہ صاحب: سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی شادی کا اندراج

    ننکانہ صاحب: سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی شادی کا اندراج

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز) سکھ برادری کے لیے ایک تاریخی پیش رفت میں، ضلع ننکانہ صاحب میں سکھ میرج ایکٹ کے تحت پہلی مرتبہ ایک سکھ جوڑے کی شادی کا باقاعدہ اندراج کیا گیا ہے۔ بلوندر سنگھ اور دل جیت کور سنگھ وہ پہلے خوش نصیب جوڑے ہیں جن کی شادی کی رجسٹریشن "انند کارج” رسم کے تحت مقامی رجسٹرار کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔

    یہ اقدام پنجاب حکومت کے محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد ممکن ہوا، جس کے تحت ضلع ننکانہ صاحب میں پہلی بار انند کارج رجسٹریشن کے لیے رجسٹرار کو باقاعدہ طور پر نامزد کیا گیا۔

    سکھ کمیونٹی نے اس پیش رفت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکھ میرج ایکٹ 2017 جسے پنجاب انند کارج میرج ایکٹ بھی کہا جاتا ہے کے عملی نفاذ سے نہ صرف ان کی مذہبی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ ان کے آئینی حقوق کو بھی مضبوط بنیاد فراہم ہوئی ہے۔

    قبل ازیں سکھ برادری کو اپنی شادیوں کے اندراج کے دوران قانونی پیچیدگیوں کا سامنا رہتا تھا، تاہم اب اس اقدام سے سکھ برادری کو اپنی رسوم کے مطابق شادی رجسٹر کروانے میں سہولت میسر آ گئی ہے۔

    سکھ رہنماؤں نے حکومت پنجاب اور محکمہ بلدیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح سکھ میرج ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو خوب سراہا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ ننکانہ صاحب سکھ مت کا نہایت مقدس مقام ہے، اور یہاں اس قانون پر عملدرآمد عالمی سکھ برادری کے لیے ایک مثبت اور واضح پیغام ہے۔

  • ننکانہ: وقف املاک بورڈ کا بڑا آپریشن، 55 غیر قانونی دکانیں سیل

    ننکانہ: وقف املاک بورڈ کا بڑا آپریشن، 55 غیر قانونی دکانیں سیل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)متروکہ وقف املاک بورڈ نے ننکانہ صاحب میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 55 غیر قانونی دکانوں کو سیل کر دیا۔ یہ آپریشن چیئرمین ڈاکٹر ساجد محمود چوہان اور سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا، جس کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو قانونی کرایہ داری نظام کے تحت لانا ہے۔

    ایڈمنسٹریٹر زون رشید احمد تنیو کی نگرانی میں، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر چوہدری اعجاز احمد گجر، متروکہ املاک کے عملے اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ بچیکی روڈ، مانگٹانوالہ روڈ اور واربرٹن روڈ پر یہ کارروائی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق، بورڈ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ ایڈمنسٹریٹر رشید احمد تنیو نے کہا کہ بورڈ کی املاک کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور تمام قابضین کو کرایہ داری نظام کے تحت لایا جائے گا تاکہ آمدنی میں اضافہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • ننکانہ: وقف اراضی سکینڈل، سابقہ افسران بچ نکلے، موجودہ کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے شوکاز نوٹس جاری

    ننکانہ: وقف اراضی سکینڈل، سابقہ افسران بچ نکلے، موجودہ کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے شوکاز نوٹس جاری

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی ، ڈسٹرکٹ رپورٹر احسان اللہ ایاز) وقف اراضی سکینڈل، سابقہ افسران بچ نکلے، موجودہ کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے شوکاز نوٹس جاری

    تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ جات کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ چیئرمین ون مین کمیشن شعیب سڈل کے دورے اور واضح شواہد کے باوجود، موجودہ ایڈمنسٹریٹر رشید احمد تنیو کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔

    12 جون 2025 کو سیکرٹری ای ٹی پی بورڈ فرید احمد کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس نمبر 3687 میں رشید احمد تنیو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ وقف اراضی کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔ ان سے چھ دن کے اندر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام غیر قانونی سرگرمیاں سابق ایڈمنسٹریٹر تنویر احمد اور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر فضل الرحمان بٹ کے دور میں ہوئیں، جب وقف اراضی پر قبضے اور تعمیرات کھلے عام جاری تھیں۔ چیئرمین شعیب سڈل کو دورہ ننکانہ صاحب کے دوران صحافیوں نے خود ان سابق افسران کے خلاف ثبوت اور تفصیلات فراہم کی تھیں۔

    ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں چیئرمین کو بتایا گیا تھا کہ متعدد غیرقانونی تعمیرات اُس وقت ہوئیں جب مذکورہ افسران اپنے عہدوں پر فائز تھے۔ صحافیوں نے اُن افسران پر روزانہ کی بنیاد پر بھتہ خوری، ملی بھگت اور تجاوزات کی سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے۔

    عجیب امر یہ ہے کہ انہی شکایات و رپورٹس کو نظر انداز کرنے والے سیکرٹری فرید احمد اب موجودہ افسر کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔ صحافتی و عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ "کرے کوئی، بھرے کوئی” کا یہ نظام کب تک جاری رہے گا؟

    ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاملے کی غیرجانبدارانہ انکوائری نہ کی گئی تو اصل کردار قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے، اور موجودہ افسر کو قربان کر کے ادارے کی ساکھ مزید داؤ پر لگا دی جائے گی۔ اس طرزِ عمل سے وقف املاک کے تحفظ کا خواب مزید دور ہوتا جائے گا۔

  • بابا گورو نانک یونیورسٹی میں شکایات آگاہی سیمینار کا انعقاد

    بابا گورو نانک یونیورسٹی میں شکایات آگاہی سیمینار کا انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں دفتر صوبائی محتسب پنجاب کے تعاون سے آگاہی سیمینار منعقد ہوا جس کا مقصد طلباء کو شکایات کے اندراج کے باضابطہ طریقہ کار سے روشناس کروانا تھا۔

    سیمینار میں طلباء کو سرکاری اداروں اور عوامی خدمات سے متعلق شکایات کے حل کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پروگرام میں صوبائی محتسب پنجاب کے مشیر برائے ضلع ننکانہ صاحب سید مبشر حسین شاہ، لائژن آفیسر محترمہ صائمہ اشرف، زاہد فاروق اور احسن اللہ شریک ہوئے۔

    سید مبشر حسین شاہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شکایات کے مؤثر نظام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ محتسب پنجاب کا دفتر عوامی شکایات کے فوری اور شفاف ازالے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے طلباء کو اپنے قانونی حقوق سے باخبر رہنے اور ان کے تحفظ کیلئے قانونی ذرائع سے استفادہ کرنے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور جوابدہی جمہوریت کی بنیاد ہیں اور نوجوان نسل کو ان اصولوں کو اپناتے ہوئے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    آخر میں اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ فزکس، ڈاکٹر ہاشم فاروق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام طلباء میں شعور بیدار کرنے، ان کی رہنمائی اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • ننکانہ : خصوصی افراد میں معاون آلات کی تقسیم، 27 مستحقین مستفید

    ننکانہ : خصوصی افراد میں معاون آلات کی تقسیم، 27 مستحقین مستفید

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال و صنعت زار کے دفتر میں خصوصی افراد کیلئے معاون آلات تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

    تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر نے معذور افراد میں وہیل چیئرز، وائٹ کین سٹکس، واکرز اور سننے والے آلات تقسیم کیے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شبیر حسین اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی افراد کیلئے معاون آلات کی تقسیم پر ایک ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تقریب میں ضلع ننکانہ صاحب کے 27 مستحق خصوصی افراد کو یہ آلات فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ باقی تمام خصوصی افراد کو بھی یہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب اور محکمہ سوشل ویلفیئر خصوصی افراد کی خدمت میں پیش پیش ہیں اور انہیں سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شبیر حسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ اقدام لائق تحسین ہے اور وہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ معاون آلات کی فراہمی پر مستفید افراد نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ کے حق میں نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

  • ننکانہ:مون سون و ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

    ننکانہ:مون سون و ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ کی زیر صدارت ڈی سی آفس کمیٹی روم میں مون سون کی تیاریوں اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رائے ذوالفقار علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شاہد کھوکھر، اسسٹنٹ کمشنر عطیہ عنایت، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 محمد اکرم پنوار سمیت تمام ضلعی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔

    اجلاس میں متعلقہ افسران نے ممکنہ سیلابی صورتحال، مون سون انتظامات اور ہیٹ ویو سے تحفظ کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دریا کے قریب قائم غیر قانونی آبادیوں کو فوری نوٹس جاری کیے جائیں، اور ہدایات نہ ماننے والوں کی تعمیرات کو مسمار کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کی شاہراہوں پر آندھی سے گرنے یا جھکنے والے درختوں کو فوراً ہٹایا جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

    گرمی کی شدت کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسل کے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مقامات اور رش والے علاقوں میں فوری طور پر ہیٹ ویو کیمپ قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو شدید گرمی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

    انہوں نے فلٹریشن پلانٹس کی ٹائمنگ ختم کرنے اور ان پلانٹس کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا حکم دیا تاکہ عوام کو ہر وقت صاف پانی کی سہولت میسر ہو۔ ساتھ ہی سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور میونسپل افسران کو ہدایت دی کہ ضلع کے تمام لاری اڈوں پر مسافروں کے لیے صاف اور ٹھنڈے پانی کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام محکمہ جات مون سون کے پیش نظر اپنی تیاریاں مکمل رکھیں، تمام مشینری چالو حالت میں ہو، اور کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    آخر میں واپڈا حکام کو ہدایت کی گئی کہ مون سون کے آغاز سے پہلے تمام لٹکتی اور ننگی تاروں کو ہٹایا جائے اور مکمل ہونے کے بعد حفاظتی سرٹیفکیٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کروایا جائے۔