اوکاڑہ کی ڈائری

تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
جس طرح موسم بدلتے ہیں، عین اسی طرح سیاست دانوں کی سوچ اور وعدے بھی بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ بہت کچھ دھل جاتا ہے، شاید اسی بہانے سیاست دان بھی اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی کے وعدے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوامی مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں، مگر وعدے فائلوں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
حلقہ این اے 136 سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق جج اور پی پی 190 سے رکنِ صوبائی اسمبلی میاں یاور زمان گزشتہ کئی برسوں سے اسی حلقے کی نمائندگی کرتے آ رہے ہیں۔ بلاشبہ اگر عوام اپنے نمائندوں کو پسند نہ کرتے تو وہ بار بار منتخب نہ ہوتے۔ وعدے بھی کیے جاتے ہیں اور بعض کام بھی ہوتے ہیں، مگر اگر مجموعی ترقیاتی تصویر دیکھی جائے تو فور۔ایل کا علاقہ آج بھی لاوارث نظر آتا ہے۔
اگر موجودہ دور سے چند سال پیچھے جا کر جائزہ لیا جائے تو فور۔ایل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ترقی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنے محبوب قائدین کو ووٹ دینے کے بعد ان سے سوال نہیں کرتے، شاید اس خدشے کے تحت کہ کہیں ناراضی مول نہ لے لیں۔ یہی خاموشی اس علاقے کو ترقیاتی منصوبوں کی فہرست سے باہر رکھے ہوئے ہے، جس کی واضح مثال سڑکوں کی خستہ حالی ہے۔
یہ علاقہ مسلم لیگ (ن) کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ترقیاتی سرگرمیوں کے فقدان نے اسے دیگر علاقوں کے مقابلے میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ فور۔ایل اور شاہبھور کے علاقوں کو فوری توجہ درکار ہے تاکہ یہاں کے باسی بھی بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
اس حلقے کی اکثریت زراعت سے وابستہ ہے، مگر افسوس کہ بیشتر چکوک سیم و تھور جیسے سنگین مسئلے کا شکار ہیں۔ خصوصاً چک نمبر 22 فور ایل اور 23 فور ایل، جو آخری ٹیلوں پر واقع ہیں، نہری پانی کی چوری اور ناقص تقسیم کے باعث شدید زرعی بحران سے گزر رہے ہیں۔ نتیجتاً یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ انتظامیہ اور سیاست دانوں کی مسلسل عدم دلچسپی ہے۔
تعلیم کے شعبے کی صورتحال یہ ہے کہ طلبہ کی بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں شہروں کا رخ کر چکی ہے۔ صحت کے شعبے میں سرکاری مراکز موجود ہونے کے باوجود عوام شہروں میں علاج کروانے پر مجبور ہیں، جو خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض عمارتیں کھڑی کر دینا کافی نہیں، جب تک نظام مؤثر اور فعال نہ ہو۔
سڑکوں کی تعمیر و بحالی بھی مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہے۔ 22 فور ایل تا 31 فور ایل روڈ، طبروق روڈ اور غیاث چوک روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، مگر متعلقہ اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
فور۔ایل میں کئی بااثر اور نامور شخصیات موجود ہیں، مگر افسوس کہ اجتماعی طور پر کسی نے علاقے کے لیے مضبوط آواز بلند نہیں کی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ فور۔ایل کے لوگ اوکاڑہ کی سیاست میں انفرادی حیثیت میں اہم مقام رکھتے ہیں، مگر اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ اور منتخب نمائندے اس علاقے کے بنیادی مسائل کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر یہاں سڑکیں، صحت، تعلیم اور زرعی سہولیات بہتر بنا دی جائیں تو لوگ شہروں کی بجائے اپنے علاقوں میں رہ کر نہ صرف باعزت زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ ملکی پیداوار میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ:
امید کا دامن تھامے رکھو، مگر سوال اٹھانا مت چھوڑو — آخر کب تک؟