Baaghi TV

Category: پشاور

  • کرم تنازعہ: گورنر خیبرپختونخوا  کی  متاثرہ افراد کیلئےامدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت

    کرم تنازعہ: گورنر خیبرپختونخوا کی متاثرہ افراد کیلئےامدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت

    پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ہلال احمر اور ضم شدہ اضلاع کی ٹیموں کو کرم تنازعہ کے متاثرہ افراد کے لیے خیمے اور دیگر امدادی سامان فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایات پر ہلال احمر خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع کی ٹیمیں متحرک ہوگئیں، ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کے چیئرمین کو مستحقین کو فوری خیمے پہنچانے کا حکم جاری کیا گیا،ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کے چیئرمین عمران وزیر نے نقصانات اور ضروریا ت کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق بگن کے 250 خاندان اور علیزئی کے 175 خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں-

    ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین ملک حبیب اورکزئی کی رپورٹ کے مطابق 915 آئی ڈی پیز کو گزشتہ دو روز میں کھانا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا، گورنر کی ہدایات پر ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کا وفد متاثرین کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔

    دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روڈز کی بندش امدادی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مزید امدادی سامان تیار ہے لیکن روڈز کی بندش کے خاتمہ کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  • لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)لنڈی کوتل میں پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    تفصیل کے مطابق ضلع خیبر کی لنڈی کوتل پولیس نے آئس کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پاک افغان شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار سے 3 کلوگرام آئس برآمد کر لی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران نور خان ولد محمد اشرف (سکنہ افغانستان) اور سلمان خان ولد آفتاب عالم (سکنہ ولی بیگ خیل) کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حوالات منتقل کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کی قیادت میں منشیات کے خلاف مہم کامیابی سے جاری ہے۔ ایس ایچ او لنڈی کوتل کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس ایچ او عظمت ولی شینواری اور ان کی ٹیم نے زیڑے پوسٹ پر یہ کامیاب کارروائی کی۔ مشکوک گاڑی (نمبر D2402) کے خفیہ خانوں سے آئس برآمد کی گئی۔

    پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور منشیات کے خاتمے کے لیے یہ مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔

  • وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں،میاں افتخار حسین

    وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں،میاں افتخار حسین

    کرم:عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے پیچھے منظم قوتیں ہیں، کرم میں دہشتگردی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے،امریکا سی پیک کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی:عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں صوبائی قیادت اور کارکنان کی شرکت نے بڑی تعداد میں شرکت کی،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکا سی پیک کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہا ہے، کرم واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ منظم طریقے سے پارا چنار میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جا رہے ہیں ، وزیر اعلیٰ کو صوبے کی کوئی فکر نہیں ، صوبے کے عوام اپیل کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کے سازشوں میں نہ آئیں،وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں ، وفاق اور صوبے کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، کوئی خیبرپختونخوا کو نہیں پوچھ رہا ہے۔

    میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں دشمن کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑے گا ، ہم کرم کے عوام کے ساتھ ہیں، ہم صرف امن چاہتے ہیں ، عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات میں ایک دوسرے کو مت ماریں، سب سے آسان ٹارگٹ فرقہ وارانہ فسادا ت ہیں ، بنوں، ڈی آئی خان اور باجوڑ میں منظم منصوبے کے تحت دہشت گردی کی جا رہی ہےہمیں زبردستی اسمبلیوں سے نکالا گیا، وزیراعلیٰ گنڈا پور ہروقت احتجاج سے بھاگ جاتا ہے، ایک دفعہ پھر یہ احتجاج سے بھاگ کرواپس آ جائے گا۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گرد حکومت ہے ، وزیر داخلہ صرف مذمت کے لیے بیٹھا ہوا ہے، دہشت گردی فیض حمید کی باقیات کر رہے ہیں ہم جنرل فیض حمید اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم پارا چنارکے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ، ہم نے واقعے کے لیے جرگہ تشکیل دیدیا ہے ، ہم پارا چنار میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

    اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کرم واقعہ کے خلاف پورے صوبے میں نکلے ہوئے ہیں، پختون قوم نے اپنا سرمایہ پنجاب منتقل کیا ہوا ہے ، جسے واپس لانا ہوگا، پختونوں کو پارلیمنٹ سے باہرکردیا گیا ، دہشت گردوں کا پہلا ٹار گٹ پولیس ہے جو دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے۔

  • گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ، بشری بی بی ہمراہ

    گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ، بشری بی بی ہمراہ

    پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج میں شرکت کیلئے خیبرپختونخوا سمیت مختلف شہروں سے قافلے روانہ ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوابی انٹرچینج پار کر گئے ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی بھی ان کے ساتھ قافلے میں موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق عمر ایوب کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، عمر ایوب کے اسلام آباد پہنچنے پر علی امین کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔دوسری جانب قافلے میں آئے لوگ اٹک کے مقام پر موٹروے کے اطراف گھنے درختوں میں چھپ گئے، اور علی امین گنڈا پور کے قافلے کا انتظار کر رہے ہیں۔علی امین گنڈاپور صوابی ریسٹ ایریا پہنچے تو نعرے لگا کر کراؤڈ چارج کیا اور کہا کہ کارکن سب آگے چلیں، اپنی طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے، سب متحد ہو کر چلیں، ایک دوسرے کی طاقت بنو، پہلے مشینری کو راستہ دیں۔علی امین گنڈاپور سے سوال ہوا کہ راستے بند ہے کیسے جائیں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ سب راستے کھول دیں گے، ہم اسلام آباد پہنچیں گے، فکر نہ کریں۔صوابی سے احتجاج کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔ گنڈا پور سہ پہر کے وقت پشاور سے اپنی گاڑی میں صوابی پہنچے جہاں سے وہ کنٹینر پر سوار ہوئے۔علی امین گنڈا پور کی روانگی کے وقت ان کی بشریٰ بی بی سے تلخ کلامی کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ان خبروں کے باوجود بشریٰ بی بی بھی تحریک انصاف کے قافلے میں شامل ہیں۔ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ سب بی بی کو منع کر رہے تھے کہ وہ نہ نکلیں ان کی جان کو خطرہ ہے مگر رب کے راستے پر چلنے والوں کو کہاں ان چیزوں کی فکر ہوتی ہے۔ایک روز قبل خبریں آئی تھیں کہ ناسازی طبیعت کی بنا پر بشریٰ بی بی احتجاج میں شریک نہیں ہو رہیں۔اب اس حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی پشاور سے نکلنے والے پی ٹی آئی قافلے کا حصہ ہیں، قافلہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پشاور سے روانہ ہوچکا ہے، بشریٰ بی بی ورکرز کے شانہ بشانہ اسلام آباد جارہی ہیں، بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ ورکر کو اس وقت اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔اسد قیصر اور شہرام خان ترکئی انبار ریسٹ ایریا کے مقام پر موجود ہیں جہاں سے وہ صوابی کے قافلے کی قیادت کریں گے۔

    اٹک میں گاڑی نذر آتش

    پی ٹی آئی کے کارکنوں نے غازی ٹول پلازہ کے قریب آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے باعث غازی انٹرچینج پر کھڑی ایک گاڑی کو بھی آگ لگ گئی، گاڑی میں سوار 4 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی ورکرز نے ہی زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ایم 14 سی پیک داؤد خیل میپل لیف سیمنٹ کے قریب پل کے اوپر موجود پولیس نے نیچے موجود کارکنوں پر دھاوا بول دیا، پنجاب پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جبکہ ربڑ بلٹ سے بھی فائرنگ کی گئی، جس کے باعث کارکن واپس جانے لگے۔ کچھ کارکن شیلنگ ماسک اور غلیل اٹھائے آگے بڑھتے رہے۔کارکنان نے میپل لیف سیمنٹ کے قریب روڈ کے کنارے کھڑی خشک گھاس کو آگ لگا دی۔ڈیرہ اسماعیل خان میں عیسیٰ خیل انٹرچینج کے مقام پر سی پیک کو بھاری مشینری سے کھولا جا رہا ہے، سی پیک پر رکھے گئے کنٹینرز کو ہٹا کر روڈ کھول دیا گیا ہے، قافلہ رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔

    پشاور
    پشاور سے پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ ایک کنٹینر اور کچھ دیگر گاڑیوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ کنٹینر کے ساتھ ایک ٹرک میں دو بہت بڑے پنکھے بھی سفر کر رہے ہیں۔ یہ پنکھے ممکنہ طور پر آنسوگیس کا رخ موڑنے کیلئے مرکزی کنٹینر کے ساتھ ہیں۔

    سوات
    اسلام آباد میں میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کا قافلہ سوات سے روانہ ہوگیا، قافلہ صوبائی وزیر فضل حکیم کی قیادت میں روانہ ہوا۔قافلے میں کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہے، قافلہ چکدرہ انٹر چینج پہنچے گا جہاں دیگرعلاقوں کے کارکنان بھی قافلے میں شامل ہوں گے۔

    مانسہرہ
    بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال پر ضلع مانسہرہ کی مختلف تحصیلوں سے قافلے مانسہرہ پہنچنا شروع ہوگئے، بالاکوٹ ، بفہ پکھل ، اوگی اور تورغرسے قافلہ مانسہرہ کی طرف آنا شروع ہوگئے۔مانسہرہ اور ریسٹ ایریا سے کچھ ہی دیر بعد قافلہ موٹروے ریسٹ ایریا سے ڈی چوک کے لیے روانہ ہوگا جبکہ مانسہرہ اور برہان انٹرچینج پر خیبرپختونخواہ کے تمام جلوس اکھٹے ہوں گے۔

    نوشہرہ
    نوشہرہ میں اسلام آباد جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر سیل کردیے گئے، اٹک پل پر پنجاب کے سائیڈ پر بڑے بڑے کنٹینرز لگا دیے گئے۔
    پنجاب پولیس کی بھاری نفری اٹک پل پر تعینات ہے، پنجاب پولیس پی ٹی آئی کے قافلوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ پی ٹی آئی کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے روانہ ہوگئے۔

    موٹروے ٹول پلازہ اسٹاف کیبن چھوڑ کر دفتر چلے گئے

    پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر موٹروے ٹول پلازہ اسٹاف کیبن چھوڑ کر دفتر چلے گئے، گاڑیاں ٹول پلازہ پر ٹیکس ادا کیے بغیر موٹروے پر جانے لگیں،ٹول پلازہ اسٹاف کا کہنا ہے کہ ہدایات جاری کی گئیں کہ ٹول پلازہ چھوڑ کر چلے جائیں۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آج اسلام آباد میں احتجاج کے باعث موٹروے ایم ون پشاور ٹول پلازہ جو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور بند کر دی گئی تھی، پولیس کی جانب سے اچانک کھول دی گئی۔پی ٹی آئی کے آج اسلام آباد میں احتجاج کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، جی ٹی روڈ اٹک خورد کے مقام کو دونوں اطراف سے کنٹینر لگا کر مکمل سیل کردیا گیا، اٹک خورد چیک پوسٹ پر رینجر، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔قبل ازیں موٹروے پولیس کی جانب سے موٹروے ایم ون پشاور کو ٹول پلازہ کو 3 مختلف مقامات سے دنوں اطراف سے ہرقسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور بند کر دیا گیا تھا۔اس حوالے سے موٹروے پولیس کا کہنا تھا کہ موٹروے دھند کے باعث بند کردی گئی ہے، دھند میں کمی کے بعد موٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔تاہم اب موٹروے ایم ون پشاور ٹول پلازہ کھولے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکنان پشاورٹول پلازہ پہنچنا شروع ہوگئے۔واضح رہے کہ عمران خان کے حکم پر 24نومبر(آج) کو پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی جانب احتجاجی کال کے باعث جڑواں شہروں میں کاروبار زندگی عملاً معطل ہے۔دونوں شہروں کی مرکزی شاہراہیں، پبلک ٹرانسپورٹ اور فیض انٹرچینج کوبند کر دیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

  • کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    خیبر پختنونخوا کے مشیراطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی سربراہی میں حکومتی جرگہ کرم سے واپس پشاور پہنچ گیا، جرگے نے گزشتہ روز اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کی تھی۔

    میڈیا کو مشیراطلاعات بیرسٹرسیف نے بتایا کہ جرگے نے کرم میں اہل سنت کے مشران سے ملاقات کی ہے ، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر حکومتی وفد ضلعی عمائدین کے ساتھ جرگہ کر رہا ہے، فریقین نے ایک دوسرے کے قیدی اور لاشیں واپس کرنے پر بھی مکمل اتفاق کیا ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقات میں مسائل کے حل کے لیے مثبت گفتگو ہوئی ہے ۔ہماری اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر کروا کر پائیدار امن قائم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دوسری طرف سرکاری ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گاڑیوں پر حملوں کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 28 ہو گئی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے، مواصلاتی ذرائع منقطع ہیں اور اموات کے بارے میں تازہ معلومات موصول ہونے میں مشکلات ہیں۔سرکاری وفد کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن وہ ہفتے کو بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔جھڑپوں کے دوران مسلح گروہوں نے ان علاقوں پر حملہ کیا جہاں حریف لوگ آباد تھے، کئی گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ بازار اور اسکول بند ہیں، عہدیداروں نے بتایا کہ متعدد پٹرول پمپس کو نذر آتش کردیا گیا۔واضح رہے کہ ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 43 اموات کے بعد جھڑپوں میں شدت آگئی، پولیس نے بتایا کہ کو بگن، مندوری اور اوچت کے مقام پر 200 مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 6 گاڑیاں نشانہ بنیں، فائرنگ کے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے علیزئی اور بگن کے قبائل کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، اس کے علاوہ بالش خیل، خار کلی اور کنج علیزئی اور مقبل قبائل کے مابین بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی

  • حکومت کے پاس عمران خان کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،عارف علوی

    حکومت کے پاس عمران خان کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،عارف علوی

    پشاور: سابق صدر اور رہنما پی ٹی آئی عارف علوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو رہا کرنا پڑے گا اور حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی کے لیے جان دینےکو تیار ہوں۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کے پشاور سے نکلنے والے قافلے میں شریک سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ آج تک بانی پی ٹی آئی کی کوئی کال ناکام نہیں ہوئی، مذاکرات کا وقت ختم ہوگیا، حکومت کو عمران خان کو رہا کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے اس کے علاوہ کئی اور چارہ نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی نے آج تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اسی لیے اگر الیکشن کے دن 70 فیصد لوگ ہمارے ساتھ تھے تو آج 90 فیصد لوگ ہمارے ساتھ ہیں ، دنیا سوال اٹھا رہی ہےکہ یہ لوگ اپنے ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے جان دینےکو تیار ہوں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے آج اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کردیا ہے جب کہ تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی شر انگیزی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اسلام آباد میں کسی قسم کے احتجاج، ریلی یا مجمعے پر پابندی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،سکیورٹی پلان کا مقصد شر انگیزی کو روکنا ہے-

  • جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، بیرسٹرسیف

    جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، بیرسٹرسیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پشاور سے جاری بیان میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے بوکھلاہٹ میں پنجاب میں بھی لاشیں گرانے کا پلان بنایا ہوا ہے پرامن احتجاج روکنے کے لئے جعلی حکومت نے ایک ہفتے سے پورے ملک کو کنٹیرستان بنا یا ہوا ہے ڈی چوک میں کنٹینرز پر سبز کپڑا چڑھانا جعلی حکومت کے مذموم عزائم ظاہر کرتی ہےسندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی راستے میں رکاوٹوں کے باعث مریضوں کے ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

    بیرسٹرسیف کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلوں پر سیدھی فائرنگ قابل مذمت ہے، جعلی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے، پنجاب میں بھی جعلی حکومت نے لاشیں گرانے کا پلان بنایا ہوا ہے، جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لیے چچا اور بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، حواس باختہ حکومت نے پاکستان کو کنٹنرستان بنایا ہوا ہے، کنٹینرز کے پہاڑ کھڑے کرنے سمیت خندقیں بھی کھودی گئی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ضلع کرم کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہےجلد اچھی خبریں ملنے کا امکان ہے، مثبت پیشرفت کے بارے میں جلد آگاہ کردوں گا، عمائدین اور فریقین کے ساتھ مثبت پیشرفت کی طرف بڑھ رہے ہیں وزیراعلی کو تمام پیشرفت سے وقتا فوقتا آگاہ کیا جارہا ہے، وزیر اعلی حکومتی جرگے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دو روز قبل پارا چنار سے پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے پشاور اور پارا چنار کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت کے سلسلے میں چلنے والے گاڑیوں پر دہشت گردوں کے حملے میں 44 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے مذکورہ واقعہ کے بعد کرم سے آمد و رفت کا سلسلہ منقطع جبکہ وہاں کے حالات کشیدہ ہیں، سانحے کے بعد بازار بند جبکہ واقعہ میں جاں بحق افراد کی تدفین کردی گئی۔

    کمشنر کوہاٹ کے مطابق گزشتہ شب اسی تسلسل مہں جھڑپوں میں مزید 18 افراد جاں بحق ہوئے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے مذکورہ واقعہ کا فوری طور پر نوٹس لیاگیا اور ان کی ہدایت پر مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف ، وزیر قانون آفتاب عالم ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری ، آئی جی پی اختر حیات ، کمشنر کوہاٹ اور ڈی آئی جی کوہاٹ ہفتہ کے روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم پہنچے انہوں نے جرگہ ارکان اور عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔

  • کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع کرم کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ضلع کرم کا دورہ کرنے والے حکومتی وفد نے وزیر اعلیٰ کو ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

    حکومتی وفد نے علی امین گنڈاپور کو پاراچنار میں اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا، وزیر اعلیٰ نے تنازعے کے حل کے لئے تجاویز لیں حکومتی وفد نے تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا،حکومتی وفد کل صدہ میں اہل سنت عمائدین سے بھی ملاقات کرکے ان سے بھی تجاویز لے گا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ کرم واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، کوشش ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں،فریقین کے جو بھی جائز مطالبات ہوں گے ، وہ پورے کئے جائیں گے، صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کی مشاورت اور تجاوز کی روشنی میں آگے کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومتی وفد فریقین اور علاقہ عمائدین کے ساتھ بیٹھ کر حتمی تجاویز پیش کرے، تنازع کے حل کی طرف جانے کے لئےعلاقے میں سیز فائر ناگزیر ہے فریقین سے اپیل ہے کہ سیز فائرکریں تاکہ تنازعے کے حل کی طرف پیشرفت ہوسکے، علاقہ عمائدین اور مشران حکومتی وفد اور مقامی انتظامیہ سے بھر پور تعاون کریں علاقے میں امن کا قیام صوبائی حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہے، جس کے لئے تمام دستیاب آپشنز بروئے کار لائے جائیں گےمذاکرات تمام مسائل کے بہترین حل ہیں، پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے اس مسئلے کا پر امن حل نکالیں گے۔

  • مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے خیبرپختونخوا(کے پی) اور وفاقی حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے بیان میں کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے اور کرم میں فرقہ واریت کے نام پر سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں سڑکوں پر کانوائے کی موجودگی میں قتل عام ہوا، انتظامیہ کی موجودگی میں بستیاں جلائی گئیں، بچے اور خواتین بھی فسادات کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں، فسادات کی وجہ سے خانہ جنگی کا مزید خدشہ ہے، حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سیاسی جھگڑے ترک کرکے کرم جانا چاہیے تھا، اب تو بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ سب کچھ انتظامیہ خود کررہی ہے، کسی کو معلوم ہے کہ اس خانہ جنگی کے پیچھے کس کے مقاصد پورے ہورہے ہیں کیا انسانی خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ بے دریغ بہایا جا رہا ہے، ڈی آئی خان سے لے کر باجوڑ تک پورا علاقہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، اور مزید پھیلنے کا خدشہ ہے مگر صوبائی اور مرکزی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں،یہ لوگ مراعات اور مزے لیتے ہیں لیکن عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے-

    انہوں نے کہا کہ جو عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ان کو مرکز اور صوبے میں حکومت کا حق نہیں ہے، اتنے لوگ غزہ میں شہید نہیں ہورہے ہیں جتنے یہاں ہورہے ہیں،عوام حیران ہیں کہ کس سے بات کریں لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومت جھگڑے چھوڑ کر اس آگ کو بجھانے میں کردار ادا کریں،مسائل کا حل ہم مذاکرات سمجھتے ہیں اور اس وقت گرینڈ جرگہ بلانے کی ضرورت ہے، خطرہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ آگ پورے صوبے اور ملک میں نہ پھیل جائے۔

  • ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، صحافیوں کی حفاظت کا مطالبہ

    ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، صحافیوں کی حفاظت کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس نے ضلع کرم میں جاری فرقہ ورانہ فسادات اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور ارباب اختیار سے ضلع کرم کے صحافیوں اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافی جنان حسین کی شہادت کے بعد آج ایک اور صحافی محمد ریحان کے گھر کو نذر آتش کرنا تشویشناک ہے، جس نے صحافی برادری کو مزید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی قیادت نے قاضی فضل اللہ کی صدارت میں ایک اجلاس میں ضلع کرم میں جاری خونریزی پر حکومتی غفلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ قاضی فضل اللہ نے کہا کہ بے گناہ معصوم شہریوں کا قتل عام سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، اور اب صحافی برادری بھی ان فسادات کی زد میں آ گئی ہے۔ جنان حسین کا قتل اور محمد ریحان کے گھر کی آتشزنی ان مسائل کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کرم کی مخدوش صورتحال میں صحافیوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکے ہیں، اور یہ ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس نے کورکمانڈر پشاور سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کرم کے صحافیوں کی حفاظت کے لئے اقدامات کریں تاکہ علاقے کی صحافی برادری کو تحفظ مل سکے۔