Baaghi TV

Category: پشاور

  • بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    پاکستان میں ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو لیک ہو رہی ہیں تو وہیں پی ٹی آئی کو بھی ویڈیو لیک کا خطرہ محسوس ہوا ہے جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا میں بشریٰ بی بی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ سے رہائی کے بعد پشاور میں ہیں اور 24 نومبرکر اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے حوالہ سے متحرک ہیں،پارٹی رہنماؤں کو ٹاسک دے رہی ہیں، اجلاسوں کی صدارت،خطابات کا سلسلہ جاری ہے، کسی کو بندے لانے ،کسی کو فنڈ جمع کرنےکا حکم دیا جا رہا ہے، بشریٰ بی بی کارکنان کے سامنے نہیں آ رہی بلکہ پردے کے پیچھے رہ کر خطاب کر رہی ہیں اور ہدایات دے رہی ہیں، بشریٰ بی بی کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں انکی ویڈیو لیک نہ ہو جائے، اس ضمن میں اجلاسوں کے لئے ایک ایس او پی بنا دیا گیا ہے جس کے مطابق بشریٰ بی بی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے لئے جانے والے رہنما اور کارکنان اپنے موبائل فون ساتھ نہیں لے کر جائیں گے بلکہ جمع کروائیں گے، کسی بھی رہنما یا کارکن کو اپنا موبائل ساتھ نہیں لے جانے دیا جائے گا، جامہ تلاشی ہو گی اور موبائل جمع کیا جائے گا تا کہ ویڈیو کے ساتھ ساتھ بشریٰ بی بی کی کسی قسم کی آڈیو بھی سامنے نہ آ سکے،وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور کے لئے بنائے گئے اس ایس او پیز پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے، ، گزشتہ اجلاسوں میں بھی ممبران اور عہدیداروں سے موبائل لیے گئے تھے،بشریٰ بی بی کی ویڈیو آڈیو لیک ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے موبائل کی اجازت نہیں دی جا رہی،

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    واضح رہے کہ اس سے قبل بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک ہو چکی ہیں، بشریٰ بی بی کی آڈیو فون پر بات چیت کی ہیں،بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی بات چیت کی آڈیو لیک ہوئی ہے تو وہیں زلفی بخاری کے ساتھ بات چیت کی بھی بشریٰ کی آڈیو لیک ہوئی تھی،آڈیو میں بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کی کچھ گھڑیاں ہیں انہیں بیچ دیں،:گھڑیاں خان صاحب کے زیراستعمال نہیں، زلفی بخاری نے بشری بی بی کو جواب دیا کہ ضرور مرشد کردوں گا،آڈیو لیک ہونے کے بعد بشریٰ بی بی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا تھا کہ گھر کی ٹیلیفون کی ریکارڈنگ کو غیر قانونی اور اختیار سے تجاوز قرار دیا جائے، یہ بھی قرار دیا جائے کہ اس طرح کی ریکارڈنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،اس درخواست کے حتمی فیصلے تک فریقین کو بشری بی بی کیخلاف کسی بھی ایکشن سے روکا جائے،من گھڑت اور بے بنیاد آڈیو کی بنیاد پر پولیس اور ایف آئی اے کی طرف سے ہراساں کیا جارہا ہے ،بے بنیاد آڈیو کو مختلف چینلز پر نشر کرکے بشری بی بی سے منسوب کیا گیا ،مبینہ آڈیوز کو چینلز پر بشری بی بی سے منسوب کرکے نشر کرنے سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ،بشری بی بی مذہبی اور پردہ دار خاتون ہیں ، سیاست سے تعلق نہیں ،

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور نگران بنی گالہ انعام خان کی مبینہ آڈیو بھی لیک ہوئی تھی، آڈیو میں بشریٰ بی بی تحائف کی تصاویر کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں۔مبینہ آڈیو میں بشریٰ بی بی سوال پوچھتی سنائی دے رہی ہیں کہ انعام خان آپ نے اصفر کو تصویریں کھینچنے کا کہا تھا؟ گھر میں باہر سے جو چیزیں آئیں ان کی تصویریں کیوں کھینچنی؟ آپ نے انعام کو چیزیں بھیجی ہے وہ کہہ رہا ہے۔آڈیو میں بشریٰ بی بی کہتی ہیں کیوں کھینچی تھیں تصویریں؟ گھر کے اندر جو چیز آئے اس کی تصویر تو نہیں کھینچتے، گھر سے باہر سے جو آئے ان کی تصویر کھینچنی چاہیے؟ کس چیز کا ثبوت؟ آپ کو کیا ضرورت ہے ثبوت دینے کی؟

    اس سے قبل سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے سابق سوشل میڈیا ہیڈ ارسلان خالد کی بھی مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی۔مبینہ آڈیو میں بشریٰ بی بی نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ہیڈ ارسلان خالد کو ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سے لوگ ميرے، خان صاحب اور میرے ساتھ جو بچی ہے فرح کیخلاف بوليں گے، آپ نے ہمارے خلاف ساری خبروں کو غداری کیساتھ لنک کردينا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا ٹیم کے ہیڈ کو مزید ہدایت دیں کہ آپ نے سوشل ميڈيا پر خط کا معاملہ اٹھانا ہے کہ خط ٹھيک ہے، روس کا معاملہ اٹھانا ہے، ٹرينڈ بنا دينا ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • بشریٰ کا حکم،پارٹی ٹکٹ،عہدے 24 نومبر احتجاج کی کامیابی سے مشروط

    بشریٰ کا حکم،پارٹی ٹکٹ،عہدے 24 نومبر احتجاج کی کامیابی سے مشروط

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی ٹکٹ اور عہدے 24 نومبر کے احتجاج میں فعال کردار ادا کرنے سے مشروط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق،بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ احتجاج میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد کو پارٹی ٹکٹ اور عہدے دیے جائیں گے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت اسلام آباد پہنچنا یقینی بنایا جائے۔اس بیان پر پی ٹی آئی اراکین، وزرا، اور رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے وضاحت کرتے ہوئے کہابشریٰ بی بی نے کسی کو عہدوں یا ٹکٹوں کی پیشکش نہیں کی اور نہ کوئی شرط رکھی ہے۔تحریکیں جذبے سے چلتی ہیں، لالچ سے نہیں۔پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ بغیر کسی لالچ کے تحریکوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما ارباب عاصم کا کہنا تھاہم پارٹی میں عہدوں کے لیے شامل نہیں ہوئے۔قربانی اور محنت کرنے والے کارکنوں کو آگے لانے کا اصول پارٹی کے بانی چیئرمین کا ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں احتجاج کی تیاریوں سے متعلق اجلاسوں میں 10 اراکین نے شرکت نہیں کی۔عاطف خان اور جنید اکبر سمیت 5 ایم این ایز کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔مالاکنڈ، مردان، سوات، نوشہرہ، اور صوابی کے 4 ایم پی ایز بھی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔رکن قومی اسمبلی عاطف خان نے کہا کہ میسج ملا تھا لیکن اجلاس میں شرکت ضروری نہیں تھی۔احتجاج کے لیے کارکن نکالنا زیادہ اہم ہے۔مردان میں ہوں اور احتجاج کے اخراجات خود برداشت کروں گا۔جنید اکبر نے کہا کہ اجلاس میں شرکت ضروری نہیں تھی، لیکن اسلام آباد ضرور جائیں گے۔پارٹی سے جڑے ہیں اور احتجاج میں فعال رہیں گے۔

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا، پشتو ٹک ٹاک سٹار گل چاہت کی پرائیویٹ ویڈیو بھی آن لائن لیک ہو گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں

    معروف پشتو ٹک ٹاک اسٹار گل چاہت، جو اپنے دل لگی مواد اور خواجہ سراؤں کے حقوق کی وکالت کے لیے مشہور ہیں، کی نازیبا وائرل ویڈیو لیک ہونے کی خبروں نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ ٹک ٹاک پر 6.1 ملین سے زیادہ فالوورز اور 182.6 ملین لائکس کے ساتھ، گل چاہت پاکستان کی معروف سوشل میڈیا انفلوانسر ہیں۔ اس کے منفرد مزاح اور ڈانس نے اسے ڈیجیٹل دنیا میں ایک محبوب شخصیت بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ایک ٹرانس جینڈر خاتون ہونے کے چیلنجوں کے باوجود، اس نے برابری کو فروغ دینے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو مسلسل استعمال کیا ہے۔

    گل چاہت کی ویڈیو لیک ہونے کی خبر نے ان کے مداحوں اور وسیع تر کمیونٹی میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کی گئی، ویڈیو نے عوامی شخصیات کی پرائیویسی کے تحفظ اور احترام کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو کے لیک ہونے کے بعد گل چاہت کے مداحوں اور سماجی کارکنوں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی، سوشل میڈیا پر نجی زندگی کی خلاف ورزی کی مذمت کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے نے عوامی سطح پر ان کی ہمت اور استقامت کے لیے حمایت کے جذبات کو اجاگر کیا ہے۔

    گل چاہت کی لیک ہونے والی ویڈیو پر مشتمل یہ واقعہ سائبر ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو نمایاں کرتا ہے، خاص طور پر پاکستان میں خواجہ سراؤں کو نشانہ بنانا۔ یہ ڈیجیٹل دور میں افراد کی پرائیویسی کا احترام کرنے کے بارے میں مضبوط قانونی تحفظات اور بیداری کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے، سراج الحق

    ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے، سراج الحق

    پشاور: سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قوم میں اشتعال اور مایوسی پائی جاتی ہے، اس مایوسی اور اشتعال کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایک قومی جرگہ ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر ان سے رہنمائی لی جائے۔

    باغی ٹی وی : جامعہ علوم اسلامیہ ایبٹ آباد میں دستار بندی و تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ آرمی چیف اور وزیر اعظم تمام سیاسی جماعتوں، قومی رہنماؤں اور دانشوروں کو بٹھاکر مسائل کا حل ڈھونڈیں، سب کو احتجاج اور دھرنے دینے کا آئینی حق حاصل ہے، نہ میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں نہ ہی جلسے، جلوس اور دھرنوں پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں، جمہوری ملکوں میں ان چیزوں کی اجازت ہوتی ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بد امنی اور لاقانونیت ہے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آگ لگی ہے، روز لاشیں گر رہی ہیں فورسز کے اہلکاروں، سویلینز اور مزدوروں کو شہید کیا جا رہا ہے، بلوچستان میں فورسز پر حملوں اور باجوڑ میں جماعت اسلامی کے ضلعی سیکرٹری جنرل کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بد امنی اور بدحالی کا ذمہ دار کون ہے، حکمران معیشت کو ٹھیک کر سکے نہ امن بحال کر سکے لوگوں کو روزگار دے سکتے ہیں نہ لوڈ شیڈنگ ختم کر سکتے ہیں نہ ہی بچوں کو معیاری تعلیم دے سکتے ہیں تو حکمران آخر کیا کر سکتے ہیں حکمرانوں کا وی آئی پی کلچر اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ حکمران امن قائم نہیں کرسکتے تو حکومت چھوڑ دیں نئی حکومت کے ہنی مون کے دن گزر گئے لیکن قوم کو امن کا تحفہ نہیں دے سکے امن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرتے، یہ ترمیم عوام یا ملک کے فائدے کے لیے نہیں یہ حکومت نے اپنے مفادات کے لیے کی ہے یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی نے 26 ویں آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

  • خیبرپختونخوا کے عوام کرب سے گزر رہے ہیں،حکومت کی ساری توجہ سیاست پر ہے،مولانا فضل الرحمان

    خیبرپختونخوا کے عوام کرب سے گزر رہے ہیں،حکومت کی ساری توجہ سیاست پر ہے،مولانا فضل الرحمان

    پشاور: جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کرب سے گزر رہے ہیں جبکہ حکومت کی ساری توجہ سیاست پر ہے۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں الیاس بلور کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اللہ تعالی الیاس بلور کے قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، بلور خاندان کے ساتھ ہمارا گہرا تعلق ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سے شق نمبر 8 کو نکال دیا گیا جبکہ ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کی جارہی رہی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے آج کسی کو بھی پکڑکر 90 دن تک رکھ سکتے ہیں، ایسی قانون سازی کر کے لوگوں کو اپنے ہی ملک میں مشکوک بنادیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے پی ٹی آئی کے احتجاج کا علم نہیں ہے، میں کل ہی برطانیہ سے آیا ہوں، خیبرپختونخوا سیکیورٹی کی بدترین صورتحال سے گزر رہا ہے، حکومت لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے بجائے کرسی بچا رہی ہے، صوبے کے عوام کرب سے گزر رہے ہیں، حکومت نے سیاست پر توجہ دی، لیکن قیام امن پر نہیں،بلکہ سیاست کو فوکس کی ہوئی ہے جو غلط ہے-

  • بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پشاور سٹی کی تنظیم میں اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔بشریٰ بی بی کی پشاور موجودگی کے باوجود پشاو رمیں پی ٹی آئی کے اراکین ناراض اور پارٹی عہدوں سے استعفے دینے لگے،

    اب پشاور ایسٹ کے نائب صدر عباس خان بھی عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں،عباس خان نے استعفیٰ ضلعی صدر کو ارسال کیا ہے،عباس خان کا کہنا ہے کہ ذاتی وجوہات کے باعث عہدے سے مستعفی ہوا ہوں،علاوہ ازیں پی ٹی آئی اعلامیہ کے مطابق رحمٰن جلال کو پی ٹی آئی سٹی تنظیم کا جنرل سیکریٹری، فقیر محمد اور رفیع اللّٰہ کو سینئر نائب صدر اور نیک محمد کو نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی پشاور جنرل سیکریٹری تقدیر علی اور سینئر نائب صدر ملک اسلم کے استعفوں کے بعد تنظیمی اتحاد قائم رکھنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ پارٹی کی قیادت نے اختلافات کے حل کی بجائے نئی تقرریاں کرتے ہوئے تنظیمی ڈھانچے کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں داخلی اختلافات اور گروپ بندی کے مسائل نئی بات نہیں ہیں، لیکن پشاور سٹی تنظیم کے حالیہ تنازعات پارٹی کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ تقدیر علی اور ملک اسلم جیسے رہنماؤں کے مستعفی ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیمی سطح پر فیصلوں اور قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔پارٹی کی جانب سے نئی تقرریاں شاید وقتی طور پر خلا کو پر کر سکیں، لیکن یہ حل مستقل نہیں ہوگا جب تک کہ قیادت داخلی اختلافات کے بنیادی اسباب کو حل نہ کرے۔ پشاور، جو کہ پی ٹی آئی کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں تنظیمی مسائل کا اثر نہ صرف مقامی سیاست پر بلکہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔مزید یہ کہ اس طرح کے واقعات کارکنوں اور عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب پارٹی پہلے ہی کئی سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

    بشریٰ بی بی بھی پشاور میں موجود ہیں اور اجلاسوں کی صدارت کر رہی ہیں ایسے میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے اس امر کی گواہی ہیں کہ پشاور میں پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر رہا ہے،بشریٰ بی بی بھی پی ٹی آئی کو تقسیم اور اختلافات سے نہ بچا سکیں، آنے والے دنوں میں مزید کئی رہنما پی ٹی آئی کے عہدوں سے مستعفی ہوں گے

  • نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی متحرک ہو گئی ہیں

    بشریٰ بی بی نے پشاور میں رہ کر پی ٹی آئی کی کمان سنبھال لی ہے اور 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج بارے اجلاسوں کی صدارت اور ملاقاتیں کرنا شروع کر دی ہیں، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پشاور پہنچیں، عمران خان کی ہدایات پر وہ متحرک ہوئی ہیں، اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی نے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں اور پارٹی کے تنظیمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔بشریٰ بی بی کا مقصد تحریک انصاف کے کارکنان میں اتحاد اور حوصلہ بحال کرنا ہے۔ پشاور میں ان کے قیام کو تحریک انصاف کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، بشریٰ بی بی کی سرگرمیوں کو سیاسی تجزیہ کار بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ان کی پارٹی میں سیاسی انٹری کے حوالہ سے مختلف تجزیات کر رہے ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست کے خاتمے کے دعویدار عمران خان نے پارٹی قیادت بشریٰ بی بی کو سونپ دی ہے

    پشاور میںبشریٰ بی بی نے انصاف اسٹوڈنٹس اور یوتھ لیڈرز کے ساتھ ملاقات کی ہے،ملاقات میں مینا خان، شاہد خٹک اور سہیل آفریدی شریک تھے،بشریٰ بی بی نے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کا پیغام انصاف اسٹوڈنٹس اور یوتھ لیڈرز کو پہنچایا،اس موقع پر بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نوجوانوں سے بہت توقعات ہیں، وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی ہزارہ، ملاکنڈ اور بلوچستان کے عہدیداروں کے اجلاس ہوئے، تمام اجلاسوں میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بات چیت کی اور خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں ،عہدیداروں کو اہم ہدایات دیں،

    بشریٰ بی بی کی پشاور موجودگی کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس خیبر بختونخوا ہاؤس پی ٹی آئی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں،بشریٰ بی بی آج بھی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کریں گی اور اہم ہدایات دیں گی،

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

  • 24 نومبر  کو احتجاج: بشریٰ بی بی نےعہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں

    24 نومبر کو احتجاج: بشریٰ بی بی نےعہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں

    پشاور:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے حوالے سے تحریک انصاف کے عہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی: بشریٰ بی بی کی زیر صدارت وزیراعلٰی ہاؤس میں تحریک انصاف کے ہزارہ اور مالاکنڈ ارکان اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں 24 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    بشریٰ بی بی نے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو عمران خان کی ہدایات سے آگاہ کیا اور کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے پارلیمنٹ، قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلنا ہے لیڈر عمران خان ہیں،مجھے صرف خان کا پیغام پہنچانے کے لیے آ گے آنا پڑا ہے، اجلا س میں وزیراعلٰی خیبر پختونخوا بھی موجود تھے جنہوں نے ارکان کو 24 نومبر احتجاج کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 نومبر سے شروع ہونے والی ہماری تحریک ایک دن کی نہیں ہوگی،احتجاجی تحریک میں تحریک انصاف کی قیادت موجود ہوگی، اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ بشریٰ بی بی احتجاجی تحریک کو لیڈ کریں گی، ان کا تنظیمی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی سینیئر قیادت کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جارہا، اس لیے انہوں نے بشریٰ بی بی کے ذریعے پیغام بھیجا جو ہم تک پہنچ گیا ہے،شاہ محمود قریشی کا مشورہ ہمیشہ شامل رہتا ہے، میں جیل میں جاکر ان سے اور یاسمین راشد سے ملاقات کروں گا۔

  • پشاور:پی ٹی آئی کے  دو رہنما مستعفیٰ

    پشاور:پی ٹی آئی کے دو رہنما مستعفیٰ

    پشاور: پشاور ایسٹ کے جنرل سیکرٹری تقدیر علی اور نائب صدر جان خالد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنماؤں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہ اٹھانے پر مقامی رہنما ناراض ہیں، پی ٹی آئی کے دو عہدیدار مستعفی بھی ہوگئے ہیں،پشاور ایسٹ کے جنرل سیکرٹری تقدیر علی اور نائب صدر جان خالد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفے پیش کئے،پی ٹی آئی کے ضلعی ترجمان رحمان سدیس کا کہنا ہے کہ تقدیر علی اور جان خالد نے قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا، دونوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استفعے دئیے-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت اس احتجاج کو ’فائنل کال‘ قرار دے رہی ہے احتجاج کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کیا ہے اور علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے جلسے کے کچھ مطالبات بھی سامنے رکھے ہیں۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عمران خان کہہ چکے ہیں کہ احتجاج میں 26ویں آئینی ترمیم کے خاتمے، جمہوریت اور آئین کی بحالی، مینڈیٹ کی واپسی اور تمام بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا،جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے تو گھروں کو واپسی نہیں ہوگی۔‘

    پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے اور ماضی قریب میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کی تھی۔

  • خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    خیبرپختونخوا کا حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے،فیصل کریم کنڈی

    ڈی آئی خان: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کا گھمبیر مسئلہ لا اینڈ آڈر ہے اور صوبائی حکومت امن وامان کے حوالے سے مکمل ناکام ہے-

    باغی ٹی وی: ڈیرہ اسماعیل خان کے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت کا فوکس صرف جلسے جلوسوں پر ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایسے عمل سے ان کا بانی رہنما رہا ہو جائے گا، جلسے جلوسوں سے کوئی قیدی رہا نہیں ہوتے-

    انہوں نے کہا کہ کے پی کی عوام اور ان کے وسائل احتجاج و جلسوں میں استعمال ہورہے ہیں، صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں میں تنخوا ہیں نہیں دی جا ر ہیں، کے پی میں روز فوجی جوانوں کےجنازے اٹھا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ فوج صوبے سے نکل جا ئے،وزیراعلی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی، انتظامیہ لا اینڈ کا نفاذ میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، پاراچنار میں ایک ماہ سے روڈ بند ہیں اور حکومت مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس پر مکمل اعتماد ہے لیکن جو سہولت فوج کے پاس ہے وہ پولیس کے پاس نہیں، دلیل اور دلائل سے وفاق سے پیسے لیں، بدمعاشی سے صوبے کو کچھ نہیں ملنے والا، ڈی آئی خان میں جلد بلاول بھٹو لفٹ کینال کا افتتاح کریں گے جس سے سبز انقلاب آئے گا، کوشش ہے دہشت گردی کا مقابلہ منصوبہ بندی کے ساتھ کریں۔