Baaghi TV

Category: پشاور

  • لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے گمبیلہ میں نامعلوم مسلح افراد نےپاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن مشال آزاد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

    نامعلوم موٹرسائیکل سوار واردات کے بعد آسانی سے فرارہو گئے،مشال آزاد پی پی پی کے ٹکٹ سے ڈسٹرکٹ کونسلر بھی منتخب ہوئے تھے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی لکی مروت کے رہنما مشال آزاد کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے، بلاول زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ مشال آزاد کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے،مشال آزاد کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،مجھ سمیت پوری پیپلز پارٹی اس مشکل گھڑی میں مشال آزاد کے خاندان کے ساتھ ہے،دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے.آمین

  • ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    کراچی: طلب میں کمی کے باعث ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے ساتھ سولر بیٹری کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی سامنے آئی ہےسولر بیٹری کی قیمت 20 فیصد تک کم ہونے کے بعد ساڑھے 4 لاکھ روپے والی لیتھیم سولر بیٹری اب 3 لاکھ 80 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق جو بیٹری 3 یا 4 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اس کی قیمت اب دو سے ڈھائی لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ کیونکہ لیتھیم بیٹریوں کی انڈسٹری میں نئی کمپنیاں آگئی ہیں اور وہ آفرز بھی اچھی دے رہی ہیں، تاجروں کے مطابق سولر پینلز سمیت سولر بیٹریوں کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے سولر مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے

  • امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے

    امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سردار علی آمین گنڈا پور کی ہدایت پر امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے، وفد کی سربراہی صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کر رہے ہیں، دیگر اراکین میں چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا ندیم اسلم چوہدری، کمشنر کوہاٹ، ڈی آئی جی کوہاٹ اور ڈی پی او سمیت دیگر اعلی افسران شامل ہیں۔

    روانہ ہونے والا وفد ضلع کرم کے حالات کا مکمل طور پر جائزہ لے گا اور امن وامان صورتحال بحال کرنے کے لیے جرگے کو دوبارہ فعال کرے گا، اس کے علاوہ دورے کے بعد وفد ضلع کرم کے امن وامان کے حوالے سے اپنی رپورٹ وزیراعلٰی خیبر پختون خوا کو پیش کرے گا۔

    صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت، پولیس اور دیگر ادارے مل کر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے اور اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

  • لنڈی کوتل: مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل: مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل پریس کلب میں سمین خان سدوخیل، آشنا گل آفریدی، خان اکبر، زرپور اور طارق شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے اپنی پدری جائیداد پر کام شروع کر دیا ہے جو پرانا سدوخیل پاٹک کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف فریق اسلام سدوخیل اور خیال مت آفریدی غیر قانونی طور پر ان کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور زمین پر ناجائز دعویٰ کرتے ہیں۔

    مشران نے مزید کہا کہ مخالف فریق نے پہلے دفعہ 107 اور پھر دفعہ 145 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی تھی، جس پر انہوں نے قانونی طور پر ضمانت حاصل کی اور عدالت سے دفعہ 145 کو ختم کروا لیا۔ سول جج کے فیصلے کے مطابق اگر کوئی بھی فریق اس زمین پر دعویٰ کرے گا تو اسے سول کورٹ میں درخواست دینی ہوگی۔

    انہوں نے بتایا کہ مخالف فریق نے عدالت سے رجوع کیے بغیر غیر قانونی طریقے سے رات کے اندھیرے میں ان کا تعمیراتی سامان اٹھا لیا، جسے انہوں نے ظلم قرار دیا۔ مشران نے لنڈی کوتل ایس ایچ او اور انتظامیہ کو نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری مخالف فریق پر عائد ہوگی۔

    انہوں نے آئی جی پی، سی سی پی او اور ڈی پی او خیبر سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہم نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، لہذا مخالف فریق سے ہمارا تعمیراتی سامان واپس کیا جائے تاکہ ہم اپنے کام کو دوبارہ شروع کر سکیں۔

  • باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعات، دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت ہو گئی

    باجوڑ میں دھماکے الگ الگ مقامات پر ہوئے، ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کے مطابق ضلع باجوڑ کے تحصیل ماموند میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں 2 افراد کی موت ہوئی ہے، پہلا بم دھماکا تھانہ لوئی ماموند کی حدود کے علاقے ایراب میں ہوا جس میں ملک اصغر کی موت ہوئی ہے،دوسرا دھماکہ تھانہ لوئی ماموند کے علاقے مینہ خوڑ میں ہوا جس میں پولیس اہلکار احسان اللہ کی موت ہوئی ہے،

    شہید پولیس اہلکار احسان اللہ کی نمازِ جنازہ پولیس لائن باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ ادا کردی گئی۔پولیس جوانوں کے چاک وچوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی اور انکے بلند درجات کیلئے اجتماعی دعا کی گئی۔

    ڈی پی او باجوڑ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ہونے والے دو دھماکوں کے واقعات کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے

  • کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    21 نومبر کو کرم میں پیش آنے والا المناک واقعہ پوری قوم کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا۔ اس حادثے کے بعد ہر دل دعاگو تھا کہ حالات پر قابو پا لیا جائے اور نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے حساس موقع پر بھی کچھ افراد نے اپنی ذاتی سیاست چمکانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

    پی ٹی آئی سے وابستہ دو بھائی، سابق آئی جی پولیس سید ارشاد حسین اور ریٹائرڈ ائیر مارشل قیصر حسین، نے اس سانحے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ قافلے کی سیکیورٹی فوج کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جنہوں نے مبینہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کی جان بچانے میں ناکامی دکھائی۔یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قافلے کی حفاظت پولیس کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جبکہ فوج اس مقام سے میلوں دور موجود تھی۔ حادثے کے فوری بعد، فرنٹیئر کور اور فوج نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔

    سابق آئی جی سید ارشاد حسین، جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کے پی کے حلقہ 96 سے امیدوار بھی رہ چکے ہیں، کا یہ رویہ ان کی غیر ذمہ داری اور جھوٹ بولنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے حساس مواقع پر جب قوم متحد ہو کر مسائل کا سامنا کرنے کی کوشش کرتی ہے، سیاسی مفادات کے لیے جھوٹ پھیلانا نہایت گھناؤنا عمل ہے۔یہ وقت اتحاد اور حقائق کو سمجھنے کا ہے، نہ کہ افواہوں اور جھوٹ کی بنیاد پر الزام تراشی کا۔ کرم کے عوام اور پاکستانی قوم کو چاہیے کہ ایسی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور ان عناصر کو مسترد کریں جو اپنی سیاست کے لیے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کہتے ہیں کہ حالیہ دو ماہ سے پاراچنار اور کرم کی سڑک بند تھی، اختلاف شدت پر تھا۔ اب دو قبائل کی لڑائی کو فوج نے نہیں بلکہ سول انتظامیہ نے جرگے کے ذریعے حل کرنا تھا۔ آپ مجھے بتائیں کہ دو بڑے شہروں کا رابطہ بند ہے، کیا گنڈاپور سمیت کوئی ایک تحریک انصاف کا صوبائی عہدیدار صلح کروانے گیا؟ کسی نے جرگہ بلایا؟اب یہ جرگہ بلانا عطا تارڑ، رانا ثنا، شہباز شریف یا جنرل عاصم منیر کی ذمہ داری تھی یا خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کی؟

    صوبائی حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟
    انکی سنجیدگی کا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اتنا افسوس ناک واقعہ ہونے کے باوجود آج بھی وہ عمران خان کے لئے دھرنوں کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وزیر اعلی سے لیکر صوبائی کابینہ کا ایک بندا وہاں نہیں پہنچا۔ میں آپ سے ابھی کا گنڈاپور کا بیان شئیر کر رہا ہوں تاکہ آپ کو سنجیدگی کے عالم کا اندازہ ہوجائے۔

    اب میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں!کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کس کی حکومت ہے؟12 سال سے تحریک انصاف کی،کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کتنی پولیس ہے؟4 لاکھ،کیا آپ جانتے ہیں کہ اس 4 لاکھ پولیس کو کون چلاتا ہے؟وزیر اعلی خیبر پختونخواہ- انہوں نے پچھلے ماہ قانون بنا کر آئی جی کا رول بھی صفر کردیا ہے۔ایک مرتبہ سیاست کی پٹی اتار کر اپنی عقل سے سوچیں کہ جرگہ کروانا، امن و امان بحال کروانا، صوبے کے عوام کی خفاظت کرنا، مظلوموں کے جنازوں میں شریک ہونا، یہ سب سے زیادہ کس کی ذمہ داری تھی؟

    جس بندے کی ذمہ داری تھی وہ اسلام آباد میں حملے پلان کر رہا تھا
    اب یہ نمونے لانچ کردیتے ہیں، کبھی آئی جی ارشاد حسین جو خود تحریک انصاف کا امیدوار رہا ہے اور کبھی علامہ راجہ ناصر جو تحریک انصاف کی طفیل سیٹ لے گئے۔بیشرمی کی جو آخری حد ہے، یہ لوگ وہ حد بھی کراس کرچکے ہیں۔ کل یہی لوگ نک دا کوکا پر ناچ ناچ کر اسلام آباد داخل ہونگے جبکہ پاراچنار میں مظلوم رو رہے ہیں!
    اب ایک سوال لازمی اٹھنا چاہئے!فوج کیا کر رہی ہے؟فوج نے آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا، جس کو خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے رد کیا اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن سے روک دیا۔ اب فوج صرف اپنی موجودہ حالت پر قائم ہے جہاں دہشتگرد کھلم کھلا حملے کر رہے ہیں اور پرسوں 12 جوان شہید ہوئے۔فوج اگر خیبر پختون خواہ میں کوئی آپریشن کرنا چاہے تو اسکے لئے آئین کے مطابق صوبائی حکومت کی درخواست موجود ہونا ضروری ہے۔اگر فوج کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو صوبائی حکومت استعفی دے دے اور ساری ذمہ داری فوج کے حوالے کردیں، پھر فوج ذمہ دار۔12 سال حکومت یہ کریں گے، 4 لاکھ پولیس سے پروٹوکول یہ لیں گے اور صوبے کا امن و امان تباہ ہونے پر ذمہ دار پاک فوج اور وفاق ہونگے؟یہ کہاں کا انصاف ہے؟خدارا اس منافقین کے ٹولے کو پہچانیں۔

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

  • پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور وکلاءالجھ پڑے تو ججز سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے گئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشدعلی اور جسٹس وقار احمد نے کی،عدالت نے 24نومبر احتجاج کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کرلی۔ججز نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا الزام ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری وسائل لے کر اسلام آباد جاتی ہے، کیا صوبائی حکومت نے ہدایات جاری کی ہے کہ مشینری کا استعمال کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے روسٹرم پر بلالیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ غلط بیانی ہے۔حکومت نے کوئی ہدایت نہیں دی اس لئے درخواست قابل سماعت نہیں خارج کی جائے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار کا الزام ہے کہ آپ سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہاکہ اسلام آباد میں اس نوعیت کا کیس چل رہا ہے سر یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔وکیل درخواستگزار نے کہاکہ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں آگ لگی تو ریسکیو گاڑیاں کم پڑ گئی تھیں۔پی ٹی آئی احتجاجوں میں ریسکیو گاڑیاں لے کر گئی۔گاڑیاں اب اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔جسٹس ارشد نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں ہے سرکاری وسائل اور ملازمین کو احتجاج میں آنے کا حکم دیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے سرکاری وسائل سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کو ایسے احکامات ملے ہیں یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ بیٹھاتھا ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے، میں پھر بھی پوچھ لیتا ہوں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ہمیں کچھ دیر تک آگاہ کریں کہ کیا معاملہ ہے۔وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیا احکامات ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ درخواست درست نہیں، ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔جسٹس ارشدعلی نے ریمارکس دیئے کہ ہم دائرہ اختیار پر بات نہیں کر رہے ہیں۔
    جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ یہ بتائیں حکومتی اداروں کو کوئی احکامات جاری ہوئے یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نہیں، سرکاری اداروں اور اہلکاروں کو کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایسے معاملات میں تحریری احکامات جاری نہیں ہوتے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اگر سرکاری ملازمین خود جاتے ہیں تو ہم ان کو تو نہیں روک سکتے۔جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دئیے کہ ایسا احتجاج نہ ہو کہ سڑکیں بند ہو لوگوں کو مشکلات نہ ہو ۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج سے تکلیف تو ہمیں بھی ہوتی ہے،ایک دفعہ سوات سے آرہے تھے تمام راستے بند تھے،کن کن راستوں سے آنا پڑا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے گھر کو آگ لگے گی اور انہوں نے مشینری احتجاج پر لگائی ہوگیہم ایسا آرڈر کیسے کر سکتے ہیں جو کل نافذالعمل نہ ہو۔ان کو روڈ بند کرنے سے روکیں، سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روکیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 800 کنٹینرز لگا رکھے ہیں، شہری حقوق سلب ہورہے ہیں تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ عوام صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے تنگ ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین مجھے جلسے کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کسی اور کے کہنے پر رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکلا اور ایڈوکیٹ جنرل آپس میں الجھ پڑے جس پر پشاور ہائیکورٹ کے ججز احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے اور سماعت کو ادھورا چھوڑ دیا۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • کرم واقعہ،  خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

    کرم واقعہ – خود غرض بیانیوں کی ایک کلاسیکل مثال
    اپنے ذاتی مفادات کے تحت، کوئی اسے دہشت گردی قرار دیتا ہے، کوئی فرقہ واریت کا مسئلہ کہتا ہے، اور کچھ اسے پشتونوں کا قتل قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب، کچھ لوگ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تو کچھ پوچھتے ہیں کہ سیکیورٹی کہاں تھی؟

    حقیقت میں، یہ کچھ اور نہیں بلکہ قبائلی انتقام کی روایتی جھلک تھی۔ وہ قبائل جو اپنے پیدائشی حق کے طور پر غیر رجسٹرڈ اسلحہ رکھنے اور آزادی سے گھومنے اور روایات کے نام پر قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ اب انتظار کریں کہ دوسرا فریق کس طرح اس حساب کو برابر کرے گا۔پھر ایک بار خود غرض بیانیوں کی عارضی گونج ہوگی، لیکن افسوس! سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی۔

    سچ بولو! ہم کیسی قوم بن گئے ہیں؟

    سچ بولیں! ہم کس قسم کی قوم بن چکے ہیں؟
    کچھ لوگ آزادی چاہتے ہیں کہ وی پی این کے ذریعے غیر اخلاقی مواد دیکھ سکیں!
    کچھ روایات اور انتقام کے نام پر قتل کو اپنا حق سمجھتے ہیں!
    ‼️ کچھ آئینی حقوق کے نام پر ملک کی سڑکیں جام کرنا چاہتے ہیں!
    اور کچھ آزادیِ اظہار کے نام پر جھوٹ پھیلانے اور نفرت انگیزی کو فروغ دیتے ہیں!

    یہ قتل و غارت کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں۔

  • خیبر: کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    خیبر: کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    خیبر(باغی ٹی وی رپورٹ)کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    تفصیل کے مطابق خیبر میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ خیبر کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا اہم جرگہ منعقد ہوا۔ یہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس خیبر میں منعقد کیا گیا، جس میں کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور قاسم خان، ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال شاہد راو، ضلعی پولیس سربراہ رائے مظہر اقبال، اور دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت قبائلی مشران نے شرکت کی۔

    جرگہ میں ضلع خیبر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، خاص طور پر تیراہ اور باغ میدان میں حالیہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمشنر ریاض خان محسود نے مشران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جو صرف قبائلی اقوام، نوجوانوں، اور بلدیاتی نمائندوں کے تعاون سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز علاقے میں امن کے قیام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہیں۔

    اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ بھوٹان شریف اور پیر میلہ کے متاثرین کے لیے صوبائی حکومت نے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے کی مالی امداد منظور کی ہے، جو جلد متاثرہ خاندانوں کو فراہم کی جائے گی۔ مشران نے جرگہ کے دوران قومی سطح پر خصوصی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا، جو اعلیٰ سول اور عسکری حکام کے ساتھ جرگہ میں شرکت کر کے اپنی سفارشات پیش کریں گی۔

    قبائلی مشران نے جرگہ کے انعقاد اور ان کی رائے سننے پر کمشنر پشاور، سی سی پی او پشاور، اور ضلعی انتظامیہ خیبر کا شکریہ ادا کیا۔ جرگہ نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے کو امن کا گہوارہ بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    پشاور: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا (کے پی) ندیم اسلم چوہدری نے صوبائی انتظامیہ اور پولیس کو خط لکھا ہے-

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے آئی جی خیبرپختونخوا، صوبائی سیکرٹریز ، کمشنرز اور پولیس افسران کو خط لکھا ہے خط میں کہا گیا ہےکہ پولیس اور انتظامی افسران سیاسی قیادت کے صرف وہ احکامات مانیں، جو آئینی دائرے میں ہوں کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی احکامات پرتعاون کرنے کے نتائج ہوں گے، افسران کسی دباؤ یا لالچ میں سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ تمام افسران پیشہ وارانہ ضابطہ اخلاق کی پاپندی کریں، قانون کو بغیرکسی خوف، حمایت یا تعصب کے برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان کے لیے وژن ہماری رہنمائی کی روشنی ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ غیر سیاسی، غیر جانبدار رہنا، ثابت قدمی سے قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم رہنا، عوامی اعتماد کے رکھوالوں کے طور پر ہم اس کے پابند ہیں۔

    چیف سیکرٹری نے انتباہ کیا ہےکہ سیاسی منظر نامے سے قطع نظر غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں، ہمارا حلف آئین اور ریاست کے لیے ہے ،کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کے لیے نہیں، آپ کو کسی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے دباؤ میں نہیں آناچاہیے۔

    چیف سیکرٹری نے کہا ہےکہ آپ نے بے خوف ہوکر اپنی ساکھ، اپنے وقار کو برقرار رکھنا ہے سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیار کا غلط استعمال کسی دباؤ یا لالچ میں نہ کریں سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں کوئی بھی سرکاری املاک، سامان اور اتھارٹی کے استعمال پر دباؤ قبول نہ کرے، کسی بھی سیاسی جماعت کی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سپورٹ نہ کی جائے، ایسے اقدامات سے بحیثیت پبلک سرونٹ ہمارا احترام بڑھےگا، احکامات نہ ماننے پر کار روائی کی جائے گی۔