Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ تارڑ

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ تارڑ

    اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی: دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی عدم توجہ، معاشی ترقی کے لئے وفاقی حکومت کے اقدامات، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں میں مشغولیت، صوبے میں دانش سکول کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا-

    ملاقات میں خیبر پختونخوا میں سیکورٹی کے حوالے سے موجودہ صورتحال، اس میں بہتری کے لئے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا-

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کو انتشاری سیاست سے دور رکھنے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے،جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں سیکورٹی کے حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے-

    دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ہوا،وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں دانش سکول کے قیام اور معیاری تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہےخیبر پختونخوا کے عوام ہمارے بھائی ہیں، ان کی فلاح و بہبود وفاق کی اولین ترجیح ہے،خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا، خیبر پختونخوا میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا-

    ملاقات میں ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا حب بنانے اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، گورنر خیبر پختونخوا نے وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے ماتحت اداروں میں ہونے والی جدت اور مثبت تبدیلیوں کو خوش آئند قرار دیا-

  • خیبر پختونخوا،احتجاج کرنیوالے اساتذہ معطل،سکول بند،احتجاج جاری

    خیبر پختونخوا،احتجاج کرنیوالے اساتذہ معطل،سکول بند،احتجاج جاری

    صوبہ خیبر پختونخوا میں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والے اساتذہ کو بطور سزا معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    اساتذہ کی معطلی نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد پشاور میں اساتذہ کا احتجاج جاری ہے، اساتذہ کا کہنا ہے کہ ہمارے جائز مطالبات ہیں احتجاج آئینی حق ہے ہر چیز کو طاقت سے دبانا یہ کونسا جمہوری طریقہ ہے.صوبے بھر میں تیسر ے روز آج بھی تعلیمی ادارے بند ہیں، خیبر پختونخواہ میں 26 ہزار سرکاری سکول بند ہیں، پرائمری ٹیچرز کا احتجاج آج بھی جاری ہے اساتذہ کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا

    پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا سٹڈی سرکل کے انچارج کامریڈ انور زیب اور پیپلز لیبر بیورو خیبر پختونخوا کے صدر شاہ ذوالقرنین نے دھرنے میں شرکت کی۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کامریڈ انور زیب نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اکتوبر 2022 میں کیے گئے سرکاری اساتذہ کی اپ گریڈیشن، پروموشن اور پنشن کے فیصلوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افسر شاہی اصلاحات کے نام پر سرکاری اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔کامریڈ انور زیب نے اسکولوں اور اسپتالوں کی نجکاری کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پی آئی اے، واپڈا، سول ایوی ایشن، ریلوے اور دیگر اداروں کی نجکاری منظور نہیں، اسی طرح اسکولوں اور اسپتالوں کی نجکاری بھی منظور نہیں کی جائے گی۔

    فنڈز صوبوں پر چڑھائی اور 804 کے انتشار پر لگیں گے تو اساتذہ کے مطالبات کیسے منظور ہونگے؟
    لاہور سے صحافی سید امجد حسین بخاری ایکس پر کہتے ہیں کہ صوبے بھر کے 26ہزار پرائمری سکول چار روز سے بند ہیں۔اب ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کو معطل کرنے کے احکامات دے دئیے گئے ہیں، اساتذہ کے صرف دو بنیادی مطالبات ہیں پہلا مطالبہ سکیل پنجاب اور سندھ کے اساتذہ کے برابر یعنی 14کیا جائے۔ سروس اسٹریکچر میں بہتری کی جائے۔ محمود خان کابینہ نے اس حوالے سے وعدہ بھی کیا مگر حکومت ختم ہونے کے بعد نگران کابینہ نے بجٹ دیا۔ نئی کابینہ کے سامنے معاملہ رکھا گیا مگر شہرام تراکئی نے موقف اپنایا کہ صوبے کے پاس فنڈز نہیں ہیں، جی بالکل اگر فنڈز صوبوں پر چڑھائی اور 804 کے انتشار پر لگیں گے تو اساتذہ کے مطالبات کیسے منظور ہونگے؟

  • ٹرمپ کو مبارک دی،امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں،عمر ایوب

    ٹرمپ کو مبارک دی،امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں،عمر ایوب

    پشاور:گرفتاری کا خدشہ: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے

    پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور راہداری ضمانت درخواستوں پر سماعت کی،عدالت نے عمر ایوب کی 2 دسمبر تک راہداری ضمانت درخواست منظور کر لی،عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ عمر ایوب پر اسلام آباد اور پنجاب میں 21 مقدمات درج کئے گئے ہیں، درخواست گزار متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے،راہداری ضمانت منظور کی جائے،

    عدالت پیشی کے موقع پر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آج پشاور ہائیکورٹ کا ممنون ہوں، حق سچ کا ساتھ دیا، ضمانت کے لئے آیا تھا، پاکستان میں اس وقت قانون کی عملداری کا فقدان ہے، ہر ایک کیس میں مجھے نامزد کیا جارہا ہے، فارن ایکٹ کا کیس بھی مجھ پر ڈالا، ہم اسکی مذمت کرتے ہیں، عمران خان تک ہمارے ساتھیوں کی رسائی نہیں ہو رہی، آج ملاقات شیڈول ہے، دیکھین اسکا کیا بنتا ہے، پچھلے دنوں عمران سے ٹی وی، اخبار کی سہولیات لی گئیں، پانی بجلی کاٹ دیا جاتا تھا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، اعظم سواتی کو ایک بار پھر اندر کر دیا گیاسیمابیہ طاہر کی کل رہائی ہوئی، یہ آئی ایم ایف کے ٹارگٹ نہیں پورے کر رہے، منی بجٹ انکو لانا پڑنا ہے، ملک میں مہنگائی کا سیلاب ہے،ایک بے چینی ہے،ہم جمہوری احتجاج کریں گے، غیر جمہوری برتاؤ درست نہیں، ہم کسی کا گلا نہیں کاٹ سکتے، آرمی ایکٹ کا طریقہ کار غلط تھا یہ ہاؤس کمیٹی میں جانا چاہیے تھا،میں جوڈیشل کمیشن کا ممبر ہوں، وہاں ہم نے پوائنٹ آف ویو دیا تھا، میں نے ٹرمپ کو مبارکباد دی ہے اور یہی کہا ہے کہ امریکی اور پاکستانی عوام کے درمیان رابطے بہتر ہوں گے، ملکوں کی دوستی ہونی چاہئے، بہت سارے پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں، ہم چاہتے ہیں تعلقات اچھے ہونے چاہئے،

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

  • سوشل میڈیا کی دوستی،خواجہ سرا نے مدرسہ کی طالبہ کو شادی کے بہانے کیا اغوا

    سوشل میڈیا کی دوستی،خواجہ سرا نے مدرسہ کی طالبہ کو شادی کے بہانے کیا اغوا

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں خواجہ سرا نے لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کرنے کی کوشش کی ،لڑکی کی جانب سے اندراج مقدمہ کے بعد خواجہ سرا کو گرفتار کر لیا گیا

    پشاور کے علاقے چمکنی میں خواجہ سرا افتخار نے سوشل میڈیا کے ذریعے مدرسے میں پڑھنے والی لڑکی کے ساتھ دوستی کی اور اس کو شادی کا جھانسہ دیا، خواجہ سرا نے طالبہ کو اپنے گھر بلایا ،اور وہیں گھر میں رہی رکھ لیا، لڑکی کو واپس نہ جانے دیا جس پر لڑکی کے والدین نے گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا، مدرسہ کے حکام، والدین اور پولیس نے لڑکی کی تلاش شروع کر دی، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے خواجہ سرا افتخار کے گھر سے اکتوبر میں لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا،پولیس نے لڑکی کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے، پولیس نے لڑکی کو دوبارہ مدرسے میں منتقل کردیا ہے، ملزم افتخار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، ملزم خواجہ سرا افتخار پیشے کے لحاظ سے نرس ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں،

    پولیس حکام کے مطابق مغوی لڑکی کو خواجہ سراء کے گھر سے بازیاب کرا یا گیا ہے، 22 اکتوبر کو لڑکی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ پشاورکے تھانے چمکنی میں درج ہوئی تھی

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، اسد قیصر

    ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات صوابی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ قوانین کو جمہوریت کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔اسد قیصر نے حکومت کے نئے قانون پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا، جس کے تحت کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر تین ماہ تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو "جنگل کا قانون” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا نظام قائم کر دیا گیا ہے جہاں شہریوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، "اس ملک کو انہوں نے بنانا ریپبلک بنا دیا ہے، اس ملک میں جنگل کا قانون ہے، کیا اس طرح ملک میں زندگی بسر ہو سکتی ہے؟
    سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اسد قیصر کے مطابق، "بلاول اور نواز شریف نے عدالتوں کا جنازہ نکال دیا، عدالت اب عدالت نہیں رہی۔” انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ جمہوریت کے اصول ہیں جس پر یہ دونوں رہنما بات کرتے ہیں؟اسد قیصر نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ملک خدا نخواستہ خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی وحدت اور امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اسد قیصر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ "اس ملک کے حقیقی مالک عوام ہیں، اور یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ "یہ حکومت آپ کو ہضم نہیں کرنے دے گی اور کہا کہ "جنگ آپ نے شروع کی تھی، ختم ہم کریں گے۔

  • خیبرپختونخوا: سابق آفیسرز 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے،

    خیبرپختونخوا: سابق آفیسرز 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے،

    پشاور: خیبرپختونخوا میں محکمہ ایکسائز کے سابق افسران کے خلاف سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر سخت اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں موصولہ دستاویزات کے مطابق، مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سابق ڈی جیز اور سیکرٹریز نے تقریباً 70 سے زائد قیمتی سرکاری گاڑیاں اپنے ذاتی استعمال میں لے لی ہیں، جس پر محکمے نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ ایکسائز کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سابق ڈی جی عاطف الرحمٰن کے پاس تین، سابق سیکرٹری ایکسائز اسلام زیب کے پاس چار، سابق ڈی جی ثاقب رضا اور عادل شاہ کے پاس بھی تین تین گاڑیاں جبکہ سابق سیکرٹری اقبال حیدر کے پاس چار گاڑیاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ڈی جی ایکسائز ظفر اسلام بھی تین گاڑیاں محکمے سے لے کر گئے ہیں۔
    دستاویزات کے مطابق دیگر آفیسرز جن میں شاہ فہد، رفیق مہمند، محمد طاہر، عبدوالی منصور، ارشد مشرف مروت، یوسف کریم، سید مظہر علی شاہ، عطا الرحمٰن، ظاہر شاہ، محمد اکبر، نسیم حان، خالد مطیع اللہ، شاہ نواز، انعام گنڈاپور، اور فضل الہی شامل ہیں، ہر ایک نے ایک ایک گاڑی اپنے قبضے میں رکھی ہوئی ہے۔محکمہ ایکسائز کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گاڑیاں واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والے آفیسرز کے گھروں پر چھاپے مارنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ان گاڑیوں کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔ محکمہ ایکسائز کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ کارروائی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات کے تحت کی جا رہی ہے اور سرکاری گاڑیوں کی واپسی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کے خلاف سختی سے نوٹس لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار کسی بھی افسر کو سرکاری گاڑیاں اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ یہ گاڑیاں واپس لی جائیں۔محکمہ ایکسائز کی اس فوری اور سخت کارروائی نے جہاں دیگر افسران کو بھی محتاط کر دیا ہے، وہیں عوامی سطح پر بھی اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔

  • علی امین گنڈا پور کی گورنر فیصل کریم کُنڈی سے ملاقات

    علی امین گنڈا پور کی گورنر فیصل کریم کُنڈی سے ملاقات

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس پشاورپہنچے،علی امین گنڈا پور نے گورنر فیصل کریم کُنڈی سے ملاقات کی، ملاقات میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے مسائل کے حل کیلئے وفاق سے بات کروں گا-

    باغی ٹی وی : وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور حلف برادری کی تقریب میں شرکت کے لیے گورنر ہاؤس پہنچے جہاں پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان کا استقبال کیا،اس موقع پر گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ملاقات کی جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال، مسائل و حقوق پر تبادلہ خیال کیا گیا، علاوہ ازیں صوبے میں سیاحت کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

    فیصل کریم کنڈی اور علی امین گنڈاپور نے صوبے میں امن کے قیام کی کوششوں پر اتفاق کیا،گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قیام امن، مسائل کے حل اور وسائل کے حصول دونوں متحد ہو کر کوشش کریں گے، صوبے کے وکیل کا کردار ادا کروں گا، مسائل کے حل کے لیے میں وفاقی حکومت سے رابطہ کروں گا۔

    ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ

    پنجاب: پرائمری سے ہائیر سیکنڈری تک اسکولز بند کرنے کا اعلان

    پاکستان کےمحمد آصف نے تیسری بار ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی

    ملاقات میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی،آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان گنڈاپور بھی موجود تھے۔

  • جسد خاکی کی بروقت منتقلی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا مفت ایمبولینس سروس منصوبہ

    جسد خاکی کی بروقت منتقلی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا مفت ایمبولینس سروس منصوبہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے جسد خاکی کی مفت منتقلی کے لیے ایک ایمبولینس سروس منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر جسد خاکی منتقلی کے لیے ایک ڈیسک قائم کرنے کے لیے خط لکھ دیا گیا ہے۔یہ خط ڈائریکٹر جنرل ریسکیو ڈاکٹر ایاز کی جانب سے ائیرپورٹ انتظامیہ کو ارسال کیا گیا ہے، جس میں بیرون ملک سے جسد خاکی کی منتقلی کے حوالے سے ایک میٹنگ کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ حکومت کو 3 ایمبولینسز کی پارکنگ، عملے کے لیے رہائش اور معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیسک کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ یہ منصوبہ آئندہ ماہ شروع کرنے کی توقع ہے، جس کے تحت 9 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 ایمبولینسیں خریدی جائیں گی۔ اسلام آباد ائیرپورٹ اور باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہر ایک کے لیے 3 ایمبولینسز 24 گھنٹے دستیاب رہیں گی۔
    ڈاکٹر ایاز کے مطابق، دونوں ائیرپورٹس پر ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں گے جہاں سے لواحقین کو مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ سروس مفت فراہم کی جائے گی تاکہ بیرون ملک سے آنے والے جسد خاکی کو ائیرپورٹس سے متعلقہ علاقوں تک بروقت پہنچایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، بیرون ملک سے روزانہ 4 سے 5 جسد خاکی خیبرپختونخوا منتقل کیے جاتے ہیں۔ڈی جی ریسکیو نے مزید کہا کہ جسد خاکی کی بروقت منتقلی میں لواحقین کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے پیاروں کو کھو دیتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران، خیبرپختونخوا میں 2 ہزار سے زائد جسد خاکی بیرون ملک سے منتقل کیے گئے۔اس منصوبے کا مقصد نہ صرف لواحقین کی مشکلات کو کم کرنا ہے بلکہ ان کی مدد کرنا بھی ہے، تاکہ وہ اپنے پیاروں کے آخری سفر میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کریں۔ یہ اقدام خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس کی عوام میں پذیرائی متوقع ہے۔

  • عاطف خان کو نوٹس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آگیا

    عاطف خان کو نوٹس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کو خیبرپختونخوا کی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ طلبی نوٹس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا جواب سامنے آ گیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے ایک مبینہ آڈیو میں عاطف خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "عاطف خان پہلے تصدیق کر لیا کریں، میں یہ کام کروں اتنا فارغ نہیں ہوں، میرے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔” اس کے جواب میں عاطف خان نے کہا کہ "سب جانتے ہیں اینٹی کرپشن کا نوٹس کیوں اور کس کے کہنے پر آیا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ "یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی حرکت کرنے پر میں چپ بیٹھوں گا تو ایسا نہیں ہے، پارٹی کا نقصان عمران خان کا نقصان ہے۔
    عاطف خان نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہا کہ "سب جانتے ہیں کہ اینٹی کرپشن کا نوٹس کیوں آیا ہے، ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا، میں ان چیزوں سے بڑی بڑی چیزوں سے نکل آیا ہوں۔” انہوں نے اپنے سابقہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس سے پہلے بھی نیب نے انکوائری کی تھی اور بند کردی تھی، 2014 میں پرویز خٹک چیف منسٹر تھے اور محمود خان ٹورازم کے منسٹر تھے۔عاطف خان نے یہ بھی کہا کہ "سینیٹر محسن عزیز نے یہ پراسس کروایا تھا، وہ اس وقت بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہیڈ کر رہے تھے اور اعظم خان اس وقت سیکرٹری ٹورازم تھے۔
    علی امین گنڈاپور نے عاطف خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہیثیت کی باتیں نہ کریں، آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتی، دھمکیوں سے کوئی نہیں ڈرتا۔” انہوں نے مزید کہا، "یہ بدمعاشی کی بات نہیں ہے، کوئی کسی کی بدمعاشی اور دھمکیاں نہیں مانتا۔ آپ کی یہ حیثیت ہے کہ آپ اتنے اہم نہیں۔وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ "جو انکوائری شروع ہوئی ہے وہ کوئی اور ہے، وہ نہیں جو آپ بتا رہے ہیں۔ انکوائری میں آپ جا کر جواب دیں گے، میں نے پہلے بھی آپ کو برداشت کیا تھا۔خیبرپختونخوا کے سابق صوبائی وزیر عاطف خان کو اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی جانب سے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں 12 نومبر کو صبح ساڑھے 10 بجے اینٹی کرپشن ڈائریکٹریٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عاطف خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف یہ انکوائری کی جا رہی ہے۔

    تنازعات اور گروپ بندی کی تردید
    اس سے پہلے بھی علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے درمیان تنازعات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جس پر عاطف خان نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ "ہم کوئی گروپ بندی نہیں کررہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کوئی قرار داد نہیں لانی۔خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر شکیل خان کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر عاطف خان اور جنید اکبر کے درمیان اختلافات بھی دیکھنے کو ملے تھے، جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے عمران خان کو شکایت کی تھی۔یہ صورتحال پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات کی عکاسی کرتی ہے اور پارٹی کی قیادت کے لیے چیلنجز کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب کہ عوامی سطح پر ان الزامات کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔

  • خیبرپختونخوا اسمبلی: وزرا کی مراعات میں اضافہ، شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کی منظوری

    خیبرپختونخوا اسمبلی: وزرا کی مراعات میں اضافہ، شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کی منظوری

    پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزرا کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے لیے ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے تحت وزرا کو دی جانے والی مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں کرائے کی مد میں ادائیگی اور سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز شامل ہیں۔ترمیمی بل کے تحت کابینہ کے ہر رکن کو سرکاری رہائش گاہ نہ ملنے کی صورت میں دو لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی مد میں دیے جائیں گے۔ یہ سہولت ان وزیروں کو بھی دی جائے گی جو پشاور میں اپنے ذاتی گھروں میں رہائش پذیر ہیں، جس کے تحت انہیں بھی ماہانہ دو لاکھ روپے کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے وزرا کو ایک بار 10 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے، جس میں وہ قالین، پردے، ایئرکنڈیشنر، اور ریفریجریٹر جیسی اشیا خرید سکیں گے۔ تاہم، وزرا کو عہدہ چھوڑنے کے بعد تمام خریدی گئی اشیا محکمہ انتظامیہ کے حوالے کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔اسمبلی کے اجلاس میں لینڈ اینڈ بلڈنگ ریونیو کنٹرول ترمیمی بل 2024 بھی وزیر قانون آفتاب عالم کی جانب سے پیش کیا گیا، جسے اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اس بل کے ذریعے صوبے کے زمینی اور تعمیراتی معاملات میں ریونیو کنٹرول کے حوالے سے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جو کہ بہتر انتظام اور ریونیو کے حصول کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد

    توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی نے شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری توانائی بحران کے پیش نظر شادی ہالوں کو جلدی بند کیا جائے تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے۔ اس قرارداد کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن مشتاق غنی نے پیش کیا۔ قرارداد میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔یہ تمام بلز اور قراردادیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی اکثریت سے منظور کی گئیں، جو کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا اظہار ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں انتظامی بہتری، مالی استحکام، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے۔