Baaghi TV

Category: پشاور

  • پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں جس کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشال یوسفزئی کو ہٹانے سے متعلق علم نہیں ،اس سے متعلق صوبائی حکومت کا ترجمان ہی بتا سکتا ہے، مشال یوسفزئی نے کہا کہ میں نے میڈیا کو انٹریو دیا اس لیے ہٹایا گیا۔

    کچھ دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ناکام احتجاج پر کہا تھا کہ احتجاج کے دوران بڑے بڑے عہدوں والے کہاں تھے؟ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ سمیت پنجاب کی لیڈر شپ کہاں غائب رہی ؟ علی امین اور عمر ایوب کے سوا احتجاج میں کوئی سیاسی لیڈر شپ موجود نہیں تھی۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور حکومت سنگجانی میں احتجاج پر راضی تھے لیکن بشریٰ بی بی نے بات کیوں نہیں مانی؟ ہم ڈی چوک کیوں گئے؟ پارٹی کو سیاسی لیڈرشپ چلائے گی یا بشریٰ بی بی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مشال یوسفزئی کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی معاون خصوصی کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہےمشال یوسفزئی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہیں معاونِ خصوصی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےمجھے نجی ٹی وی کو انٹرویو کی بنیاد پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

  • ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں موجود اختلافات کے بارے میں وضاحت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں ہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی میں شدید اختلافات کی وجہ سے کوئی تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ واقع ہو سکتی ہے۔شوکت یوسفزئی نے مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔ مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں صوبائی حکومت کا ترجمان ہی وضاحت دے سکتا ہے۔شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات اور پارٹی کی موجودہ صورتحال نے انہیں مایوس کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت سے انہیں کچھ زیادہ توقعات تھیں لیکن اب وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترے۔

    شوکت یوسفزئی کے بیانات اور مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بعد پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں مزید کشیدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پارٹی کی قیادت کی طرف سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی مکمل وضاحت نہیں آئی، جس کے باعث پارٹی کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    شاور پولیس نے رواں سال کے دوران پیش آنے والے قتل و اقدام قتل کے واقعات کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا جاری کیا ہے، جس کے مطابق اب تک 574 افراد، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، قتل ہو چکے ہیں۔ ان افراد میں 415 مرد، 49 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق، 804 ایسے واقعات بھی مختلف تھانوں میں رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اقدام قتل کی کوشش کی گئی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے قتل کے واقعات میں 33 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوں کے قتل کے واقعات میں 4 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2023 میں قتل کے واقعات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اقدام قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 618 افراد قتل ہوئے تھے جبکہ اقدام قتل کے 773 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) قاسم علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے بیشتر واقعات جائیداد اور زمینی تنازعات کی وجہ سے پیش آ رہے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قسم کے تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔

    پولیس کے مطابق، قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ زمینوں کی ملکیت، جائیداد کے تنازعات اور خاندانی جھگڑے ہیں۔ یہ واقعات بعض اوقات مقامی سطح پر غیر قانونی قبضوں اور لینڈ مافیا کے ساتھ بھی منسلک ہوتے ہیں، جو امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

    سی سی پی او قاسم علی خان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے واقعات میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام پولیس کے ساتھ مل کر ان معاملات کو حل کرنے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس قسم کے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، مگر اس میں عوام کا تعاون بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پشاور پولیس نے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ایک مہم بھی شروع کی ہے تاکہ وہ جرائم کی روک تھام میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور معاشرتی مسائل کو مل کر حل کیا جا سکے۔

  • خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر  میں  زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا کے علاقوں پشاور،شمالی وزیرستان، چترال، سوات،شانگلہ، چارسدہ، بٹگرام، مانسہرہ، تورغراور مالاکنڈکے علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیااور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.2ریکارڈ کی گئی،زلزلے کی گہرائی 212کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

  • ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    کے پی کے کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے سامنے آنے پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کرالیا، آپریشن شروع ہوتے ہی وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئیں اور کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی اسلام آباد سے فرار کے بعد مانسہرہ پہنچے تھے۔مانسہرہ میں پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ایک کارکن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نئی حکمت عملی کیا ہے؟ اس پر علی امین کا کہنا تھاکہ نئی حکمت عملی بانی پی ٹی آئی خود دیں گے۔ایک اور کارکن نے پوچھاکہ آپ کیسے یہاں پہنچے ؟ جبکہ ایک کارکن نے شعر پڑھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے سوال کیا۔ کارکن نے شہاب جعفری کا ’تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا‘ شعرپڑھا تاہم وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کارکنوں کے جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

  • کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    ضلع کرم میں متحارب فریقین کے درمیان سیز فائر میں تین روز کی توسیع کردی گئی ہے اور سیز فائر اب دس دنوں کے لئے ہوگا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت مانسہرہ میں سپیکر بابر سلیم سواتی کی رہائش گا پر ہونے والے اجلاس میں ضلع کرم کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر نے شرکت کی۔حکام کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو کرم کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ کرم میں متحارب فریقین کے درمیان دس دنوں کے لئے سیز فائر ہوا ہے جو پہلے سات دنوں کے لئے ہوا تھا جبکہ مسلئے کے پر امن حل کے لئے مزاکرات کا عمل جاری ہے۔امن برقرار رکھنے کے لئے تمام اہم مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستے تعینات کئے جائیں گے۔اسی طرح علاقے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے تخمینہ لگایا جائے گا۔ بند شاہراہوں کو کھولنے کے لئے علاقے میں محفوظ نقل و حمل کے لئے سکیورٹی پلان اور ایس او پیز جاری کئے جارہے ہیں۔وزیر اعلی علی امین نے کہا کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی خوش آئند اقدام ہے۔علاقے میں ہونے والے مالی نقصانات کا سروے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرین کے نقصانات کا جلد ازالہ کیا جاسکے ۔وزیر اعلی نے ھدایت کی کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو مالی امداد کی ادائیگیاں جلد یقینی بنائی جائیں۔علی امین نے کہا کہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

    فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، وزیراعظم

  • عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    مانسہرہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی : مانسہرہ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا گیا، ہم نے ہمیشہ حقیقی آزادی کی بات کی ہے، ڈھائی سال سے ہماری جماعت پر ظلم کیا جارہا ہے، تشدد نہ ہوتا تو ہمارے لوگ جواب نہ دیتےہم نے اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پرامن کال دی، ہم اپنے جائز حقوق کی بات کررہے ہیں، ہماری پارٹی کے ساتھ جبر کیا گیا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی نے ڈی چوک جانے کی اجازت دی۔

    علی امین نے کہا کہ یہ جنگ ہماری نسلوں کی جنگ ہے، پورے ملک کو بتانا چاہتا ہوں ہمارا دھرنا جاری ہےمیں اپنے ورکرز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو کارکن گرفتار ہیں انہیں رہا کروائیں گے جیسے پہلے کرایا تھا، عمران خان نے کہا ہےکہ جب وہ کہیں گے تب دھرنا ختم ہوگا، تو یہ بات یاد رکھیں یہ دھرنا ابھی جاری ہے، یہ دھرنا عمران خان کے اختیار میں ہے ہمارا دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری ہے-

    انہوں نے کہا ہےکہ عمران خان کی کال تک دھرنا جاری رہےگا، ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، اور نہ ہی اسمبلی کا فلور یا پارلیمان کا تقدس ہے نہ اس کا اس ملک میں کوئی احترام رہ گیا ہےہمارا لیڈر جیل میں ہے، اس کی اہلیہ کو بھی جیل میں ڈالا گیا، مجھ پر 9 مئی کے درجنوں مقدمات درج ہیں، کوئی ایک ویڈیو دکھا دیں جہاں میں ہوں، جس ملک کے وزیراعلیٰ کو انصاف نہ مل سکے تو عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا، یہ صوبہ اپنا حق اور اپنا مینڈیٹ لینا جانتا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہماری پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور ہمارے لیڈر عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم ایک پرامن پارٹی ہیں اور ہم پاکستان کی واحد پارٹی ہیں کہ جنہوں نے ہمیشہ ہماری نوجوان نسل اور ہماری آنے والی نسل کے لیے ملک میں قانون کی بالادستی، اپنے آئین کا تحفظ، اپنی حقیقی آزادی، اپنی خودداری اور حقیقی جمہوریت کی بات ہے۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اب ہمارے پاس کیا چوائس ہے؟ ظاہر ہے ہمارے پاس یہی چوائس ہے کہ جلسے کی اجازت نہ ملے تو ہم جاکر مظاہرہ کرکے اپنا ایک بیانیہ دیں؟بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس سے پہلے جب جلسے کا اعلان کیا ہم نے ایک پُرامن کال دی، بارہا میں نے اور عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جائیں گے، پرامن طریقے سے جائیں گے اور پرامن طریقے سے ڈی چوک سے آگے نہیں جائیں گے۔

  • فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے فائنل کال احتجاج کو لے کر پارٹی قیادت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پھٹ پڑے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے تصدیق کی کہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور مانسہرہ میں ہیں اور محفوظ ہیں،پی ٹی آئی لیڈرشپ نے مایوس کیا، علی امین کے علاوہ کوئی لیڈر سامنے نہیں آیا، لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی، پلاننگ کا بھی فقدان تھا،بیرسٹرگوہر اور سلمان اکرم راجہ کہاں تھے؟ شیر افضل مروت بھی غائب تھے، جب لیڈر شپ کے پاس فیصلےکا اختیار نہیں تھا تو اتنے زیادہ کارکنوں کو کیوں لےکرگئی؟

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کے اندر تحقیقات ہونی چاہیے کہ ڈی چوک کو ہی جانے کیلئے کیوں چناگیا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کا کہا تو کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟-

    ایک اور بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ معاملات تو مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں،سنگجانی میں احتجاج سے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی البتہ ڈی چوک احتجاج کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا نہیں تھا، حکومت اور پی ٹی آئی دونوں سے غلطیاں ہوئیں، احتجاج میں صرف علی امین گنڈاپور نظر آئے۔ جبکہ پی ٹی آئی لیڈر شپ احتجاج میں نظر نہیں آئی جس پر افسوس ہے۔

  • ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    مانسہرہ: ڈی چوک میں احتجاج سے فرار ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور بشریٰ بی بی نے مانسہرہ پہنچ کر پناہ لے لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ عمر ایوب خان بھی موجود ہیں، علی امین خان گنڈا پور ،بشریٰ بی بی اور عمر ایوب خان مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے،پریس کانفرنس سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی رہائش گاہ پر انصاف سکرٹریٹ میں 11 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن کیا گیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئے، اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے اکھٹے فرار ہُوئے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور کیسے اور کدھر فرار ہُوئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن میں رینجرز، اے ٹی ایس کمانڈوز اور پنجاب پولیس شامل تھی، گرینڈ آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا، خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، تحریک انصاف کے 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔