پشاور: جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی انٹرا پارٹی انتخابی اجلاس کا انعقاد کل مفتی محمود مرکز پشاور میں ہوگا۔ اس بات کی تصدیق پارٹی کے ترجمان اسلم غوری نے کی۔غوری کے مطابق، یہ اجلاس ملک بھر سے مرکزی جنرل کونسل کے ممبران کی شرکت سے منعقد ہوگا، جہاں آئندہ پانچ سال کے لئے مرکزی امیر اور ناظم عمومی کا انتخاب کیا جائے گا۔ تمام اراکین کو دعوت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔اسلم غوری نے مزید کہا کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے اراکین مجلس عمومی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اصلی شناختی کارڈ ہمراہ لائیں۔ یہ انتخابی عمل پارٹی کی اندرونی جمہوریت کو مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے، اور اس میں اراکین کی بھرپور شرکت متوقع ہے۔
Category: پشاور
-

خیبرپختونخوا: ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں روک دی گئیں
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں متحارب قبائل کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، جس میں آٹھ روز کے دوران 50 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 120 زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کے مطابق، تمام علاقوں میں جھڑپیں بند کرا دی گئی ہیں اور پولیس اور فورسز کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں ایک مورچے کی تعمیر کے تنازعے کے باعث شروع ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد، پیواڑ، تری منگل، کنج، علیزئی، مقبل، اور پاڑہ چمکنی کڑمان کے علاقوں میں فریقین کے عمائدین اور جرگہ ممبران کے تعاون سے فورسز نے امن قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فائر بندی کے بعد علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم، پاراچنار اور پشاور مین شاہراہ سمیت آمد و رفت کے راستے اور تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔طوری قبائل کے رہنما جلال حسین اور سید تجمل حسین، جبکہ بنگش قبائل کے رہنما ملک فخر زمان اور حاجی سلیم خان نے قیام امن میں عوام سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ضلع کے لوگ امن قائم کریں تاکہ علاقے کی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے، کیونکہ لڑائی جھگڑوں سے صرف تباہی و بربادی حاصل ہوتی ہے۔ -

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے نام ایک خط میں مسائل حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ خط صوبے کی دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی ارسال کیا گیا ہے، جس کا مقصد وفاق سے منصفانہ وسائل کی تقسیم اور صوبائی حقوق کے حصول کے لیے یکجہتی پیدا کرنا ہے۔خط میں گورنر نے بتایا کہ وہ "یونائیٹڈ ٹاسک فورس” کے قیام کی تجویز پیش کر رہے ہیں، جس کے تحت گورنر ہاؤس اس ٹاسک فورس کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ اس ٹاسک فورس کی ترجیحات میں آئل اینڈ گیس ایکسائز ڈیوٹی، این ایف سی ایوارڈ، نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور دیگر حقوق کا حصول شامل ہوگا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ اس یونائیٹڈ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس پشاور میں گورنر ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا، جہاں مشترکہ "چارٹر آف ڈیمانڈ” تیار کر کے وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا۔خط کے متن کے مطابق، گورنر نے کہا کہ جب سے انہوں نے منصب سنبھالا ہے، وہ صوبے کی ہر سیاسی قیادت کے پاس خود گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے کے لیے یہ ٹاسک فورس مفید ثابت ہوگی۔یہ خط پی ٹی آئی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، جے یو آئی، ایم ڈبلیو ایم، ٹی ایل پی، پاکستان مسلم لیگ، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین، مزدور کسان پارٹی، جے یو آئی (س)، جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، اور جے یو آئی (نورانی) کی قیادت کو بھی بھیجا گیا ہے۔ یہ اقدام صوبے کے حقوق کی تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے اور سیاسی اتحاد کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
-

شمالی وزیرستان میں چارٹرڈ ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ،6 افراد ہلاک ،8 زخمی
شمالی وزیرستان میں چارٹرڈ ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا،ہیلی کاپٹر پر 3 روسی پائلٹس سمیت 14 مسافر سوار تھے-
باغی ٹی وی: ماڑی پیٹرولیم کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ماڑی پیٹرولیم کا چارٹرڈ ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا،ہیلی کاپٹر پر 3 روسی پائلٹس سمیت 14 مسافر سوار تھے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر پر سوار6 افراد ہلاک اور 8 افراد شدید زخمی ہوئے،ہیلی کاپٹر شمالی وزیرستان میں پروازکے دوران آئل فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہوا، ہیلی کاپٹر حادثہ تکنیکی وجوہات کے باعث پیش آیا،حادثے کا علاقے میں سکیورٹی صورتحال یا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہیلی کاپٹر شیوا وزیرستان بلاک میں پرسنل ٹرانسپورٹیشن فراہم کر رہا تھا، پاک فوج اور دیگر اداروں کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں، زخمی ہونے والے افراد کو سی ایم ایچ تھل منتقل کر دیا گیا ہے، تھل سے زخمیوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر منتقل کیا جا رہا ہے،ہیلی کاپٹر میں اڑان بھرتے ہی تکنیکی فالٹ پیدا ہوا، ایمرجنسی لینڈنگ کرتے ہُوئے ہیلی کاپٹر کا ٹیل روٹر زمین سے ٹکرا گیا، حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد
پی ٹی آئی احتجاج: قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹیں …
پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کیلئے چیلنج ہے،آئی ایم …
-

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی CPNE وفد سے ملاقات
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے اور ملک کی سیاسی صورتحال سمیت میڈیا کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اور اس پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ میڈیا اپنی اصلاح کرے گا اور اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھائے گا۔ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کی تنقید کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اور اصلاح کی غرض سے ہمیشہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی کہ میڈیا کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں عوامی مسائل، قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا استحکام میڈیا کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی خاص صحافی یا کمیونٹی کی دل آزاری نہیں چاہتے، بلکہ اصلاح کی غرض سے نشاندہی ضروری ہے۔ملک کی معیشت اور امن و امان کی خراب صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک پر 56000 ارب روپے کا بیرونی قرضہ ہے، مگر عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے جانیں دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
تعلیمی مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے اور تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے میں تعلیم کارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت بچے سرکاری اخراجات پر پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو امن و امان اور معیشت کی بحالی کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قوم کو وہ آزادی اور خود مختاری مل سکے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔ -

صوبے کا قرض 3 ہزار ارب نہیں، بلکہ 600 ارب روپے ہے، مزمل اسلم
خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے صوبے پر قرض کے حوالے سے جاری غلط معلومات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا قرض 3 ہزار ارب نہیں بلکہ 600 ارب روپے ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک پریس کانفرنس میں دیا، جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی اقتصادی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ "وزیراعظم آئی ایم ایف کے پیکیج کی مبارکباد دے رہے ہیں جیسے کہ قرض لیا نہیں، دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سال قبل پاکستان کا مجموعی قرض 43 ہزار ارب روپے تھا، جو کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کے دو سالوں میں 70 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ کچھ افراد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2030ء تک خیبر پختونخوا کا قرض 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گا، جبکہ دیگر صوبوں بالخصوص سندھ اور پنجاب کے قرضوں پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ پر 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرض ہے، جبکہ پنجاب کا قرض 1700 ارب روپے ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کو گندم کی خریداری کے لیے 1 ہزار ارب روپے دینے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وہ پہلا صوبہ ہے جس نے قرض اتارنے کے لیے مخصوص اکاؤنٹ قائم کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اگلے 10 دنوں میں قرض کے 5 فیصد کی ادائیگی کر دے گی، جو کہ صوبے کی مالی صحت کی بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر عوامی و سیاسی سطح پر کافی بحث جاری ہے، اور صوبائی حکومتیں قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے مسلسل سوالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ مزمل اسلم کا یہ اقدام اور وضاحت اس بحث کو مزید گہرائی فراہم کرتی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس سے خیبر پختونخوا کی مالی حالت میں کوئی بہتری آئے گی۔ -

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع: مشعال اعظم یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری
پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ میں مشعال اعظم یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سمری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے گورنر کو بھیجی گئی تھی، جس پر فیصل کریم کنڈی نے دستخط کر دیے، اور منظوری کے بعد سمری واپس بھجوا دی گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، مشعال یوسفزئی کو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا کابینہ میں معاونین خصوصی کی تعداد 9 ہو جائے گی۔ اس وقت کابینہ 5 مشیروں اور 15 وزرا پر مشتمل ہے، جن میں مزید اضافہ صوبے کے انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ 11 ستمبر کو حکومت کی جانب سے گورنر کو بھیجی گئی سمری کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کے شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی کو مزید فعال بنانا اور صوبے میں جدید تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مشعال یوسفزئی کی تعیناتی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اہم شعبے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔
مشعال یوسفزئی کی تقرری کو خیبرپختونخوا کی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید براں، معاونین خصوصی کی تعداد میں اضافے سے صوبے کے مختلف شعبہ جات میں حکومتی عملداری کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔مشعال یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری صوبائی کابینہ کی تنظیم نو کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے کے مختلف شعبوں میں ماہرین کو شامل کر کے ترقیاتی منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔ -

کے پی حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے کچھ نکات پر تحفظات
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے کچھ نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
باغی ٹی وی: مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں معاہدے کے بعض نکات پر سوالات اٹھائے گئے اور مزید وضاحت طلب کی گئی صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت کو ان تحفظات کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے، اور وفاقی حکومت کی وضاحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو پیش کی جائے گی خیبرپختونخوا کابینہ نے آئی ایم ایف پیکج کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم کچھ نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز پہلے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا نے پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے بنائے ہوئے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر عمل کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔
-
سوات واقعےمیں مرکزی اور صوبائی حکومت کی غلطی ہے،گورنر خیبرپختونخوا
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے صوبے میں تعلیم کا بیڑا غرق کیا ہے،سوات واقعےمیں مرکزی اور صوبائی حکومت کی غلطی ہے-
باغی ٹی وی : پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی اپنے ضلع میں امن قائم نہیں کر سکے،کے پی میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے، عوام کے تحفظ کیلئے پی ٹی آئی کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں تعلیم کا بیڑا غرق کیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بی آر ٹی رپورٹس پر صوبائی حکومت کیا کہے گی، آبی وسائل سے متعلق چیئرمین واپڈا اور تمام پارلیمنٹرینز کوبلائیں گے، وفاق کے ذمے واجب الادا بقایاجات واپس لیں گےصوابی میں دھماکا شارٹ سرکٹ سے ہوا یا کسی اور وجہ سے؟ اگر واقعہ شارٹ سرکٹ سے پیش آیا ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیں، 11 ملکوں کے سفیروں کو کیوں بذریعہ روڈ سوات لےجایا گیا، سوات واقعےمیں مرکزی اور صوبائی حکومت کی غلطی ہے، معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
دوسری جانب فیصل کریم کنڈی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ گورنر وفاقی حکومت کو امن و امان سے متعلق بیان بازی کے بجائےعملی اقدامات کی تلقین کریں اور وفاق کو سمجھائیں کہ کراس بارڈر دہشت گردی روکنا وفاق کی ذمہ داری ہے، گورنرکے پی وزیراعظم کو صوبے کے بقایاجات کے بارے میں بھی آگاہ کریں اور خط میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسائل بھی وزیراعظم کے گوش گزار کریں،گورنر فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کو خط ضرور لکھیں مگر انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلائیں لکھیں کہ خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے اس لیے کے پی کے ساتھ سوتیلوں جیساسلوک نہ رکھیں، گورنر اپنی نوکری بچانے کے لیے چغلی کرنے والا نالائق بچہ بنے ہوئے ہیں۔
-

سوات میں دہشتگردی کے خطرے کے باعث الرٹ،
سوات: دہشتگردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے ایک الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں عوامی اور سیاسی اجتماعات کو ملتوی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سوات میں دہشتگردی کے خدشات موجود ہیں، اس لئے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔دوسری جانب سوات قومی جرگہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس الرٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرگہ کے مطابق کل سوات میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف ایک امن مارچ ہونا ہے، جس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سوات قومی جرگہ نے کہا کہ دہشتگردی کے لیے سوات میں کوئی جگہ نہیں اور ہر صورت میں امن مارچ منعقد ہوگا۔جرگہ نے مزید کہا کہ امن و امان کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، مگر انتظامیہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے دہشتگردی کے خدشے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ جرگہ کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن کے باوجود امن مارچ کل ہر صورت میں ہوگا اور وہ کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
