Baaghi TV

Category: پشاور

  • ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے

    ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے

    ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
    ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
    ..
    محسن احسان

    23 ستمبر 2010 : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محسن احسان کا اصل نام احسان الٰہی تھا اور وہ 15 اکتوبر 1932ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا اور 35 سال تک اسلامیہ کالج، پشاور میں انگریزی کی تدریس سے وابستہ رہے تھےمحسن احسان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب، نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل، قومی نظموں کا مجموعہ مٹی کی مہکار اور بچوں کی شاعری کا مجموعہ پھول پھول چہرے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے اس کے علاوہ انہوں نے خوشحال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1999ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا محسن احسان کی 23 ستمبر 2010 میں لندن میں وفات ہوئی محسن احسان کی تاریخ وفات ’’محسن احسان شاعر بے مثل‘‘ سے نکلتی ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ 1431 ہوتا ہے جو ان کا ہجری سن وفات ہے۔ وہ پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    محسن احسان کے چند منتخب اشعار

    امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
    سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

    کندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئے
    قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

    بجھا کے رکھ دے یہ کوشش بہت ہوا کی تھی
    مگر چراغ میں کچھ روشنی انا کی تھی

    مری شکست میں کیا کیا تھے مضمرات نہ پوچھ ​
    عدو کا ہاتھ تھا، اور چال آشنا کی تھی

    فقیہہِ شہر نے بے زار کر دیا، ورنہ​
    دلوں میں قدر بہت خانۂ خدا کی تھی

    ابھی سے تم نے دھواں دھار کر دیا ماحول​
    ابھی تو سانس ہی لینے کی ابتدا کی تھی

    شکست وہ تھی، کہ جب میری سربلندی کی​
    مرے عدو نے مرے واسطے دعا کی تھی

    اب ہم غبارِ مہ و سال کے لپیٹ میں ہیں ​
    ہمارے چہرے پہ رونق کبھی بلا کی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کلاسک سے ماخوذ

  • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ملک بھر میں احتجاج کی کال

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ملک بھر میں احتجاج کی کال

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے، جس کا مقصد عدلیہ کی آزادی، آئین کے تحفظ، اور بانی کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر شہر میں نکل کر یہ مطالبات کیے جائیں گے۔گنڈاپور نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار کو میانوالی میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد پنڈی میں بھی جلسہ کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم پرچے کاٹنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم بانی کو رہا کرا کے وزیراعظم بنائیں گے۔
    انہوں نے پاکستان میں دوہرے معیار کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس ملک میں دو قانون ہیں، ہر طرف کنٹینر لگا کر گھٹیا حرکت کی گئی، جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ راستے کھلے تھے۔علی امین گنڈاپور نے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور ان دونوں سے معافی مانگنے کی بات کی، خصوصاً ان افراد سے جنہوں نے ان کے لیڈر کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ انہوں نے مزید کہا، "کم ظرفوں ہم سے معافی کی امید نہ رکھنا، معافی شافی کی باتیں نہ کرو، اگر معافی پر بات چلی تو پوری زندگی معافی مانگو گے۔
    گنڈاپور نے واضح کیا کہ وہ پنجاب حکومت کے غلام نہیں ہیں اور کسی بھی حکومت سے معافی نہیں مانگیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ احتجاج کے ذریعے عوام کو یہ بتائیں گے کہ حقیقی جلسے کیا ہوتے ہیں۔یہ اعلان سیاسی حلقوں میں ہلچل مچانے کا باعث بن گیا ہے، اور ان کے حامیوں نے جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔ ان کی یہ متنازعہ بیانات اور ان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات نے ان کے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ،  23 ستمبر سے آغاز

    خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ، 23 ستمبر سے آغاز

    خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ کل 23 ستمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق، اس مہم کا مقصد ٹانک، لکی مروت اور ڈیرا اسماعیل خان میں 6 لاکھ 72 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔محکمہ صحت نے اس مہم کے لیے 4 ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔ ان ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 4 ہزار 896 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز کی یہ تعیناتی اس بات کی ضامن ہے کہ مہم کو بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے جاری رکھا جائے۔محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم بچوں کی صحت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے میں تعاون کریں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جو بچوں کو مفلوج کر سکتا ہے، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔صوبے میں پولیو کے کیسز میں کمی لانے کے لیے یہ مہم ایک اہم اقدام ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو قطرے پلانے کا موقع دیں اور کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے محکمہ صحت سے رابطہ کریں۔اس کے علاوہ، انسداد پولیو مہم کے دوران آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی کی جائیں گی، تاکہ لوگ پولیو کے خطرات اور ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہ ہوں۔محکمہ صحت کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنی صحت کے متعلق تمام معلومات کو سنجیدگی سے لیں اور پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

  • علی امین گنڈا پور کی کارکردگی پر امیر مقام کا سخت ردعمل

    علی امین گنڈا پور کی کارکردگی پر امیر مقام کا سخت ردعمل

    پشاور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام نے علی امین گنڈا پور کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی ہے، خاص طور پر لاہور میں ہونے والے جلسے کے حوالے سے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنڈا پور نے اسلام آباد میں جو ڈرامہ کیا، وہی لاہور میں بھی دہرایا، جس کی وجہ سے عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔امیر مقام کا کہنا تھا، "علی امین گنڈا پور کی جو ولن والی شکل لوگوں نے جلسے میں دیکھی، وہ اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ لاہور کے عوام نے ان کی حکمت عملی کو سمجھ لیا ہے، اور وہ اب انہیں قبول نہیں کر رہے۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ گنڈا پور کو جلسے میں اس لیے دن کے وقت نہیں آنے دیا گیا تاکہ لوگوں کو اصل تعداد کا اندازہ نہ ہو سکے۔
    انہوں نے خیبرپختونخوا کی صورت حال کا بھی ذکر کیا، جہاں عوام شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ "علی امین گنڈا پور کو صوبے کی مشکلات پر توجہ دینی چاہیے۔ خیبرپختونخوا اب پاکستان میں ایک نوگو ایریا بنتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر یہاں کے لوگوں پر پڑ رہا ہے۔مزید یہ کہ امیر مقام نے مالاکنڈ ڈویژن میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں آج بھی ایک سفیر کی گاڑی کے قریب حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "علی امین گنڈا پور کو ان واقعات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور عوام کی حفاظت کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔”امیر مقام کی یہ سخت تنقید گنڈا پور کی قیادت پر ایک سوالیہ نشان چھوڑتی ہے، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی ماحول کس قدر کشیدہ ہے۔

  • ٹانک میں تیز رفتاری کے باعث کار حادثہ، 6 افراد جاں

    ٹانک میں تیز رفتاری کے باعث کار حادثہ، 6 افراد جاں

    خیبرپختونخوا کے شہر ٹانک میں ایک دردناک کار حادثے کے نتیجے میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ حادثہ شاہراہ وزیرستان خرگئی چیک پوسٹ کے قریب تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔کار میں سوار تمام 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے تودہ چینہ سے ہے۔اس واقعے نے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ دی ہے، اور مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے عوام کو تیز رفتاری سے بچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔

  • مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل پر بم دھماکہ: ایک اہلکار شہید،تین زخمی

    مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل پر بم دھماکہ: ایک اہلکار شہید،تین زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنانے والا ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ پیش آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب پولیس کی گاڑی غیر ملکی سفیروں کے ایک قافلے کے ساتھ سیکیورٹی فرائض انجام دے رہی تھی۔ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب غیر ملکی سفیروں کا قافلہ مینگورہ چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد مالم جبہ کی جانب روانہ تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں سفیروں کا قافلہ محفوظ رہا اور فوری طور پر تمام سفیر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔
    دھماکے کا نشانہ بننے والی پولیس وین غیر ملکی سفیروں کی حفاظت کے لیے تعینات تھی، اور ان سفیروں میں روس، پرتگال، ایتھوپیا، انڈونیشیا، تاجکستان، قازقستان اور ایران کے سفیر شامل تھے۔ یہ سفیر مقامی چیمبر آف کامرس کی دعوت پر مینگورہ میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اور تقریب کے بعد مالم جبہ جا رہے تھے، جو سیاحتی مقاصد کے لیے مشہور مقام ہے۔پولیس نے بتایا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد کو سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کا آغاز کردیا تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں ہوا جو ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا شکار رہا ہے، لیکن حالیہ سالوں میں امن کی بحالی کے بعد یہاں کے حالات بہتر ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی چیلنجز کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ حکومت اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سوات اور مالم جبہ کی سڑکیں، جو سیاحتی مقاصد کے لیے اہم تصور کی جاتی ہیں، اس حملے کے بعد خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور خطے کی سیاحت اور معیشت متاثر نہ ہو۔سفیروں کا قافلہ محفوظ رہنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گیا ہے، جہاں انہیں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع سے واقعے کے متعلق مزید معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • کے پی میں جے یو آئی انٹرا پارٹی انتخابات: مولانا عطاالرحمان بلامقابلہ صوبائی امیر منتخب

    کے پی میں جے یو آئی انٹرا پارٹی انتخابات: مولانا عطاالرحمان بلامقابلہ صوبائی امیر منتخب

    پشاور:جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) خیبر پختونخوا کے انٹرا پارٹی انتخابات میں مولانا عطاالرحمان بلامقابلہ صوبائی امیر منتخب ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : جے یو آئی خیبرپختونخوا کے انٹرا پارٹی انتخابات پشاور میں منعقد ہوئے، جس میں 2165 ارکان مجلس عمومی نے شرکت کرکے خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے صوبائی امیر اور جنرل سیکرٹری کا انتخاب کرنا تھا،تاہم 1930 ارکان شرکت کرکے اگلے 5 سال کے لیےپارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی سینٹر مولانا عطا الرحمان کو صوبائی امیر اور مولانا عطا الحق درویش کو صوبائی جنرل سیکرٹری بلا مقابلہ منتخب کردیا۔

    حزب اللہ کا جوابی وار،اسرائیل پر میزائل حملے،فوجی اڈہ نشانہ،یہودی چھپنے پر مجبور

    تونسہ: 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا نایاب نسل کا عقاب برآمد ،ملزم …

    روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے جنگی طیاروں کو چھپا دیا

  • علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے اپنا چیلنج پورا کیا،بیرسٹر سیف

    علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے اپنا چیلنج پورا کیا،بیرسٹر سیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ ، جب گنڈاپور نے چیلنج پورا کیا تو جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ روکا گیا اور مینڈیٹ چوروں نے گنڈاپور کے پہنچنے سے قبل ہی جلسہ ختم کروا دیا۔

    باغی ٹی وی : بیرسٹر سیف نے کہا کہ خواجہ آصف اور عطا تارڑ اٹک پار کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے، وزیراعلی اٹک پار بھی گئے اور پورے لاہور اور پنجاب بھی گھومے ہیں، علی امین گنڈاپور نے تمام رکاوٹیں عبورکرکے پورا پنجاب اور لاہورگھوم کر اپنا چیلنج پورا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باجود وزیراعلیٰ کے پی جلسہ گاہ پہنچے، جب گنڈاپور نے چیلنج پورا کیا تو جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ روکا گیا اور مینڈیٹ چوروں نے گنڈاپور کے پہنچنے سے قبل ہی جلسہ ختم کروا دیا کل پورا پاکستان بانی پی ٹی آئی کے لیے نکلا تھا، عمران خان کی رہائی کو اب کوئی بھی نہیں روک سکتا۔

    اسرائیل لبنان کشیدگی،امریکا کا اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کاحکم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسے کا مقرر وقت (6 بجے) ختم ہونے کے بعدعلی امین جلسہ پنڈال میں پہنچے تھے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنے قافلے کے ہمراہ لاہور کے حدود میں داخل ہوئے اور فیروزوالا پہنچ کر رکاوٹ کیلئے کھڑی گاڑی کو دیکھ کر طیش میں آ گئے، اپنی گن سے گاڑی کا شیشہ توڑا اور تمام رکاوٹیں عبور کرتے کاہنہ میں جلسہ گاہ پہنچ گئے۔

    وہاں موجود کارکن انہیں دیکھ کر جوش میں آ گئے، علی امین گاڑی سے باہر نکلے ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیا اور کارکنوں سے گفتگو بھی کی پھر روانہ ہوگئے۔

    اسرائیل کا غزہ میں پناہ گزین سکول پر حملہ، 22 فلسطینی شہید

  • قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت(فاٹا) بحال کی جائے، فاٹا قومی جرگہ کا مطالبہ

    قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت(فاٹا) بحال کی جائے، فاٹا قومی جرگہ کا مطالبہ

    جمرود (باغی ٹی وی تی وی رپورٹ) فاٹا قومی جرگہ نے 26 ویں آئینی ترمیم میں قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا کی پرانی حیثیت بحال کی جائے اور قبائلی روایات کے مطابق جرگہ نظام دوبارہ فعال کیا جائے۔ فاٹا قومی جرگہ کے مشران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام کو انضمام کے نام پر مشکلات اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لہذا آئینی ترمیم میں فاٹا انضمام کا خاتمہ کرکے قبائلی تشخص اور روایات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

    جرگہ کے مشران نے مزید کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر جرگہ نظام کی بحالی قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ فاٹا انضمام کیس کا فیصلہ جلد سنانے کے لیے لاجر بینچ تشکیل دیا جائے تاکہ قبائلی عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہو۔

    قبائلی مشران نے کہا کہ فاٹا انضمام قبائلی روایات کے منافی ہے اور اس میں قبائلی عوام کی رائے شامل نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہت جلد سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کر کے 26 ویں آئینی ترمیم میں قبائلی اضلاع کی آزاد حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ پیش کریں گے۔

  • آئینی ترمیم کا مسودہ بلاول کے پاس موجود  ہے، اسد قیصر

    آئینی ترمیم کا مسودہ بلاول کے پاس موجود ہے، اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے صوابی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا اصلی مسودہ بلاول زرداری کے پاس تھا۔ اسد قیصر نے اپنے خطاب میں بلاول زرداری پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے نانا کے آئین کو ختم کرنے کے لیے غیر جمہوری عناصر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل کو الگ الگ مسودے دیے گئے، جبکہ اصل مسودہ بلاول کے ہاتھ میں تھا۔ اسد قیصر نے ایمل ولی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو باچا خان اور ولی خان کی جدوجہد کی توہین ہے۔
    اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گلہ کرتے ہوئے کہا، "آپ کیوں پارٹی بن رہے ہیں؟ اسپیکر کا عہدہ تو نیوٹرل ہوتا ہے۔” انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پوزیشن سے انحراف کرتے ہوئے یہ خط واپس لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدلیہ پر کوئی وار ہوتا ہے تو وہ عدالت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ "شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ بھی اس سازش میں پوری طرح شامل ہے۔ اسد قیصر نے قوم کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ "پوری پاکستانی قوم کل لاہور پہنچے گی اور ایک بڑا جلسہ ہوگا۔” ان کے اس بیان نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں آئینی تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات پر غور کیا جا رہا ہے۔