Baaghi TV

Category: پشاور

  • پب جی کے ذریعے دہشتگردی: سوات میں گرفتار دہشتگردوں کا اعتراف

    پب جی کے ذریعے دہشتگردی: سوات میں گرفتار دہشتگردوں کا اعتراف

    آن لائن گیمز، خاص طور پر ’پب جی‘ جیسے پلیٹ فارمز، جہاں نوجوان تفریح اور مقابلے کی غرض سے کھیلتے ہیں، اب دہشتگردوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے لگے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہونے والا حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگردی جیسے منفی عزائم کے لیے بھی انٹرنیٹ گیمز کا غلط استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ 28 اگست 2024 کو سوات کے علاقے مینگورہ میں بنڑ پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات کے دوران دہشتگردوں نے انکشاف کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور رابطے کے لیے ’پب جی‘ گیم کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دہشتگردوں نے پب جی جیسے انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارم کو اپنا پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔
    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات، ڈاکٹر زاہد اللّٰہ کے مطابق، گرفتار دہشتگردوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کے دوران رابطے کے لیے پب جی گیم کے چیٹ رومز کا استعمال کیا۔ گیمز کے ذریعے وائس میسجز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے، جو کہ فوری اور مؤثر طریقہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پب جی گیم میں ٹیم بنانے کے بعد کھلاڑیوں کے درمیان ریئل ٹائم میں رابطے کی سہولت موجود ہوتی ہے، جو وائس چیٹ اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اس گیم کو دہشتگردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خطرات میں بھی جدت آ رہی ہے۔
    پہلے واٹس ایپ، ٹیلی گرام، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر دہشتگرد پیغامات کی ترسیل کے لیے انحصار کرتے تھے، لیکن پب جی جیسی گیمز کا استعمال دہشتگردی کے منصوبوں میں ایک نیا اور انوکھا اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پلیٹ فارمز اکثر انکرپٹڈ پیغامات کی ترسیل فراہم کرتے ہیں، لہذا ان پر نظر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائبر ماہرین اور ان ایپلی کیشنز کے فراہم کنندگان کی مدد حاصل کرنا لازمی ہے۔سوات کا واقعہ سائبر سیکیورٹی ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پب جی یا دیگر ایپلی کیشنز کے ذریعے دہشتگردوں کی پیغام رسانی کو روکنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہو گی۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح ایسی ایپلی کیشنز کو محفوظ بنایا جا سکے تاکہ انہیں دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
    یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب دہشتگرد تنظیموں نے جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھایا ہو۔ پہلے بھی کالعدم تنظیموں کے نمائندگان نے اینڈرائیڈ اور آئی فونز کے ذریعے پیغامات پہنچانے کے طریقے سکھائے ہیں۔ اس نئی پیشرفت کے ساتھ یہ بات اور واضح ہو چکی ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں ہر ممکن ذرائع کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔یہ صورتحال نہ صرف سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک خطرناک چیلنج ہے، بلکہ سیکیورٹی ایجنسیز کو بھی اس پر فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایپلی کیشن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے دہشتگردوں کے پیغام رسانی کے ان طریقوں کو روکا جا سکتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ جدید ترین طریقوں سے دہشتگردوں کی چالوں کا مقابلہ کیا جائے، تاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی مخصوص نشستوں بارے چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کوخط لکھا ہے

    اسپیکرکے پی اسمبلی بابرسلیم نے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کو بار بار ملتوی کیا گیا، سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہو چکا ہے ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے، آئین سب سے بالاتر ہے اس پر عمل کیا جائے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اٗٓئین کی روح اور منشا بیان کرتا ہے، تمام ادارے بشمول الیکشن کمیشن سپریم کورٹ فیصلے کے پابند ہیں، سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مخصوص نشستیں کس پارٹی کا حق ہیں، آئین پر عملدرآمد نہ کرنا آئین وقانون کی بالادستی کو نقصان پہنچانا ہے، آئین بالادست ہے اور تمام قانونی تقاضوں سے مقدم ہے، میرا عہدہ بتلاتا ہے کہ آئین کی منشا و قانون کی روح الیکشن کمیشن کے سامنے رکھوں ، سپریم کورٹ بطور آخری عدالت تشریح کرچکی ہے۔

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ، جن میں مخصوص نشستوں کی تقسیم پر اپنے تحفظات اور تجاویز کا اظہار کیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک نے پنجاب اسمبلی کی خود مختاری برقرار رکھنے اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ ملک احمد خان نے خط میں کہا کہ پارلیمانی نظام کی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ نافذ العمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا احترام کرے۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھی الیکشن کمشنر کو خط لکھا جا چکا ہے ،یہ خطوط اس وقت لکھے گئے ہیں جب مخصوص نشستوں کی تقسیم اور پارلیمنٹ کی خود مختاری پر بحث جاری ہے۔ اسپیکروں کی طرف سے خطوط لکھنے کا مقصد الیکشن کمیشن کو یہ باور کرانا ہے کہ پارلیمانی نظام کی بنیادیں مضبوط رکھی جائیں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم میں قانونی اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔یہ پیشرفت ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے پارلیمانی خود مختاری اور الیکشن کمیشن کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑنے کا امکان ہے۔

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا جرگہ ہدایات کی روشنی میں ڈی سی خیبر کے زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا جرگہ ہدایات کی روشنی میں ڈی سی خیبر کے زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) وزیر اعلی خیبر پختونخواہ قبائلی جرگہ کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی زیرصدارت اجلاس کا انعقاد،

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر احسان اللہ، نعمان علی شاہ، گل نواز آفریدی، اسسٹنٹ کمشنر باڑہ شہاب الدین نصیر عباس، رمیز علی شاہ اور لائن محکمہ جات کے ضلعی آفسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیر اعلی خیبر پختونخواہ قبائلی جرگہ میں پیش کئے گئے عوامی مطالبات، حکومتی سطح پر اقدامات، ضلعی سطح پر محکمہ جات کی زمہ داریاں، انفراسٹرکچر، سکولوں اور ہسپتالوں میں سہولیات، پانی اور دیگر امور کے متعلق تفصیل سے اگاہ کیا گیا۔

    وزیر اعلی خیبر پختونخواہ قبائلی جرگہ سیشن کی روشنی میں ضلع خیبر کیلئے لنڈیکوتل، باڑہ اور جمرود کے قبائلی ملکانان اور مشران پر مشتمل جرگہ سیشن کا انعقاد اگلے ہفتے کیا

  • نگراں حکومت میں بھرتی 1800 ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا اعلان

    نگراں حکومت میں بھرتی 1800 ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا اعلان

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے نگراں حکومت میں بھرتی 1800 ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلی علی امین گنڈا پور کی جانب سے 1800 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ملازمین کا احتجاج برداشت کرنے کو تیار ہوں، نگراں حکومت میں بھرتی ہونے والے غیرقانونی لوگوں کو تنخواہیں نہیں دوں گا، میرٹ اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت بھرتی افراد کو کچھ نہیں کہوں گا۔

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے پاس 1800 بندے بھرتی کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا، نگران حکومت میں وظائف مقرر کر کے باقاعدہ سیاسی جماعتوں کو کوٹے دئیے تھے نگران حکومت میں وزراء کی بندر بانٹ ہوئی، تین تمہارے، چار میرے اور پانچ اس کے، انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کر کے لوگوں کو بھرتی کیا، انہیں تنخواہیں دینے کیلئے یہاں نہیں بیٹھا۔

    پریزائیڈنگ افسر جانی دشمن بھی ہوتو فیصلہ ووٹ سے ہوتا ہے،چیف جسٹس

    دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے مجوزہ آئینی ترمیم کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا، صوبائی کابینہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہوا اجلاس میں ارکان نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوان نامکمل ہیں، اب تک پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں، اس لیےپارلیمنٹ میں کوئی بھی آئینی ترمیم منظور نہیں کی جاسکتی،صوبائی کابینہ نے ڈبٹ مینجمنٹ فنڈ قیام اور قواعد کی منظور دیدی۔ مجوزہ فنڈ کے کنٹرول، انتظام، استعمال اور نگرانی کے حوالے سے ہے۔

    زین قریشی کی گرفتاری: سیکریٹری قومی اسمبلی و دیگر کو 10 دن میں جواب جمع …

  • شمالی وزیرستان: بینک منیجر  فائرنگ کے نتیجے میں شہید

    شمالی وزیرستان: بینک منیجر فائرنگ کے نتیجے میں شہید

    شمالی وزیرستان(باغی ٹی وی رپورٹ) بینک منیجر اکبر زمان فائرنگ کے نتیجے میں شہید

    تفصیل کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں بینک منیجر اکبر زمان کو فائرنگ کرکے حملے میں شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر قبائلی صحافی نور بہرام نے اپنے فیس بک پیج پر شائع کی۔

    نور بہرام نے اکبر زمان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک انتہائی بااخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے ہمیشہ بوڑھوں اور بچوں کی خدمت کی۔

    ان پر یہ حملہ میر علی کے قریب ہوا جہاں اکبر زمان اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ ان کی شہادت پر علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اکبر زمان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔

  • افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی: دستاویزات کی کمی کا انکشاف

    ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افغان عہدے دار محب اللہ شاکر کی قومی ترانے کی بے ادبی کے معاملے میں ان کی دستاویزات کی مکمل کمی سامنے آئی ہے۔ محب اللہ شاکر کے پاس نہ تو افغانی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی کوئی دیگر شناختی دستاویزات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق، محب اللہ شاکر اور ان کے خاندان نے 2015 میں یو این ایچ سی آر سے ڈالر اور راشن حاصل کرنے کے بعد افغانستان واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت انہیں پی او آر (پروویژنل آفیشل رجسٹریشن) کارڈ جاری کیا گیا تھا، جو کہ اب ایکسپائر ہو چکا ہے۔ یہ واضح ہوا ہے کہ یکم ستمبر 2024 سے پی او آر کارڈ کی معیاد ختم ہونے کے بعد، محب اللہ شاکر سمیت تمام افغان مہاجرین غیر قانونی قیام پزیر ہیں، کیونکہ وزارت داخلہ کی جانب سے ان کی رہائش میں مزید توسیع نہیں دی گئی ہے۔ یہ صورت حال افغان عہدے دار کی قومی ترانے کی بے ادبی کے تناظر میں اہمیت اختیار کرتی ہے، جس نے پاکستانی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے نے پاکستانی حکومت اور افغان مہاجرین کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جن پر ابھی تک کوئی واضح ردعمل نہیں آیا۔

  • ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق

    ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق

    ضلع خیبر میں قبیلہ اکاخیل اور قبیلہ متنی کے درمیان اراضی کے تنازع پر ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ علاقے میں دیرینہ اراضی کے مسائل کے باعث پیش آیا، جس میں دونوں قبیلوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع کے مطابق، ضلع خیبر اور پشاور پولیس کی بھاری نفری فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کا سلسلہ بند کروا دیا ہے اور مورچے خالی کرا دیے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی، اور پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
    مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نوعیت کے جھگڑے علاقے میں معمول بن چکے ہیں، لیکن حالیہ واقعہ کی شدت نے مقامی عوام میں بے چینی اور خوف پیدا کر دیا ہے۔ پولیس نے علاقے میں مزید سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔علاقائی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اس واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ قبائلی علاقوں میں جاری امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

  • افغان قونصلیٹ جنرل کی جانب سے پاکستانی قومی ترانے کی بے حرمتی کی خبروں کی تردید

    افغان قونصلیٹ جنرل کی جانب سے پاکستانی قومی ترانے کی بے حرمتی کی خبروں کی تردید

    افغان قونصلیٹ جنرل نے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہونے کے معاملے میں بے حرمتی اور بے توقیری کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ افغان قونصلیٹ کے ترجمان نے وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کا مقصد پاکستانی قومی ترانے کی توہین کرنا ہرگز نہیں تھا۔ترجمان نے وضاحت کی کہ قونصل جنرل نے قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ ترانہ میوزک کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغان قونصلیٹ نے اپنے قومی ترانے کے میوزک کے ساتھ چلنے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، اور اسی اصول کی پیروی کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کھڑے ہونے سے گریز کیا۔
    ترجمان نے مزید کہا کہ اگر قومی ترانہ بغیر میوزک کے چلایا جاتا یا اسے بچے پیش کرتے، تو قونصل جنرل یقینی طور پر کھڑے ہوتے اور اپنے سینے پر ہاتھ بھی رکھتے۔ "پاکستان یا اس کے قومی ترانے کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،” ترجمان نے کہا۔یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پشاور میں افغان قونصلیٹ کے قونصل جنرل نے رحمت اللعالمین کانفرنس میں شرکت کے دوران اس معاملے پر احتجاج کا سامنا کیا۔ پاکستان کے اعلیٰ سرکاری حکام نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افغان قونصلیٹ کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر پاکستان سے واپس بھیجا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید خرابی نہ ہو۔یہ واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے، اور اس کی وجہ سے سفارتی سطح پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا

    عوامی نیشنل پارٹی نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے آئینی عہدوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی آئینی ترمیم جو شخصی آزادی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہو، اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ پشاور میں پارٹی صدر ایمل ولی خان کی زیر صدارت مرکزی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ پارٹی خیبر پختونخوا کے نام کو صرف "پختونخوا” میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔
    اعلامیے کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی سیاسی کارکنان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی تجویز کو بھی مسترد کرتی ہے اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا خیر مقدم کرتی ہے، جسے عدالتی اصلاحات کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمان کی بالادستی کے لیے عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
    اے این پی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وفاقیت اور صوبائی خودمختاری کے خلاف کسی بھی ترمیم کی بھرپور مخالفت کرے گی، بالخصوص ایسی ترامیم جو اٹھارھویں آئینی ترمیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔مزید یہ کہ پارٹی آئینی ترامیم کی حمایت کرے گی، بشرطیکہ وہ 1973 کے آئین سے متصادم نہ ہوں اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہوں۔

  • پشاور :افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام سے گریز: سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی

    پشاور :افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام سے گریز: سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی

    پشاور میں محکمہ حج، اوقاف اور مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی رحمت اللعالمین کانفرنس، جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کے جشن کے طور پر منائی گئی، ایک تنازعے کا شکار ہو گئی ہے۔ اس تقریب میں افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام سے گریز نے سفارتی اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، بزرگ سیاستدان اعظم خان سواتی، صوبائی وزیر مینا خان افریدی، ایم پی اے و چیئرمین ضلع خیبر عبدالغنی افریدی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ملک بھر سے علماء کرام، مشائخ عظام، مختلف محکموں کے افسران اور معزز مہمانان گرامی بھی موجود تھے۔

    قومی ترانے کی بے حرمتی اور سفارتی پروٹوکول کی خلاف ورزی
    تقریب کے دوران جب پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا تو تمام شرکاء اور دیگر سفارتی شخصیات نے احتراماً کھڑے ہو کر ترانے کو سنا، لیکن افغان قونصل جنرل نے اس پروٹوکول کا احترام نہیں کیا۔ یہ رویہ سفارتی اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں میزبان ملک کے قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کو ایک بڑی سفارتی بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف افغان قونصل جنرل کی حرکت کی وجہ سے تنقید کا باعث بنا بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی موجودگی میں اس طرح کا واقعہ پیش آنا حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے، اور ناقدین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان مہاجرین اور سفارتکاروں کو دی جانے والی چھوٹ کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ صحافی حسن ایوب نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے قومی ترانے کا احترام نہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں پاکستان اور اس کی قوم کا کوئی احترام نہیں ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ محب اللہ شاکر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکال دیا جائے، اور خیبرپختونخوا حکومت سے بھی سوال کیا جائے کہ انہوں نے ایسے شخص کو کیوں مدعو کیا۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے کہا کہ عید میلاد النبیﷺ کے پر مسرت موقع پر پوری امت مسلمہ خصوصا اہل پاکستان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عشرہ رحمت العالمینﷺ کے انعقاد پر محکمہ مذہبی امور اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حضورﷺ کی ولادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری عالم انسانیت کے لئے باعث رحمت ہے، اور
    آپ ﷺ سے محبت اور آپﷺ کی تعلیمات کی پیروی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، آپﷺ کا اسوہ حسنہ تمام انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، آپﷺ کی آفاقی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں، آپﷺ نے خواتین، بچوں، یتیموں، اقلیتوں اور غلاموں سمیت سب کے حقوق کا واضح تعین کیا ہے، آپﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے، آپﷺ نے انسانیت، محبت، امن، عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا، آپﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع ایک ایسا منشور ہے جو رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے رہنمائی کا سر چشمہ ہے،