Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور:صنم جاوید کی 10 دن کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور:صنم جاوید کی 10 دن کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کی 10 دن کی راہداری ضمانت منظور کرلی ہے۔ عدالت نے صنم جاوید کو پنجاب میں متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے اور ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔سماعت جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔ وکیل صنم جاوید کے مطابق، صنم جاوید کے خلاف لاہور اور میانوالی میں دو ایف آئی آر درج ہیں۔ صنم جاوید نے کہا کہ انہیں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راہداری ضمانت حاصل کی ہے۔صنم جاوید نے مزید کہا کہ ان کی گرفتاری کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور وہ حفاظتی ضمانت کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف 13 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 5 میں بری ہوچکی ہیں اور 8 مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔

  • خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کے مزید دو کیسز رپورٹ

    خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کے مزید دو کیسز رپورٹ

    خیبرپختونخوا میں منکی پاکس کے مزید دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں اس مرض کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسکریننگ کے دوران دو مسافروں میں منکی پاکس کی علامات پائی گئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر پولیس سروسز اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ مریضوں کی مزید اسکریننگ اور انوسٹی گیشن کا عمل جاری ہے تاکہ اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق، باچا خان ایئرپورٹ پر اب تک 20 ہزار 901 اور طورخم بارڈر پر 21 ہزار 40 افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔ صوبے میں منکی پاکس کے دو کنفرم کیسز پہلے ہی موجود ہیں۔ محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور منکی پاکس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر صحت کے مراکز سے رجوع کریں۔

  • لنڈی کوتل:بھگیاڑی چیک پوسٹ پر احتجاج، پاک افغان تجارت معطل، ٹرانسپورٹرز پریشان

    لنڈی کوتل:بھگیاڑی چیک پوسٹ پر احتجاج، پاک افغان تجارت معطل، ٹرانسپورٹرز پریشان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) گزشتہ ایک ہفتے سے بھگیاڑی چیک پوسٹ پر تیراہ راجگل کوکی خیل کے متاثرین ملک نصیر کوکی خیل کی قیادت میں پشاور تورخم شاہراہ کو بلاک کر رہے ہیں۔ اس احتجاجی دھرنے کی وجہ سے پاک افغان دو طرفہ تجارت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔

    اس صورتحال کی وجہ سے کچھ ٹرانسپورٹر اپنے تجارتی سامان کو لوے شلمان کے راستے سے پشاور اور ملک کے دیگر شہروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ تاہم، اس متبادل راستے پر گاڑیاں اکثر خراب ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    پاک افغان تجارت کی معطلی سے ملک کے خزانے کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے متعلقہ حکومتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ تیراہ راجگل متاثرین کا مسئلہ جلد از جلد حل کریں یا پھر احتجاجی دھرنے کو بھگیاڑی چیک پوسٹ سے کسی دوسری جگہ منتقل کریں تاکہ دو طرفہ تجارت بحال ہو سکے اور ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے بی آر ٹی کنٹریکٹرز کے ساتھ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت کنٹریکٹرز کو 2 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس فیصلے سے متعلق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت نیب اور ایف آئی اے اپنے کیسز واپس لیں گے، اور دونوں فریقین نے اس سیٹلمنٹ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بی آر ٹی کنٹریکٹرز نے دو بار انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس سے قانونی کارروائی کی پیچیدگیاں اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اگر کیس عدالت میں جاتا، تو نہ صرف قانونی خرچے کی رقم ڈھائی ارب روپے سے تجاوز کرتی بلکہ کیس ہارنے کی صورت میں کنٹریکٹرز کی طرف سے کلیمز بھی زیادہ ہونے کا امکان تھا۔سرکاری ذرائع نے وضاحت کی کہ آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے تحت کنٹریکٹرز نے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی بنیاد پر طے شدہ رقم سے زیادہ کلیم کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت پیش آئی۔
    اس سیٹلمنٹ کے ذریعے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ قانونی پیچیدگیوں سے بھی بچا جا سکے گا۔بی آر ٹی پروجیکٹ کے کنٹریکٹرز نے اپنے کلیمز میں اضافے کی وضاحت کی ہے کہ پروجیکٹ کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کے باعث انہیں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ کابینہ نے اس سیٹلمنٹ کو خیبر پختونخوا حکومت کے لیے ایک مؤثر مالی حل قرار دیا ہے، جو قانونی اور مالی مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ سیٹلمنٹ ایک اہم قدم ہے جو بی آر ٹی پروجیکٹ کی تکمیل اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور اس کے نتیجے میں پروجیکٹ سے متعلق مسائل میں کمی آنے کی امید ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کی جیل میں مشکلات کا سامنا ہے  بیرسٹر سیف

    بانی پی ٹی آئی کی جیل میں مشکلات کا سامنا ہے بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے حال ہی میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی اور اس دوران ان کی جیل میں موجودہ حالات کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سختیوں کا سامنا ہے اور ان کی صحت کی حالت بھی تشویشناک ہے۔بیرسٹر سیف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کئی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو نہ تو الیکٹرک ٹوتھ برش فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ایکسرسائز کے لیے ڈمبلز مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے بیٹوں سے بات چیت بھی نہیں کروائی جا رہی۔
    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ جیل میں نواز شریف اور آصف زرداری کو جو سہولتیں فراہم کی گئی تھیں، وہ بانی پی ٹی آئی کو نہیں دی جا رہی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بانی پی ٹی آئی کی حالت کی وجہ سے جیل میں ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔مشیر اطلاعات نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 22 اگست کو پی ٹی آئی کے جلسے کے ملتوی ہونے کے بعد پارٹی کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ایک ساتھ بٹھانے اور اختلافات ختم کرنے کا پیغام دیا ہے، تاکہ پارٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔بیرسٹر سیف کے اس بیان نے بانی پی ٹی آئی کے جیل میں حالات پر ایک نیا سوال اٹھا دیا ہے، اور ان کے حامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس ضمن میں مزید تفصیلات اور اقدامات کا انتظار ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • 8 ستمبر کے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے، شیر افضل مروت

    8 ستمبر کے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے، شیر افضل مروت

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء شیر افضل مروت نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں 8 ستمبر کو ہونے والے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر جلسہ ناکام ہوا تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ان کے اس بیان نے پارٹی کے اندر جاری کشیدگی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔شیر افضل مروت نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں آرگنائزنگ کمیٹی سے الگ رکھنا پارٹی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے شکایت کی، مگر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ان کا اس فیصلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ مروت کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پارٹی کے اندر اختلافات کو بڑھا سکتے ہیں اور اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
    شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکام پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے دیں گے۔ ان کے مطابق، جلسے کے انتظامات سے دور رکھ کر پارٹی کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی قابلیت اور تجربے کو نظرانداز کیا گیا، حالانکہ وہ کسی عہدے کی طلب نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ایک ذمہ داری تھی جو انہیں سونپی جانی چاہیے تھی۔شیر افضل مروت نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ذمہ داریوں سے دور رکھ کر، جو لوگ یہ فیصلے کر رہے ہیں، وہ پوری ذمہ داری خود لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جلسہ ناکام ہوتا ہے یا کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جنہوں نے انہیں کمیٹی سے الگ رکھا۔شیر افضل مروت کے اس بیان نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور اختلافات کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ 8 ستمبر کے جلسے کے حوالے سے یہ بیان پارٹی کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا: گزشتہ 19 سال کے دوران54 افراد  لاپتہ

    خیبر پختونخوا: گزشتہ 19 سال کے دوران54 افراد لاپتہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے 54 افراد لاپتہ ہو چکے ہے۔ دستاویزات کے مطابق یہ افراد لکی مروت، بنوں، شمالی وزیرستان، اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 19 سال کے دوران لاپتا ہوئے ہیں۔ ان 54 لاپتا افراد میں سے 48 کا تعلق بنوں سے ہے، جبکہ شمالی وزیرستان کے 3 افراد، لکی مروت اور جنوبی وزیرستان کے ایک ایک فرد کو بھی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس اسٹیشنز میں ان لاپتا افراد کے مقدمات درج ہیں اور ان کی گمشدگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
    دستاویزات کے مطابق، رواں سال لواحقین نے 25 نئے لاپتا افراد کا اندراج کروایا ہے، جس سے یہ معاملہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کے شناختی کارڈ اور دیگر معلومات اکٹھی کی گئی ہیں تاکہ ان کی بازیابی کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکیں۔لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے بارہا اپیلیں کی جا چکی ہیں، تاہم ابھی تک ان افراد کی بازیابی کے حوالے سے کوئی حتمی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ اس فہرست کے سامنے آنے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان گمشدگیوں کی تحقیقات کو تیز کریں۔

  • مشیر سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی کی برطرفی کی سمری گورنر کو ارسال، کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان

    مشیر سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی کی برطرفی کی سمری گورنر کو ارسال، کابینہ میں تبدیلیوں کا امکان

    پشاور: صوبہ خیبر پختونخوا کی سوشل ویلفیئر کی مشیر مشعال یوسفزئی کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی سمری گورنر کو موصول ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امین گنڈا پور نے یہ سمری گورنر خیبر پختونخوا کو بھجوائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گورنر ہاؤس کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی دو ستمبر کو پشاور واپس پہنچ کر سمری پر دستخط کریں گے۔ذرائع کے مطابق، مشعال یوسفزئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کابینہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی کابینہ میں تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا تھا اور اسی کے پیش نظر مشیر سوشل ویلفیئر کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس سمری کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشعال یوسفزئی کے علاوہ کابینہ کے دیگر ارکان کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انہیں بھی جلد ہی عہدوں سے ہٹا کر نئے افراد کو شامل کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ فیصلہ خاصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے صوبے کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات میں نئی جہتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ مزید برآں، اس اقدام سے حکومت کی جانب سے فلاحی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوششوں کو بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقے اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اس سمری پر کب دستخط کریں گے اور اس کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ میں کون سے نئے چہرے سامنے آئیں گے۔

  • تیراہ راجگل متاثرین کا احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند،تجارت معطل، قومی خزانے کو بھاری نقصان

    تیراہ راجگل متاثرین کا احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند،تجارت معطل، قومی خزانے کو بھاری نقصان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)تیراہ راجگل متاثرین کا احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند،تجارت معطل، قومی خزانے کو بھاری نقصان

    تفصیل کے مطابق جمرود بھگیاڑی میں تیراہ راجگل کوکی خیل کے متاثرین کا احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے پاک افغان شاہراہ بند ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔

    افغانستان سے آنے والے تاجروں کا ایک وفد متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے میں شامل ہوا ہے۔ ان تاجروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان شاہراہ بند ہونے سے دونوں ممالک کے تاجروں کو کروڑوں روپے کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے خاص طور پر اس وقت جب افغانستان میں فروٹس اور سبزیوں کا سیزن ہے۔

    تیراہ کے مختلف علاقوں سے آنے والے ایک نمائندہ جرگہ نے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا دھرنا کسی دوسری جگہ منتقل کر دیں تاکہ عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جرگہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل، شلمان، زخہ خیل، جھنڈا خیل اور علی مسجد کے عوام بھی اس بندش سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    تیراہ راجگل کوکی خیل کے متاثرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں اپنے گھروں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔

    اس صورتحال پر حکومت اور متعلقہ اداروں کا کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان کی مشکلات کا نوٹس لینا چاہیے اور ان کے مطالبات کو جلد از جلد پورا کرنا چاہیے۔

    پاک افغان شاہراہ کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ تجارت کے علاوہ، یہ بندش علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

  • صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی: گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ میں الزامات کی حقیقت بے نقاب

    صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی: گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ میں الزامات کی حقیقت بے نقاب

    پشاور: سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کابینہ سے ہٹانے کے معاملے پر گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ رپورٹ میں متعدد الزامات کی حقیقت بے نقاب کی گئی ہے، جس نے صوبے کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ گڈ گورننس کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صوبائی وزیر شکیل خان کے سیکرٹری مواصلات پر عائد الزامات درست نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیکرٹری مواصلات پر عائد الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ شکیل خان نے خود کئی پراجیکٹس کے لیے فنڈز کی منظوری دی تھی۔ اس کے برعکس یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سیکرٹری مواصلات نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شکیل خان نے اپنے محکمے میں 30 ملازمین کو غیر قانونی طور پر ترقی دی۔ یہ ترقیات بغیر کسی میرٹ اور قانونی تقاضے کے خلاف دی گئیں، جس پر کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں، شکیل خان پر ایک اعلیٰ افسر سے رشوت طلب کرنے کا بھی الزام ہے، اور کمیٹی کے مطابق، اس الزام کے ثبوت بھی موجود ہیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ جب شکیل خان کے خلاف الزامات کے ثبوت سامنے آئے تو وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے گئے۔ اس ملاقات کی وجوہات اور اس کے پس منظر پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر عائد الزامات کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، اور ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔
    کمیٹی کی رپورٹ نے وفاقی وزیر امیر مقام کی کمپنی کو نوازنے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امیر مقام کی کمپنی کو دیا گیا پراجیکٹ ورلڈ بینک کا ہے، اور اس کی منظوری بھی عالمی بینک کی جانب سے دی گئی ہے، نہ کہ صوبائی یا وفاقی حکومت کی طرف سے۔ مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ پراجیکٹ تین سال پرانا ہے اور اس کی لاگت 30 ملین ڈالر تھی، جو اب بھی وہی ہے۔ اس طرح کے حقائق کی روشنی میں امیر مقام کے خلاف لگائے گئے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد گڈ گورننس کمیٹی نے اسے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کر دیا ہے۔ اب اس رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پر عمل درآمد یا مزید تحقیقات کا فیصلہ وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ صوبائی سیاسی حلقوں میں اس رپورٹ کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں حکومت کے اندر مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔یہ رپورٹ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبے میں سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر سخت اقدامات کیے تو یہ حکومت کی شفافیت اور گڈ گورننس کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر معاملہ سیاسی جوڑ توڑ کی نذر ہوا، تو یہ حکومت کے لیے ایک اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔اس رپورٹ نے صوبے کی سیاسی فضا میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید سیاسی پیش رفت متوقع ہے۔