Baaghi TV

Category: پشاور

  • لنڈی کوتل میں تاجروں کا احتجاج، وفاقی ٹیکسوں کے خلاف آواز بلند

    لنڈی کوتل میں تاجروں کا احتجاج، وفاقی ٹیکسوں کے خلاف آواز بلند

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)خیبر ضلع کے جمرود میں تاجر برادری نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر کے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ انجمن تاجران جمرود بازار کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور آٹا ڈیلرز بھی شامل تھے۔

    احتجاجی مظاہرین نے جمرود باب خیبر پر جمع ہو کر نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تاجروں پر عائد کیے گئے نئے ٹیکسز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکسز نہ صرف تاجروں بلکہ عام عوام کے لیے بھی مہلک ثابت ہوں گے۔

    انجمن تاجران جمرود بازار کے صدر، کاشف اقبال آفریدی نے کہا کہ "حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پورے ملک میں تاجر برادری سڑکوں پر ہے۔ نئے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور عوام کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔”

    آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے خیبر پختونخوا میں آٹے کی سپلائی بند کر رکھی ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تاجروں پر عائد کیے گئے نئے ٹیکسز واپس لے، آٹے کی سپلائی بحال کرے اور عوام کے مسائل کا حل نکالے۔

  • خیبر میں بھی ایف بی آر ٹیکس کے خلاف احتجاجی ریلی، شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی

    خیبر میں بھی ایف بی آر ٹیکس کے خلاف احتجاجی ریلی، شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی

    جمرود(باغی ٹی وی رپورٹ) ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایف بی آر ٹیکس کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے میں انجمن تاجران کے صدر کاشف اقبال آفریدی سمیت دیگر تاجروں اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

    مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایف بی آر ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے تاریخی باب خیبر کے مقام پر جمع ہو کر حکومت اور ایف بی آر کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

    جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کا نیا ٹیکس تاجر دوست نہیں بلکہ تاجر و عوام دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس سے عام عوام متاثر ہوں گے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    انہوں نے تاجر برادری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے یہ ٹیکس واپس نہیں لیا تو وہ تاجروں کے ساتھ مل کر مزید احتجاج کریں گے۔

  • لنڈی کوتل:تورخم ہائی وے ساتویں روز بھی بند، پاک افغان دو طرفہ تجارت معطل

    لنڈی کوتل:تورخم ہائی وے ساتویں روز بھی بند، پاک افغان دو طرفہ تجارت معطل

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ): تورخم ہائی وے ساتویں روز بھی بند، پاک افغان دو طرفہ تجارت معطل

    تفصیل کے مطابق ضلع خیبر کے تحصیل جمرود میں واقع وادی تیراہ راجگال کے متاثرین کے احتجاج کی وجہ سے پشاور-تورخم ہائی وے ساتویں روز بھی بند ہے۔ اس کے باعث پاک-افغان دو طرفہ تجارت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، وادی تیراہ راجگال کے متاثرین اپنے علاقے میں واپسی کے لیے گذشتہ ستائیس دنوں سے جمرود بھگیاڑی کے مقام پر دھرنا دے رہے ہیں۔ مظاہرین نے پاک-افغان شاہراہ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے تین سال قبل اعلان کیا تھا کہ وادی تیراہ کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے لیکن انہیں اب تک اپنے گھروں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ متاثرین کے مطابق، ان کے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور وہ گذشتہ چودہ سالوں سے آئی ڈی پیز کی زندگی گزار رہے ہیں۔

    دھرنے کے سربراہ ملک نصیر احمد کوکی خیل کا کہنا ہے کہ وہ پرامن شہری ہیں اور اپنے حق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے علاقے میں واپس جانے کی اجازت دی جائے اور ان کے تباہ شدہ گھروں کی بحالی کی جائے۔

    دھرنا شرکاء کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت کو ان کے مطالبات کو قبول کرنا ہوگا۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کیخلاف بولنا جرم،عاطف خان،شیر علی ارباب پارٹی عہدوں سے فارغ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کیخلاف بولنا جرم،عاطف خان،شیر علی ارباب پارٹی عہدوں سے فارغ

    تحریک انصاف میں اختلافات، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کرپشن کے خلاف بولنا جرم بن گیا،عاطف خان اور شیر علی ارباب کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے لگے، کرپشن کی آوازیں آئیں تو پہلے شکیل خان نے استعفیٰ دیا، کرپشن الزامات کی عاطف خان نے تصدیق کی تو انہیں پارٹی عہدے سے ہٹا دیا گیا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اراکین اسمبلی عاطف خان اور شیر علی ارباب کو پارٹی عہدوں سے ہٹا دیا ہے،عاطف خان پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر اور شیرعلی ارباب ضلع پشاور کے صدر تھے، عاطف خان کی جگہ ارباب عاصم کو پی ٹی آئی پشاور ریجن کا صدر مقرر کیا گیا ہے جب کہ عرفان سلیم کو پی ٹی آئی ضلع پشاور کا صدر اور شہاب ایڈووکیٹ کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے

    عاطف خان نے خیبر پختونخوا کے برطرف وزیر شکیل خان کے حق میں بیان دیا تھا جب کہ شیرعلی ارباب نے وزیراعلیٰ پر اعتماد سے متعلق اقرار نامے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا، اس سے قبل شکیل خان کے حق میں بیان دینے پر علی امین گنڈاپور نے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو فوکل پرسن برائے اراکین قومی اسمبلی کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس شکیل خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا تاہم وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے بنائی گئی گڈ گورننس کمیٹی نے شکیل خان کی کارکردگی پر انہیں ہٹانے کی منظوری دی تھی۔

    خیبر پختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے صوبے میں موجودہ سیاسی حالات اور حکومت کے طرز عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی وزارت سے نکالے جانے کے پس منظر میں پرویز خٹک اور محمود خان کے مبینہ کارناموں کو بھی بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا.شکیل خان نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ حکومت ہماری ہے بلکہ کوئی اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق، صوبے کے حالات میں ایسا تاثر پیدا ہو چکا ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر بھی بے اختیار ہیں اور اہم فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

    شکیل خان کے اس بیان نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں اندرونی کشیدگی اور تقسیم کی کیفیت موجود ہے۔ ان کے الزامات اور تحفظات پر یقیناً پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کو وضاحت دینا ہوگی تاکہ عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کیا، 8 ستمبر کو تاریخی جلسہ ہو گا، علی امین گنڈا پور

    عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کیا، 8 ستمبر کو تاریخی جلسہ ہو گا، علی امین گنڈا پور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، انہوں نے عمران خان سے کہا کہ وہ جلسہ کریں گے اور اس کی تمام ذمہ داری قبول کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوگا۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اقتدار میں بٹھایا گیا، اور یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ یہ کس نے کیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اپنے زور بازو سے اپنے مینڈیٹ کو بچایا ہے اور کسی کے آگے سر نہیں جھکایا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اس ملک کے سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے قربانی دے رہے ہیں، اور پی ٹی آئی آئین کی پاسداری کے لیے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کی حدود آئین میں مقرر ہیں اور ان حدود کا احترام ضروری ہے
    علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے ایمان کے ٹیسٹ کا وقت قریب ہے، اور قومی اسمبلی میں ترمیم کے دوران ان کا امتحان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے مولانا کو دھوکے کے بعد حقیقت سمجھ آگئی ہو۔انہوں نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس ان کے ساتھ ہوگی اور وہ جلسے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ فوج میں کرسی کے لیے لابنگ سازش کے زمرے میں آتی ہے اور خواجہ آصف قوم کو مکمل حقیقت بتائیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پنجاب میں انتخابات نہ کروانے پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ جب تک کچھ لوگوں کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا نہیں دی جاتی، ملک میں بہتری ممکن نہیں ہے۔علی امین گنڈا پور نے اسمبلی میں ممکنہ ترمیمات کے حوالے سے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی غیر آئینی ترمیم قبول نہیں کی جائے گی اور ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں تاکہ آئین کا احترام ہو۔

  • شمالی وزیرستان،رزمک بازار میں دھماکا،چار افراد کی موت،10 سے زائد زخمی

    شمالی وزیرستان،رزمک بازار میں دھماکا،چار افراد کی موت،10 سے زائد زخمی

    شمالی وزیرستان، رزمک بازار میں بم دھماکا ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں چار افراد شہید، 10 سے زائد زخمی ہو گئے، زخمیوں کو رزمک ہسپتال منتقل کردیا گیا، 6 شدید زخمیوں کو بنوں ریفر کر دیا گیا، دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے عام شہری ہیں، زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقہ بھر میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے.مبینہ اطلاعات کے مطابق رزمک دھماکے کا ٹارگٹ قادرگروپ کےکمانڈر عثمان عرف لیوانی تھا لیکن وہ حملے میں محفوظ ہے۔

    صوبائی وزیر نجکاری علیم خان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان رزمک بازار میں دھماکہ قابل مذمت اور افسوسناک ہے جس کے نتیجے میں 4 افراد جانبحق ہو گئے۔ دھماکے میں مالی و جانی نقصان پر دلی دُکھ ہوا۔ حالیہ دہشتگردی کے واقعات ملک کا امن تباہ کرنے کی مذموم کوشش ہے جس میں ملک دشمن عناصر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

  • علیمہ خان کا دورہ پشاور و مردان: عمران خان کی رہائی کے لیے مہم کا اعلان

    علیمہ خان کا دورہ پشاور و مردان: عمران خان کی رہائی کے لیے مہم کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے گزشتہ روز پشاور اور مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جیل میں قید پارٹی کارکنان اور ان کے خاندانوں سے ملاقات کی۔پشاور کے دورے کے دوران علیمہ خان نے پی کے 83 کے علاقے گور گٹھڑی کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے پارٹی قیادت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے اور ان کے مسائل کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اس موقع پر علیمہ خان کے ساتھ پی ٹی آئی کی ایم این اے شاندانہ گلزار اور پارٹی رہنما خدیجہ شاہ بھی موجود تھیں۔

    علیمہ خان نے کارکنوں کی شکایات سننے کے بعد پارٹی قیادت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں وزیراعلیٰ یا کابینہ کے کسی رکن کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے خود کارکنوں کے ساتھ مل کر مہم چلائیں گی۔پشاور کے بعد علیمہ خان نے مردان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی۔ مردان میں بھی علیمہ خان نے پارٹی کارکنوں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ خود کارکنوں کے ساتھ مل کر اس مہم کو آگے بڑھائیں گی۔

    علیمہ خان کی جانب سے اعلان کردہ اس مہم کے بعد پی ٹی آئی کے اندر ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ علیمہ خان کے اس اقدام کو پارٹی کے اندر ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے پارٹی قیادت کو نظرانداز کرتے ہوئے کارکنوں کو ساتھ لے کر مہم کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد نہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے بلکہ پارٹی کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی ناراضگی کو دور کرنا بھی ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ علیمہ خان کا یہ قدم پارٹی کے اندرونی معاملات اور کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ایک واضح پیغام ہے۔ ان کے اس اقدام سے پارٹی قیادت پر دباؤ بڑھے گا اور عمران خان کی رہائی کے لیے مہم میں تیزی آ سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ علیمہ خان کے اس دورے کے بعد پارٹی کارکنوں میں ایک نیا جوش پیدا ہو جو پارٹی کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے میں مدد دے۔علیمہ خان کی اس مہم کے بعد مستقبل قریب میں پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور کارکنوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ اس مہم کا آئندہ کے سیاسی حالات پر کیا اثر پڑے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

  • بیر سٹر سیف نےعلیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا  قرار دیا

    بیر سٹر سیف نےعلیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا

    وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کے حالیہ بیان پر خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان اور بشریٰ بی بی پر پارٹی قبضے کی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔بیرسٹر سیف نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور انتظامات بانی پی ٹی آئی عمران خان کے زیرِ نگرانی ہیں، اور وہی تمام معاملات خود دیکھ رہے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ موجودہ حکومت کی نااہلی اور جھوٹ کا ایک حصہ ہیں۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، بلکہ یہ شریف خاندان ہے جس کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر عطا تارڑ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے اندرونی جھگڑوں سے سب سے زیادہ لطف خود عطا تارڑ اٹھا رہے ہیں، اور وہ ان اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    بیرسٹر سیف نے کہا کہ شریف خاندان کی آپسی لڑائیوں نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان اختلافات کو ملکی سیاست کے لیے خطرناک قرار دیا۔ بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ دونوں بھائی میڈیا کے سامنے ایک مختلف چہرہ دکھاتے ہیں، جبکہ اندرونی طور پر ان کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔بیرسٹر سیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شریف خاندان کے دونوں گروپ پارٹی پر قبضے کی کوشش میں ہیں، اور ان کے اختلافات ملکی سیاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے سامنے دونوں بھائیوں کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن اندرونی طور پر وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے وہ جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لے رہی ہے اور پی ٹی آئی کے قائدین کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہے، اور عمران خان کی قیادت میں پارٹی متحد ہے۔
    آخر میں بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت پر عوام کا اعتماد ہے اور علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں کو ان جھوٹے پروپیگنڈا کے اثر میں آنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پارٹی اپنے مقاصد اور منشور پر پوری طرح قائم ہے۔
    بیرسٹر سیف کے اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے، اور پارٹی کے حامیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ قیادت مکمل طور پر متحد ہے اور پارٹی کے اندر کوئی داخلی اختلافات نہیں ہیں۔

  • خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا اجلاس: اندرونی کہانی منظر عام پر

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا اجلاس: اندرونی کہانی منظر عام پر

    دو روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی اندرونی کہانی اب سامنے آ گئی ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ایک اقرار نامے پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔ یہ اقرار نامہ وزیر اعلیٰ، بانی پی ٹی آئی، اور گڈ گورننس کمیٹی پر اعتماد سے متعلق تھا۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے 70 سے زیادہ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ تاہم، بعض نمایاں اراکین اسمبلی جیسے عاطف خان، جنید اکبر، شکیل خان اور شہرام ترکئی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جس نے اس اجلاس کی اہمیت اور اس کے نتائج پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
    اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا کی انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں کئی اہم معاملات پر بحث ہوئی، جس میں گڈ گورننس کمیٹی کے کردار اور اس کے اراکین کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ذرائع کے مطابق ایک اہم واقعہ اُس وقت پیش آیا جب رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے اقرار نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ شیر علی ارباب نے گڈ گورننس کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کمیٹی کے اراکین پر اعتراضات اٹھائے۔ اُن کے اس اقدام نے اجلاس کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کیا۔
    اجلاس میں شکیل خان کی کابینہ سے برطرفی کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی۔ یہ موضوع اجلاس میں گرمجوشی کا باعث بنا اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید اجاگر کیا۔اجلاس کی اندرونی کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے درمیان عدم اتفاق اور گڈ گورننس کمیٹی کے حوالے سے عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے نتائج مستقبل میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا. بیر سٹر سیف

    جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا. بیر سٹر سیف

    خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ ان کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے کیے جانے والے من گھڑت بیانات سے پی ٹی آئی کے کارکنان کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے جلسے کے دن کی صورتحال سے بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا تھا، اور جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی صوابدید پر کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ جلسے کے دن کی کسی بھی ملاقات میں حکومت یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
    بیرسٹر سیف نے وفاقی وزراء کے ان بیانات کی سختی سے تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ جلسے کی منسوخی میں وفاقی حکومت کا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں اور جھوٹے بیانات پی ٹی آئی کارکنوں کا حوصلہ پست کرنے کی کوشش ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی قیادت نے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے مشورے پر جلسے کی منسوخی کا فیصلہ کیا۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور قیادت میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی موجود ہے، اور کسی بھی قسم کی افواہوں یا پروپیگنڈے سے پارٹی کے ارکان کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کا ہر کارکن اپنی قیادت کے فیصلوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
    خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزامات کی جنگ جاری ہے، اور اس صورتحال میں بیرسٹر سیف کا بیان پی ٹی آئی کے مؤقف کو واضح کرنے اور کارکنان کو مطمئن کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے کی منسوخی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا ذاتی تھا اور اس میں وفاقی حکومت یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے مشن پر کاربند ہیں اور انہیں من گھڑت بیانات سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔