Baaghi TV

Category: پشاور

  • جج پر گولیاں چل گئیں،زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

    جج پر گولیاں چل گئیں،زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

    خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں جج پر گولیاں چل گئیں

    واقعہ ہری پور کے تھانہ سٹی کی حدودمیں پیش آیا، سیشن جج محمد فرید مسجد میں داخل ہو رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا اور فائرنگ کی گئی، نامعلوم افراد سیشن جج پر گولیاں برسا کر فرار ہو گئے، جج کو دو گولیاں لگیں جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،محمد فرید اپر کوہستان میں سیشن جج تعینات ہیں ،پولیس کے مطابق جج کو دو گولیاں لگی ہیں، حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، جلد گرفتار کر لیا جائے گا،واقعہ دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے،پولیس حکام کے مطابق سیشن جج فرید خان کی ٹانگوں پر2گولیاں لگی ہیں، واقعے کا مقدمہ 5 نامعلوم افراد کیخلاف درج کرلیا گیا ہے

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

  • پشاور:پی ایم ایل نے پانچویں بیچ کے سمر انٹرنز کی گریجویشن کی تقریب منعقد کی

    پشاور:پی ایم ایل نے پانچویں بیچ کے سمر انٹرنز کی گریجویشن کی تقریب منعقد کی

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)ملک بھر سے سات ذہین ترین ہائی اسکول کے طلباء نے پشاور میں پریسژن میڈیسن لیب میں چھ ہفتوں کے سمر انٹرن شپ پروگرام کے پانچویں بیچ کے طور پر گریجویشن مکمل کی۔

    پریسژن میڈیسن لیب ملک کے جدید ترین بایومیڈیکل ریسرچ لیبارٹریوں میں سے ایک ہے، جو وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے چل رہی ہے اور رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور سیکوس یونیورسٹی کے اشتراک سے پشاور میں چلائی جارہی ہے۔ یہ لیب متعدد کلینیکل اسٹڈیز اور تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں کینسر میں ملک کی پہلی پریسژن میڈیسن پائلٹ کا بھی شامل ہے۔

    ڈاکٹر فیصل خان کی قیادت میں لیب ہر سال ایک سمر انٹرن شپ پروگرام منعقد کرتی ہے، جہاں ہائی اسکول کے طلباء بایومیڈیسن اور اس سے ملحقہ شعبوں میں اصل تحقیقاتی منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ ہر سال لیب کو ملک بھر کے درجنوں شہروں سے ہزاروں درخواستیں موصول ہوتی ہیں، جن میں سے چند منتخب طلباء کو انٹرویوز اور سلیکشن کانفرنس کے بعد شامل کیا جاتا ہے۔ اس سال، سات شاندار طلباء کو اس پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا۔ جس میں ان بچوں نے بائیو مٹیریلز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کینسر ماڈلز، تھری ڈی بائیو پرنٹنگ اور پروٹین سیمی کنڈکٹرز جیسے تحقیقاتی پراجکٹس پر شاندار کام کیا ۔

    اس سال کی گریجویشن تقریب جمعہ کے روز منعقد ہوئی، جس میں والدین، اساتذہ، اسکول کے پرنسپلز، نوجوان طلباء اور عوام کے افراد نے شرکت کی۔ گریجویٹ ہونے والے طلباء میں شامل تھے۔

    ایان امجد، پاک ترک معارف، پشاور. طلحہ خان، پاک ترک معارف، پشاور.رومیسہ ملک، پشاور ماڈل ڈگری کالج برائے خواتین، پشاور زینا بختیار، پشاور ماڈل ڈگری کالج برائے خواتین، پشاور، ماہر رضا قریشی، کیڈٹ کالج کوہاٹ، ماجد شکور، پاک ترک معارف، لاہور. احمد علی عبداللہ، دی سٹی اسکول، سرگودھا

    تقریب کی عزت افزائی معروف مہمانوں کی موجودگی سے ہوئی، جن میں رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سی ای او شفیق الرحمن، ڈین رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ، پروفیسر شہزادہ بختیار زاہد، پشاور ماڈل اسکول حیات آباد کیمپس کی پرنسپل، محترمہ ناہیدہ بیگم، اسسٹنٹ پروفیسر ایڈورڈز کالج پشاور کے سلمان احمد، سینیئر لیکچرر سیکوس یونیورسٹی کے سلیمان فیصل، اور انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے لیکچرر ذیشان خٹک اور دیگر معزز مہمان شامل تھے۔ ان کی موجودگی نے پاکستان میں سائنسی تحقیق کے مستقبل کی تعمیر میں اس پروگرام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    اقصیٰ حسین نے کہا، جو اس سال کے انٹرن شپ پروگرام کی پروگرام لیڈ تھیں۔ہم اپنے انٹرنز کو دی جانے والی بہترین تعلیمی تجربے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں، جس میں لیکچرز، اسپرنٹس، اور عملی سیشنز شامل ہیں، ان کے کیپ اسٹون پروجیکٹ پر باقائدہ سرپرستی فراہم کی جاتی ہے’،

    ڈاکٹر فیصل خان نے کہا، (جو پریسژن میڈیسن لیب کے ڈائریکٹر ہیں اور خود یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے گریجویٹ ہیں) کہ اس سب کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ذہین بچوں کو وقت سے پہلے حقیقی دنیا کے تحقیقاتی تجربات فراہم کیے جائیں۔ طلباء کو سائنسی طریقہ کار سیکھنے کا موقع ملتا ہے، ایک سخت تحقیقاتی منصوبے کو انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دریافت اور کامیابی کے لمحات کا تجربہ ہوتا ہے کہ جب چیزیں صحیح طور پر کام کرنے لگتی ہیں’،

    تقریب کا اختتام مہمانان خصوصی کی جانب سے ایک حوصلہ افزا نوٹ پر ہوا، جنہوں نے ملک میں نوجوان ذہنوں کے درمیان سائنسی، تحقیقاتی اور اختراع کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے پی ایم ایل کی کوششوں کی تعریف کی۔ یہ تقریب نہ صرف ان نوجوان محققین کی کامیابیوں کا جشن منانے کا موقع تھی بلکہ مستقبل میں تعاون اور پریسژن میڈیسن کے میدان میں ترقی کے میدان میں قدم بڑھانے کا اعلان تھا۔

  • لنڈی کوتل:مناتو گرلز سکول کی بند، خوبصورت عمارت ڈھانچہ بننے کا خطرہ

    لنڈی کوتل:مناتو گرلز سکول کی بند، خوبصورت عمارت ڈھانچہ بننے کا خطرہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)مناتو گرلز سکول کی بند، خوبصورت عمارت ڈھانچہ بننے کا خطرہ

    پاک فوج کی طرف سے قوم ذی مشت کو بطور تخفہ تعمیر کیا گیا ڈبل سٹوری خوبصورت ترین بلڈنگ کا گرلز ہائی/ مڈل سکول کے سینکڑوں بچیوں کا مستقبل ایک بار پھر تاریک ہونے لگا ہے،پی ٹی سی فنڈز سے چلنے والا یہ گرلز سکول ایک بار پھر بند ہوگیا ہے’ اور سینکڑوں بچیاں گھروں میں بیٹھ گئی ہیں۔

    مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مذکورہ سکول جو پاک فوج نے علاقے کی تعلیم نسواں کی پسماندگی دور کرنے کے بطور خاص تعمیر کیا تھا’ جو عرصہ درز سے بند تھا جنہیں گزشتہ سال مقامی انتظامیہ نے پی ٹی سی فنڈز سے شروع کیا تھا’ جس میں چار استانیاں پڑھارہی تھیں، جہاں بچیوں کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ ذرائع کے مطابق کہ نو لاکھ روپے کی مختص پی ٹی سی فنڈ ختم ہوتے ہی یکم اگست سے سکول دوبارہ نہ کھول سکا۔

    مقامی لوگوں کے مطابق سکول کھولنے میں محکمہ تعلیم کی ڈپٹی ڈی ای او فیمیل محترمہ پروین یاسمین کی ذاتی دلچسپی تھی جن کی شبانہ روز کوششوں سے سکول شروع ہوا تھا’ جنہوں نے پی ٹی سی فنڈز سے چار استانیوں کوہائیر کیا گیا تھا۔ لیکن اب فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ بند ہوگیا ہے’ جس کی وجہ سے نہ صرف بچیوں کو بلکہ والدین کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں بچیاں بے کار ہوں جائیں گی اور ان کا مستقبل مخدوش ہوکر رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ امسال بھی ہماری بچیوں نے جماعت نہم کے سالانہ امتحان میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور جتنی بچیاں بھی سالانہ بورڈ کے امتحان شامل ہوئیں سب اچھی نمبروں سے پاس ہوگئی ہیں۔

    مقامی لوگوں ک نے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ سکول بلڈنگ پاک فوج نے بطور تحفہ قوم ذی مشت کے لئے تعمیر کیا تھا اور ہم خوش تھے کہ اب یہ سکول فوج کی نگرانی میں ہی چلے گا’ لیکن ایسا نہیں ہوا’ اسلئے کہ اب تک سکول ہذا کو سرکاری محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ لہذا ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ سکول پاک فوج اپنی ہی نگرانی میں لے کر آرمی سکول طرز کے مطابق اور ان کے سلیبس پر شروع کریں۔

    مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود’ پاک فوج 73 بریگیڈ کے بریگیڈئیر اور محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کرم’ اسسٹنٹ کمشنر سنٹرل کرم شاہ وزیر’،ایم این اے حمید حسین، ممبر صوبائی اسمبلی ریاض شاہین اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کو فوری طور پر کھول دیا جائے تاکہ بچیوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جا سکے۔ اور گرلز ہائی سکول مناتو جو ذی مشت قوم کا واحد بڑا تعلیمی ادارہ ہے کے لئے مستقل بنیادوں پر بندوبست کیا جائے تاکہ غریب والدین کی بچیاں بھی اپنے گھر کے دہلیز پز پر تعلیم حاصل کرسکیں۔ بصورت دیگر یہ خوبصورت بلڈنگ ایک ڈھانچہ بن جائے گی۔

  • پی ٹی آئی میں اختلافات: عمران خان کا خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کو اڈیالہ جیل طلب کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میں اختلافات: عمران خان کا خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کو اڈیالہ جیل طلب کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور خیبر پختونخوا کابینہ سے سابق صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی صورتحال پر پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی شدید ناراضگی سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان خیبر پختونخوا میں جاری پارٹی اختلافات پر برہم ہیں اور انہوں نے شکیل خان کے حق میں بیان دینے والے اراکین قومی اسمبلی، عاطف خان اور جنید اکبر، کو طلب کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں اراکین اسمبلی کی آئندہ ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات متوقع ہے۔اس معاملے کے پس منظر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے عمران خان کو شکایت کی تھی کہ عاطف خان اور جنید اکبر نے برطرف وزیر شکیل خان کے حق میں کھل کر بیان دیا اور خیبر پختونخوا حکومت کے فیصلے سے اختلاف ظاہر کیا۔ دونوں اراکین نے شکیل خان کی برطرفی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے اندرونی مسائل کو کھلے عام بیان کرنے پر اصرار کیا۔
    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف، نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں گروپ بندی کے تاثر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیرسٹر سیف کے مطابق عمران خان نے عاطف خان اور جنید اکبر کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے بلایا ہے تاکہ اس معاملے پر مزید وضاحت طلب کی جا سکے۔خیال رہے کہ کچھ روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، شکیل خان، نے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شکیل خان نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں برطرف کیا گیا ہے۔
    شکیل خان کی برطرفی کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے، جہاں پی ٹی آئی کے متعدد اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے شکیل خان کی حمایت میں بیانات دیے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے فیصلے پر نکتہ چینی کی۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب علی امین گنڈا پور اور شکیل خان کے درمیان واٹس ایپ گروپ میں تلخ کلامی ہوئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے۔
    خیبر پختونخوا میں پارٹی کی اندرونی تقسیم اور شکیل خان کی برطرفی پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد، جنید اکبر کو وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ اس اقدام کو بھی پارٹی کے اندرونی اختلافات کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔پارٹی کے اندرونی مسائل پر عمران خان کی ناراضگی اور اراکین اسمبلی کو طلب کرنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس تنازعے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ پارٹی کی ساکھ اور اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔

  • سابق وزیر شکیل خان کا پرویز خٹک اور محمود خان پر  بھی کرپشن کے الزامات

    سابق وزیر شکیل خان کا پرویز خٹک اور محمود خان پر بھی کرپشن کے الزامات

    خیبر پختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے صوبے میں موجودہ سیاسی حالات اور حکومت کے طرز عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی وزارت سے نکالے جانے کے پس منظر میں پرویز خٹک اور محمود خان کے مبینہ کارناموں کو بھی بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا.شکیل خان نے پشاور سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ حکومت ہماری ہے بلکہ کوئی اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق، صوبے کے حالات میں ایسا تاثر پیدا ہو چکا ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر بھی بے اختیار ہیں اور اہم فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
    سابق وزیر نے کہا کہ وہ ایک سیکریٹری تک تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی کوئی سیکریٹری ان کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ حکومت کے اندر اپنی مرضی کا نظام چلا رہے ہیں اور ان جیسے سیاستدانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کہ صوبے اور عوام کے مفاد میں فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔شکیل خان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ان کی اکیلے کی نہیں ہے بلکہ یہ صوبے اور قوم کی جنگ ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جو بھی اس صوبے سے غداری کرے گا، وہ اسے بے نقاب کریں گے۔ ان کے مطابق، وہ کسی بھی صورت میں صوبے کے مفادات کے خلاف کام کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے اور ان کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
    شکیل خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے گڈ گورننس کمیٹی میں ایم این اے اکبر خان کو شامل کروایا تھا، لیکن ایک مخصوص لابی نے جنید اکبر کو کمیٹی سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی کی کمیٹی بنا کر بانی پی ٹی آئی کو سب او کے کی رپورٹ دی گئی، جس سے بانی پی ٹی آئی کو گمراہ کیا گیا۔شکیل خان نے واضح کیا کہ انہوں نے اس لیے استعفیٰ دیا تاکہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف کھل کر مقابلہ کر سکیں۔ ان کے مطابق، وہ اب کسی دباؤ کے بغیر اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھیں گے اور صوبے کی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
    شکیل خان کے اس بیان نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں اندرونی کشیدگی اور تقسیم کی کیفیت موجود ہے۔ ان کے الزامات اور تحفظات پر یقیناً پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کو وضاحت دینا ہوگی تاکہ عوام کے سامنے حقائق واضح ہو سکیں۔

  • خیبر پختونخوا کے وزیر شکیل خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف شکایات

    خیبر پختونخوا کے وزیر شکیل خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف شکایات

    پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر شکیل خان کے استعفے کے معاملے پر نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کرپشن کے الزامات کے تحت بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں ملاقات کے لیے طلب کیا تھا۔ملاقات کے دوران شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کے روبرو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی شکایت کی۔ ذرائع کے مطابق شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ علی امین گنڈاپور کے طرز عمل اور حکومتی معاملات سے ناخوش ہیں اور ان کے تحت کام کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کے سامنے واضح طور پر کہا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس ملاقات کے دوران شکیل خان نے علی امین گنڈاپور کی قیادت میں حکومت کے حوالے سے متعدد خدشات کا اظہار کیا۔یہ صورتحال خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں اہمیت اختیار کر چکی ہے اور شکیل خان کے ممکنہ استعفے کی خبریں حکومتی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ اس ملاقات کے نتائج اور اس کے اثرات مستقبل قریب میں خیبر پختونخوا کی سیاست پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

  • لنڈی کوتل:پولیس کے مظالم کاشکار شخص دُہائی کیلئے پریس کلب پہنچ گیا

    لنڈی کوتل:پولیس کے مظالم کاشکار شخص دُہائی کیلئے پریس کلب پہنچ گیا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پولیس کے مظالم کاشکار شخص دُہائی کیلئے پریس کلب پہنچ گیا

    تفصیل کے مطابق شیر شاہ سکنہ شیخ مل خیل عالم خانی نے لنڈیکوتل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل نجیب نامی شخص جن تعلق خوگا خیل سے ہے نے میرے بھائی مشرف پر پستول تان کر بری طرح مارا پیٹا ،

    پولیس میرے مظلوم بھائی اور ان کی سووزکی کو تھانے لے گئی . شیر شاہ نے کہا کہ ظلم بھی میرے بھائی پر ہوا ہے اور حوالات میں بھی میرے بھائی کو بند کیا گیا .

    انہوں نے کہا کہ آج جب ہم تھانے گئے تو تھانہ میں ہماری سوزوکی نہیں تھی بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ وہ نجیب اپنے گاؤں لے گیا ہے. جب ہم نے مقدمہ درج کرنا چاہا تو ایس ایچ او نے ایف ائی ار کاٹنے سے صاف انکار کردیا.

    شیر شاہ نے کہا کہ میرا بھائی خادی شاہ جن کے ساتھ جس کسی کا بھی کوئی معاملہ ہو اس کا ہم ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ ہمارے والد اور ہم نے قانونی طورپر ان سے علیٰحدگی کا اعلان کیا ہے . جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں .

    شیر شاہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام اور ڈی پی او سے اپیل کی کہ ہماری گاڑی کو واگزار کرایا جائے اور میرے بھائی کو رہا کیاجائے . شیرشاہ نے کہا کہ پولیس نے بھی میرے بھائی کو مارا پیٹا اور کپڑے پھاڑدیئے . انہوں نے انصاف فراہمی کا مطالبہ کیا

  • خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر کا استعفیٰ،وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزام

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر کا استعفیٰ،وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزام

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس شکیل احمد خان نے استعفیٰ دے دیاہے

    شکیل خان کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی وزیر شکیل خان نے علی امین گنڈا پور پر کرپشن اور بیڈ گورننس کے الزامات عائد کئے ہیں،شکیل خان کی جانب سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ ان کے محکمے میں مداخلت کر رہے ہیں جس کے باعث کام متاثر ہو رہا تھا، شکیل خان کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں کرپشن سے متعلق شکایات بھی کی گئی تھیں، ان کی شکایات کی بنیاد پر کے پی کے میں کرپشن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بھی بنائی گئی تھی، شکیل خان کے دیگر وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بھی اختلافات رہے تھے اور انہوں نے سابق وزیراعلیٰ محمود خان سے بھی اختلافات کا اظہار کیا تھا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے کابینہ میں تبدیلی کا امکان تھا اور شکیل خان کو ہٹانے کی باتیں بھی سامنے آئی تھیں تاہم وزیراعلیٰ کی جانب سے ہٹائے جانے سے قبل ہی شکیل خان مستعفی ہو گئے ہیں

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو کمیٹی بنائی اس کی رپورٹ کل صبح ملی، کمیٹی نے شکیل خان کو کابینہ سے ہٹانے کی سفارش کی تھی،شکیل خان کو ڈی نوٹی فائی کرنے کی سمری سائن کرکے گورنر کو بھیج دی ہے، ڈی نوٹی فائی کرنے کی سمری کل صبح بھیجی تھی

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • پشاور میں دھماکا، دو پولیس اہلکاروں سمیت چار زخمی

    پشاور میں دھماکا، دو پولیس اہلکاروں سمیت چار زخمی

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں دھماکا ہوا ہےجس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ہیں

    دھماکا ورسک روڈ پر پیر بالا کے مقام پر ہوا،زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق بارودی مواد سیمنٹ کے بلاک میں‌نصب تھا، پولیس گاڑی گزری تو دھماکا ہو گیا،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دھماکے کے فوری بعد متاثرہ علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے،ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے 4 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے.

  • لنڈی کوتل:فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ کامیاب منصوبہ ، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    لنڈی کوتل:فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ کامیاب منصوبہ ، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    لنڈی کوتلَ،باغی ٹی وی(نصیب شاہ شنواری کی رپورٹ)فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ منصوبہ کامیاب، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    تفصیل کے مطابق فرنٹیئر کور کے پی نارتھ اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے مشترکہ کوششوں سے قائم کردہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن لنڈی کوتل میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

    اس انسٹیٹیوٹ میں پہلے بیچ کے 81 طلبہ نے مختلف فنی ٹریننگ کورسز شروع کر دیے ہیں۔ یہ تین ماہ کے کورسز علاقے کے نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک بہترین قدم ہے۔

    اس انسٹیٹیوٹ کا بنیادی مقصد علاقے کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور ان کی شخصیت کو نکھارنا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف معاشرے کے مفید شہری بن سکیں گے بلکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    لڑکوں کے لیے الیکٹریشن، کمپیوٹر آپریٹر، موٹرسائیکل اور جنریٹر آپریٹر اور ویلڈر کے کورسز جبکہ لڑکیوں کے لیے سلائی کڑھائی/ٹیلرنگ اور لیڈی ہیلتھ ورکر کے کورسز شروع کیے گئے ہیں۔

    یہ انسٹیٹیوٹ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔ اس سے نہ صرف انہیں روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ ان کی زندگیوں میں بھی ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔