Baaghi TV

Category: پشاور

  • لنڈی کوتل:فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ کامیاب منصوبہ ، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    لنڈی کوتل:فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ کامیاب منصوبہ ، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    لنڈی کوتلَ،باغی ٹی وی(نصیب شاہ شنواری کی رپورٹ)فرنٹیئر کور اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کا مشترکہ منصوبہ کامیاب، ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز ہوگیا

    تفصیل کے مطابق فرنٹیئر کور کے پی نارتھ اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے مشترکہ کوششوں سے قائم کردہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن لنڈی کوتل میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

    اس انسٹیٹیوٹ میں پہلے بیچ کے 81 طلبہ نے مختلف فنی ٹریننگ کورسز شروع کر دیے ہیں۔ یہ تین ماہ کے کورسز علاقے کے نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک بہترین قدم ہے۔

    اس انسٹیٹیوٹ کا بنیادی مقصد علاقے کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور ان کی شخصیت کو نکھارنا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف معاشرے کے مفید شہری بن سکیں گے بلکہ انہیں روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    لڑکوں کے لیے الیکٹریشن، کمپیوٹر آپریٹر، موٹرسائیکل اور جنریٹر آپریٹر اور ویلڈر کے کورسز جبکہ لڑکیوں کے لیے سلائی کڑھائی/ٹیلرنگ اور لیڈی ہیلتھ ورکر کے کورسز شروع کیے گئے ہیں۔

    یہ انسٹیٹیوٹ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔ اس سے نہ صرف انہیں روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ ان کی زندگیوں میں بھی ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔

  • پاک افغان بارڈر تورخم دوبارہ کھول دیا گیا

    پاک افغان بارڈر تورخم دوبارہ کھول دیا گیا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پاک افغان بارڈر تورخم دوبارہ کھول دیا گیا

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹ تورخم کو تین دن کی بندش کے بعد دوبارہ مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، بارڈر کھولنے کے بعد مسافر آزادانہ طور پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان آ جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تجارتی سامان لے جانے والی ایکسپورٹ اور امپورٹ مال بردار گاڑیاں بھی بارڈر کراس کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ 12 اگست کی دوپہر کو بارڈر اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب افغان فورسز نے متنازعہ علاقے میں تعمیراتی کام شروع کر دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد بارڈر عام آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہو گیا تھا۔

  • سوات:دل دہلا دینے والا حادثہ،بارات میں شامل گاڑی کھائی میں جا گری، 6 افراد جاں بحق

    سوات:دل دہلا دینے والا حادثہ،بارات میں شامل گاڑی کھائی میں جا گری، 6 افراد جاں بحق

    سوات (باغی ٹی وی): سوات میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں بارات میں شامل ایک گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق یہ حادثہ چپریال کے علاقے میں پیش آیا۔ بارات میں شامل گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں تین خواتین اور دو بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حادثے کا شکار گاڑی مٹہ سے چپریال جا رہی تھی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • ارشد ندیم کی شاندار کامیابی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان

    ارشد ندیم کی شاندار کامیابی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان کے قومی ہیرو ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایک خصوصی تقریب سے خطاب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے ارشد ندیم کی خدمات اور کامیابیوں کو سراہا۔تقریب میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ارشد ندیم ہمارے ملک کا فخر ہیں اور ان کی شاندار کارکردگی نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ انعامی رقم اپنی جیب سے دیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ذاتی طور پر بھی کتنے پرعزم ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، اور ہمیں ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ارشد ندیم کو خیبرپختونخوا آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں 3 روز کے لیے آئیں اور جویلین تھرو کے نوجوان ایتھلیٹس کو تربیت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے تاکہ انہیں منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچایا جا سکے۔

    ارشد ندیم کی کامیابی پر پورے ملک میں ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اور مختلف حکومتی ادارے اور شخصیات انہیں انعامات سے نواز رہی ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی ارشد ندیم کے آبائی علاقے میاں چنوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ارشد ندیم کو 10 کروڑ روپے کا چیک اور ایک خصوصی نمبر پلیٹ والی گاڑی بطور تحفہ پیش کی۔ اس کے علاوہ، ارشد ندیم کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد مدعو کیا گیا، جہاں انہیں اسٹیٹ پروٹوکول کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا اور ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ استقبالیہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ارشد ندیم کے لیے 15 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ کو بھی ارشد ندیم کے نام سے منسوب کیا جائے گا، تاکہ ان کی کامیابی اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی پر پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور ان کے لیے انعامات اور عزت افزائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے۔

  • خیبر میں یوم آزادی کی شاندار تقریب منعقد ہوئی

    خیبر میں یوم آزادی کی شاندار تقریب منعقد ہوئی

    خیبر(باغی ٹی وی رپورٹ)ضلع خیبر میں یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں پولیس لائن خیبر شاکس میں ایک شاندار پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور ایک شاندار واک کا اہتمام کیا گیا۔

    ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال نے پرچم کشائی کی اور ملک و قوم کی ترقی و سلامتی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ سے ملک کی خدمت میں پیش قدم رہے ہیں۔

    ڈی پی او نے مزید کہا کہ پاکستان کی آزادی کے لیے قبائلی عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ملک کی خدمت کے لیے مزید کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے دیانتداری، کفایت شعاری اور ایمانداری کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وطن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے قبائل جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔پاکستان کی سلامتی اور تعمیر و ترقی اس ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے ملک کو تاقیامت قائم و دائم رکھے آمین ۔

  • ارشد ندیم کو انعامات سے نوازنے پر علی امین گنڈا پور کا ایک اور متنازعہ بیان

    ارشد ندیم کو انعامات سے نوازنے پر علی امین گنڈا پور کا ایک اور متنازعہ بیان

    اپنی متنازع بیانات کی وجہ سے شہرت پانے والے کے پی کے وزیر اعلی کا ایک اور حیرت انگیز بیان سامنے آیا ہے اور وہ بھی پیرس اولمپکس 2023 میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک طلائی تمغہ دلانے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کے بارے میں جن پر انعامات کی برسات ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایک مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "سرکاری خزانہ انعامات دینے کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے باپ کا پیسہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ارشد ندیم کو اپنی ذاتی حیثیت سے انعام دیں گے۔ "میں ارشد ندیم کی کامیابی کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن ہمیں سرکاری خزانے کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ میں انہیں اپنی طرف سے انعام دوں گا،
    تاہم، مختلف صوبائی حکومتوں کا اس سلسلے میں رویہ مختلف نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ارشد ندیم کے آبائی گاؤں میاں چنوں میں جا کر انہیں 10 کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ارشد کو ایک ہنڈا سوک کار کی چابی بھی پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے ارشد کے کوچ سلمان اقبال بٹ کو بھی 50 لاکھ روپے کا چیک دیا۔مریم نواز نے اس موقع پر کہا، "ارشد ندیم نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ یہ انعامات ان کی محنت اور قابلیت کا اعتراف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان کھلاڑی مزید حوصلہ پائیں اور ملک کے لیے ایسی ہی کامیابیاں حاصل کریں۔”
    ارشد ندیم کی کامیابی نے جہاں پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے، وہیں اس نے ملک میں کھیلوں کی ترقی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے طریقوں پر ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس بحث کے نتیجے میں ایک متوازن اور موثر پالیسی سامنے آئے گی جو پاکستان کے کھیلوں کے مستقبل کو روشن کرے گی۔

  • مولانا فضل الرحمان کا تاجر کنونشن میں خطاب: ملکی معیشت کی بہتری پر زور

    مولانا فضل الرحمان کا تاجر کنونشن میں خطاب: ملکی معیشت کی بہتری پر زور

    جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں منعقدہ ایک تاجر کنونشن میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے ملک کی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امن اور بہتر معیشت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو یکجا ہونے کی ضرورت پر زور دیا، جو کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔جے یو آئی سربراہ نے قانون سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی جان، مال اور عزت کا تحفظ درست قانون سازی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرے تو اس کا حل کیا ہوگا، جس سے موجودہ قانونی نظام پر سوالیہ نشان لگایا۔
    مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو "انتہائی نازک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے۔ انہوں نے حاضرین سے پوچھا کہ کیا واقعی ملک میں امن اور مستحکم معیشت موجود ہے، اور خطے میں پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔موجودہ پارلیمانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ عوام کے لیے نہیں سوچتے، اور وہاں عوام کے "جعلی نمائندے” موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کے 77 سالہ وجود میں ہمارے طور طریقے تبدیل ہوئے ہیں۔ٹیکس کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ مسلسل نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، جبکہ عوام کو معلوم ہے کہ یہ ٹیکس بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوں گے۔ انہوں نے طنز کیا کہ "صرف سانس لینے پر ٹیکس نہیں ہے”، جس سے موجودہ ٹیکس نظام کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ ملک کو چلانے کے لیے مضبوط سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • خیبر پختونخوا میں کمزور طبقات پر تشدد: پانچ سالہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک

    خیبر پختونخوا میں کمزور طبقات پر تشدد: پانچ سالہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک

    خیبر پختونخوا کے پولیس محکمے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ نے صوبے میں کمزور طبقات، خاص طور پر بچوں، خواتین اور خواجہ سراؤں پر تشدد کی ایک خوفناک تصویر پیش کی ہے۔ پانچ سال کے اعداد و شمار کے مطابق، 2019 سے 2023 تک کے عرصے میں ان گروہوں پر تشدد کے کل 12,164 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
    پولیس دستاویز کے مطابق، اس پانچ سالہ مدت میں بچوں پر تشدد کے 3,598 کیسز، خواتین پر تشدد کے 8,299 واقعات، اور خواجہ سراؤں پر تشدد کے 234 معاملات سامنے آئے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تشدد کی بڑھتی ہوئی شرح کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ معاشرے میں کمزور طبقات کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
    انصاف کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے معاملات میں صرف 187 ملزمان کو سزائیں ہوئیں، خواتین پر تشدد کے کیسز میں محض 168 افراد کو سزا دی گئی، جبکہ خواجہ سراؤں پر تشدد کے 234 واقعات میں سے صرف ایک کیس میں ملزمان کو سزا ملی۔ یہ اعداد و شمار انصاف کے نظام میں موجود خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔سال بہ سال تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں 530 کیسز سے بڑھ کر 2023 میں 924 کیسز تک پہنچ گئے۔ خواتین پر تشدد کے معاملات میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو 2019 میں 1,359 سے بڑھ کر 2023 میں 1,859 تک پہنچ گئے۔ خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا، 2019 میں 17 سے بڑھ کر 2022 میں 88 تک پہنچ گئے، حالانکہ 2023 میں یہ تعداد 61 تک کم ہوئی۔
    صوبائی وزیر داخلہ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں موجود گہری مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم نے کمزور طبقات کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کا آغاز کیا ہے اور امید ہے کہ آنے والے سالوں میں اس صورتحال میں بہتری آئے گی۔”انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک ترجمان نے کہا، "یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف قوانین کو سخت کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ ان کی مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔”
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، "ہم نے خصوصی یونٹس قائم کیے ہیں جو صرف کمزور طبقات پر تشدد کے معاملات پر کام کریں گے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہر کیس کی مکمل تفتیش کی جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے۔”یہ رپورٹ خیبر پختونخوا میں کمزور طبقات کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے ہر فرد کو تحفظ اور انصاف کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔

  • جمرود:کوکی خیل متاثرین کا دھرناچھٹے روزمیں داخل، حکومت کا وعدہ کہاں گیا؟

    جمرود:کوکی خیل متاثرین کا دھرناچھٹے روزمیں داخل، حکومت کا وعدہ کہاں گیا؟

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ))جمرود میں تیراہ راجگال کوکی خیل متاثرین کا پاک افغان شاہراہ کو بلاک کرکے دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔ متاثرین اپنی مکمل واپسی اور بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کے وعدے کے باوجود ابھی تک چالیس فیصد علاقے کی واپسی نہیں ہوئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود تاریخی باب خیبر کے مقام پر تیراہ راجگال کوکی خیل متاثرین کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا آج چھٹے روز بھی جاری رہا ،جس میں متاثرین کی مکمل واپسی کے مطالبے کے لیے پاک افغان شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا جس میں مظاہرین نے بینرز و کالی جھنڈیاں اٹھا رکھ کر شدید نعرے بازی کی۔

    احتجاجی مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر جمرود آفس کے سامنے بھی دھرنا دیا اور اندورنی راستے کو بند کردیا۔

    احتجاجی مظاہرے سے ملک نصیر احمد کوکی خیل،حاجی براکت افریدی،حاجی زرمیم آفریدی،زوان کوکی خیل اتحاد کے صدر ثناءاللہ آفریدی ،حسین آفریدی ،محمد اشفاق افریدی و دیگر نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ تیراہ راجگال کوکی خیل متاثرین کو خروالے گنڈاو تک باعزت واپسی کی جائے گی تاہم حکومت اپنا وعدہ ایفا کرنے میں ناکام ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کے کہنے پر اپنے گھر اور اپنے علاقے کو چھوڑ کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن تاحال چالیس پرسنٹ علاقے کی واپسی ابھی تک نہیں ہوئی.

  • پاک افغان دو طرفہ تجارت ،ایمپورٹ ایکسپورٹ پر ٹیکسز کم کیے جائیں،ضیاء سرحدی

    پاک افغان دو طرفہ تجارت ،ایمپورٹ ایکسپورٹ پر ٹیکسز کم کیے جائیں،ضیاء سرحدی

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پاک افغان دو طرفہ تجارت ،ایمپورٹ ایکسپورٹ پر ٹیکسز کم کیے جائیں،ضیاء سرحدی

    تفصیل کے مطابق پاکستان اور افغانستان سرحد طورخم پر کسٹم حکام کی طرف سے امپورٹ ایکسپورٹ گاڑیوں پر TAD کا غذات شرط لاگو ہونے کے باعث دونوں جانب سینکڑوں کی تعداد سامان لے کر سرحد پار کرنے کے منتظر ہیں۔ افغان انتظامیہ نے بھی پاکستان آنے والی گاڑیوں کو روک دیا۔ اس حکومتی فیصلے کی وجہ سے پاک افغان سرحد طورخم پر سینکڑوں کی تعداد میں مال بردار ٹرک کھڑے ہیں، حکومت نے ڈرائیوروں کیلئے ویزے کی شرط رکھی جس کی وجہ سے کسٹم حکام نے انہیں طورخم پر روک دیا ہے۔ طور خم سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور آمدورفت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ اسمگلنگ کے سلسلے کو روکنے کے لئے پاکستان نے پاک افغان سرحد پر 26000 کلومیٹر طویل باڑ نصب کی ہے جس کے بعد سمگلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر صرف سمگلنگ کی مد میں دیکھا جائے تو دستیاب حقائق کے مطابق پاکستان کو 23 ارب ڈالر کا سالانہ نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان آئی ایم ایف سے چند ارب ڈالر قرض کے عوض پاکستانی عوام پر نہ جانے کتنے ٹیکس لگانے پر مجبور ہے۔

    سرحدوں پر محفوظ تجارت اور سمگلنگ کے خاتمے اور دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے حکومت نے ویزے کی شرط عائد کی ہے تاہم پاک افغان سرحد پر روکے گئے سامان کو قانون کے مطابق جلد از جلد کلیئر کیا جانا چاہیے تا کہ دونوں اطراف کے تاجروں کو بڑے مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔
    اس حوالے سے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) خیبرپختونخوا (رجسٹرڈ )کے صدر ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان باڈرز کی آئے روز بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کا سیزن ہے جبکہ حکومت پاکستان نے 18فیصد سیل ٹیکس بھی تازہ پھلوں پر عائد کر دیا جس کی وجہ سے سبزیو ں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مارکیٹ میں طلب اور رسد کی جنگ جاری ہے جس کے اثرات غریب اور متوسط طبقہ کے عوام پرپڑرہے ہیں

    جبکہ پڑوسی ملک سے آنے والی سبزیوں اور پھل کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ضیاء الحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI)کے کوآرڈینیٹربھی ہیں نے مزید بتایا کہ طالبان حکومت نے بھی پاکستان سے جانے والی اشیاء جس میں سبزیاں تازہ پھل ودیگر سامان پر بھی مزید محصول (ٹیکس) لگایا دیا ہے جس سے افغانستان میں بھی تازہ پھل اور سبزیاں مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں جانب کی حکومتیں باہمی تجارت کے فروغ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی مرتب کریں تاکہ یہ تجارت دوبارہ بحال ہو جائے۔