کوہاٹ پولیس نے بچوں کیساتھ زیادتی اور استحصال میں ملوث گینگ کو سرغنہ سمیت گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے قابل اعتراض ویڈیوز بھی برآمد کر لی ہیں۔کوہاٹ کینٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچوں کیساتھ زیادتی میں ملوث گینگ کے سرغنہ عرفان اور اسکے ساتھیوں فرحان، آفاق، ریحان، یاسر اور شاہد کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان کو مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گینگ کے سرغنہ کے زیر استعمال ڈیوائسز سے قابل اعتراض ویڈیوز برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ ملزمان قابل اعتراض ویڈیوز کو سرعام شیئر کرنے کی دھمکی دے کر بچوں کا مزید استحصال کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے. ایس ایچ او کینٹ جابر خان نے میری کالونی کوہاٹ کے رہائشی 13 سالہ متاثرہ لڑکے کے والد کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے بچوں کیساتھ زیادتی اور استحصال میں ملوث اس گینگ کو بے نقاب کرکے اسمیں شامل درندہ صفت ملزمان کو مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیوں کے نتیجے میں گرفتار کیا ہے اور انکے خلاف تھانہ کینٹ میں مقدمہ درج کر لیا ہے. پولیس نے اس حوالے سے تفتیش شروع کردی ہے اور مزید بھی اہم پیشرفت و متعلقہ انکشافات کی توقع کی جارہی ہے.
Category: پشاور
-

کوہاٹ:بچوں کیساتھ زیادتی اور استحصال میں ملوث گینگ گرفتار
-

اگر رشتہ دار میرٹ پر نہ ہو تو ان کو آگے لانا موروثی سیاست ہے ،علی امین گنڈا پور
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ این اے 44 ڈی آئی خان کی نشست چھوڑ دی ہے، اس پر میرا بھائی فیصل امین الیکشن لڑے گا اور انشاء اللہ ہم کامیاب بھی ہوں گے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کسی کا رشتہ دار ہونا کوئی جرم تو نہیں، اگر رشتہ دار میرٹ پر نہ ہو تو ان کو آگے لانا موروثی سیاست ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ دنیا میں ترقی وہی انسان کرتا ہے جو کسی اور کی ترقی پر خوش ہوتا ہے، جو لوگ اچھا کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، تنقید اصلاح کے لئے ضروری ہے، پازیٹو تنقید سے بندہ سیکھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بھی مجھ سے پوچھا تھا کہ اپنے بھائی کو کہاں پر ایڈجسٹ کر رہے ہو، میں نے بانی پی ٹی آئی کو بھی کہا کہ وہ میری خالی نشست پر ضمنی الیکشن لڑے گا۔
-

پی ٹی آئی پی کے سربراہ پرویز خٹک پی ٹی آئی کے کہنے پر مستعفی ہوئے،
پی ٹی آئی پارلیمینٹیرنز کے سیکریٹری جنرل حبیب اورکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے مستعفی ہونے اور مخصوص نشستوں پر خواتین سے استعفیٰ لینے کی شرائط رکھیں، جو تسلیم کر لی گئیں اور پرویز خٹک مستعفی ہوگئے، دوسری شرط بھی مان لی گئی، الیکشن کمیشن میں استعفے جمع کروائے گئے۔ کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے 2 دور ہوئے، دونوں دور علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر کی خواہش پر ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے بتایا گیا اگلے روز جیل میں 4 بجے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے، لیکن اگلے روز شام 4 بج کر 5 منٹ پر سنی اتحاد کونسل کے ساتھ پریس کانفرنس کر دی گئی۔
-

صوابی : مکان کا تنازع دو بھائیوں کی جان لے گیا
صوابی کے علاقے ترلاندی کالوڈھیر میں مکان کی تنازع پر بھائیوں کے درمیان فائرنگ کا واقعہ سامنے آگیا فائرنگ سے دو بھائی موقع پر جانبحق ہوگئے، جبکہ خاتون اور بچے سمیت تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دو فریقین کے تلخ کلامی درمیان جھگڑا ہوا لڑائی کے دوران لاتوں، گھونسوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد دوسرے فریق نے گھر میں داخل ہوکراندھا دھند فائرنگ کردی، جوابی فائرنگ سے ملزم زخمی ہوگیا۔ تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لیے کیٹیگری ڈی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جانبحق افراد کی شناخت مشتاق زادہ اور محمد زادہ کے ناموں سے کرلی گئی ہیں ، جبکہ زخمیوں میں ملزم اشتیاق زادہ، بیوہ مثل زادہ اور سعود ولد مثل زادہ شامل ہیں۔پولیس نے ملزم اشیاق کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے تھانہ کالوخان میں قتل و اقدام قتل کا مقدمہ درج کرکے تفشیش شروع کردی ہے۔
-

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے ایشئین ڈیویلپمنٹ بینک کے وفد کی ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے ایشئین ڈیویلپمنٹ بینک کے وفد کی ملاقات کی ہے ، وفد میں اے ڈی بی پاکستان کے سنئیر پراجیکٹ آفیسرز عمر علی شاہ اور اسد علی ظفر شامل تھے۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب بھی ملاقات میں موجود تھے ملاقات میں خیبر پختونخوا میں اے ڈی بی کے تعاون سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت اے ڈی بی کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، اور صوبائی حکومت اے ڈی بی کے ساتھ مل کر مزید مربوط انداز میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وزیر اعلی کے پی کے نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو واٹر سپلائی، سولر انرجی، فلڈ پروٹیکشن، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ، اربن ٹرانسپورٹ، زراعت، لائیو اسٹاک، فوڈ سکیورٹی اور دیگر سماجی شعبوں میں اے ڈی بی کے تعاون کی ضرورت ہے، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ضم اضلاع اور دیگر پسماندہ اضلاع کی ترقی کے لئے اے ڈی بی کا خصوصی تعاون درکار ہے، خصوصاً نوجوانوں کی خود روزگاری کے لئے انہیں کاروبار کی طرف راغب کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر اعلی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے بڑے بڑے شہروں کی تزئین و آرائش کا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، خیبر پختونخوا سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ اے ڈی بی کے تعاون سے صوبائی حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے، وزیر اعلی کے پی کے مطابق اس منصوبے کے فیز ٹو کے لئے اے ڈی بی کی خصوصی معاونت درکار ہے، صوبائی حکومت صوبے میں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سیاحتی مقامات کی ترقی پر کام کرنا چاہتی ہے، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت پسماندہ اضلاع میں صحت اور تعلیم سمیت دیگر سماجی شعبوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اے ڈی بی کے ساتھ باہمی اشتراک سے کام کرنا چاہتی ہے، صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر سرمایہ لگانے کے لئے اپنی آمدن میں اضافے پر کام کررہی ہے، صوبائی حکومت کے خودمختار اداروں کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر مستحکم بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے ان اداروں میں صرف میرٹ کی بنیاد پر پروفیشنل لوگ تعینات کئے جائیں گے، اس موقع پر وفد نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے ، اے ڈی بی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر مزید شعبوں میں بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اے ڈی بی صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وزیر اعلیٰ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی، اے ڈی بی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر فوڈ سکیورٹی کے شعبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،
-

مردان میں کے ایف سی کو لگے تالے حکومت نے کھلوا دیئے
اے این پی سے تعلق رکھنے والے مرادن کے مئیر حمایت اللہ مایار اور پی ٹی آئی کے لوگوں نے ملی بھگت کر کے پہلے کے ایف سی کی بندش کے حق میں ضلعی کونسل میں قرارداد پاس کی اور پھر جا کے مردان میں کے ایف سی کو تالہ لگا دیا
خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں کے ایف سی کو ’زنجیریں لگا کر بند‘ کر دیا گیا، کے ایف سی مصنوعات کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد مردان ڈسٹرک کونسل نے منظور کی، کے ایف سی فرنچائز بند، کے ایف سی کو مئیر مردان حمایت اللہ مایار نے تالا لگایا، اے این پی کارکنان نے مظاہرہ بھی کیا،اس موقع پر میئر مردان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس بھی آ چکی ہے، کے ایف سی سے لوگ نفرت کرتے ہیں، یہ اسرائیلی حمایت کرتے ہیں اس لئے اسکو بند کیا گیا ہے، تا ہم بعد ازاں انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کے ایف سی کے تالے کھول دیئے اور سیکورٹی سخت کر دی، کے ایف سی کھلنے کے بعد معمول سے زیادہ رش دیکھنے میں آیا،
سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار
قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی
سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام
-

سابق وفاقی وزیر نورالحق قادری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر نورالحق قادری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا-
باغی ٹی وی : ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے خلاف سابق وزیر نورالحق قادری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد نے درخواست کی سماعت کی۔
دوران سماعت نور الحق قادری کے وکیل نے بتایا کہ نورالحق قادری کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے، نورالحق قادری کوسعودی حکومت نے دعوت دی ہے، وہ جانا چاہتےہیں، ای سی ایل میں نام شامل ہونےسے نورالحق قادری سعودی عرب نہیں جاسکتے، وکیل نے استدعا کی کہ نام ای سی ایل میں سے نکالا جائے،جس کے بعد عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے نور الحق قادری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
-

کے پی حکومت کا بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
باغی ٹی وی: پشاور میں علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ جنگلات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں علی امین گنڈاپور نے ہدایت کی کہ بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنے کے لیے متعلقہ حکام ہوم ورک مکمل کریں، جنگلات کی کٹائی روکنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے متعلقہ حکام لائحہ عمل تیار کریں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہدایت کی کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنےکے لیے جرمانے کی رقم لکڑی کی قیمت سے زیادہ بڑھائی جائے، ٹمبر کی اسمگلنگ پر نظر رکھنے کے لیے چیک پوسٹس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔
-

پولیس کے لئے جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب جاری کرنیکا فیصلہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا
چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی،متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، چیلنجز، آئیندہ کے لائحہ عمل اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی،
پولیس کو مستحکم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کا اہم اقدام سامنے آیا ہے،پولیس کے لئے بکتر بند گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر جدید آلات خریداری کے لئے تین ارب روپے کا فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ نےپولیس شہداء کے ورثاء کو رمضان پیکج میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے،صوبائی حکومت کے رمضان پیکج کے تحت پولیس شہداء کے ورثاء کو 10، 10 ہزار روپے نقد دیئے جائیں گے،پولیس شہداء کے بچوں کے لئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے،شہداء کوٹہ کے تحت تمام شہداء کے بچوں کو پولیس میں بھرتی کرنے کے لئے ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے کابینہ کی منظوری کے لئے کیس تیار کیا جائے، ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے سے شہداء کوٹہ کے تحت بھرتی کے منتظر تمام شہداء کے بچے بیک وقت بھرتی ہوسکیں گے۔ شہداء کوٹہ کم ہونے کی وجہ سے پولیس شہداء کے بچے کئی سالوں سے بھرتی کے منتظر ہیں۔ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے پر کام کیا جائے.
اجلاس میں اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے اندر سکیورٹی ڈویژن کے قیام سے متعلق امور پر بھی غوروخوص کیا گیا،وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اہم شخصیات کو سکیورٹی دینے سے متعلق ایک قابل عمل پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے،امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم بنایا جائے گا،اس مقصد کے لئے پولیس کو درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے،
-

کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار
پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،
سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں
کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں
مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے