Baaghi TV

Category: پشاور

  • وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا  عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    وفاق سے پیسے نا ملنے پر اعلی امین کا عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفاق کے ذمہ واجب الادا پیسے نہ ملنے پر عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ کو وفاق کےذمہ صوبے کے واجبات اور مالی امور پر بریفنگ دی گئی حکام نے بتایاکہ پن بجلی کےخالص منافع کی مد میں وفاق کےذمہ 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں، نیشنل گرڈ کو دی جانے والی بجلی کی مد میں 6 ارب روپے بقایاجات ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق قبائلی اضلاع کا صوبےسے انتظامی انضمام ہوگیا لیکن مالی ابھی تک انضمام نہیں ہوا، قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبےکی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے اور صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے، آبادی کے حساب سے این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں۔

    وزیراعلیٰ نے معاملات وفاق کے ساتھ اٹھانےکیلئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایک ماہ میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے مالی معاملات کا کیس مؤثرانداز میں پیش کرنے کیلئے دستاویزات تیار رکھی جائیں، واجبات اور آئینی حقوق کیلئے تمام فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائےگا۔

    دوسری جانب حکومت پنجاب نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اڈیالہ جیل کے دورے سے روک دیا، محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا گیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل پر ملک دشمنوں کی جانب سے حملوں کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    خیبرپختونخوا حکومت کے خط کے جواب میں پنجاب حکومت نے تحریری مراسلے میں لکھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اڈیالہ سمیت مختلف جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے امن و امان کی صورت حال کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ کسی اور نئی تاریخ تک مؤخر کیا جائے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکے دورہ اڈیالہ جیل کیلئے 12 مارچ کو پنجاب حکومت کو خط ارسال کیا تھا-

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کی خواتین کیلئے  قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خواتین کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا اجلاس ہوا، جس میں بورڈ آف ریونیو کے انتظامی معاملات، اصلاحات اور دیگر امور پر علی امین گنڈا پور کو بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے وراثت میں خواتین کو حق دلانے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا پہلا مرحلہ جون 2024ء تک مکمل کیا جائے۔

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ لینڈ کمپیوٹرائزیشن مکمل ہونے سے پہلے اضلاع میں درکار ضروری عملہ تعینات کیا جائے۔اور بنیادی اصلاحات کیلئے ریونیو کے لیگل فریم ورک میں ضروری ترامیم پر کام شروع کیا جائے، مجوزہ ترامیم جلد سے جلد متعلقہ فورمز کی منظوری کیلئے پیش کی جائیں، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ہر قسم کے اسٹیمپز کو ای۔ اسٹیمپز پر منتقل کیا جائے اور صوبے میں خانہ کاشت مسائل سنجیدہ نوعیت کے ہیں، حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • شیر افضل مروت کو آئندہ سماعت پرپیش ہونے کا حکم

    شیر افضل مروت کو آئندہ سماعت پرپیش ہونے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ ، پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی مقدمات خاتمہ کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیر افضل مروت آج سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اس وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ان کے خلاف اتنے کیسز ہیں ان کو خود پیش ہونا چاہیئے تھا،آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو گرفتاری پر حکم امتناع کا آرڈر واپس لینگے۔عدالت نے ضمانت دی ہے اب یہ پیش نہیں ہورہے ایسا تو نہ کریں۔آخری موقع دیتے ہیں آئندہ سماعت پر نہ آئے تو گرفتاری پر حکم امتناع واپس لینگے۔ عدالت نے شیرافضل مروت کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا،عدالت نے سماعت 3 اپریل تک ملتوی کردی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • وزیر اعلیٰ کے پی  کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ کے پی کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پربریفنگ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق اہم اجلاس ہوا،

    متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے متعلقہ حکام کو یہ معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے،وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے تمام متعلقہ دستاویزات تیار رکھی جائیں، صوبے کے واجبات اور آئینی حقوق کے لئے تمام دستیاب فورمز پر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی، وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ موثر انداز میں اٹھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں،وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا،

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا گیا کہ اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں،نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں،سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہوگیا ہے مگر مالی انضمام نہیں ہوا، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے،صوبے کی موجودہ آبادی کے حساب سے صوبے کو این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں، ضم اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت صوبے کو 500 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 103 ارب روپے ملے ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • وزیر اعلیٰ کے پی کے نے چیف سیکرٹری  کا تبادلہ کر دیا

    وزیر اعلیٰ کے پی کے نے چیف سیکرٹری کا تبادلہ کر دیا

    خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی من مانیاں عروج پر ہے چیف سیکرٹری کو وزیراعظم کی اجازت کے بغیر عہدے سے ہٹایا دیا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے چیف سیکرٹری ندیم کو تبدیل کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے شہاب علی شاہ کو چیف سیکرٹری تعینات کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا۔صوبے کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا اقدام کبھی نہیں اٹھایا گیا، وزیراعلیٰ امین اللّہ گنڈا پور نے خود سے چیف سیکرٹری کو ہٹایا اور نئے چیف سیکرٹری کو تعنیات بھی کر دیا۔ واضح رہے کہ چیف سیکرٹری تعیناتی کے لیے وزیراعظم کی منظوری لازمی ہے۔ یہ بات قابل زکر ہے کہ جب سے علی امین گنڈا پور نے نہ صرف وزیر اعظم کے حلف برداری میں شرکت کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ صدر مملکت کے حلف برداری میں بھی شریک نہیں ہوئیں تھے،

  • پشاور: ٹی ایم اے ملازمین کو  رمضان  اور عید الفطر کے لئے دو ماہ کے تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت

    پشاور: ٹی ایم اے ملازمین کو رمضان اور عید الفطر کے لئے دو ماہ کے تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کے لئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس مقصد کے لئے ڈیڑھ ارب روپے ترجیحی بنیادوں پر جاری کرنے کی ہدایت کردی۔علی امین گنڈا پور نے ہدایت کی کہ ان ملازموں کو دو مہینوں کی تنخواہیں اور پنشنز ادا کی جائیں تاکہ ان ملازموں کو رمضان کے دوران اور عید پر کوئی مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز کے ملازموں کو گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے ان ٹی ایم ایز کے ملازمین کو مالی طور پر مسائل کا سامنا ہے۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے اور عیدالفطر کے لئے ان ملازمین کو تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔

  • رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ  ہوگا

    رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا

    لاہور اور پشاور میں ارمضان کا چاند نظر آگیا، لیکن باضابطہ اعلان مر کزی رویت ہلال کمیٹی نے کیا ،
    رمضان کا چاند دیکھنے کےلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوا۔ چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد اجلاس کی صدارت کی۔چاند کی رویت کا حتمی اعلان چیئرمین رویت ہلال کمیٹی عبدالخبیر آزاد نے کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چارسدہ روڈ پر اوقاف ہال میں ہوا۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، محکمہ موسمیات، اسپارکو، وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نمائندے شریک ہوئے۔دوسری جانب مسجد قاسم علی خان میں غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی آج ہوا۔غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت خلیج ریاستوں میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا اور ان ممالک میں آج پہلا روزہ ہے۔ دوسری جانب مشرقی ایشیائی اور اوشیانا ریاستوں میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا تھا۔ ان ممالک میں پہلا روزہ 12 مارچ کو ہے۔

  • مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور کا اجلاس ہوا،

    مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدرسوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے دینی مدارس کو سولرائزیشن منصوبے میں شامل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر کے 1000 سے 1500 رجسٹرڈ دینی مدرسوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے،اس منصوبے میں تمام اضلاع سے مدرسوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، مدرسوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء رہائش پذیر ہوتے ہیں، ان کی سہولیات کے لئے مدرسوں کو شمسی توانائی فراہم کرنا ضروری ہے،

    متعلقہ حکام کی جانب سے محکمے کے ترقیاتی منصوبوں، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پیڈو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لائی جائے، پن بجلی کے جاری منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائی جائے، ان منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قبول نہیں، منصوبے مقررہ مدت تک مکمل نہ کرنے والے ٹھیکیداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں، ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے ترجیحات کا تعین کیا جائے، صوبے کے لئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی تکمیل کو پہلی ترجیح دی جائے،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

  • اسفند یار ولی کو بڑا صدمہ،اہلیہ چل بسیں

    اسفند یار ولی کو بڑا صدمہ،اہلیہ چل بسیں

    اے این پی کے سربراہ اسفند یار علی کی اہلیہ وفات پا گئی ہیں

    اسفند یار ولی کی اہلیہ علیل تھیں اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں ، آج انکی موت ہو گئی ہے، مرحومہ صوبائی صدر ایمل ولی خان کی والدہ محترمہ تھیں،اسفند یار ولی کی اہلیہ کی تدفین چارسدہ میں کی جائے گی، نماز جنازہ آج شام ساڑھے پانچ بجے (5:30) ولی باغ میں ادا کی جائے گی۔

    اسفند یارولی کی اہلیہ کی وفات، صدر مملکت،وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب،سپیکر قومی اسمبلی و دیگر کا اظہار افسوس
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسفند یار ولی کی اہلیہ کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا ہے،صدر مملکت نے سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار ولی اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہار ِ تعزیت کی ہے اور کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں اور دعائیں سوگواران کے ساتھ ہیں،صدر آصف علی زرداری نےورثاء کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا ہے،صدر مملکت نے مرحومہ کیلئے دعائے مغفرت ، سوگوران کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کی ہے، وزیراعظم شہبا زشریف نے اسفند یار ولی اور تمام اہل خانہ سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے،وزیراعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور اہل خانہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کی اہلیہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت و ہمدردی کی ہے

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اے این پی سربراہ اسفندیار ولی کی اہلیہ اور ایمل ولی خان کی والدہ کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دعاء ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔اسفندیار ولی خان اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔والدہ کا کوئی نعم البدل نہیں۔لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعاء کرتا ہوں ۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی اہلیہ کی وفات پر ان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور پس ماندگان کو صبر عطا فرمائے، آمین

    سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرنز سید نیئر حسین بخاری نے اے این پی سربراہ اسفندیار ولی خان اور صوبائی صدر ایمل ولی خان سے اظہار تعزیت کیا ہے،اسفند یار ولی خان کی شریک حیات اور ایمل ولی خان کی والدہ کی وفات پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
    کا عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کی اہلیہ اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے،اسپیکر نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دکھ اور غم کی مشکل گھڑی میں اسفند یار ولی، ایمل ولی خان اور ان کے اہلخانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرنے کی دعاکی ہے،

  • صحت کارڈ کے نام پر خیبر پختونخوا میں لوٹ مار،ایک ہی بچی کا 20 بار آپریشن،مگر کیسے؟

    صحت کارڈ کے نام پر خیبر پختونخوا میں لوٹ مار،ایک ہی بچی کا 20 بار آپریشن،مگر کیسے؟

    خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو صحت کارڈ دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا گیا وہیں تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پر ہونے والے آپریشنز کا آڈٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے،صحت کارڈ کے نام پر بھی بڑے پیمانے پر کرپشن سامنے آئی ہے،ایک ہی بچی کا 20 بار آپریشن کیا گیا ہے جس کی دستاویزات سامنے آ گئی ہے،

    دستاویز کے مطابق نجی اسپتال میں 2022ء میں صحت کارڈ کے تحت 2602 آپریشنز کیے گئے، جن میں صرف اپنڈکس کے 1829 آپریشنز ہوئے، سامنے آنے والے صحت کارڈ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ بعض افراد کے دو مرتبہ اپنڈکس کا آپریشن کیا گیا، خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں اپنڈکس آپریشن کی شرح 70 فیصد سے بھی زائد رہی ہے، سرکاری ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر صاحبزادہ امتیاز نجی اسپتال کے شریک مالک ہیں، دیر اپر میں سرکاری ہسپتال کو صحت کارڈ پینل میں شامل نہیں کیا گیا، اپنڈکس آپریشن کی مد میں انشورنس کمپنی سے 3 کروڑ روپے حاصل کیے گئے، سامنے آنے والے ڈیٹا کے مطابق ایک شخص کا نام متعدد بار علاج کے طور پر شامل کیا گیا ہے،ایک بچی کا 20 بار آپریشن دستاویزات کے مطابق کیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک ہی نام کی بچی کا 20 بار آپریشن کیسے اور کیوں کیا گیا، ایک ہی آپریشن باربار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، درھقیقت ایک ہی بچی کے نام پر بار بار آپریشن کا دستاویزات میں لکھ کر مال بنایا گیا،

    صحت کارڈ، پی ٹی آئی دور میں پنجاب میں من پسند نجی ہسپتالوں کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں،پی ٹی آئی کے صحت کارڈ منصوبے میں بے ضابطگیوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی، قرارداد ن لیگی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے جمع کروائی جس میں‌مطالبہ کیا گیا کہ صحت کارڈ منصوبے کی تمام تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں،

    ایک صارف کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ کی وجہ سے ڈاکٹرز قصائی بنے ہوئے تھے،ایک بندے کے 7 بار آپریشن ہوئی تھی صحت کارڈ اصل میں پی ٹی آئی کی کرپشن کا گیٹ وے تھا،پرایوئٹ ہسپتال باقاعدہ پی ٹی آئی کو حصہ دے رہے تھے،نیب کو اس پر تحقیقات کرنی ہوگی غریبوں کی نام پر اتنا پیسہ کہاں گیا ۔۔؟خیبرپختونخوا پر قرضہ 90 ارب سے 1100 ارب تک کیسے پہنچا سب پر تحقیقات ہونی چاہیے

    خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ اسکیم کے حوالے سے کرپشن کے الزامات نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ یہ اسکیم بنیادی طور پر صوبے کے کمزور طبقے کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی، لیکن اس کے تحت کچھ لوگوں نے ذاتی فائدے کے لئے اسے استعمال کیا ہے۔حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق، صحت کارڈ کی تقسیم میں شفافیت کی کمی اور بعض افراد کے ذریعے غیر قانونی طور پر فائدہ اٹھانے کے واقعات نے حکومت کو جوابدہی کے چیلنج کا سامنا کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں صحت کارڈ ہولڈرز نے غیر قانونی طور پر دوسری طبی سہولیات کے لئے بھی کارڈ کا استعمال کیا۔ عوامی سطح پر اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی بدعنوانی جاری رہی تو اصل مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا اور وہ لوگ جو واقعی مدد کے مستحق ہیں، وہ اس سہولت سے محروم رہ جائیں گے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو صحت کارڈ اسکیم کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت شفافیت کو یقینی بنائے اور ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو اس اسکیم کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ حکومت کے اقدامات صحت کے نظام میں بہتری کے لئے اہم ہیں، لیکن ان کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان پر عملدرآمد شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کیا جائے۔