Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لئے تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کل درخواست دائر کرے گی.

    تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان معظم بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف کل پشاور ہائیکورٹ جائیں گے،کیس سے متعلق پٹیشن تیارکرلی ہے، کوشش ہوگی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو، پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعاکی گئی ہے اور پٹیشن میں مؤقف ہےکہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیرقانونی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • مانسہرہ میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹ گرا دی

    مانسہرہ میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹ گرا دی

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے زر گل خان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ، سابق ایم پی اے اور سابق مشیر زر گل خان یوسفزئی کی سینیٹر تاج حیدر سے ملاقات کی، مانسہرہ کےمنتخب سابق ایم اے نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ، زر گل خان یوسفزئی کا صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اظہار اعتماد کیا ،زرگل خان نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے عوام کو شناخت دی ‘ بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کے بہترین مستقبل کی ضمانت ہیں ، سینیٹر تاج حیدر کا زر گل خان یوسفزئی کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ،https://twitter.com/PPP_Org/status/1738929626347692464

  • ہری پور :  خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ نے کاغذات نامزدگی  جمع کر ادئے

    ہری پور : خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ نے کاغذات نامزدگی جمع کر ادئے

    ملک بھر سے خواتین اور مردوں کے ساتھ خواجہ سرا بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لینے لئے پرجوش ہے ، ہری پور حلقہ پی کے چھیالیس سے خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ صائمہ شوکت نے کامیابی کے بعد حلقہ کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے۔
    خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت دو مرتبہ کونسلر کا الیکشن بھی جیت چکی ہیں۔ اس سے قبل 21 دسمبر کو پشاور میں پہلی بار خواجہ سرا نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صوبائی نشست پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔اس موقع پر خواجہ سراء صوبیا خان نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لئے علیحدہ سیٹ نہ ہونے کہ وجہ سے جنرل سیٹ پر کاغذات جمع کروائے ہیں۔پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراء صوبیا خان نے حلقہ پی کے 81 سے صوبائی سیٹ پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی کوہاٹ روڈ میں اسسٹنٹ کمشنر سید احسن علی شاہ کے دفتر میں جمع کرائے تھے۔

  • پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئے

    پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئے

    9 مئی کے واقعات میں نامزد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے روپوش رہنماء مراد سعید کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے گئے۔مراد سعید کے سوات کے حلقے این اے 3 اور 4 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے وکلاء نے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی مخصوص اور جنرل نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل مکمل ہو چکا یے، جس کے بعد اسکروٹنی کل سے شروع ہوگی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید 9 مئی واقعات کے بعد سے رپوش ہیں، تاہم وہ 8 فروری 2024 کو شیڈول الیکشن لڑیں گے اور اس کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔

  • پشاور ، پیپلز پارٹی نے اپنے روٹھے ہوئے اراکین کا منا لیا

    پشاور ، پیپلز پارٹی نے اپنے روٹھے ہوئے اراکین کا منا لیا

    پیپلز پارٹی نے ارباب عالمگیر اور عاصمہ عالمگیر کو منا لیا، ذرائع کے مطابق ارباب خاندان کو منانے میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
    جبکہ انکو پیپلز پارٹی میں دوبارہ لانے کے لئے پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے بھی خوب بھاگ دوڑ کی ، تاہم ارباب عالمگیر قومی اور ان کے بیٹے خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشست سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے خواتین کی مخصوص نشست عاصمہ عالمگیر کو ملے گی۔ ارباب عالمگیر نے این اے 31 اور زرک خان نے پی کے 80 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جبکہ عاصمہ عالمگیر نے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشست پر کاغذات جمع کرا دیے۔مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ارباب عالمگیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے گلے شکوے تھے جو دور ہو گئے، پیپلز پارٹی جمہوری پارٹی ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ارباب عالمگیر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل وابستگی ہے، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی سے بہت پیار اور اپنائیت ملی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔عاصمہ عالمگیر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پارٹی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں تھے، پارٹی کے مرکزی ڈپٹی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما  نے  پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عابد اللہ نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی-

    باغی ٹی وی: اے این پی پشاور کے صدر عابد اللہ یوسفزئی نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی، اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی میں شمولیت کی دعوت ملی تھی، جسے قبول کرتا ہوں اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر ظاہر علی شاہ نے کہا کہ عابد اللہ کو اپنی جماعت میں خوش آمدید کہتے ہیں، ان کو وہی عزت دیں گے جس کے حقدار ہے۔

    کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ 42 ممالک میں پھیل چکا ہے،عالمی ادارہ صحت نے خبردار …

    پی پی پی ڈویژنل صدر مصباح الدین کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت جاری ہے، ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ سب الیکشن لڑیں گے، ارباب عالمگیر خاندان پیپلزپارٹی کا حصہ تھا اور رہے گا۔

    واضح رہے کہ عابداللہ عوامی نیشنل پارٹی رہنما بشیر بلور کے حلقے میں ایک سرکردہ کارکن مانے جاتے تھے، جب کہ وہ بلور خاندان کے پرانے ساتھی بھی ہیں۔

    ایبٹ آباد :گھر میں آتشزدگی، ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق

  • انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کو انتخابات کیلئے 42 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق انتخابات کیلئے 1 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار درکار ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 90 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار موجود ہیں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کیلئے صوبائی حکومت نے وفاق سے فرنٹیئرکانسٹیبلری(ایف سی) کی خدمات مانگ لیں ہیں-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں 15 ہزار 737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ہزار 812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6 ہزار581 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران قواعد ضوابط پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

    عام انتخابات2024 : کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہ

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے۔ ای سی پی کی جانب سے 2 روزہ توسیع آج ختم ہو جائے گی، چاروں صوبوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ آج مکمل ہوگا، گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 2 روز کی توسیع کی تھی، الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 25 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔ ای سی پی کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کیخلاف اپیل 3 جنوری تک دائر ہوگی، پولنگ شیڈول کے مطابق 8 فروری 2024 کو ہوگی۔

    حوثی باغیوں کا بحیرہ احمر میں بھارتی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ

  • مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا، انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں، اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں، شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے، قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔
    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں، ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے، ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے، اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے
    Cp

  • 8 فروی کو  پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا ،پرویز خٹک

    8 فروی کو پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا ،پرویز خٹک

    نوشہرہ: پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے سربراہ پرویز خٹک نےکہا ہےکہ بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

    باغی ٹی وی : نوشہرہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نےکہا کہ پی ٹی آئی کی پارٹی ماضی کا حصہ بن جائے گی، کیونکہ ماضی میں جن پارٹیوں نے ملکی اداروں کے خلاف نفرت کی سیاست کی و ہ پارٹیاں یا تو ختم ہوگئیں یا وہ پارٹیاں صرف صوبے یا ضلع کی پارٹی بن کر رہ گئیں تبدیلی خان کی تبد یلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، نہ بلا رہا اور نہ بلے سے کھیلنے والا کھلاڑی، الیکشن کمیشن نے بلےکے نشان کو ختم کردیا،8 فروی کو پاکستان تحریک انصاف کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا بانی پی ٹی آئی اصل میں آصف علی زرداری اور نواز شریف سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، تبدیلی اور احتساب تو بس ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، اصل میں تو وہ خود کرپشن کے کنگ تھے۔

    ملک میں چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف سے انتخابی نشان ،بلے کا نشان واپس لے لیا،اور انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے، اب الیکشن کمیشن کے پاس تحریک انصاف نام کی کوئی پارٹی رجسٹر ڈ نہیں ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے کےبعد تمام عہدیداروں کے عہدے بھی ختم ہو چکے ہیں،الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی اور پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے، جس پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہیں ملے گا۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …