جمعیت علامہ اسلام مولانا فضل الرحمن نے باجوڑ ورکر کنونشن میں جاں بحق اور زخمیوں کے لئے اپنی طرف سے مالی امداد کا اعلان کیا،انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی جانب سے جاں بحق افراد کو 5 لاکھ اور زخمیوں کو 3 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی،اسکے علاوہ حکومت نے بھی جاں بحق اور زخمیوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کر دیا ہے، پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بے گناہوں کا خون بہایا گیا ۔ان خیالات کا اظہار جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سول کالونی جرگہ ہال میں شہداء کے لواحقین اور علاقے کے عمائدین کے ایک بڑے جرگے سے اپنے خطاب کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کے لواحقین کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں شریک ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مسلمان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے ہم اپنا مقدمہ اپنے رب کے حضور پیش کردیتے ہیں ۔ہم نے ہمیشہ مثبت اور تعمیری سیاست کو ترجیح دی ہے ۔
صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ۔اتنے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کا ان کو کانوں کان تک خبر نہ ہوئی ۔جس کے نتیجے میں 70 شہادتوں اور ڈیڑھ سو زخمیوں کا بدترین واقعہ رونما ہوا۔
Category: پشاور
-

باجوڑ دھماکہ دراصل چینی نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کی اہمیت کو متاثر کرنا تھا ۔مولانا فضل الرحمان
-

پشاور میں پولیو مہم کےپیش نظر دفعہ 144 نافذ ،اعلامیہ جاری
پشاور میں آئندہ ہفتہ سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کی گیا ہے، پشاور میں دفعہ 144 ممکنہ بدامنی روکنے کیلئے نافذ کیا گیا ،ضلعی انتظامیہ کے مطابق دہشتگردی کے حالیہ لہر کے باعث دفعہ 144 نافذ کی گئی ، اسکے علاوہ پشاور اسلحہ کی نمائش اور لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی،ضلعی انتظامیہ نے پشاور میں کالے شیشے والی گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور بغیر نمبر پلیٹ اور جعلی نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکلوں پر بھی مکمل پابندی ہے،اسکے علاوہ
پشاور شہر میں ون ویلنگ کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی،ضلعی انتظامیے کے مطابق افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود ان کے پشاور شہر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، -

امید ہے کہ مردم شماری کے حتمی نتائج میں خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی،نگران وزیر اعلی
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا کی آبادی سے متعلق 2023 کی مردم شماری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ حمایت اللہ خان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری زبیر اصغر قریشی، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، پراونشل کمشنر برائے مردم شماری، ڈائریکٹر ادارہ شماریات خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مردم شماری 2023 کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار اور دیگر متعلقہ امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ مردم شماری کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیا۔ مذکورہ مردم شماری کے لئے صوبے کو 28 ہزار سے زائد بلاکس میں تقسیم کیا گیاتھا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مردم شماری کے حتمی اعداد و شمار منظوری کے لئے مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کئے جائیں گے۔ اجلاس میں مردم شماری کے نتائج کو پرکھنے کے لئے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت مردم شماری کے حتمی اعداد و شمار سے متعلق تحفظات سامنے آنے کی صورت میں معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھائے گی۔ اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے کہا کہ مردم شماری مستقبل کے لئے منصوبہ بندی میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ مردم شماری کے حتمی اعداد و شمار کے قومی وسائل کی تقسیم پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مردم شماری کے حتمی اعداد و شمار حقائق پر مبنی ہوں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس مردم شماری کے حتمی نتائج میں خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔
-

چارسدہ،یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا
4اگست یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے ٹی ایم اے ہال چارسدہ میں شہداء کو حراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب منعقد ہوئی۔بہادر پولیس افسران کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منعقدتقریب میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد عارف، ڈپٹی کمشنر چارسدہ عدنان فرید آفریدی اور چارسدہ کے تحصیل مئیر مفتی عبدالروف شاکر کے علاوہ دیگر معززین جبکہ پولیس شہداء کے اہل خانہ نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، مقررین نے تقاریر میں ملک و قوم کی حفاظت کی خاطر شہید ہونے والے پولیس افسران کی بہادری کوسراہا اور ان کی لازوال قربانی پر انکو خراج عقیدت پیش کیا۔ چارسدہ کی حفاظت کو یقینی بنانے میں پولیس فورس کی خدمات کا بھی اعتراف کیا،شہیدوں کی بہادری کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے محکمہ پولیس کے ساتھ کھڑے ہو کر تعاون کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ سول سوسائٹی کی جانب سے پیش کئے گئے نظم میں شہیدہونے والے بہادر سپوتوں کے لیے اجتماعی تشکر اور احترام کا اظہار تھا۔
اس تقریب نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حمایت کا ایک موقع بھی فراہم کیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ چارسدہ کی عوام ان کے غم اور فکر میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔پروگرام کے اختتام پر ڈی پی او چارسدہ محمد عارف نے کہا کہ ہم اپنے شہید اہلکاروں کی بہادری اور قربانیاں کبھی نہیں بھولیں گے اور ان کی قربانیوں کو آگے بڑھانے اور اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران ان اقدار کو برقرار رکھنے کے عزم سے عوام کی خدمت کرتے رھیں گے۔ -

پارلیمان اور آئین کو روند کربل پاس کرنے کی فیکٹری لگانا آئین شکنی ہے ،ایمل ولی
عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بے توقیری کرنے اور مذاق اڑانے والے کسی بھی صورت عوامی نمائندے نہیں ہوسکتے۔ آخری ایام میں دو دن کےاندر قومی اسمبلی سے 53 بل منظور کرنے کا جواز کیا ہے؟ان بلز کی آڑ میں صوبائی خودمختاری پر حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ قومی اسمبلی سے دو دن میں 53 بلوں کی منظوری پر ردعمل دکھاتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پارلیمان اور آئین کو روند کربل پاس کرنے کی فیکٹری لگانا آئین شکنی ہے ۔ آئین شکنی مشرف کرے،نیازی کرے یا شہباز شریف،سب کیلئے ہمارا مطالبہ پھر ایک ہی ہوتا ہے۔یاد رکھیں آج بغیر وضاحت دیئے قانون سازی کرنےکے نتائج کل آپکو بھی بھگتنے ہوں گے۔ لاہور میں پاک چائنا گوادر یونیورسٹی قائم کرنے کے بل پر ان کا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ پنجاب پاکستان اور پاکستان پنجاب ہے تو ہمیں ملک دشمنی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ پاک چائنا گوادر یونیورسٹی کی ضرورت بلوچستان سے زیادہ لاہور میں کیسے ہے؟بلوچستان اور پختونخوا دونوں وہ بدقسمت صوبے ہیں جہاں صرف بارود، انسانی خون، خودکش حملوں اور وسائل ہڑپنے کا کاروبار چل سکتا ہے لیکن تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کیلئے صاحبان اقتدار لاہور کا رخ کرلیتے ہیں۔ قومی اسمبلی جیسے مقدس ادارے کیلئے یہ شرم کا مقام ہے کہ اسی ادارے کے ذریعے بلوچ عوام کا حق بھی لاہور منتقل کیا گیا۔
-

شبقدر فائرنگ،تین افراد جاں بحق
شبقدر میں تھانہ سروکلی کے علاقہ حفیظ کور میں زمین کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے، پولیس ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے فوری طبی امداد کیلئے پشاور منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں حضرت خان،عطاء اللہ اور تاج عمر شامل ہیں۔ فائرنگ کا مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقت شروع کر دی گئی ہے ،
-

محکمہ داخلہ کے پی کے پی اے ایف بیس کے قریب پابند ی عائد
خیبر پختونخوا صوبائی حکومت کی جانب سے پی اے ایف بیس پشاور اور بڈھ بیر کیمپ سے متصل علاقوں میں پابندیاں عائد کر دی گئی ہے، محکمہ داخلہ و قبائلی امورخیبر پختونخوا نے ہوائی فائرنگ، پتنگ بازی،کواڈ کاپٹر اڑانے اور کبوتر بازی پر پابندی عائد کر دی ، اسکے علاوہ کبوتروں کی دکانوں، دکانوں یا اشتہارات میں ہائی بیم لیزر لائٹس پر بھی پابندی عائد کر دی ہے،سیکٹری محکمہ داخلہ کی جانب سے پابندی کا اطلاق چھ ماہ کے لئے ہوگا ۔ پابندی کا اطلاق محفوظ ہوابازی یقینی بنانے کے لئے کیا گیا۔محکمہ داخلہ کے مطابق خلاف ورزی پر پاکستان پینل کوڈ 1860 کی سیکشن 188 کے تحت کاروائی ہوگی۔ جس کے تحت محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے،
-

خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی
خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ رواں سال کے ابتدائی 7 ماہ میں کانگو وائرس کے 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔بلوچستان کے بعد جانوروں میں پائی جانے والا خطرناک وائرس کانگو خیبر پختونخوا بھی پہنچ گیا ہے، اور اس بیماری سے صوبے میں رواں سال چار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں سے 2 کا تعلق خیبرپختونخوا اور 2 کا تعلق افغانستان سے ہے، جب کہ کانگو سے متاثرہ 9 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک مریض صحت یاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوگیا ہے، اور اس وقت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگو سے متاثرہ ایک مریض زیرعلاج ہے۔ -

باجوڑ دھماکا: جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہوگئی
پشاور: باجوڑ میں 30 جولائی کو ہونے والے دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہوگئی۔
باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرزاسپتال خار نے باجوڑدھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد کی تفصیلات جاری کردیں،ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار ڈاکٹر لیاقت علی کے مطابق باجوڑ دھماکے میں اب تک 63 افراد جاں بحق ہوئے ہیں دھماکے کے بعد 43 لاشیں خار اسپتال لائی گئیں۔
ڈاکٹر لیاقت علی نے مزید بتایا کہ ایک شدید زخمی نے ایل آر ایچ پشاور ، 4 نے سی ایم ایچ پشاور اور 2 نے تیمرگرہ اسپتال میں دم توڑا جبکہ 13 لاشوں کو ورثاء جائے وقوعہ سے اپنے ساتھ لے گئے۔ تین ناقابل شناخت لاشوں کی تدفین امانتاً کی گئی،باجوڑ دھماکے میں 123 افراد زخمی ہوئے جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
باجوڑ؛ جے یو آئی کنونشن دھماکہ میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد 35 ہوگئی
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں دہشتگردی کا تازہ حملہ باجوڑ میں ہوا جہاں جے یو آئی (ف) کی کارنر میٹنگ میں خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 54 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئےایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی شوکت عباس نے اس حوالے سے بتایا کہ جے یو آئی کا جلسہ دوپہر 2 بجے شروع ہوا اور دھماکا 4 بجکر 10 منٹ پر ہوا موقع سے بال بیرنگ وغیرہ ملے ہیں، دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور گروپ کی شناخت ہوئی ہے، دھماکے میں کوئی خاص ٹارگٹ تھا۔
باجوڑ خود کش دھماکا: حملہ آور کی تصویر پولیس نے حاصل کر لی
-

باجوڑ خود کش دھماکا: حملہ آور کی تصویر پولیس نے حاصل کر لی
پشاور: باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے میں خودکش دھماکا کرنے والے حملہ آور کی تصویر پولیس نے حاصل کر لی۔
باغی ٹی وی: پولیس حکام کا کہنا ہے خودکش حملہ آور جے یو آئی (ف) کے جلسے میں کرسی پر بیٹھا رہا، جس نے بارودی مواد کمر سے باندھ رکھا تھا، تصویر میں حملہ آورکو بارودی مواد پر ہاتھ رکھے دیکھا جا سکتا ہے، حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے سکیورٹی وجوہات اور کیس کی تفتیش کی وجہ سے تصویر جاری نہیں کی جا رہی۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں دہشتگردی کا تازہ حملہ باجوڑ میں ہوا جہاں جے یو آئی (ف) کی کارنر میٹنگ میں خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 54 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئےایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی شوکت عباس نے اس حوالے سے بتایا کہ جے یو آئی کا جلسہ دوپہر 2 بجے شروع ہوا اور دھماکا 4 بجکر 10 منٹ پر ہوا موقع سے بال بیرنگ وغیرہ ملے ہیں، دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور گروپ کی شناخت ہوئی ہے، دھماکے میں کوئی خاص ٹارگٹ تھا۔
باجوڑ؛ جے یو آئی کنونشن دھماکہ میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد 35 ہوگئی
دھماکے میں جے یو آئی خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی شہید ہوگئے ہیں۔ جب کہ تحصیل ناواگئی کے جنرل سیکٹری مولانا حميد الله بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اسٹیج کے قریب ہوا اور مولانا ضیاء اللہ جان اسٹیج پر موجود تھے کہ دھماکا ہوگیا۔ مولانا ضیاء اللہ جان پر اس سے قبل بھی حملہ ہوچکا تھا، وہ کالعدم داعش کی ہٹ لسٹ میں تھے۔ جے یو آئی کے مطابق اس سے قبل دہشت گرد جے یو آئی کے 22 رہنماؤں کو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں مفتی سلطان محمد، قاری الیاس، مفتی شفیع اللہ، مولانا شفیع اللہ اور قاری عبدالسلام شامل ہیں۔
9 مئی واقعات:فوجی حراست میں 102 افراد کی فہرست سامنے آگئی